یقین : فریدہ غلام محمد

جب وہ ہاسپٹل سے نکلی تو شام ھو چکی تھی ۔بےاختیار نگاہ آسمان کی طرف گئی ۔کونجیں اکٹھی ھو کر اپنے ٹھکانوں کی طرف روانہ تھیں ۔انھوں نے شاید کچھ کھایا ،کچھ چونچوں میں دبائے اپنے بچوں کے لئے لے جا رہی ہوں گی ۔سچ ھے ڈاکڑ امل ہر کوئی محنت کرتا ھے تب ہی تو کچھ کر پاتا ھے ۔اتنے میں گاڑی کے تیز ہارن کی وجہ سے وہ ایک طرف ہو گئی ۔
ہاں تو ڈاکڑ سوچو ذرا تم بھی تو محنت کر رہی ھو ۔صبح ہاسپٹل ،سارا دن مریضوں کے بیچ اور شام گئے گھر آتی ھو ۔تم نے اس محنت سے عزت تو بہت کمائی مگر پیسہ کم۔
وہ سوچتے سوچتے خود ہی مسکرائی۔
گھر آ چکا تھا اس نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا ہی تھا ۔بی بی نے دروازہ کھول دیا ۔
جادوسے دیکھتی ہیں مجھے ۔وہ مسکرائی۔
“وقت سے لگتا ھے قائد اعظم کا اصول تم نے گھول کر پیا ہوا ھے ۔”
انھوں نے اس کا بیگ کے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھااور خاموشی سے آتشدان کے قریب چلی گئیں ۔

آج بہت ٹھنڈ تھی بی بی ۔
ارے ٹھنڈ میں اب گرمی تو آنے سے رہی اوپر سے یہاں آ گئی ۔اللہ مارا سورج تو گرمیوں میں بھی گم ہی رہتا ھے ۔مجال ھے جو کبھی بندہ باہر بیٹھ کر ہاتھ ہی تاپ لے ۔”
واہ بی بی اچھا کھانا لگائیے میں چینج کر آؤں۔
وہ جلدی سے اٹھی ۔بی بی شام گہری ھو رہی ھے باہر کا بلب بھی جلا دیں ۔وہ ہدایت دیتی سیڑھیاں چڑھ گئی۔
رات کو جب بستر پر لیٹی تو ایک لمحہ کے لئے جی چاہا سو جائے مگر خیالات کی دنیا اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔وہ حقیقت کی دنیا میں رہنا چاہتی تھی ۔کم از کم دنیا جیسی بھی ھے اس کے سامنے تو ھے ۔سچائیاں کڑوی سہی مگر سچائیاں تو ہیں ۔ اس نے آج ہی دو ڈاکٹر اپنے ہاسٹل میں رکھے تھے ۔بہت قابل تھے وہ خوش تھی ۔اب اسے زیادہ فکر نہیں تھی ۔یہ چلتا ہاسپٹل اس نے خریدا تھا ۔شروع میں ہاسپٹل اپنی طرز پر چلانامشکل لگا تھا ۔مگر اس کو کامیاب بنانے میں اس نے اپنی توانائیاں خرچ کی تھیں اور وہ بھی اس وقت جب وہ بہت بکھری ہوئی تھی ۔ذہنی انتشار اور اپنوں کے دیے زخموں نے اسے دلگیر کر رکھا تھا ۔شاید وہ صدمے میں تھی مگر جینا پھر بھی نہیں بھولی تھی ۔وہ روتی تھی تو لگتا تھا جیسے دل پھٹ جائے گا ۔اسکی سسکیاں اور آہیں ایک طرف مگر کام ایک طرف ۔شاید ہر ایک نے پتھر سمجھ کر اسے ٹھوکریں ماری تھیں۔ اس نے بھی خود کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا تھا ۔شاید مردم شناسی سے ناواقفیت کی سزا تھی یہ ۔
نیند میں جانے سے پہلے اس نے اپنا موبائل دیکھا ۔
ولید کا میسج تھا۔
ڈاکٹر امل آپ جاگ رہی ہیں اور نیند نہیں آ رہی کوئی بات نہیں ۔ہوتا ھے ایسا ۔آپ جتنا جی چاہے وقت لے لیں لیکن سوچیں ضرور ہر انسان مختلف ھوتا ھے ۔جیسے میں یعنی کہ ولید رضا ۔ایک مسکراہٹ کے ساتھ آگے گڈ نائٹ لکھا ہوا تھا ۔
اس نے جلدی سے موبائل کو سائیڈ پر رکھا اور کروٹ لے لی ۔نجانے نیند کب مہربان ھو اس پر۔

