افسانہ

کونپل کا قتل : خاورچودھری

 

مہذب اور باشعور لوگوں کا شیوہ جوہوا کرتا ہے اور جس روش پر اُن کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے؛وہ اُس سے خوب شناساتھی۔ یُوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا ،کہ تہذیب و شائستگی اور ذہانت و فطانت کی مٹی میں گوندھ کراُس کاوجودبنایاگیا تھا۔ جس ماحول میں وہ پروان چڑھی تھی، وہاں بلند آواز میں گفتگومعیوب سمجھی جاتی اور اختلافِ رائے کے اظہار پر برہمی ،بداخلاقی کے دائرے میں داخل شمار ہوتی۔پسند اور ناپسندکااختیارواضح، دوٹوک اوربلاتامل ہوتا تھا اور یہ معمول کی زندگی کا حصہ تھا۔والد جوائنٹ سیکرٹری، والدہ ڈاکٹر، بھائی سول سروس میں اہم عہدوں پر اور سب سے زیادہ قابلِ توجہ بات یہ کہ وہ خود کیمبرج کی تربیت یافتہ____ ساتھی بھی اللہ نے ایساعطا کیا تھا جس پرزمانہ رشک کرے۔ جس کے تحقیقی مضامین کی بنیاد پرجامعات میں نئی اختراعات اور ایجادات کادَر واہوتاتھا؛ جس کی گفتگو کے بدلے میں ادارے لاکھوں روپے نچھاور کردیتے تھے۔ ایسے ماحول میں رہنے والوں کی زندگیوں کا تصور وہی لوگ کرسکتے ہیں، جواس ماحول میں پروان چڑھے ہوں۔ عامیوںکو اس کا دماغ کہاں؟ ڈراموں اور فلموں میں محض خیالی دُنیائیں ہوتی ہیں اور حقیقی زندگی پر ان کا اطلاق ایک گمراہ کن عمل ہوگا۔ اس لیے عام شخص ایک قیاس سے بڑھ کر اس زندگی کا سراغ نہیں لگاسکتا۔
انگلینڈ میں جب کورونا وائرس کی وباکا غوغااُٹھا تواُس نے وطن لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ وہ چاہتی تھی، کہ اُس کے وجود میں موجودانکھوا پوری کونپل کی صورت بنے اور پھرمکمل نونہال ہو کرپنپنے اورنشوونما کے عمل سے گزرے۔ تسبیح کی زندگی کی پہلی خوشی____ اور پھراپنے وطن لوٹنے کی شادمانی الگ سے۔ اُس کے شوہر مشاہدعلوی نے ائیرپورٹ پر اُسے رخصت کرتے ہوئے فضا میں ہوائی چُما اُچھالا اورپھردیرتک اور دُورتک اُسے تکتاچلاگیا۔ مشرقیت سے ایک قدم آگے نکلتا ہوا محبت کا یہ انداز اُسے ہمیشہ سے عزیز تھا اور وہ اپنے شوہر کی اس ادا پردل و جان سے فریفتہ تھی۔
نامساعدحالات کے سبب اُسے اپنے شہر کی فلائٹ نہ ملی۔ مجبوراً اُس نے دوسرے صوبے میں اُترنا قبول کیا۔ اُس کاخیال تھا، کہ وہاں موجودبھائی اُسے ائیر پورٹ سے گھر لے جائے گا اور یہ بھی ممکن تھا، کہ وہ قومی فلائٹ سے اپنے شہر تک جانے کا انتظام اُسی روز کردے۔ اُس نے بھائی کو اطلاع دی؛ جواباً بھائی نے خوشی کے اظہار کے ساتھ سارے انتظامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرادی ۔
