پہچان : فریدہ غلام محمد

اس نے گیٹ پر کھڑے گارڈ سے کہا کہ احمد آفندی صاحب کو جا کر بتائے کہ سارہ رضا آئی ہیں آج انڑویو ھے ان کا ۔

وہ اندر گیا تو وہ سکون سے اس گھر کو دیکھنے لگی ۔نجانے کتنا بڑا تھا مگر پوری دیواروں کے ساتھ دودھیا بلب لگے تھے ۔سرخ اینٹوں سے بنی بلند دیوار ہی بتا رہی تھی کہ گھر کس قدر خوبصورت ھو گا۔ دیوار کے ساتھ ساتھ سفیدے کے ترتیب سے لگے درخت عجب اداس لگے اسے ۔ شاید وہ خود بھی بہت بوجھل دل کے ساتھ یہاں پہنچی تھی ۔

“آئیے ” ۔ گارڈ کی آواز پر وہ جیسے مستعد ھو گئی ۔گیٹ سے گزر کر اندر آئی تو جیسے خوشبو نے اسے لپیٹ میں لے لیا ۔مولسری کی خوشبو ،بوگن ویلیا کی بیلیں شام کو بھی دہک رہی تھیں ۔ٹیولپ ،رات کی رانی ،ہر رنگ کا گلاب اف اسے لگا شاید وہ کسی باغ میں داخل ھوئی ھے۔ مگر ذرا سا آگے جا کر سنگ مر مر  کا سفید فرش آگیا تھا ۔سامنے اندر جانے کا دروازہ تھا جو چوکیدار نے چابکدستی سے کھولا ۔وہ سامنے صوفے پر بیٹھے کسی کتاب میں گم تھے یا پھر دکھانے کے لئے وہ اندازہ نہیں لگا پائی ۔
“شکریہ سر آپ نے مجھے ٹائم دیا ۔اس کی آواز پر وہ چونکے “۔تشریف رکھیں ” انھوں نے بےنیازی سے کہا ۔وہ عین سامنے رکھے صوفے بیٹھ گئی ۔
سرخ وسفید رنگت ،گرے بال اور خوبصورت سیاہ آنکھیں ابھی تو کم از کم پچپن سے زیادہ کے نہیں ھوں گے ۔
“جی فرمائیے ” اب انھوں نے خاموشی کو توڑا اور سنہری فریم سے اسے دیکھا ۔
پونی ٹیل بنائے سادہ سی لڑکی جو کافی حد تک پیاری تھی ان کی سارا جیسی ۔توبہ ھے یہ تھرڈ کلاس لڑکی کہاں اور میری بیٹی کہاں ۔
“آپ میرا وقت ضائع کرنے آئی ہیں”
درشت لہجے میں پوچھا گیا
” سوری سر وہ سب گیٹ پر ہیں سب آ جائیں تو بس جلدی سے انٹرویو ھو جائے گا” وہ جلدی سے بولی
“خان باہر ٹی وی والے آئے ہیں لے آؤ انھیں” ۔انھوں نے خان کو کہا پھر چند لمحے لگے اور سب سیٹ ھو گیا ۔

سر آپ یہ بتائیں کہ آپ کی شخصیت کی کتنی پرتیں ہیں ہر پرت میں ایک نیا رنگ ؟

“میرے خیال میں بی بی ہر انسان میں بہت ہنر و کمال ھوتا ھے یہ تو انسان پر ھے وہ انھیں اپنے میں وہ سب دریافت کر سکتا ھے یا نہیں”
“سر ایک صنعت کار جب مصور بنتا ھے تو ورلڈ میں مشہور ھو جاتا ھے ۔جب وہ کتاب لکھتا ھے تو اس دور میں بھی لوگ کتاب خریدنے کے لئے پاگل ھو جاتے ہیں یہاں تک پہلے کے بعد دوسرا ،تیسرا اڈیشن یہ سب کیسے کیا؟

انھوں نے عینک ہاتھ میں پکڑ لی تھی وہ زیر لب مسکرائے ۔
“خودشناسی بڑی کام کی شے ھے مس شب افروز”