ایک بجے تک وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی ۔اس نے جلدی سے بلب روشن کیا ۔کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دیکھا ۔دور تک دھند کا راج تھا ۔کہیں کہیں دھند میں سے روشنیاں پھوٹ رہی تھیں ۔ساتھ والے گھر میں چہل پہل تھی ۔ان کے مہمان آئے ہوئے تھے ۔کچھ دیر اس نے کھڑکی سے دیکھا اور پھر شال اپنے ارد گرد لپیٹ کر بالکونی کا دروازہ کھولا اور آرام دہ کرسی پر آ بیٹھی ۔
ڈاکٹر تم فیصلہ کیوں نہیں کر لیتی ۔کس بات سے ڈر رہی ھو ۔یہ سچ ھے جب تم ڈاکٹر بنی تو تم پر والدین کے بڑھاپے کی وجہ سے بڑی زمہ داریاں تھیں ۔تم باپ کا بازو بن گئی ۔بہن بھائی کی تعلیم تک کسی کو تمہاری شادی کا خیال نہیں آیا ۔یاد ھے کتنے لڑکے تھے جو اس وقت چاہتے تھے کہ تم سے شادی کریں مگر تم مجبوریوں میں جکڑی ہوئی تھی ۔لیکن کیا ہوا جب سب نے پڑھ لیا تو چھوٹی بہن کا رشتہ آ گیا ۔تم تو نوٹ چھاپنے کی مشین بن گئی تھی ۔
تم سوچتی تھی سب تمہاری قدر کریں گے ۔یاد کرو تم تیس کی ھونے والی تھی جب تمہاری بھابھی بھی آ گئی ۔اس کے لئے ابا اور اماں کا بوجھ نہ اٹھایا گیا ۔بھائی پرایا ھو گیا ۔ابا چل بسے ۔بس تم اور بی بی ۔رشتے آ رہے تھے مگر کوئی رنڈوا تھا ۔کسی کے بچے تھے ۔کوئی نوٹ کی مشین گھر لے جانا چاہتا تھا ۔تب بی بی کے الفاظ یاد کر ۔
”تم فاطمہ جناح کیوں بننا چاہتی ھو ۔تمہارا بھائی قائد اعظم تو نہیں ھے ۔میں کب تک جیوں گی کر لو شادی ۔”
تم نے کہا تھا کہ بی بی یہ خیال آپ کو تب کیوں نہیں آیا جب میں جوان ہوئی تھی ۔آپ کو پتہ تھا مجھے دانیال پسند ھے ۔اس نے کتنی بار رشتہ مانگا مگر تب مجھے ایثار و قربانی کی دیوی بنا دیا ۔میں خود گئی اس کی شادی پر ۔مجھ پر کچھ بھی بیتی ۔کوئی نہیں جانتا آپ بھی نہیں ۔کتنا روئی تھی ڈاکڑ امل تم ۔عمر کے ساتھ تمہارا حسن کم نہیں ہوا لیکن لوگوں کو تیس سالہ امل پسند تھی مگر زندگی کا ساتھی کوئی نہیں بنانا چاہتا تھا۔
پھر تمہاری ٹریننگ میں وہ مل گیا ۔اس نے کرسی سے ٹیک لگا لی ۔وہ فائنل ائیر میں تھا جبکہ وہ اس سے چھ سال بڑی تھی مگر وہ ذہین و فطین لڑکا اس کی خوبصورتی پر مر مٹا ۔
معصوم سی صورت اور چھ فٹ کا عمر اس پر فدا تھا ۔اس وارڈ میں کلاس نہیں لیکن کسی بہانے آنا ضرور ھے ۔مگر وہ اس کو کیا کہتی وہ استاد بھی تھی اور بڑی بھی۔معاشرہ کیا کہے گا ۔
ایک روز بارش ہو رہی تھی ۔اس کی نائٹ کال تھی ۔ایسے میں وہ آ گیا ۔وارڈ کا راؤنڈ کر کے کر وہ تھوڑی دیر آرام کرنے جا رہی تھی ۔اتنے میں وہ آ گیا ۔
پلیز میری بات سنیں۔
التجا تھی۔
وہ واپس آ کر بیٹھ گئی۔
فرمائیں۔
”آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ”
”تم بھی بہت اچھے ھو عمر “وہ مسکرائی
“اگر میں آپ کا ہاتھ تھام لوں عمر بھر کے لئے ”
اس کی آنکھوں میں چمک تھی ۔
”ناممکن ھے ”
کیوں ناممکن ھے آپ مجھے اچھی لگیں شادی تو کوئی گناہ نہیں ”
