شکریہ شازیہ مفتی : یونس خیال

ِ

یونس خیال
اینٹ گارے کی کُھرچن
    ’’ اینٹ گارے کی کھرچن ‘‘ ۔۔ بھلایہ کیانام ہوا؟ ۔ اس نے پارسل کھول کر کتاب میری طرف بڑھاتے ہوتے کہا۔
’’ مرتی تہذیبوں کانوحہ ، ٹوٹتی قدروں پر بین،گزرے وقت کی تلاش میں نکلے مسافر کی امید، مایاکے بوجھ تلے دبے رشتوں کی پکار، جدیدیت کی بظاہرروشن آگ کے سامنے قدیم روایات کی پھیلی راکھ میں خودکوتلاش کرنے کا عمل۔میرے اور تمھارے درمیان جنریشن گیپ کی وہ دیوار جس نے ہم دونوں کو ایک دوسرے کےمعاملات کو سمجھنے سے روک دیا ہے ۔میری بے بسی اور تمھاری خودسری۔۔۔۔۔۔ ‘‘
      میں کہے جارہاتھااور میرابیٹاسن رہاتھا۔اور پھر اس نے کتاب میرے ہاتھوں سے لے لی۔’’ پہلے میں پڑھوں گااِسے‘‘ ۔اُس نے کہا اور پھر وہ شازیہ مفتی کی کتاب لیے اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
        ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔اپنےاردگرد پھیلی بےچینی ، بھوک ، افلاس او ردوسرے اخلاقی اور ذہنی مسائل کو فلسفیانہ طریق سے حل کرنے کے مشورے دیتے ہوئے لفظوں کے انبارتولگادیتے ہیں لیکن اپنی ذات کے مندر سے باہر نکل کر ان مسائل زدہ لوگوں کاسامناکرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ہم بولتے بھی خود ہیں اورسنتے بھی خودہی ہیں ۔ اپنے اپنے مندوروں کے قیدی ، اپنی ذات کے خود ہی پجاری ۔شازیہ مفتی کاشماران لوگوں میں ہوتاہے جواس قید سے باہرنکل کر عام لوگوں کے مسائل اور نفسیات سمجھنے میں کامیاب رہے ہیں۔انھوں نے چھوٹے موضوعات کےروشن پہلوآج کے ’’ بڑے‘‘ سماج کے سامنے اس طرح رکھ دیے ہیںکہ ان موضوعات سے نظر چرانا مشکل ہوجائے ۔
    شازیہ مفتی کوبات کرنے کا ڈھنگ آتاہے۔لفظی تصویریں بنانے کا فن اس کے ہاں موجودہے۔اور اس نے اپنی لکھت پر کسی دوسرے لکھاری کے اسلوب کی چھاپ پڑنے نہیں دی۔یہی ان مختصر تحریروں کاکمال بھی ہے۔ بےساختگی اورلطافت ، اس اندازمیں کہ دکھ کی مُورت سے گردہٹاتے ہوئے چبھن کا احساس توہو مگرآنسووں کی جھڑی نہ لگے۔فن کی دنیا میں جو لوگ اپنا راستہ خود بنانا سیکھ لیں منزل ان کی دسترس سے دور نہیں ہوتی۔
اس کی کہانیاں اوران کے موضوعات اردگردکے لوگوں سےکشید ہیں۔فطری، سادہ اور دل کش۔لیکن زبان کی مٹھاس ایسی کہ قاری خود کو ان کہانیوں کے کرداروں کے درمیان خود کو گھومتا محسوس کرے۔ ’’ قمیضاں چھینٹ دیاں‘‘ ،’’چنی چچاکاسگریٹ‘‘،’’موسمی قصائی بمقابلہ خاندانی قصائی ‘‘، چھوٹی سی ساہوکارنی ‘‘ اور’’ مالکن ‘‘ سب ایسے ہی فطری کرداروں کی کہانیاں ہی توہیں۔
اور ہاں ۔۔۔۔ مَیں یہ بتانا توبھول ہی گیاکہ میرابیٹاکہہ رہاتھا کہ کاش میں’’ چنی چچا ‘‘سے مل پاتا۔
شکریہ شازیہ مفتی کہ آپ کی کتاب نے میرے بیٹے اورمجھ میں جنریشن گیپ کم کرنے میں مدد کی۔
Image may contain: outdoor

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post