وہ اس کا نام جانتے تھے ۔
“میرے پاس اتنا پیسہ ھے کہ میں کسی سے بھی خرید کر شہرت پا لیتا لیکن یہ میرے شغل ہیں ۔ جب جی چاہتا ھے صنعت کار سے مصور بن جاتا ھوں ۔کبھی لکھاری بس یہ سب میرے خون میں ھے ۔میرے والد صاحب بہت اچھا لکھتے تھے”
“کچھ گھر والوں کے بارے میں بتائیں”
اس نے انھیں دیکھا
بیگم ہیں ،بچے ہیں اس سے زیادہ بتانے کی ضرورت میں نہیں سمجھتا۔ انھوں نے بات ختم کر دی ۔
“آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا اس کے لئے بہت شکرگزار ہے ہماری پوری ٹیم سر”
آپ سب چائے پی کر جائیے گا مجھے ذرا میٹنگ میں جانا ھے۔
ان کے چہرے کا سارا تناؤ ختم ھو گیا تھا ۔

گھر پہنچ کر اس نے منہ ہاتھ دھویا ۔اماں کے ساتھ کھانا کھایا ۔اماں نجانے کیا کیا بتا رہی تھیں مگر وہ غیر حاضر دماغی سے سن رہی تھی یہاں تک کے ایک کپ چائے کا اماں کو پکڑا کر دوسرا کپ لیتی اپنے کمرے میں آگئی
“آج کچھ زیادہ ہی تھک گئی ھے میری بچی “وہ چائے پینے لگیں۔

چائے پی کر کپ تپائی پر رکھا ہی تھا اس کا سیل فون بجنے لگا
“ہاں عمر بولو ”
“ارے یار کمال کر دیا تم نے تاجی کا انٹرویو لےہی لیا ”
ہاں لے لیا تمہارا بھی شکریہ اتنا ساتھ دیا میرا۔
“ہائے ساتھ تو ہم عمر بھر کا چاہتے ہیں جی”
“عمر یہ بات پھر نہیں کرنا ”
آواز میں تنبیہہ تھی
“کیوں؟محبت کرتا ھوں تم سے ”
“آج انھوں نے اپنی فیملی کا نام تک نہیں لینے دیا جو شخص اتنا تنگ نظر ھو وہ تمہیں ایک اینکر سے شادی کرنے دے گا؟”
“بھئ بتاؤں گا تم نے مجبوری میں نوکری کی ھے اور سچ بھی ھے میں نے تم کو خود رکھا ھے تم ایک باعزت لڑکی ھو ۔”
وہ یقین کر لیں گے ؟
کرنا تو پڑے گا ”
اوکے میں بہت تھک چکی ھوں سونا چاہتی ھوں
“سو جاؤ گڈ نائٹ”
وہ فون رکھ کر لیٹ گئی تھی
“ادھر آؤ سارہ میری جان”
“نہیں ابی جان آپ مجھے پکڑیں نا”
اسے لکن میٹی میں مزہ آ رہا تھا
اور پھر جب پکڑ لیتے تو ماتھے پر بوسا دیتے
“بیگم دیکھو تو بیٹی کو بھگا بھگا کر تھکا دیا مجھے”
وہ اماں کو دیکھ کر مسکرائے
“اس کے بغیر جی بھی نہیں سکتے آپ ”
وہ مسکرائیں ۔
“ارے ہم تو آپ کے بغیر بھی جی نہیں سکتے ”

وہ ان پر جھکے تو ننھی سارہ جھینپ سی گئی مگر بابا جب اماں سے پیار بھری باتیں کرتے تو اسے بہت اچھا لگتا ۔

ایک روز شور سے آنکھ کھلی “۔ہاں میں ماں نہیں بن سکتی مگر اللہ کی یہی رضا ھو گی”۔ وہ رو رہی تھیں ۔
“مجھے اتنی وسیع جائیداد کے لئے وارث چاہیے،ہر حال میں “فرعون کا لہجہ تھا۔
“مجھے بتائیں کیا کروں میں ؟”,اماں ان کے قدموں میں بیٹھ گئیں۔
میری بیٹی مجھے دو اور یہاں سے چلی جاؤ جو لے کر جانا ھے لے جاؤ۔
بابا میں اماں کے ساتھ جاؤں گی ” نیند میں اٹھ کر وہ باہر آئی۔