احتجاج تھا لہجے میں۔
اس نے عمر کو دیکھا وہ اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
ایک بار دل نے کہا ہاں کہہ دے وہ تھک چکی تھی ۔اس دھوپ کے سفر نے پاؤں میں آبلے ڈال دیے تھے ۔اسے وہ ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہی لگا ۔نجانے کیا سوچ کر اس نے یہ نہیں کہا۔
اوکے سوچوں گی اب تم جاؤ۔
میں جواب کا انتظار کروں گا۔
جاتے جاتے وہ بولا ۔
کمرے میں آ کر اس نے خود کو نارمل کیا۔
عمر اچھا لڑکا تھا ۔نجانے کب سے وہ اس کی طرف متوجہ تھا مگر وہ نہیں چاہتی تھی ایسا ھو ۔وہیں اس نے ولید رضا کو دیکھا تھا ۔وہ اس کے ساتھ ہی رہتا تھا ۔خاموش سا کبھی کبھی عمر کو تنبیہ کرتا ہوا۔مگر یہ دنیا کہاں جینے دے گی پھر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے طعنے ملیں گے کہ لڑکی تو ہوتی تم بھی عجیب ھو یہ سب وہ کیسے سہے گی لیکن چھ ماہ سے وہ اس سے نتھی ھے وہ سب کو دیکھ لے گا وگرنہ وہ آگے کیوں بڑھتا ۔اس نے خود ہی اٹھنے والے سوال کا جواب بھی تلاش کر لیا شاید اب وہ بہت تھک گئی تھی شاید ڈھ گئی تھی کاش وہ ڈاکٹر ہی نہ بنتی اگر بن گئی تھی تو خود غرض بن جاتی ۔لیکن اب سب ٹھیک ھے ۔ایک لڑکا اسے چاہتا ھے وہ مسکرا دی مگر پھر وہ ہوا جس کا گمان ہی نہ تھا ۔
صبح اس نے پہلی بار خود کو اچھی طرح سنوارا ۔وہ وقت سے پہلے ہی وارڈ میں آ گئی تھی ۔مگر کچھ آوازوں نے اسے روک لیا ۔اس کا وجود سماعت بن گیا ۔
لگی تھی نا شرط اب نکالو سب پیسے ۔کل رات اس کی کیفیت ایسی تھی بس سمجھو آج ہاں کر دے گی ۔یہ عمر تھا ۔ذرا سوچو تم کیا کرو گے ۔ولید کی آواز ۔۔۔۔۔۔۔ یار بڑی ھے وہ بس اچھی لگی فائنل کے بعد میں یہاں تھوڑا رہوں گا ۔اور اپنے سے چھ سالہ بڑی لڑکی سے شادی سے بہتر ھے کنوارا مر جاؤں ۔
”شکر اللہ کا میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں تھا ”
ولید کی آواز میں اطمینان تھا ۔
امل کتنی دیر خود کو سنبھالتی رہی اور پھر ایک دم ان کے سامنے أ گئی ۔
ایک دم عمر کا رنگ اڑ گیا۔
دیکھو تم سب یہاں پڑھنے آئے ھو ۔بہتر ھو گا اس پر توجہ دو ۔اور تم ۔۔۔وہ عمر کے سامنے تھی ۔کام کے علاؤہ اس وارڈ میں نظر نہیں آنا۔ورنہ رپورٹ کر دوں گی ۔سب کے سر جھکے ہوئے تھے مگر وہ تو جیسے ٹوٹ گئی ۔
تنہا تھی تو ہر کوئی اس سے فلرٹ کرنا چاہتا تھا مگر شادی نہیں ۔
وہ مزید اس ماحول میں رہنا نہیں چاہتی تھی ۔اس نے خاموشی سے اس ہاسپٹل کو ،اپنی ٹریننگ کو ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔آج وہ آخری بار وارڈ سے نکلی تھی ۔مگر باہر سیاہ بادل برسنے کو تیار تھے ۔ہوا کے جھکڑ چلنا شروع ھو گئے تھے ۔
ٹھہریں ڈاکٹر امل ۔۔۔ ولید کی آواز پر رک گئی
ادھر آ جائیں ۔وہ بےساختہ اس کا ہاتھ پکڑ کر شیڈ کے نیچے لے آیا ۔
ولید ۔۔۔۔ اس کو لگا اب بھی نہ روئی تو شاید مر جائے گی ۔

