اینٹ گارے کی کھرچن ۔۔۔ تبصرہ: قاضی ظفر اقبال


قاضی ظفر اقبال
کبھی آباد یہ مکاں تھا میاں
شاذیہ مفتی سے کوئی جان پہچان نہ تھی بس حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں اسے کبھی کبھی کچھ پڑھتے سنا ۔۔۔تنقید کے لئے کبھی کوئی نظم کبھی کوئی غزل اور کبھی کوئی نثر کا ٹکڑا ۔۔۔۔سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس کی شاعری سے اس کی نثر نے زیادہ متاثر کیا اور نثر کی سب سے بڑی خوبی اس کا ناسٹیلجک ٹچ (Nostalgic touch) تھا۔۔۔۔محترم غلام حسین ساجد نے بجا طور پر کہا ہے کہ شاذیہ مفتی کی کہانیاں پیش پا افتادہ موضوعات پر لکھی گئی ہیں مگر ان کہانیوں کا کمال یہی ہے کہ یہ روح عصر سے ہر گز ہر گز کٹی ہوئی یا بے تعلق نہیں ہیں ۔
میں ان کہانیوں کی زبان کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنے کی بجائے یہ کہوں گا کہ قاری کو اس زبان میں مٹھاس بھی ملے گی اور نمک کا ذائقہ بھی ۔۔۔ایسا ذائقہ کہ زبان چٹخارے لینے لگے۔۔۔۔
174 صفحے کی یہ کتاب جس کا نام اینٹ گارے کی کھرچن ہے اس کا سر ورق اور اشاعت و طباعت سب شاندار ہے جسے ماورا نے حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔۔۔اس کتاب پر اپنی گراں قدر آرا دینے والوں میں جناب غلام حسین ساجد ۔۔۔حسین مجروح اور سلمی اعوان کے اسما شامل ہیں ۔۔۔اس میں42 چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل ہیں جو پرھنے کے لائق ہیں اپ کو بوریت محسوس نہیں ہوگی کیوں کہ شازیہ نے غیر ضروری طوالت سے بہرحال اپنا دامن بچائے رکھا ہے اور سر ورق کی تصویر والی احمد نگر کی ویران حویلی جو بظآہر ایک کھنڈر ہے اس میں زندگی سانس لیتی ہوئی محسوس ہو گی ۔۔
نام بھی اچھا کام بھی اچھا اور مصنفہ کے لئے ہدیہ تبریک
No photo description available.

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post