تسبیح، دورانِ سفرپوری احتیاط کررہی تھی، وہ خوف زدہ ہر گز نہ تھی اور نہ آنے والے حالات کا بھیانک دیواُسے ڈرا رہاتھا۔ وہ کتاب، جو آتے ہوئے گھر سے اُٹھا لائی تھی، خاموشی سے اُس کے مطالعے میں محو رہی۔دُنیا کے عجائبات اور احساس کو ہلادینے والے واقعات سے مزین یہ کتاب پچھلے ہی ہفتے مشاہد لایا تھا ____ جانتا تھا ،تسبیح اس طرح کی کتابیں شوق سے پڑھتی ہے۔ جوں جوں ملک قریب آرہاتھا؛اُس کے جذبات میں اور دل میں ایک خاص قسم کی گرم جوشی ٹھاٹھیں ماررہی تھی۔ بھائی سے ملاقات برسوں بعد ہورہی تھی؛ مامااوربابا سے ملاقات بھی دو برس پہلے ہوئی تھی اور سب سے زیادہ اپنے بچپن کی سہیلیوں اور خالہ زاد بہنوں سے ملنے کا اشتیاق۔ سوچوں کا تانابانااُلجھتاجاتاتھا اوراُس کے لیے طے کرنا مشکل ہورہاتھا، کس کو زیادہ وقت دے اور کسے فوراً سرشار کرے۔ ہر ایک تواُسے ٹوٹ کر چاہتا تھا۔
جہازمیں ویسے تو کوئی خاص بات ایسی ظاہر نہ ہوئی ،جو اُسے پریشان کرتی؛ اب مگر ہلکا سا سردرد اُسے محسوس ہورہا تھا۔اُس نے سوچا ممکن ہے تھکاوٹ کے باعث ایسا ہو۔سونے کی کوشش میں گھنٹا بھر وہ اپنی نشست پر پہلو بدلتی رہی لیکن پھراچانک ناک بہناشروع ہوئی۔ زکام کی کیفیت اور سردرد نے اُسے فکرمند کردیا۔ اُس نے فضائی میزبان کوصورتِ حال بتائی، جس پرعملے کے ایک اعلیٰ رکن نے فوراً اُس کا بلڈ پریشر اور ٹمپریچرچیک کیا۔ سب کچھ نارمل تھا۔ معمولی ساٹمپریچر تھا، جو ایک گولی کے استعمال سے کم ہوگیا۔تھوڑی دیر بعدپھرکیفیت لوٹی تواُسے تفکر نے آگھیرا۔ اُس کے دماغ میں کورونا کے اثرات اور اُس سے ہونے والی خطرناک تباہی کا اژدھامنھ کھول کر بیٹھ گیا۔ رہ رہ کراُسے اپنے ہونے والے بچے کا احساس ہورہاتھا۔ اُس نے طے کیا کہ اُترتے ہی اس وائرس کا مکمل ٹیسٹ کروائے گی؛اس کے بعد بھائی کے ساتھ جائے گی____ جہازوقت سے آدھ گھنٹا تاخیر سے پہنچا؛ بھائی ائیر پورٹ پر لینے کے لیے خود موجود تھا۔ وہ گلے لگانے کے لیے بڑھا لیکن اس نے دُور سے ہی منع کردیا اور ساتھ ہی بتادیا کہ اُسے کسی اسپتال پہنچایاجائے۔ شبہ ہے کہ کورونا کا وائرس سرایت کرگیا ہے۔
اسپتال کے عملے نے ظاہری چیک اَپ کے بعدہر طرح سے تسلی دی ____ وہ کسی طرح البتہ مطمئن نہ ہوئی۔ اور بھائی کو مخاطب کرکے کہا:
’’ بھائی! مجھے فوراً گھر بھجوائیں۔‘‘
بھائی نے انتظام کردیا ۔تسبیح نے اپنے شہر کی طرف سفرکے آغا ز پر ہی والدہ کو بتادیاتھا:
’’مجھے سب سے الگ تھلگ رہنا ہے۔ گھر کے بوڑھے ملازمین کو رُخصت کردیں اورچھوٹے بھیا کے بچوں کو اُن کے ننھیال بھیج دیں۔میراکمرہ صاف کروادیں۔ اگرچہ یہاں کے ڈاکٹروں نے اپنے تئیں وائرس کا خطرہ ظاہر نہیں کیا لیکن مجھے شبہ ہے۔میں آکر دوبارہ تسلی کرناچاہتی ہوں۔‘‘
ڈاکٹر ماں ،بیٹی کے احساسِ ذمہ داری پرخوش تھی اوراس کی بیماری پر فکر مند بھی۔ بہ ہر حال اُسے وہی کرنا تھا ،جواُس کی بیٹی چاہتی تھی۔
