میرے الفاظ کھو گئے : فریدہ غلام محمد

میرے الفاظ کھو گئے ہیں ۔میں چپ ھوں سب چاہتے ہیں میں بولوں ۔میں ان کو سمجھا نہیں سکتا کہ میں چاہ کر بھی نہیں بول سکتا ۔ساری عمر میں عورت کے پیچھے بھاگا صرف اس کو چھونے کے لئے ،اس کو پانے کے لئے ۔مجھ میں احساس گناہ کبھی رہا ہی نہیں ۔جس نے بھی مجھے رو رو کر واسطے دئیے میں ہنس دیتا اور کہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “تم خود میری بانہوں میں گری تھی میں نےتو بس تم سے پیار کیا”

مجھے محبت اور ہوس کا کچھ فرق معلوم نہ تھا ۔میں عورت کے ساتھ اپنی نفسانی خواہش کو ہی محبت سمجھتا تھا ۔
کون بیٹھ کر کسی کو یاد کرئے ۔بانسری کی کوک میں درد بھرے ۔ہجر کو بیٹھ کر روئے ۔
بھلا یہ بھی کوئی زندگی ھے ۔
ٹھہریے !آپ کو بتا تو لوں کہ میں کون ھوں۔
میں عمر سلمان ۔سلمان احمد کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا ۔مجھے کبھی روکا ٹوکا نہیں گیا۔
میرا حلیہ انتہائی شریفانہ تھا ۔میں نے ہمیشہ نظریں جھکا کر رکھیں ۔آواز میں ٹھہراؤ ،دھیما پن۔
میں ایک شکاری تھا ۔میرا پہلا شکار میرے گھر کی ملازمہ کی بیٹی بنی نجانے وہ میرے کمرے میں کیا رکھنے آئی تھی میری گرفت میں آ گئی۔
ملازمہ کا منہ اتنا بھرا کہ اس نے گویا زبان ہی کاٹ لی ۔
میری کلاس کے لوگوں میں یہ بات کچھ زیادہ معیوب نہیں سمجھی جاتی تھی ۔لیکن میں کیا ھوں یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔
میں سب کے ساتھ ہرگز برا نہیں تھا ۔میری کئ اچھی دوست تھیں جن کے ساتھ ہم سب ملکر پڑھتے ،گھومتے اور لمبی لمبی بحثیں ھوتیں ۔
مجھے یاد ھے اس کو میں نے کب دیکھا ۔
ان دنوں میں فری تھا اور شام کوٹ میں تھا ۔
کسی کی چیخ سنائی دی میں تیزی سے باہر نکلا ۔وہ کوئ خاتون تھیں جو بھاگ رہی تھیں اور ان کے پیچھے کچھ لوگ تھے ۔اصل میں شام کوٹ ایک پہاڑی علاقہ ھے یہاں شام ھوتے ہی ویرانی سی ھو جاتی ہیں۔ لوگ کم ہی باہر نکلتے ہیں ۔
میں تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا سڑک پر آ گیا
میں سڑک کے بیچ کھڑا تھا وہ سیدھا مجھ سے ٹکرائی تو بےساختہ بولی ۔مجھے بچا لیں پلیز
اس کی کانچ جیسی بھوری آنکھوں میں ایک امید تھی اور وہ بھی مجھ سے ۔نجانے کیوں میرے اندر شرمندگی سی پھیل گئی ۔میں نے اسے اپنے قریب کر لیا اور سامنے دو آدمیوں کو دیکھا ۔آغا میری بندوق لاؤ۔ میرا یہ کہنا ہی بہت تھا وہ الٹے قدم بھاگے۔
میں نے اس خاتون کو خود سے الگ کیا۔
وہ رو رہی تھی ۔ ’’ آپ کا بہت شکریہ ‘‘
’’یہ میرا فرض تھا لیکن یہ بتائیں اس وقت آپ باہر آئ ہی کیوں؟”
اصل میں بس دیر سے آئی ورنہ میں کب کی ہاسٹل پہنچ گئی ھوتی۔اب وہ بھیگی پلکیں جھپک جھپک کر بولی ۔
یہاں سڑک پر کھڑا ھونا مناسب نہیں ۔اندر آئیے میں خود آپ کو ہاسٹل چھوڑ آؤں گا۔
اس نے انکار نہیں کیا اور کچھ دیر بعد وہ میرے گھر کے لاونج میں بیٹھی تھی۔
