کھلونا : سعید اشعر

 

سیکنڈ ایئر کی کلاس فرسٹ فلور پر تھی۔
خالدہ سیکنڈ ایئر اردو کا پیریڈ مکمل کر کے سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ اسے راشدہ ملک مل گئی۔ ہمیشہ کی طرح چست کپڑے پہنے ہوئے۔ جن کی وجہ سے اس کا غیر ضروری موٹاہا چھپنے کے بجائے چھل چھل کرتا باہر آ رہا تھا۔ شاید اس کا اب مطالعہ پاکستان کا پیریڈ تھا۔
“تمھیں ایک زبردست لنک بھیجا ہے”
راشدہ ملک اکثر اسے انسانوں اور حیوانوں کے الٹے سیدھے وڈیوز بھیجتی رہتی۔ وہ انھیں دیکھنے کے بعد بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے ڈیلیٹ کر دیتی۔ کئی بار اس کا جی چاہا کہ اپنے کچھ اور دوستوں کو بھی اس میں حصہ دار بنائے لیکن کچھ سوچ کر اپنا ارادہ ترک کر دیتی۔ اس کے اگلے دو پیریڈ خالی تھے۔ گراؤنڈ فلور پر قدم رکھتے ہی اس نے سٹاف روم کا رخ کیا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ کھڑکیوں والی سائڈ پر بیٹھ گئی۔ آج کا اخبار سامنے میز پر بے ترتیبی سے پڑا ہوا تھا۔ چند گھڑیاں سستانے کے بعد اس نے اخبار کا فرنٹ پیج اٹھا لیا۔ تمام خبریں کل جیسی ہی تھیں۔ اس نے اخبار واپس میز پر رکھ دیا اور آنکھیں موند لیں۔

خالدہ کے والدین کا تعلق دلی سے تھا وہ تقسیمِ ہند کے چند سالوں بعد یہاں پاکستان آئے تھے۔ اس کی زبان میں موجود شائستگی، شستگی اور سلیقہ اسے وراثت میں ملا تھا۔ ناک نقشہ، قد بت اور صاف سرخ سفید رنگت دیکھ کے دنیا اس کے پیچھے پاگل ہو گئی تھی۔ اوپر سے موٹی موٹی غزالی آنکھوں نے اسے سچ مچ کی قیامت بنا دیا تھا۔ میٹرک کرنے سے پہلے ہی رشتے آنے شروع ہو گئے۔ انٹر کے بعد تو جیسے تانتا بندھ گیا۔ اس کے والدین کو ایسی کوئی جلدی نہیں تھی۔ اکلوتی اولاد تھی۔ اتنی جلدی اپنے دل کے ٹکڑے کو خود سے کیسے جدا کر دیتے۔ اس نے مزے سے ایم اے اردو کر لیا۔ نمبر اچھے تھے اس لیے گورنمنٹ کالج میں لیکچرر شپ آسانی سے مل گئی۔ طبیعت موزوں پائی تھی اس لیے کبھی کبھار کوئی شعر یا نظم بھی کہہ لیتی۔ کبھی کبھار ایک آدھ افسانہ بھی لکھ لیتی۔ کسی مشاعرے میں رضوان احمد کا اس کے ساتھ آمنا سامنا ہوگیا۔ ایک دم لٹو ہو گیا۔ سی ایس ایس افسر تھا۔ رشتہ ہونے میں کچھ خاص دقت پیش نہیں آئی۔ چٹ منگی پٹ بیاہ۔ ہنی مون کے چونچلے ختم ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی ان دونوں کو جیسے احساس ہو گیا کہ اس تعلق میں وہ شدت نہیں پائی جاتی جس کا سنتے تھے۔
“رضوان احمد کب گھر آتا ہے، کتنا گھر رہتا ہے، کیا پہنتا ہے، اس کا پسندیدہ کھانا کون سا ہے، کس دوست کے ہاں اس کا آنا جانا زیادہ ہے، کون ہے جس کے ساتھ ٹیلیفون پر لمبی لمبی گپیں ہورہی ہیں”
خالدہ کو ان باتوں سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہی حال رضوان کا بھی تھا۔ اسے بالکل پروا نہیں تھی کہ خالدہ کالج سے کس وقت لوٹتی ہے۔ کھانے کی میز پر اس کا انتظار نہیں کرتی۔ بن سنور کر اس کے سامنے نہیں بیٹھتی۔ یا اس کی پسند کا کبھی کوئی کھانا نہیں بناتی۔