بابا نے ایک لمحہ اس کو دیکھا اور پھر اماں کو۔میں شام کو آؤں تو تم کو نہ دیکھوں ۔انھوں نے خونی نگاہوں سے اماں کو دیکھا

اماں بلک بلک کر رو رہی تھیں ۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ کیا ھو رہا ھے جب اماں شام سے پہلے آیا اماں کو زیور دے کر اسے لیکر کسی دوست کے گھر چلی گئیں۔

کتنے شام و سحر گزر گئے مگر خلش سی تھی دل میں۔جب ٹی وی میں اینکر کے لئے فائل عمر کے سامنے رکھی تو اس کو حیرت ھوئی وہ اس کا کلاس میٹ تھا ۔اچھی دوستی تھی شاید اس لئے اسے سکون سے نوکری مل گئ ۔
جب اس نے کہا شب افروز میرے تاجی کا انڑویو لینا ھے تو وہ جھٹ تیار ھو گئی ۔سوچتے سوچتے وہ نیند میں چلی گئی ۔
آ جاؤ سب تاجی کا انٹرویو ھے ۔عمر نے لاونج سے ہی سب کو پکارا ۔
سب جمع ھو گئے اتفاق سے تاجی بھی گھر میں تھے ۔وہ ان کو پکڑ کر لے آیا
ارے کتنی پیاری لڑکی ھے نا مما ۔ان کی بیٹی نے شب افروز کو دیکھ کر کہا ۔
“یہ لڑکیاں اچھی نہیں ھوتیں آئندہ نام نہیں لینا”
باپ کی آواز میں اتنی کرختگی تھی کہ سناٹا چھا گیا ۔
نجانے احمد آفندی کیوں بےچین تھے انھوں نے انٹرویو دوبارا چلایا ۔اس لڑکی میں کیا بات ھے جو ان کے ذہن سےوہ محو نہ ھو سکی۔
تم نے دیکھا ھے احمر یہ کیا کہہ رہا ھے ؟
آواز گونجی ۔بھائی جان بچہ ھے ایک دو دن میں ٹھیک ھو جائے گا۔ آپ پریشان نہ ھوں ۔
انھوں نے بھائی کو دیکھا ۔اسے سمجھاؤ ہماری عزت کی دھجیاں نہ اڑائے ورنہ ہم سب ختم کر دیں گے ۔یہ کہہ کر وہ رکے نہیں ۔

“بیٹی دیکھو صبح صبح کون ھے دروازے پر ۔”
جی اماں اس نے چپل پہنے اور دروازہ کھولا۔
عمر تھا ۔اتنی صبح وہ بھی میرے گھر عمر سب ٹھیک ھے نا ؟وہ گھبرا گئی تھی ۔
اندر آنے دو گی اس نے اس کو آہستگی سے پرے کیا اور اندر آ گیا ۔
” عمر اس نے آواز دی مگر وہ سیدھا اماں کے سامنے تھا ۔
اس کے حواس گم ھونے لگے اماں اسے جانتی تھیں لیکن آنٹی میں شب افروز سے شادی کرنا چاہتا ھوں ابھی اور اسی وقت ۔آواز میں لجاجت بھی تھی اور تحکم بھی ۔
اماں کا رنگ زرد ھوا ۔
“اماں یہ کوئی غیر نہیں ھے میرے چچا کا بیٹا ھے”
دھماکہ تو دونوں پر ھوا تھا مگر تاثرات الگ الگ تھے ۔وہ کہہ کر زمین پر ہی بیٹھ گئ تھی” ۔اماں میں بابا تک پہنچنا چاہتی تھی ۔میں مانتی ھوں اس کے لئے عمر سب سے بہتر راستہ تھا لیکن یہ بھی سچ ھے اماں میں عمر سے بہت پیار کرتی ھوں “.

