آتش زیرِ پا … تبصرہ: یوسف خالد


تبصرہ:  یوسف خالد
شعری مجموعہ : شارق جمال خان
شارق جمال خان کے شعری مجموعہ ” آتش زیرِ پا ” کا دوسرا ایڈیشن ماورا پبلیشر لاہور نے شائع کیا ہے – اس شعری مجموعہ کا ابتدائیہ ڈاکٹر ضیا اللہ حسن نے تحریر کیا ہے اور اندرونی فلیپ پر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کی رائے تحریر ہے – 160 صفحے پر مشتمل غزلوں اور نظموں سے سجا یہ خوبصورت شعری مجموعہ انتہائی دلکش اور قابلِ مطالعہ ہے –
شارق جمال خان ؤسیع المطالعہ تخلیق کار ہیں انگریزی ادب کے مطالعے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بہت سے علوم کا مطالعہ کر رکھا ہے – ان کے اشعار میں فکری تنوع اور فنی پختگی ان کی ریاضت اور لگن کا پتا دیتی ہے – ان کے موضوعات میں انسانی رویوں اورمعاشرتی زندگی کی بہت سی لفظی تصویریں بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں –
نمونہ کلام
شعورِ ذات کو صدیاں گزر گئی ہیں مگر
ابھی تلک اسی حیرت کا سامنا ہے مجھے
کسی کے بس میں ہوں لیکن خود اپنے بس میں نہیں
بڑی ہی تلخ حقیقت کا سامنا ہے مجھے
——-
صوت و آہنگ میں جدا سب سے
میری باتوں میں تیری باتیں ہیں
کوئی لمحہ بھی میرے بس میں نہیں
گو مرے دن ہیں میری راتیں ہیں
—–
شارق جمال خان صاحب کو بہت بہت مبارک – امید یہ مجموعہ قارئین کو جمالیاتی حظ مہیا کرے گا
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post