افسانہ

کھلواڑ : فریدہ غلام محمد

میری والدہ اتنا ہی کر سکتی ہیں جتنی ان میں طاقت ھے ،تمہاری خواہش کے لئے سب سے بڑے ہوٹل میں بارات کا انتظام ناممکن ھے ۔جس دنیا کو دکھانا ھے اسکا مقروض ھو کر میری ماں کو کیا ملے گا۔اس سے بڑی بات کیا ھوگی کہ سب سے قیمتی شے وہ تم کو تھما دیں گی یعنی اپنی بیٹی ۔۔۔۔۔۔میں نے تو شوکیس میں سجی گڑیا کے ساتھ بھی ایسا ھوتے نہیں دیکھا جیسا تم میرے ساتھ کر رہے ھو تم بناوٹی لوگ جیتی جاگتی بیٹی کی قیمت لگا رہے ھو یہ شادی نہیں بیوپار ھے ۔۔۔کھلواڑ ھے ۔۔یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا تھا ۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے سسک رہی تھی ۔۔۔۔۔ماں نے کتنا سمجھایا تھا آج کے دور میں یہ باتیں کون سنتا ھے ،ہم سب کر لیں گے مگر میری نہ ہاں میں نہیں بدل سکی تھی ۔۔۔۔بابا ،بابا دومنٹ چلیں۔۔۔ان کی انگلی تھامے میں اصرار کرنے لگی ۔۔۔ وہ ترکھان بابا جی ہیں نا ان کے پاس ۔۔کیوں جانا ھے۔۔ وہ میری گڑیا کی شادی ھے نا۔۔ تھوڑا سا فرنیچر بنوانا ھے ،اپنے تیئں بڑا بنکر کہا بابا زیر لب مسکرائے روپے ہیں ۔۔۔۔کیوں آپ نہیں دیں گے ،لہجہ خفا تھا ،بھئ گڑیا تمہاری ھے نا اپنی پاکٹ منی سے لو۔۔۔۔وہ مسکرائے اچھا رکیں میں کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔گولک توڑی ۔۔۔جتنے سکے تھے ۔۔لے کر ترکھان بابا کے پاس مجھے یاد ھے میں نے الماری ۔سنگھار میز ،بیڈ دو کرسیاں بنوا لیں ۔۔۔میز ترکھان بابا جی نے گفٹ کر دیا یوں خوشی خوشی میری گڑیا کی شادی ھو گئ ۔۔۔۔۔شام بڑی سہانی تھی ۔۔۔۔۔ھو گئ شادی ۔۔۔بابا نے کلینک سے آتے ہی پوچھا ۔۔ہاں جی ھو گئ۔۔۔۔۔کیسا لگا اپنے روپے خرچ کر کے ۔۔۔بہت اچھا ماں سے بھی ڈانٹ نہیں پڑی ۔۔دیکھو ہمیشہ اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ کیا ھوتی ھے ۔۔۔۔۔ self respect. ہاں جی بابا میں نے سمجھتے ھوئے سر ہلایا اور آج اسی عزت نفس کو بچانے کے لئے میں نے اس رشتے سے انکار کیا جن کو مجھ سے زیادہ۔ سیون سٹار ہوٹل ،بہت بڑا جہیز چاہئے تھا ۔۔۔۔۔میرا رب بڑا مہربان ھے ۔۔۔۔۔ کوئ نا کوئ میرے جیسا بھی ھو گا جس کو عزت نفس عزیز ھو گی ۔۔۔۔میں مایوس نہیں تھی ۔۔۔خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔باہر موسم خوش گوار تھا ،میں چپکے سے اماں کے کمرے میں آئ ۔۔۔انھوں نے مسکرا کر مجھے دیکھا ۔۔۔ مجھے لگا کہیں دور بابا بھی مسکرائے ،سکون سے ان کی گود میں سر رکھا اور آنکھیں موند لیں ۔۔۔

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

افسانہ

بڑے میاں

  • جولائی 14, 2019
  افسانہ : سلمیٰ جیلانی انسانوں کی کہانیاں ہر وقت ہواؤں میں تیرتی پھرتی ہیں یہ ان کی روحوں کی
افسانہ

بھٹی

  • جولائی 20, 2019
  افسانہ نگار: محمدجاویدانور       محمدعلی ماشکی نے رس نکلے گنے کے خشک پھوگ کو لمبی چھڑی کی