کورونائی نظریات : خاورچودھری

 

دُور بیٹھا ہوا کوئی شخص یہ کیسے جان سکتا تھا،کہ چین میں کیا ہوااورہوسکتا ہے۔ شروع میں تو عام لوگوں کی طرح اُس کا بھی یہی خیال تھا، کہ نامعقولات کھانے والی اس قوم نے کچھ ایسا ضرور کھا لیا ہوگاجوچھچھوندر کی مانند ان کی زندگیوں کو محیط ہوگیا ہے۔عام آدمی تو یہ بھی نہیں سوچ سکتا تھا ،کہ کورونا وائرس ان کے گھروں تک بھی آسکتا ہے۔ ہزاروں میل دُور دیہات میں، کوہستانوں میں، ریگستانوں میں اور سمندروں کے قریب ایسی بستیوں میں ،جہاں بیرونی دُنیا کا کوئی انسان بھی نہیں جاتا۔چین کے ساتھ امریکا کانام لیاگیا اوراسی دورانیے میں ایران کا چرچا عام ہوا؛ پھر انگلینڈ میں اموات کی نشاندہی کے ساتھ ہی اٹلی میں عظیم تباہ کاری کی خبریں بھی آگئیں۔
یہ ایسا وقت تھا، جب ہمارے ملک میں اتنی خطرناک صورتِ حال نہ تھی۔ لوگ اس وائرس سے متعلق قبل ازوقت بہت کچھ جان تو گئے تھے لیکن ایسوں کی تعداد بہت کم تھی، جواس تناظر میں حساس ہوتے اوربعضوں کو تو مطلق احساس نہیں تھا ،کہ وہ ایک سنگین بیماری کی لپیٹ میں آنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں نے معمولاتِ زندگی کو معطل کرنا خلافِ شان خیال کیا اور ہرطرح سے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کی۔ بعضوں نے بے احتیاطی کو جرأت پربھی محمول کیا۔ وہ اپنے جان کاروں کے سامنے عجیب عجیب نظریات پیش کرتے اور من گھڑت بہادری کے قصے بھی سناتے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا دماغی غسل بھی ہوا ہو اور وہ حساسیت کے لیے آمادہ ہوتے ہوتے ناقص نظریات کی بھینٹ بھی چڑھ گئے ہوں۔بعد میں ان کا انجام کیا ہوا، کون جانتا ہے؟خوف اور وحشت کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ پھیل چکا تھا۔
سوشل میڈیا نے عامۃ الناس کو بہت زیادہ معلومات فراہم کردی تھیں؛ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ضرورت سے زیادہ معلومات کاعفریت ایک ناقابلِ بیان سراسیمگی کا سبب بنا۔ سیکڑوں ویڈیوزایسی تھیں ،جن میں انسان سسکتا، کُرلاتا اور تڑپتا ہوا دکھائی دیتاتھا۔ ہزاروں پوسٹیں مفت مشوروں سے متعلق تھیں۔ طرح طرح کے علاج اوراحتیاطی تدابیر بتائی جارہی تھیں۔ ان میں کچھ اطلاعات تو یقینا درست تھیں لیکن بیشترناقابلِ تصدیق تھیں۔ بعضوں نے ایک دہائی پرانی ویڈیونکال کر نئے منظر نامے سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔ کچھ ایسے تھے، جنھوں نے اپنے نظریات کے پرچار کے لیے انتہائی سطحی اور غلیظ طریقہ بھی اختیار کیا۔ حالاں کہ وباؤں کا دورانیہ کسی بھی قسم کی اشتہاربازی اور گھٹیا پروپیگنڈے کا مقتضا نہیں ہوتا؛اس کے برعکس ایسے موقعوں پر دیانت داری اور راست بازی کی ناگزیریت کا تصور موجود ہے۔ یہاں لیکن ایسا نہ ہوا۔