دونوں اپنے اپنے حصار میں ایک دوسرے سے لاتعلق سے ہوتے چلے گئے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی پسند اور ناپسند کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کے درمیان کوئی نفرت کی دیوار کھڑی ہو گئی ہو۔ بظاہر گھر کے باقی سارے معاملات نارمل تھے۔ اس دوران دو بچے بھی ہو گئے کرن اور فارس۔ پھر بھی ماحول میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ کبھی کبھار بچوں کی وجہ سے آؤٹنگ پر چلے جاتے۔ ایک ساتھ پیزا یا بروسٹ کھا لیتے۔ باقی دنوں میں پھر وہی روٹین۔ بچے کھیل کے کمرے میں کھیلتے، ٹی وی پر کارٹوں دیکھتے، سکول کا ہوم ورک کرتے۔ اگلی صبح بیگ اٹھاتے اور سکول وین میں بیٹھ کے سکول پہنچ جاتے۔ خالدہ نے بھی اس دوران ایم فل کر لیا۔
پتہ ہی نہیں چلا شادی کو پندرہ سال گزر گئے۔ اس سٹیج پر ایک ان ہونی ہو گئی۔ جس کی وجہ سے دونوں میاں بیوی آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
“میں کوئی جھوٹ بولے یا کسی لگی لپٹی کا سہارا لیے بغیر اعتراف کرتا ہوں کہ میں اور سعدیہ شادی کرنے والے ہیں۔ اس معاملے کو اچھالنے کے بجائے ہمیں بات چیت سے اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔ اگر تم چاہو تو جس طرح کا ہم دونوں کے بیچ تعلق موجود ہے بغیر کسی کمی بیشی کے جاری رہ سکتا ہے۔ اور اگر تم علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں”
“ٹھیک ہے اگر تم حتمی فیصلے پر پہنچ چکے ہو تو ہمیں الگ ہو جانا چاہیے”
خالدہ کا کوئی بہن بھائی تو تھا نہیں۔ ماں باپ بھی گزر چکے تھے۔ طلاق کے بعد کہاں جاتی۔ ایسی صورت میں ہاسٹل سب سے مناسب جگہ تھی۔ وارڈن کہ جگہ خالی تھی وہ ادھر شفٹ ہو گئی۔ رضوان نے اسے بچے دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ ورنہ کوئی فلیٹ کرائے پر لے لیتی۔ اکیلی عورت عدالتوں میں کہاں دھکے کھاتی پھرتی۔ ویسے بھی فیصلہ ہونے تک بچے شادی شدہ ہو چکے ہوتے۔ اس لیے اس نے صبر کا راستہ اختیار کر لیا۔
اس سانحے کو گزرے ابھی چھ سات ماہ ہی گزرے ہوں گے کہ ایک دن سٹاف روم میں راشدہ ملک نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“کب تک یوں ہی تنہا رہو گی۔ پتہ ہی نہیں چلے گا چالیس کی ہو جاؤ گی۔ اسسٹنٹ پروفیسر ہو اور خوبصورت بھی۔ آسانی سے اچھا رشتہ مل جائے گا۔ کہو تو یہ کام کسی کے ذمے لگاؤں”
اگلا پورا ہفتہ وہ دونوں اس ٹاپک پر سرگوشیوں میں مصروف رہیں۔ آخر رشتے کرانے والی ماسی ایک ایسا رشتہ لے آئی جس پر خالدہ نے ہاں کر دی۔ سمیر اس سے پانچ سال چھوٹا تھا۔ گاؤں میں زمینداری کے علاوہ شہر میں اس کا رئیل اسٹیٹ کا بزنس بھی تھا۔ پڑھا لکھا خود مختار، لمبا چوڑا، گندمی رنگ اور خوش شکل، اسے بھلا اور کیا چاہیے تھا۔