میں نے پوچھے بغیر ہی اس کے لئے کافی بنانا شروع کی ۔ساتھ ساتھ اسے محتاط نظروں سے دیکھا ۔وہ چالیس کے قریب ھو گی مگر حسن ایسا کہ نگاہ نہ ہٹ سکے ۔
“آپ یہاں اکیلے رہتے ہیں ؟”
“ہاں جی ”
پھر وہ آغا ۔۔۔۔۔میں ہنس پڑا۔
ان کو بھگاتے کیسے ۔میرے کہنے پر وہ ذرا سا مسکرائی ۔
“آپ شادی شدہ ہیں ؟”
نہیں ۔اس نے سرسری انداز میں جواب دیا
اب چلیں ۔وہ اٹھ کھڑی ھوئی ۔
“میرا نام عمر سلمان ھے اور آج سے آپ کو کوئی مسلہ ھو مجھے بتا سکتی ہیں ”
جی بہتر ۔اس نے بےساختہ کہا تو مجھے موقع مل گیا۔
تو ہاتھ ملائیں آج سے ہم اچھے دوست ہیں۔
میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔اس نے میرے بڑھے ھوئے ہاتھ کو دیکھا اور مسکرائی
ہم ہاتھ نہ بھی ملائیں تو بھی دوست ہیں۔
اس نے ممنون نگاہوں سے مجھے دیکھا۔
مجھے یاد ھے میں اسے ہاسٹل تک چھوڑ کر آیا تھا ۔
مجھے ابھی ایک ماہ اور یہاں رہنا تھا۔ اس ایک ماہ میں ہم ایک دوسرے سے کئی بار ملے وہ بڑی تھی مجھ پر رعب جماتی تھی ۔کبھی ڈانٹ بھی دیتی ۔کبھی وقت نکال کر آتی اور میری پسند کا کھانا بناتی ۔ہم چائے اکٹھے پیتے۔
اس نے شادی اس لئے نہیں کی تھی کیونکہ وہ غریب تھی اور کوئی بھی اس سے شادی کے لئے تیار نہ ھوا ۔جہیز کے لئے لمبی لسٹ جو اس کے والدین نہیں دے سکتے تھے ۔اس نے مجھے بتایا ۔شادی ایک بندھن ھے جس کی بنیاد ہی محبت اور خلوص ھے ۔یہ رشتہ مانگنے نہیں آتے بلکہ سودا کرنے آتے ہیں ۔میں نے اندازہ لگایا وہ کافی مضبوط اعصاب اور اچھے خیالات کی مالک تھی ۔
میں اس کے ساتھ خوش تھا ۔خزاں کے دن تھے ہم دونوں جب سوکھے پتوں پر پاؤں رکھتے تو وہ بےساختہ کہتی
“دیکھو عمر یہ کیسے کراہا رہے ہیں”
واہ کیا جملہ ھے” میں ہنستا
تم کو نہیں لگتا وہ درخت سے بچھڑ کر رو رہے ھوں ”
یار چھوڑو اب یہ بھی کوئی بات ھے ”
چھوڑ دیا”
کبھی کبھی وہ بچوں کی طرح ھو جاتی تھی اور مجھے پیار آنے لگتا ۔
سردیوں کی شام تھی ہم دونوں چائے پی رہے تھے۔
میں نے اس سے پوچھا
کومل پیار کیا کبھی؟
ارے پیار کیا نہیں ھو جاتا ھے عمر سلمان”
مجھے یاد ھے سیاہ سوٹ پر سیاہ شال اورمہتاب کی طرح دمکتا رنگ میں نے گھبرا کر نظر ہٹا لی۔
چلو ھوا کبھی” ہاں‘‘
“مجھے کیوں نہیں بتایا ”
“بتا تو رہی ھوں ”
نام “؟
وہ نہیں بتانا “اس کے رخسار دہک اٹھے
مجھے یاد ھے اسی وقت بجلی چمکی ،بادل گرجے اور بارش ھونے لگی۔
وہ گھبرا کے اٹھی ۔عمر میں چلتی ھوں
ارے گاڑی پر چھوڑ آؤں گا ۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ میرے سینے سے جا لگی۔
وہ تیزی سے پرے پلٹی ۔
آج موسم بہت رنگین ھے اور ساتھ میں تم ھو نیت خراب ھو رہی میری ۔آج پرانے والا عمر سلمان بول رہا تھا۔
اس نے حیرت سے مجھے دیکھا شاید اسے یقین ہی نہیں آیا
“عمر تم کو ایسی بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے تھا ” نروٹھے پن سے بولی
“ارے چھوڑو یہ ڈرامہ اتنے دن کس مقصد کے ساتھ رہی تم میرے ”
میں نے پھر اسکا ہاتھ پکڑا۔
’’ہم دوست ہیں عمر ”