ایسے میں جب کہ حکومت کا چیف ایگزیکٹو اور دوسرے ذمہ داران اور افسران گومگو کی کیفیت میں ہوں؛عام شخص کے بھٹکنے کاامکان کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔عامۃ الناس کی مثال تو اُن پرندوں جیسی ہوتی ہے، جو بارشوں میں بھیگ کر ایک کونے میں دبک جاتے ہیں ؛ اپنے بال و پر خشک ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ ایسے میں انھیں کوئی بلی اُچک لے تووہ کیا کرسکتے ہیں؟ یقینا تحفظ کاایک اندرونی نظام بھی ہوتا ہے، جووقتاً فوقتاً احساس دلاتا ہے، جگاتا ہے اور ہوشیارکرتا ہے لیکن جب بینڈویگن کا نظریہ حاوی ہوجائے توبہت سی باتیں جانتے بوجھتے بھی خاموشی سے برداشت کرنا پڑ جاتی ہیں۔ زیادہ ترواقعات میں ایسا ہی ہورہاتھا۔اُس نے کانفرنس میں شرکت کے بارے میں سوچنا شروع کیا جو دارالحکومت کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقدہونی تھی۔
کانفرنس ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ معاملہ ہی ایسا تھا؛ ہر کوئی اس خطرناک وائرس سے متعلق بہت کچھ سمجھنااوراس سے بچناچاہتاتھا۔اگرچہ یہ بات سب جانتے تھے، کہ کورونا وائرس میں بنیادی چیز احتیاط ہے۔ دوسروں سے ہاتھ ملانا، پُرہجوم رہنا اورایک دوسرے کی تھوتھنیوں سے قریب ہونا بجائے خود خطرناک تھا لیکن دانش وَروں نے مروج عادات کوتہذیب خیال کرتے ہوئے گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔مصافحہ اور معانقہ ہی نہیں کیا،بعضوں نے تو منھ جوڑکر چومنے کی بھونڈی رسم بھی ادا کی۔
کانفرنس کاچیئرمین نشست پربراجمان ہوا توساتھ ہی سیکرٹری نے گزشتہ اجلاس کے اہم نکات پڑھ کر سنائے ؛ پھر رجسٹر چیئرمین کے دستخطوں کی خاطر پیش کیا گیا۔ چیئرمین ظاہری شباہت سے عجیب دکھائی دیتاتھا۔درمیان سے سرمکمل طور پر گنجااورسرکے اطراف میں سفید جھالریں جھول رہی تھیں۔ ٹیڑھی ناک پر عینک ایسے معلوم ہوتی تھی، جیسے گرنے کو ہو۔ سیکرٹری کا قدپست ہی نہیں کسی حد تک مضحکہ خیز بھی تھا۔ سامنے کے دو دانت ضرورت سے زیادہ نمایاں اور آنکھیں اندرکودھنسی ہوئیں۔اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو سیکرٹری نے ایجنڈا پیش کیا:
’’ حاضرین! اس وقت سب سے اہم اورخطرناک معاملہ زیربحث ہے، جسے کورونا وائرس کے نام سے جاناجاتا ہے۔ یقیناآپ سب لوگ بہترطورپرآگاہ ہیں۔ آپ کی تجاویزقابلِ قدر ہوں گی اور انھیں حکامِ بالا تک پہنچایا جائے گا۔ امکان ہے، ہماری سفارشات قبول ہوں گی اورقوم اس اندوہ ناک حالت سے باہر نکل پائے گی۔‘‘
ناریل جیسے سروالے معززدانش ور نے گفتگو کاآغاز کیا:
’’ حکومت کا چیف ایگزیکٹو معاملے کی حساسیت سے ہی واقف نہیں، بلکہ نظامِ مملکت چلانے سے بھی نابلد ہے۔ دُنیا اذیت ناک صورتِ حال سے دوچار ہے مگراس نے اپنے ملک میں وائرس کو پھیلنے دیا۔ کیااسے یقین تھا، کہ یہ مرض محض اُنھی ممالک تک محدود رہے گا، جہاںبین الاقوامی میڈیا نشان دہی کررہاتھا؟ یقینا یہ مخبوط الحواسی ہے۔ ایسوں سے دانش مندی کی توقع عبث ہے۔‘‘
کبوتر کی آنکھوں والے نے اپنانقطۂ نگاہ یوں پیش کیا:
’’ دراصل چیف ایگزیکٹو کا ایک نوجوان دوست خاص مسلک سے تعلق رکھتا ہے؛ اُس نے زائرین کی واپسی کا انتظام کیا۔ دُنیا جانتی ہے، کہ ایران میں وائرس موجودتھا؛خودغرضوں نے پوری قوم کو جہنم میں دھکیل دیا۔اَب مسائل پرقابوپانامشکل ہوگیا ہے اور یہ بھی امکان نہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اگرذہن میں یہ بات موجود ہو کہ عدالت عظمیٰ سے نااہل قرار دیے جانے والے اب تک دسترخوان پر ایک ساتھ ہیں تو کسی اور کے خلاف تادیبی کارروائی کا کیا سوال؟‘‘
بلی کے پنجوں سے چھدے ہوئے چہرے والے نے اپنی معقولات پیش کیں:
’’آفات پر قابو پانا محض حکومت کا کام نہیں؛ پوری قوم جب تک ایک مٹھی ہوکرآگے نہیں بڑھے گی؛ یہ مصیبت نہیں جائے گی۔مسلکی اور مذہبی منافرت کا موقع نہیں۔ وائرس محض زائرین کی وجہ سے نہیں پھیلا بلکہ تبلیغی جماعت کے اراکین بھی اس کا ایک بڑا سبب ہیں۔یہ وائرس کی چلتی پھرتی فیکٹریاں ہیں۔ مسجدوں سے گھروں تک اور بازاروں سے دیہات تک۔میرا خیال ہے، ہمیں باہمی الزامات سے بلند ہوکرسوچنا چاہیے۔‘‘
ریچھ جیسی تھوتھنی والے دانش ور نے وضاحت کی :
’’زائرین کے لیے صوبوں میں قرنطینہ سینٹرقائم ہیں۔ یہ خطرہ محدود کردیاگیا ہے۔ اصل خطرہ اُن نو لاکھ لوگوں سے ہے، جو اٹلی، کینڈا، امریکا،انگلینڈ، جاپان،سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے آئے ہیں۔ان کا کھوج لگاناکارِ محال ہے اور لگا بھی لیا جائے توانھوں نے مزید لاکھوں کو متاثر کردیا ہے۔یہ ایک سنگین صورتِ حال ہے۔ اس پر قابوپاناممکن ہی نہیں۔‘‘
طوطے کی ناک والے ایک بوڑھے مندوب نے مداخلت کی:
’’ جناب! بیرونِ ملک مقیم ہم وطن اربوں کا زرِ مبادلہ فراہم کرتے ہیں۔ گھر لوٹنا ان کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔ اگرانھیں روک دیا جائے تویقیناانھیں روحانی صدمہ پہنچے گااور پھر ہماری معیشت کا ایک اہم ستون تباہ ہوجائے گا۔ خیال کریں ،ایسا ہوا تو ہماری حالت کیا ہوگی؟ جب کہ ہم پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔‘‘
ایک اور منحنی دانش ور نے لقمہ دیا:
’’ چیف ایگزیکٹو کا وہ مطالبہ خوش آئند ہے، جس میں اُنھوں نے کورونا وائرس کو بنیاد بنا کر عالمی بینکوں سے قرض معاف کرنے کی بات کی ہے۔ ‘‘
اُلو جیسی آنکھوں والے نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا:
’’ عالمی بینکوں نے بلاسودقرض کا اعلان کردیا ہے؛اَب کوروناوائرس کی وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ویسے بھی قوم کے اندرجذبۂ ہمدردی موجود ہے۔ہمارے سامنے ماضی کی مثالیں ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں کس طرح قوم نے مدد کی؛ زلزلہ زدگان کی بحالی میں قوم کا کردار قابلِ رشک رہا ہے۔ اُمید ہے ،حالات اچھے ہو جائیں گے۔‘‘
کانفرس کے سیکرٹری نے مداخلت کرتے ہوئے دانش وروں کو یاد دلایا کہ وہ ایک خاص موضوع پر گفتگو کے لیے موجود ہیں اور اصل معاملے سے ہٹ رہے ہیں۔
ایک دانش ور گویا ہوا:
’’ جناب! عالمی سازش کو اس ضمن میں پیشِ نظر رکھیں۔ امریکا نہیں چاہتا ،کہ چین سُپرپاور بن کر اُس کے مقابل کھڑا ہوجائے۔ یہ بات امکان سے خالی نہیں کہ کورونا وائرس امریکا کا تیارکردہ ہو اور اُسی نے چین میں پھیلایاہو۔چینی سائنس دان جوڑے کی حراست کا تذکرہ بھی تو ہورہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے، اُس جوڑے نے یہ وائرس چین کے دشمنوں کی ایما پر منتقل کیا۔‘‘