سمیر نے کراچی کمپنی کے قریب ایک مکان کے اوپر والے پورشن کا ایک حصہ کرائے پر لیا ہوا تھا۔ سادہ سی ایک تقریب میں نکاح کے بعد وہ اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کے وہاں لے گیا۔ کمرے میں پہنچ کر خالدہ نے شال اتاری تو اس کا خیال تھا کہ اس کے جمال سے رضوان کی آنکھیں چکاچوند ہو جائیں گی۔ وہ اس کے الوہی حسن کے قصیدے پڑھے گا۔
“میں اسے ایک دم اپنے قریب نہیں آنے دوں گی تاکہ کچھ دیر تڑپتا رہے”
ابھی وہ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منصوبہ بندی بھی نہ کر پائی تھی کہ رضوان نے اس پر جھپٹا مار کے اسے بستر پر پٹخ دیا۔ اسے سانس لینے کا موقع تک نہیں ملا۔ تسخیر ہوتی چلی گئی۔
صبح اٹھی تو اس کا ایک ایک جوڑ دکھ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا رات بھر جیسے کوئی اسے ایسے پٹختا رہا جیسے کھدر کی چادر کو کوئی دھوبی گھاٹ پر پٹختا رہا ہو۔ اس کے وجود کے اندر کے وہ حصے بھی چور چور تھے جو دو بچوں کی پیدائش کے باوجود ابھی تک محفوظ تھے۔ پورا ایک ہفتہ اسی اکھاڑ پچھاڑ میں گزر گیا۔ کالج سے لی ہوئی چٹھیاں ختم ہوئیں تو اس نے سکھ کا سانس لیا۔ رضوان بھی ایک ہفتے کے لیے اپنی زمینوں کی طرف نکل گیا۔
اب یہ معمول بن گیا کہ ہفتے میں وہ ایک بار آتا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپر ہوتا جس میں تکے، کباب، سیخ کباب یا کڑہائی گوشت ٹائپ کا کوئی کھانا ہوتا۔ جسے وہ ڈٹ کے کھاتا اور رات بھر اسے مصالحہ کوٹنے کی مشین بنا کے رکھتا۔ اس کے علاوہ گھر کی تمام تر ذمہ داریاں خالدہ کے گلے کا پھندہ تھیں۔ مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، گھر کا تمام سودا سلف اور باقی تمام متفرق اخراجات اس کی تنخواہ کے مرہون تھے۔ کبھی کبھار رضوان بھی اس سے دس پندرہ ہزار اینٹھ لیتا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس بد ذائقہ بلکہ ضرر رساں زندگی کے بدلے وہ اس خون پینے والی جونک کے ساتھ کیوں رہ رہی ہے۔
ٹھیک نو مہینے اور پانچ دن کے بعد ساجدہ پیدا ہو گئی۔ خالدہ کے پاؤں کی زنجیر گھسنے کے بجائے مزید بھاری ہوگئی۔ رضوان کی روٹین میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ ہفتہ کی شام کو اپنی پسند کے کھانے کا شاپر ساتھ لے آتا اور کچھ دیر بعد ریچھ بن جاتا۔ البتہ مہینے میں ایک آدھ بار وہ ان دونوں کو تھوڑی دیر کے لیے اپنی گاڑی میں گھمانے بھی لے جانے لگا۔
ساجدہ اب دو سال کی ہونے والی تھی۔ وہ ایسے موقع پر اپنے والد سے خوب کھیلتی۔ اس وقت وہ اپنی ماں کے ساتھ لیڈی گارڈن میں جھولا جھول رہی تھی۔ رضوان قدرے فاصلے پر سکون سے بیٹھا تھا۔
“میڈم وہ بھائی آپ کے کیا لگتے ہیں”
خالدہ نے مڑ کے دیکھا تو ایک دیہاتی حلیے کی عورت اس کے پاس کھڑی تھی۔
“وہ میرے میاں ہیں، کیوں خیریت”
“اچھا۔۔۔وہ ہمارے گاؤں کے ہیں۔ وہاں بھی ان کی ایک بیوی اور دس بارہ سال کی بیٹی ہے۔ وہ ان کی ماں کے ساتھ رہتی ہیں”
خالدہ کو لگا جیسے وہ کسی گھومنے والے جھولے پر بیٹھ گئی ہو۔