دوست ہاہا ارے مرد اور عورت بھی کبھی دوست ھو ئے ہیں آج تک “میں نے اس کا دوپٹہ اتارا
مجھے اس کی آنکھیں یاد ہیں ان میں خوف نہیں تھا ،دکھ تھا
“تم نے اس دن یہ نہیں پوچھا تھا میں کس سے محبت کرتی ھوں”
اب بتا دو میری جان “میں نے ایک گستاخی کی
“تم سے کی تھی”
“اوہ میرے خدا ذرا اپنی عمر تو دیکھتی لوگ دیکھ کر یہ کہیں ماں اور بیٹا جا رہے ہیں ”
میں اس کا تمسخر اڑا رہا تھا ۔
ارے عمر سلمان پر لڑکیاں مرتی ہیں ایک تم ھو میں نے اس کو اور قریب کیا مگر میں حیران تھا ۔اس کا وجود پتھر تھا مجال ھے کے اس میں کوئ بھی جذبہ جاگا ھو۔
عمر سلمان وہ ایک دم مجھ سے الگ ھوئ اور لیٹ گئ
تم کو جسم چاہیے جو مٹی میں فنا ھو جائے گا یا محبت جو روح میں اتر گئ ھے اور روح مٹی نہیں ھوتی ،وہ زندہ رہتی ھے۔
فیصلہ کرو جلدی ۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں شاید وہ دھیرے دھیرے کانپ رہی تھی۔
مجھے دکھ ھے میں نے تم سے دھوکہ کھایا تم سے اچھا تھا وہ غنڈے میری عزت تار تار کر جاتے تم جیسے انسان سے اچھے تھے جیسے تھے نظر تو آتے تھے کم از کم ۔
اب میرے جذبات مر رہے تھے مگر غصہ بڑھ رہا تھا ۔
اٹھو ” میں نے سختی سے کہا ۔مجھے یاد ھے وہ خاموشی سے اٹھی ۔دور پڑا دوپٹہ اٹھایا اور جسم ڈھانپ لیا ۔
عمر سلمان اتنا بھی کمزور نہیں ھوا کہ اس کو تم جیسی بوڑھی عورت کی ضرورت پڑے ۔
وہ میری بات پر بولی نہیں خاموشی سے چلی گئی۔
اس کے بعد میں نے بھی شام کوٹ چھوڑ دیا
باہر چلا گیا ۔۔آخر بابا نے اپنے تئیں شہر کی حسین ترین اور امیر لڑکی سے میری شادی کر دی۔ وہ مجھ سے کافی چھوٹی تھی۔ میں قدرے بہل گیا ۔
اس روز وہ مالی سے کہہ رہی تھی گرے ھوئے پتے صاف کر دے ۔مجھے وہ یاد آگئ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ مجھے کیوں یاد آتی تھی ۔
اور پھر وہ ھوا جس کا گمان ہی نہیں تھا ۔
ہم اپنے نئے گھر میں شفٹ ھو گئے تھے۔ میں لاھور کے لئے نکلا تو یاد آیا کچھ اہم کاغذ گھر میں رہ گئے ہیں ۔میں گھر پہنچا ۔آہستہ سے دروازہ کھولا ۔کاغذات اٹھا کر پلٹا تو آواز پر رک گیا ۔میری بیوی کی آواز تھی
’’آج میں تم کو نہیں جانے دوں گی شہریار‘‘
ویسے بھی اس بوڑھے میں ھے کیا ۔عجیب سا ھے ۔کوئی منچلا دیکھے تو کہے گا ارے یہ اس کا شوہر ھے باپ کی عمر کا۔
میرے ہاتھ سے کاغذ گر گئے ۔میں باہر بھاگا مگر پھر ہوش نہیں رہا۔ بے ہوشی میں مجھے کومل دکھائی دیتی رہی ۔ہاں ایک وہ تھی جس کو میں نے جانے دیا مگر کیوں شاید اس لئے کہ میں کہیں نا کہیں اس سے محبت کرتا تھا ۔اس کے وجود سے نہیں اسکی روح سے مگر میں نے سب ٹھکرا دیا ۔جو آج منظر دیکھا اس پر بیوی کو چھوڑ دوں
مگر کیسے آج میں نے وہی تو دیکھا جو خود کرتا تھا ۔میں نے کانٹے بوئے ان سے پھول کیسے کھلتے ۔

اب سب پوچھ رہے ہیں ۔ہوش میں آنے کے بعد میں بول کیوں نہیں رہا ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا بولوں۔ میرے الفاظ کھو گئے ہیں ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post