دوسرا دانش ور:
’’ یہ خیال بھی تو ظاہر ہوا ہے، کہ وائرس اسرائیل نے بنایا ہے اوراس کی ویکسین بھی اس کے پاس موجود ہے۔ جب وائرس وبا کی صورت میں دنیا بھر میں پھیل جائے گا، تب یہ ویکسین مارکیٹ کی جائے گی۔ آپ لوگوں نے غور نہیں کیا؛اسرائیل میں ایک مریض بھی نہیں اورویکسین بھی وہی بنا رہا ہے۔ یہ تاجرانہ ذہنیت کی گہری سازش ہے۔‘‘
ایک اور دانش ور:
’’جناب! چمگادڑوں والی بات کیوں نظر انداز کررہے ہیں؟ جب کہ ماضی میں اونٹوں، بلیوں اور چوہوں کے وسیلے سے بھی وائرس پھیلتے رہے ہیں، ممکن ہے یہ سچ ہو، کسی اور کی کوئی سازش نہ ہو۔‘‘
’’ پھر توآپ اُس انڈین جوتشی کی بات بھی تسلیم کرلیں گے، جس نے الزام لگایا ہے ، کہ وائرس پاکستان سے پھیلا ہے۔ پاکستانی طویل عرصے تک گدھے کا گوشت کھاتے رہے ہیں۔ انھی کی وجہ سے چین میں وائرس پھیلا اور دُنیا متاثر ہوئی۔‘‘ ایک مندوب نے چیخ کر کہا۔
ایک اور دانش ور:
’’ یہ توانتہائی مضحکہ خیز اوربھونڈا مفروضہ ہے۔ اصل بات کچھ اور ہے۔‘‘

ناریل جیسے سروالابولا:
’’ جب بات خود پرآئے تو مضحکہ خیز ہوجاتی ہے۔ گدھے کھانے کی بات جھوٹ تو نہیں ۔‘‘
قراقلی ٹوپی والے دانش ور نے کھنکھورکر گلاصاف کیا اور پھرکرخت لہجے میں بولا:
’’عالی مرتبت! ہم سبب اور مسبب کی بحث میں گھر کر اصل بات سے دُور ہورہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ قوم اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں کہ اسے ایک خطرناک صورت کا سامنا ہے۔ شہر میں آزادانہ آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ لوگ گھروں میں بھی کوئی احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ بازاروں میں ہجوم اُسی طرح ہے۔ حکومت کوشش کر رہی ہے لیکن حالات مزیدخراب ہورہے ہیں۔میرا خیال ہے حکومت کو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘
پینتالیس سالہ کلین شیو دانش ور گویا ہوا:
’’ قوم کیا کرے؟ کچھ علما بتاتے ہیں؛آفات کے دنوں میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ مساجدآباد کی جائیں ۔ اجتماعی دعاؤں کے سلسلے قائم کیے جائیں۔ایسے لوگ اپنے موقف کی تقویت کے لیے ایک حدیث کا مفہوم بیان کرتے ہیں، کہ: جس اللہ نے پہلے اونٹ کو خارش میں مبتلا کیا ، وہی باقیوں کوکرتا ہے۔ وہ چاہے تو سب کوشفا دے۔ کچھ علما کہتے ہیں گھروں میں رہنا بہتر ہے۔ یہ لوگ اپنے موقف کی تقویت کے لیے وہ حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے: کوڑھی شخص سے ایسے بھاگوجیسے شیرسے بھاگتے ہو۔ایسے میں قوم کس کی بات کایقین کرے؟‘‘
ایک اور دانش ور:
’’لاہور کا دلچسپ واقعہ مت بھولیے۔ ایک مولوی نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ’آج کی مجلس میں سے کوئی بھی معانقہ اور مصافحہ کیے بغیر نہیں جائے گا۔ اس وجہ سے اگرکسی کو وائرس چمٹ جائے تو مجھے شہر کے چوک میں کھڑا کرکے گولی ماردیں۔‘ ویڈیو وائرل ہو گئی اور دو دن بعد ایک اور ویڈیو میں اپنے جوشِ خطابت والے بیان سے رجوع کر رہا تھا۔یقیناکسی نے بٹن دبادیا ہوگا۔ یہ لوگ خود ابہام کا شکار ہیں ؛ انھیں سمجھ نہیں آرہی کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ بعضوں نے تو اپنے زیرِ اثر حلقوں میں یہ تک کہا کہ اُن کی مجالس روکنے کے لیے حکومت نے جان بوجھ کر کورونا وائرس کا پروپیگنڈہ پھیلایا۔ کسی کی موت واقع نہیں ہو گی۔ لوگ مجلسوں میں شریک ہوں۔‘‘
اُلو کی آنکھوں والے نے مداخلت کرتے ہوئے وضاحت کی:
’’ ملک کے جید علما نے اس حوالے سے فتویٰ جاری کردیا ہے۔واضح طور پر بتادیاگیا ہے کہ نمازیں گھروں میں ادا کی جائیں۔ البتہ کچھ لوگ مساجد کو بھی آباد رکھیں ، اذان کہیں۔ جمعہ میں مختصر اجتماع بنائیں۔وضو گھروں سے کر کے آئیں۔کوروناوائرس سے مرجانے والوں کو نہلانا ضروری نہیں، تیمم کافی ہے۔ کفن کے لیے ایک کپڑا بھی بہت ہے۔نماز جناہ میں کم لوگ شریک ہوں۔ اگرمیت کو سامنے رکھ کرجنازہ پڑھنا خطرناک ہو تواُسے دفنانے کے بعدقبرکے سامنے نماز جناہ پڑھ لی جائے۔ لوگ صفائی کا خیال رکھیں اور اللہ سے شرور کی پناہ مانگیں۔ میرا خیال ہے بڑی تعداد میں لوگ سمجھ رہے ہیں اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘
ایک اور دانش ور:
’’ آپ پمز کا واقعہ بھول رہے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں؟ کوروناوائرس سے متاثر زیرِ علاج دو مریض کس طرح غائب ہو گئے تھے ۔ انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں لیکن ڈیڑھ گھنٹا گزرنے کے بعد جب خود واپس آئے تو بتایا کہ وہ جمعہ کی ادائی کے لیے مسجد گئے تھے۔‘‘
اُلو کی آنکھ والا:
’’ اکادکا واقعات تو ہوں گے۔ ہمیں صرف کورونا وائرس کا سامنا نہیں ،بلکہ جہالت بھی ایک مکروہ اور خطرناک حالت میں ہمارے سامنے ہے۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ کس طرح ہم اس قوم کواذیت ناک صورت حال سے نکال سکتے ہیں؟‘‘
بلی کے پنجوں سے چھدے ہوئے چہرے والا دانش ور:
’’ ہمارے یہاں اس طبقے نے قوم کو خوب بے وقوف بنایا؛ جیسے کل ایک پیرکہ رہاتھا: ’میں نے کورونا کا علاج دریافت کرلیا ہے۔ کبوتر کے پوٹے کی جھلی سے اس کاعلاج ممکن ہے۔ میرا چیلنج ہے آزما کردیکھ لیں۔‘‘
ایک اور دانش ور:

’’ دلچسپ ہے۔ اس طرح کا علاج ہندو سادھوؤں نے بھی ایجاد کرلیا ہے۔ وہ علی الاعلان’’ گاؤ موتر‘‘ کو اس کا مجرب نسخہ بتاتے ہیں۔ وہاں تو’’گاؤ موترپارٹیاں‘‘ بھی ہورہی ہیں۔کچھ سادھوؤں نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے، کہ کورونا وائرس سے متاثر افراد کودوا کی بجائے موتر پلایا جائے، فوراً افاقہ ہوگا۔یہ عمل بلاتخصیص ہرمسافر کے ساتھ کیا جائے۔سوچیے انڈین مسلمانوں کے ساتھ اگر ایسا ہوا تو ان کی حالت کیا ہوگی؟‘‘
کانفرنس کے چیئرمین نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا:
’’ عزیزانِ من!آپ کی قیمتی گفتگو کے منٹس بنا لیے گئے ہیں اور اب میری معروضات بھی پیش ہیں:
۱… اس وقت بنیادی مسئلہ آگاہی کا ہے۔ حکومت یہ کام بحسن و خوبی کررہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی یہ کام اچھے طریقے سے ہورہا ہے۔
۲… علاج اگرچہ دریافت نہیں ہوا لیکن احتیاطی تدابیر موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہییں۔
۳… تعلیمی اداروں کو اُس وقت تک بندرہنا چاہیے، جب تک حالات سازگار نہیں ہوجاتے۔ کیوں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ زندہ رہنا جہالت اور ناخواندگی سے کہیں زیادہ اچھا ہے۔
۴…حکومت آبادیوں میں گشت بڑھائے اورلوگوں کو گھروں میں رہنے کا سختی سے پابند کرے۔
۵…غریبوں اور دہاڑی داروں کو اپنی بساط کے مطابق مدد فراہم کرے۔ ویسے یہ لوگ سخت جان ہوتے ہیں، اپنے مسائل خود حل کر لیتے ہیں۔
۶…کوروناوائرس کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے۔حکومت اپنی جماعت کے بنیادی اراکین کو بااختیار بنا کر ہدف دے کہ وہ پانچ سو روپیافی گھراکٹھا کریں۔
۷…چیف ایگزیکٹو ہر ممکن کوشش کرکے اپناقرض معاف کرائیں اورملنے والے قرض سے ملک بھر میں کوروناوائرس سے نبٹنے کے مراکزقائم کریں۔
۸… ہرسینٹر کی ذمہ داری ایک دانش ور کو دی جائے تاکہ انتظامات کو خوبی سے چلایا جاسکے۔
۹… متاثر ہ ممالک کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے لیکن ہر ملک کے اپنے حالات ہوتے ہیں؛اس لیے خودانحصاری بھی اچھا نسخہ ہے۔ جس طرح اٹلی کے لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور تو کیاگیا لیکن وہاں کی پولیس محلوں میں جاجا کرگٹاربجاکراورگانے سنا کراُن کا دل بہلاتی ہے، ہمارے یہاں مجبوراً ڈنڈا برسانا پڑتا ہے ، کیوں کہ ہم مذہبی لوگ ہیں، گانا بجانا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے اپنے ماحول کے مطابق حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
۱۰… ہم حکومت سے گزارش کریں گے، کہ ان سفارشات کو سرکاری خرچے پر شائع کرائے اور ہماری تنظیم کے لیے سیکرٹریٹ کی جگہ فراہم کرے،علاوہ ازیں ایک معقول فنڈ بھی مختص کرے ، تاکہ ہم آسانی سے معاملات پر غور وخوض کرسکیں۔
اس کی ساتھ ہی میں تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتاہوں۔ خدا حافظ‘‘
کانفرنس کے سیکرٹری نے خطبہ صدارت مکمل ہونے کے بعدحاضرین کو کھانے کی دعوت دی، جس کا انتظام اُسی پانچ ستارہ ہوٹل میں کیا گیاتھا۔سب لوگ کھانے پرٹوٹ پڑے اور وہ اپنی نشست پر بیٹھا سوچتا رہا:
’’یہ وائرس اگرچمگادڑ سے پھیلا ہے تواس کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہے؟ ہمارے یہاں اس پرندے کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ امید ہے دانش وراس مسئلے کے لیے بھی ایک کانفرنس بلائیں گے۔اگر یہ وائرس از خود ختم ہوگیا توپھر دانش ور کیا سوچیں گے؟ یہ نکتہ بہ ہر حال اسے ہراساں کررہاتھا، کیوں کہ عظیم دانش وروں، اعلیٰ افسروں اور حکمرانوں کا کام سوچنا اور سمت نمائی کا فریضہ انجام دینا ہوتا ہے۔
عامۃ الناس بہ ہرحال ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔‘‘

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post