“کیوں نہ کسی دن آپ کے گاؤں چلیں۔ کھیتوں میں بھی گھومیں گے”
واپسی پر اس نے رضوان کو ٹٹولا۔
“اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں تمام زمینوں کا کسی کے ساتھ سودا کرنے والا ہوں۔ کسی دن ایوبیہ چلتے ہیں”
کمال مہارت سے اس نے موضوع بدل دیا۔
خالدہ اتنی جلدی ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ کالج کا ایک ملازم اسی کے گاؤں کے پاس کسی جگہ رہتا تھا۔ اس نے بآسانی اس کا کھرا پتہ نکالا اور اس عورت کی بات سچ ثابت ہوئی۔
“اس کی ماں کو آپ کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ اس نے اسے صاف صاف کہا ہوا ہے کہ اگر اپنی دوسری بیوی کو ادھر لے کر آئے تو ہم اس کا سر مونڈھ کے واپس بھیجیں گے”
وہ خاموش رہی۔
اب رات دن اس کے کھوہڑی میں ایک ہی ہانڈی پکتی کہ وہ اس فراڈیے کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ گھر میں اس کا آنا اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جارہا تھا۔
“اس بد ذات سے کیسے پیچھا چھڑاؤں۔۔۔۔۔۔کیا یہ مناسب رہے گا۔۔۔۔۔۔۔ ساجدہ کی زندگی برباد ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔۔میں اکیلی عورت۔۔۔۔۔۔۔اس کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔ریچھ کا بچہ۔۔۔۔خبیث”
سوچتے سوچتے اس کا دماغ پٹھنے لگتا۔ وہ سر کو جھٹک کے اپنی جگہ بدل لیتی۔

مشکل سے پانچ منٹ گزرے ہوں گے۔ موبائل کی گھنٹی نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا۔
“سلام۔ کیسی ہیں۔ اگلے مہینے کے شمارے کے لیے ابھی تک آپ کے غیر مطبوعہ افسانے کا انتظار ہے”
“وعلیکم السلام۔ آپ ناراض نہ ہونا میں اس وقت کالج میں ہوں شام کو بھیجتی ہوں۔ بہت شکریہ”
اس کے ساتھ ہی اس نے کال منقطع کر دی۔ دو سال پہلے اس کی نظموں اور غزلوں کا پہلا مجموعہ چھپ چکا تھا اور اب افسانوں کا مجموعہ پروف ریڈنگ کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے راشدہ ملک نے کسی لنک کا ذکر کیا تھا۔ اس نے موبائل انلاک کر کے لنک کو ٹچ کیا تو ایک بالکل نیا جہان اس کے سامنے آ گیا۔
“راشدہ ملک بھی بڑی ہی کمینی ہے”
یہ آن لائن سیکس ٹوائیز خریدنے کی ویب سائیٹ تھی۔ اس نے موبائل آف کیا اور اسے ہینڈ بیگ میں رکھ کے دوبارہ اپنی آنکھیں موند لیں۔ اس کا دماغ اس وقت مختلف آوارہ خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ ویک اینڈ کی وجہ سے ہھر اس کی سوچ کا رخ اپنے گھر کی طرف ہو گیا۔
“اوہ ویک اینڈ خراب کرنے شام کو وہ ریچھ بھی آ جائے گا”
پھر اس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔
“ریچھ کھلونا”
یہ دو الفاظ بے اختیار اس کے منہ سے نکل گئے۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ سٹاف روم میں کوئی نہیں تھا جو سن لیتا۔ اس کے چہرے کی ہلکی ہلکی زردی، سرخی میں بدلنے لگی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post