تسبیح نے گھر پہنچ کرکسی سے ملاقات کی نہ کسی کو اپنے قریب آنے دیا۔ خاموشی سے اپنے کمرے میں گُھس گئی۔نیندآور گولیاں لے کر خوب سوئی ۔ اگلے دن اگرچہ اُس کی طبیعت ہشاش تھی لیکن وہ مقامی لیبارٹری میں ٹیسٹ کی غرض سے پہنچ گئی۔ متعلقہ ٹیسٹ کروا لینے کے بعد بھی اُس نے خود کو تنہارکھا اور اپنوں سے ہر طرح کا رابطہ منقطع کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی، کہ اُس کا وائرس کسی اور میں منتقل ہو۔ اگرچہ ابھی اس کا یقین بھی نہ تھا؛ کیوں کہ دوسرے شہر کے ڈاکٹروں نے اُسے صحت مند قرار دیا تھا۔ایک ذمہ دار، مہذب اور باشعور شہری کی طرح اُس نے رپورٹ کا انتظارکیا۔ وہ جانتی تھی، کہ رپورٹ سے پہلے کوئی بھی بات محض قیاس ہوگا۔گھر کے ماحول اور سکون کے باعث اب اُس کی طبیعت میں اضطراب بھی نہ تھا لیکن اُمید سے ہونے کے سبب مخصوص کرب تو بہ ہرحال اُس کے ساتھ ساتھ تھا ۔ وہ نئی زندگی کوجنم دینے کے خیال میں خوش رہنے لگی تھی۔
ایک دن اچانک اُن کے بنگلے کے سامنے بے طرح کا ہجوم جم گیا۔مختلف سرکاری گاڑیاں ہوٹراورسائرن بجاتی ہوئی آ آ کر جمع ہورہی تھیں۔ اُس نے کھڑکی میں سے باہرجھانکا تو اندازہ ہوا ون ون ٹوٹوکی گاڑیاں، اسپتال کی ایمبولینس، پولیس کی وینیں اورکچھ افسروں کی گاڑیاں ہیں۔ اس ہجوم کے باعث عمومی ٹریفک بھی رُک گئی۔ نجی گاڑی والے، ٹیکسی رکشے والے اور موٹر سائیکل سوار بے ہنگم ہجوم میں اضافہ کرتے چلے جارہے تھے۔ اُس نے سوچاممکن ہے بابا کی وجہ سے کچھ لوگ اکٹھے ہورہے ہوں لیکن ایسا پہلے تو کبھی نہ ہوا تھا۔باباکوفون کیا تواُنھوں نے جواباً کہا:
’’ میں توآفس میں میٹنگ میں موجود ہوں، ہوسکتا ہے آس پاس کوئی حادثہ ہوا ہو۔ تم فکر نہ کرو۔‘‘
ابھی فون بند ہی ہواتھا، کہ سرکاری گاڑیوں سے افسر اُترکر اُس کے گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ اُس نے ماما کا نمبرڈائل کیا اور ساری صورت حال بتادی۔ماما کا پرائیویٹ کلینک ساتھ ہی تھا۔ وہ منٹوں میں سارے کام چھوڑاورہجوم کا سینہ چیر کر چلی آئیں۔گیٹ پر موجودافسروں نے اُن سے کچھ گفتگو کی ،اُس کے بعد افسرماما کے ساتھ اندرآگئے۔
ہجوم بدستوربڑھ رہاتھا۔ تماش بینوں کی تعداد میں اضافہ اُسے فکر مند کیے جارہاتھا۔ وہ ماما کا فون نمبر باربارڈائل کرتی لیکن وہ مصروف کردیتیں۔ وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر وہ باہر بھی تو نہ نکل سکتی تھی۔ گھنٹا بھر انتظارکے بعدماما خوداُس کے پاس چلی آئیں اور سارا ماجرا کہ سنایا:
’’ تمھارا ٹیسٹ مثبت آیا ہے؛ جس لیبارٹری سے تم نے ٹیسٹ کروایا تھا، اُس نے محکمہ صحت کو اطلاع کردی ہے۔ اب یہ لوگ تمھیں لینے آئے ہیں۔‘‘
’’ ماما! پیشہ ورانہ بددیانتی کی یہ انتہا میں نے دیکھی نہ سنی۔یہ میرا اور لیبارٹری کا معاملہ تھا۔ میں نے کسی کے دباؤ میں آکر توٹیسٹ نہیں کروایاتھا؟ میں تو خود چاہتی تھی، کہ میری وجہ سے کوئی اور متاثر نہ ہو۔ آپ جانتی ہیں، میںکب سے احتیاط کررہی ہوں۔یہ نامناسب انداز ہے۔ بہ ہرحال اب ٹیسٹ مثبت آیا ہے توانھیں بتا دیجیے کہ مجھے جس اسپتال میں کہیں گے، پہنچ جاؤں گی۔ انھیں کہیں یہاں سے چلے جائیں۔‘‘