جی ڈاکٹر ۔۔۔ وہ چہرہ چھپائے رو رہی تھی ۔

کیا بڑا ھونا جرم تھا میرا یا میں ہی اتنی ٹوٹ گئی تھی کہ اس کی باتوں پر یقین ھونے لگا تھا بھلا مجھ سے کس نے شادی کرنی ھے ۔میری زندگی میں تنہا سفر ھے تنہا وہ رو رہی تھی
اس نے ایک دم اس کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا ۔وہ رو رہی تھی ۔بارش کا شور ،تیز ہوا اور ولید کی شرٹ کو بھگوتے آنسو ۔ایک دم ہوش میں آئے تو پیچھے ہٹی۔روئی روئی آنکھیں ۔سفید چاند جیسا چہرہ ،سیاہ آنکھیں ،مخروطی ہاتھ کیا کمی تھی اس میں ۔بس ان سے بڑی تھی ۔کیا پیار زمان و مکاں کا پابند ھے ؟کیا محبت بھی کبھی مشروط ہوتی ھے یہ محبت کی توہین ھے ۔
اس نے امل کا ہاتھ پکڑا اور اسے گاڑی تک چھوڑ آیا ۔
اسے یاد تھا وہ بارش میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔
حیرت تو یہ تھی ولید کے سینے پر سر رکھ کر وہ کیوں روئی ؟کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اسے ہوش میں لا کر کھڑا کر دیا ۔
وہ اٹھی تو صبح کی اذانیں ہو رہی تھیں ۔اس نے اٹھ کر وضو کیا ۔نماز پڑھی اور پھر ولید کے نمبر پر لکھا ۔
تم اپنی والدہ کے ساتھ آ سکتے ھو
اور پھر سائیڈ پر رکھ کر سکون سے سو گئی۔
وہ جانتی تھی اب اس نمبر پر ولید کا میسج کبھی نہیں آئے گا۔جب کوئی منتظر نہ ھو ،کسی کا انتظار بھی نہ ھو ۔نہ کھونے کا ڈر نہ پانے کی خوشی ۔ایسے میں نیند آ ہی جاتی ہے ۔
صبح جب وہ ہاسپٹل پہنچی تو گارڈ بھاگ کر آیا ۔

تمہیں کیا ہوا ھے ؟
ڈاکٹر صاحب وہ ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں ”
کیا کوئی توپ لائے ہیں مجھے اڑانے کے لئے “؟
اسے غصہ آگیا۔
“نہیں نہیں دراصل وہ آپ کے روم میں زبردستی بیٹھے ہیں اور ان دونوں نئے ڈاکٹرز کو بھی بٹھا رکھا ھے ”
اور تم یہ دیکھتے رہے بیوقوف انسان وہ تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔
اس کی کرسی پر سکون سے بیٹھا باتیں کر رہا تھا ۔
اوکے پھر ملیں گے اب جاؤ ”
اسے دیکھتے ہی اس نے دونوں کو بھیج دیا
“ہل جل سکتی ھو بت تو نہیں ھو اور میں بھی ولید ھوں اس کا بھوت نہیں ”
تب وہ سٹپٹائی ۔
اڑ کر آئے ہو یہاں ۔۔
“محبت شے ہی ایسی ھے پر لگا دیتی ھے۔ہوش اڑا دیتی ھے ۔دیوانہ بنا دیتی ھے۔محب کو طلب ہی محبوب کی ھوتی ھے تو خود سوچو وہ کہاں جائے گا ”
واہ بڑی باتیں آ گئی ہیں ۔وہ پہلی بار مسکرائی اور اپنی کرسی پر جا بیٹھی ۔
“ہر کوئی عمر نہیں ھوتا امل ۔تمہارے آنسو سے میرا دامن بھیگا تھا اپنی بے توقیری پر تم بچوں کی طرح رو رہی تھی ۔میں نے تب ہی سوچ لیا تھا ۔مجھے جلد ازجلد پڑھ کر تمہیں اپنا بنانا ھے ”
“اور ہاں شاید تم سوچ رہی تھی میں تمہارے میسج کے بعد نہیں آؤں گا ۔ذرا سوچو چار سال سے میں کبھی کبھی تمہیں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا ھوں ۔دیکھا اب کے بار تم غلط سوچ رہی تھیں” ۔اس نے اس کی ٹھوڑی کو چھوہا اور پھر کرسی پر جا بیٹھا مگر بولتا رہا۔

“میں ساری کشتیاں جلا کر آیا ہوں ۔میری والدہ تمہارے گھر پہنچ چکی ہوں گی ۔کیا اب بھی میرا یقین نہیں کرو گی ؟ وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔تم اتنی اچھی ھو کہ کوئی بھی تم سے شادی کرنے کو اپنی خوش نصیبی سمجھے گا ۔اس کی نگاہیں بدستور نیچے تھیں۔
ایک دم اس نے اپنا سیل فون اٹھایا اور گھر کا نمبر ملایا ۔
بی بی آپ جانتی ہیں ولید سے بہتر مجھے کوئی ہمسفر نہیں ملے گا آپ ہاں کر دیجیے ۔
یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔
اس نے ولید کی طرف دیکھا ۔اس کی آنکھوں چمک اور بڑھ گئی تھی ۔بےساختہ دونوں ہنس دئیے ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post