ملامت


شاعر : طارق حبیب
        تبصرہ:یوسف خالد
ڈاکٹروزیر آغا نے حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی کے ایک اجلاس میں خطبہءِ صدارت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ
” ہر ادب پارہ ایک خود رو جنگل کی طرح ہے اگر آپ بھاری قدموں کے ساتھ شور مچاتے ہوئے اس جنگل میں داخل ہوں گے تو وہ چھوئی موئی کی طرح سمٹ جائے گا اور آپ اس میں ایک مکمل سناٹے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے-لیکن اگر آپ دبے پاؤں داخل ہو کر کسی پیڑ کے سایے میں آرام سے جا کر بیٹھ جائیں گے-تو چند ہی لمحوں کے بعد جنگل بولنے لگے گا اور پھر جنگل کا سارا طلسم آپ پر منکشف ہو جائے گا-ادب پارے سے متعارف ہونے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ اس کی جانب دبے پاؤں آئیں اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں تا کہ وہ آپ کو اپنا جان کر آپ سے مانوس ہو جائے اور پھر آپ کو اپنی معطر دنیا میں سمیٹ لے-آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جس شاعر سے آپ شخصی یا نظریاتی طور پر متصادم ہیں اس کا کلام آپ کو برا لگتا ہے-وجہ یہ کہ شاعری سے لطف اندوز ہونے کے راستے میں عصری یا شخصی سطح کا تعصب یا نفرت ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے-شعر سے لطف اندوز ہونے کے لئے تو ایک ایسی روحانی فضا ضروری ہے جس میں شاعر اور اس کا قاری احساسی طور پر ہم آہنگ بلکہ ہم نوا ہو جائیں “
میں نے طارق حبیب کے شعری مجموعہ ” ملامت “کا مطالعہ ڈاکٹر صاحب کے انہیں بصیرت افروز خیالات کی روشنی میں کیا ہے —
طارق حبیب نے اپنے متخیلیہ کو اپنے مطالعے اور مشاہدے کی معاونت سے ایک ایسا تخلیقی روپ دیا ہے کہ جہاں لفظ ،سوچ اور خیال کے ساتھ ساتھ جذبے اور احساس کی تجسیم بھی ہوئی ہے اور اس کی نظموں کے کردار نظم نگار سے ہمکلام بھی ہوتے چلے گئے ہیں — یوں ایک ایسا منظر نظموں کا حصہ بنا ہے جس نے قاری کے سامنے طارق حبیب کے شخصی اور تخلیقی خد و خال نمایاں کر دیے ہیں – ہم ان نظموں سے پورے کا پورا طارق حبیب بر آمد کر سکتے ہیں — 
ان نظموں میں سادگی ،بے باکی اور سچائی ایک انتہائی دلکش انداز میں جذبے اور خیال کی چہرہ نمائی میں شامل ہوئی ہے — کہیں بھی اظہار میں شعور کی بے جا مداخلت نظر نہیں آتی — جذبہ اتنا منہ زور ہے کہ اس نے شاعر کا لحاط بھی نہیں کیا اور کسی بناوٹ کے بغیر مگر پوری تخلیقی توانائی کے ساتھ داخلی اور خارجی کیفیات کو مصرعوں میں منتقل کرتا چلا گیا ہے —
یہ نظمیں اپنے موضوعات کے اعتبار سے بھی ایک الگ پہچان کی حامل ہیں – ان میں محبت اور نفرت کے تمام ذیلی عنوانات شامل ہیں — شاعر نے زندگی کو جس ڈھب سے گزارا ہے اور تعلقات کو جس طرح محسوس کیا ہے بہت سی نظمیں اس کی ذات کا حوالہ بن گئی ہیں — 
کچھ ایسا ہے
کہ ادھی رات کے پہلو سے اٹھ کر
دکھ
ہمارے پاس اتے ہیں
ہمیں اپنا سمجھ کر 
اپنے سارے دکھ سناتے ہیں
ہمیں رونا نہیں آتا
ہمارا فرض بنتا ہے 
کہ ہم ان سب دکھوں کو
ایک اک کر کے گلے لپٹائیں
پرسا دیں
ہم اس خواہش میں رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں 
ہمیں رونا نہیں آتا
ہم اُن لمحوں سے ڈرتے ہیں
کہ جن لمحوں کی قسمت میں 
ہمارا رونا لکھا ہے
ہمارا رونا جب رویا گیا
اس دن تماشا دیدنی ہو گا 
طارق حبیب کا یہ پہلا شعر مجموعہ ایک ایسے تخلیق کار کی فنی ریاضت کا ثمر ہے جس کی اردو ادب اور فنونِ لطیفہ سے بڑی گہری وابستگی ہے — طارق حبیب نے شعر و ادب کی دنیا میں بہت چھوٹی عمر میں قدم رکھا اور پھر مسلسل محنت سے اپنا ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہوا ہے

یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post