’’ تسبیح! اتنی دیر سے میں انھیں یہی سمجھاتی رہی ہوں۔ یہ لوگ کسی طرح بھی نہیں مانتے۔ تمھارے بابا نے سیکرٹری ہیلتھ کو فون بھی کیا۔ تمھیں جانا ہوگا میرے بچے! فوراً تیاری کرو اور باہرآجاؤ۔‘‘
’’ماما! میری حالت آپ جانتی ہیں؛انھیں سمجھائیں۔‘‘
ماں بیٹی کی گفتگوجاری تھی، کہ ایک افسر نے مداخلت کی:
’’بہتر یہی ہے ،آپ ہمارے ساتھ چلیں۔انتہائی اہم معاملہ ہے۔ نظرانداز نہیں ہوسکتا۔‘‘
وہ خاموشی سے اُٹھی اور اُن کے ساتھ چل دی۔
ایمبولینس کی حالت انتہائی تکلیف دہ تھی۔ اُسے رہ رہ کر اُبکائی آرہی تھی۔ کئی بار تو اُسے یوں محسوس ہوا، جیسے اُس کا کلیجہ حلق میں آجائے گا۔جیسے تیسے سفرختم ہوا تواسپتال میں ایک تھکا دینے والا منظراُ س کے سامنے تھا۔بابا بھی آچکے تھے۔ عملہ بہ ظاہر بھاگ دوڑ رہاتھا لیکن کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی، کہ کرے کیا____ اس لیے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے تمام لوگوں کے پاس معلومات ناکافی تھیں۔ سرکاری اسپتال کے گندگی سے اَٹے ہوئے کمروں میںسے نسبتاً ایک صاف کمرے میں اُسے ٹھہرایاگیا۔بدبواور تعفن سے اُس کا جی اُلٹتا رہا، یہاں تک کہ سینہ چیر دینے والی کھانسی کا تسلسل قائم ہوگیا۔کچھ طبیعت سنبھلی توڈاکٹروں سے اُس کی تفصیلی گفتگو ہوئی۔جس پر اسپتال کے اعلیٰ انتظامی افسرڈاکٹرنے کہا:
’’ بیٹا! اس معاملے میں آپ ہم سے زیادہ شعور رکھتی ہیں؛اس لیے، جہاںآپ کو سہولت ہو، وہاں قیام کریں۔ آپ کی ماں ڈاکٹر ہیں۔ والد قوم کے ذمہ دار فردہیں۔ پوری امید ہے، کہ آپ سے کسی کونقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘
وہ شکریہ ادا کرکے گھر چلی آئی۔
اگلے روز قومی میڈیا پراُس کے بابا کو نشانہ بنایاجارہاتھا:
’’ جوائنٹ سیکرٹری نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے کورونا وائرس میں مبتلا اپنی بیٹی کو گھر منتقل کرا لیا۔ ایک اعلیٰ افسر کی یہ غیر ذمہ داری تشویش ناک ہے۔‘‘
تسبیح نے ایک اور پیشہ وارانہ غیرذمہ داری اور بددیانتی کا منظردیکھا توقومی اداروں کی ذہنی ناپختگی اور جہالت پرآنسوبہاناشروع کردیا۔اُسے لگا کہ انگلینڈ سے پلٹ کراُس نے غلطی کی ہے۔ اگر وہیں رہتی تو بہت ممکن تھا، اُسے یہ اذیت ناک دن دیکھنا نہ پڑتے۔ میڈیاپربات آئی تو گویا سوشل میڈیا کے ناہنجارصارفین کی لگام بھی کھل گئی۔وہ دو تہذیبوں، دو معاشروں اور دو قوموں کا موازنہ کرکرکے خود کو ہلکان کررہی تھی ،کہ اچانک پھر سرکاری گاڑیوں کے ہوٹر اور ایمبولینس کا سائرن بجنا شروع ہوگیا۔ پھر بے ہنگم اوربے لگام ہجوم ان کے بنگلے کے سامنے جمع ہوا۔ ماں جو گھر پر موجود تھی، فوراً باہرگئی۔ وہی ماجرا، وہی بحث وتکرار اور افسروں کی وہی بے بسی یا ہٹ دھرمی۔ اب تسبیح کے لہجے میں کچھ تلخی بھی درآئی تھی:
’’ جب تمھارے پاس معقول علاج اورسہولیات نہیں تو کیوں مجھے ہراساں کرتے ہو۔ تمھارے ڈاکٹروں نے خود تجویز کیا، کہ میں گھر پررہوں۔ یہاں میں بھی محفوظ ہوں اور دوسرے بھی مجھ سے محفوظ ہیں۔‘‘
’’ بجا فرماتی ہیں لیکن آپ کو جاناہوگا۔‘‘
ٹریفک کاناقابلِ فہم اور بدمزہ ہجوم اُس کی طبیعت میں کراہت کا سبب بن رہا تھا۔ لوگوں کے ہاتھ گویا تماشاآگیاتھا۔ رُک رُک کر دیکھتے اورایمبولینس کی طرف اشارے کرکرکے سیکرٹری کی بیٹی کو موضو ع بناتے۔ موٹرسائیکل سوار توباقاعد ہ اہتمام کرکے ایمبولینس کے قریب آنے کی کوشش کرتے ____ ادھر تسبیح کی حالت بگڑتی چلی جارہی تھی۔اُسے محسوس ہوا، جیسے اُس کا نچلا دھڑ ٹوٹ کر جدا ہونے کو ہو۔ وہ درد کی شدت پرقابو پانے کے لیے پورے جتن کررہی تھی، مبادا چیخ نکل جائے۔اُسے اندازہ ہوگیاتھا ،کہ یہ درد کچھ اور ہے____ زچگی کی کرب ناک حالت اُس پر طاری ہوچکی تھی۔ ایمبولینس میں ایک ڈرائیورتھا اوراُس کے پاس بھی فرسٹ ایڈ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ بے ہنگم ہجوم نے راستہ روک رکھا تھا۔ ڈرائیورکورونا وائرس کی مریضہ سے جلداز جلد جان چھڑاناچاہتا تھا لیکن سفر جیسے صدیوں کو محیط ہوگیاہو۔تسبیح کے درد میں اضافہ ہوا تووہ خود پر قابو نہ رکھ پائی____ مسلسل چیخوںسے تماش بینوں کے لیے جہاں نیا منظرتشکیل ہوا، وہاں ڈرائیور پر بھی ہیبت طاری ہوگئی۔ اُسے اندازہ ہی نہ ہوسکا، کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر ہے۔ خوف زدہ ہوکر اُس نے گاڑی پولیس وین سے ٹکرا دی۔
ایک خوف ناک تصادم میں زور دار چیخ بلند ہوئی اور قبر میں اُتر گئی۔
ڈاکٹروں نے اُسے بتایا:
’’انکھوا قبل ازوقت پھوٹااورکونپل پھوٹتے ہی مرجھا گئی۔‘‘

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

افسانہ

بڑے میاں

  • جولائی 14, 2019
  افسانہ : سلمیٰ جیلانی انسانوں کی کہانیاں ہر وقت ہواؤں میں تیرتی پھرتی ہیں یہ ان کی روحوں کی
افسانہ

بھٹی

  • جولائی 20, 2019
  افسانہ نگار: محمدجاویدانور       محمدعلی ماشکی نے رس نکلے گنے کے خشک پھوگ کو لمبی چھڑی کی