یہ راز تو میں خود سے چھپا کے رکھنا چاہتی تھی میں وہ بد نصیب ھوں جس سے بابا پیار تو کرتے تھے مگر اپنا وارث نہیں مانتے تھے ۔آپ کو چھوڑ دیا ۔ہم نے کتنے دھکے کھائے اماں ۔وہ رو رہی تھی
عمر سکتے میں تھا تو یہ ھے سارہ جس کو تاجی رات دن یاد کرتے ہیں ۔میری فرسٹ کزن تب ہی بہت مانوس لگی تھی مجھے ۔
دوپہر تک نکاح بھی ھو گیا اور شام کی فلائٹ سے وہ دونوں مالدیپ پہنچ گئے تھے ۔

اماں ،اپنی دوست کے گھر آزاد کشمیر چلی گئیں۔عمر کے سنگ پندرہ دن گزر بھی گئے ۔عمر نے زندگی بھر کا پیار دیا تھا ۔اسے یقین ہی نہیں آتا ھے اسے سب مل گیا شاید اب بابا بھی مان جائیں پھر سب ٹھیک ھو جائے گا اماں کو بھی لے آئے گی ۔
صبح اس کی آنکھ عمر کی آواز سے کھلی۔
“تاجی میں نے شب افروز سے نہیں سارہ سے شادی کی ھے آپ تک پہنچنے کے لئے اس نے مجھ تک رسائی حاصل کی ۔پلیز ہمیں معاف کر دیں ۔گھر کو سجانے دیں تاجی میں اپنی دلہن سمیت آ رہا ھوں” ۔
ٹھیک ھے بیٹے ایک بار سارہ سے بات کرواؤ ”
وہ بےچین تھے ۔اس نے سارہ کو اشارہ کیا
“ہیلو بابا”
جی بابا کی جان احمد آفندی کے منہ سے بےساختہ نکلا
“بابا مجھے معاف کر دیں پیارے بابا”
کر دیا معاف بس تم آ جاؤ یہ کہہ کر انھوں نے فون رکھ دیا تھا۔

وہ دونوں ایئرپورٹ سے گھر کی طرف روانہ تھے ۔ڈرائیور بھیجا گویا راضی ھو گئے ۔عمر گنگنایا۔اچانک کہیں سے ٹرک آیا اوران کی گاڑی سے ٹکرا گیا ۔وہ بےہوش ھو گیا۔سارہ سارہ وہ چیخ رہا تھا مگر وہ نہیں تھی ۔وہ مر چکی تھی مگر ایک بات اس نے سنی تھی ۔

“بابا ”
جس دن وہ ٹھیک ھو کر گھر آیا ۔سب نے شکر ادا کیا ۔اس نے تاجی کی طرف دیکھا وہ بہت بوڑھے لگ رہے تھے ۔وہ انہی کے پاس چلا آیا ۔
“وہ بہت خوش تھی۔اس نے میرے ساتھ ساتھ آپ کو پا لیا تھا جب ہمارا حادثہ ھوا تو اس کے منہ سے صرف بابا نکلا “۔اس نے دیکھا وہ بے آواز رو رہے تھے ” ۔مجھے ابھی اس کی قبر پر جانا ھے ”
“اس کی قبر تم کو مل جائے گی کتبے پر لکھا ھے۔سارہ احمد آفندی”

یہ نام وہ زندگی میں چاہتی تھی تاجی ” مگر اس کو یہ نام ایک دم دل کو جیسے کسی نے بند کر دیا تھا۔تاجی عمر نے انھیں پکارا۔
کیوں مروا دیا اپنے دل کے ٹکڑے کو”انھوں نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر آنسو بہنے لگے ۔
“وہ اب میرے گھر کے قابل نہیں رہی تھی عمر”
اس کی تصویریں میں نے میگزین میں دیکھی ہیں
لوگوں کے تبصرے سنے ہیں ۔وہ پاک تھی میں جانتا ھوں ،تم جانتے ھو مگر میں دنیا کا سامنا نہیں کر سکتا تھا ۔اس کی ماں کو لے آؤ جیسے رہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔وہ اٹھے اور چلے گئے ۔
سارہ احمد آفندی جو جیتے جی تو یہ نام نہ پا سکی مگر مر کر اس کو یہ نام مل گیاتھا ۔اس کی پہچان مکمل ھو گئی تھی وہ روتا رہا احمد آفندی کے اصولوں پر,ظلم پر اور سارہ کی مظلومیت پر ،اپنی بےبسی پر۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post