مہر بی بی : فریدہ غلام محمد

ارے اب شروع ھو جائے گا اس کا ڈرامہ ۔تانی نے جنت کو کہنی ماری ۔”اچھا تو یہ خاتون ھے جس کا حال سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں آخر ھے کیا چیز یہ ؟‘‘

اس نے مہر بی بی کو غور سے دیکھا۔وہ ہر گھر کی گھنٹی بجاتی اور کچھ روپے لیتی اور اسے تھیلے میں ڈال لیتی ۔

“ارے حلیے سے بھکارن تو نہیں لگتی مگر یہ ہر گھر سے پیسے کیوں لے رہی ھے؟‘‘جنت واقعی حیران تھی ۔
“یہ جمعہ کو روپے جمع کرتی ھے ،خود نمکین میٹھے چاول بنا کر مسافر خانہ لے جاتی ھے وہاں کھانا تقسیم کرکے شام گئے آتی ھے ہم نے اس کے گھر کسی مرد کو آتے نہیں دیکھا۔سنا ھے اس کے سارے خاندان کو قتل کر دیا گیا تھا یہ اکیلی بچ گئی تھی سب محلے والوں نے اس کی شادی کروا دی ۔شوہر بہت اچھا تھا مگر یہ جوانی میں بیوہ ھو گئی ۔یہ اس کے شوہر کا ہی گھر ھے۔”
“تم کبھی اس کے گھر گئی ھو؟‘‘

’’ہاں کئ بار میلاد کی محفل ھوتی ھے اس کے گھر ۔گھر کیسا ھے؟تین مرلے کا صاف ستھرا گھر ھے ضرورت کی ہر چیز اسکے گھر میں ھے ،ملنسار بھی ھے بس یہ عجیب لگتا ھے نا اب دیکھو ا دیکھ رہی ھے ہماری جانب “وہ دونوں چپ ھو گئیں ۔
“السلام علیکم آواز میں بڑی نرمی تھی ۔وعلیکم السلام کیا حال ھے مہر بی بی ؟اللہ کا بڑا کرم ھے جمعہ ھے صدقہ نکال دو “وہ سیدھے مدعا پر آئی۔
تانی نے جھٹ پلو کھولا سو روپے اس کے ہاتھوں میں رکھ دیے ۔”بڑی مہربانی “اس نے نہایت ممنونیت سے کہا وہ مڑی ہی تھی کہ جنت نے آواز دی۔
“مہر آپا رکیے مجھ سے بھی لے لیں” ۔جنت کی آواز پر وہ جاتے جاتے پلٹ آئیں۔
“جزاک اللّہ جنت ‘‘ وہ مسکرائیں اور پھر چلی گیئں ۔بس اب گھر جا کر چاول پکائیں گی۔
“لوگ نجانے ان کے بارے میں رائے اچھی نہیں رکھتے جتنے منہ اتنی باتیں مگر حیرت یہ ھے کہ مہر بی بی نے آج تک گلہ نہیں کیا ”
“باقی کے دن کیا کرتی ہیں؟ صبح کی نکلی شام کو آتی ھے اسےزیادہ نیک نہ سمجھ ،مجھے تو لگتا ھے نرا دکھاوا کرتی ھے بہت نوٹنکی باز ھے ” تانی نے انتہائ حقارت سے کہا ۔
“دیکھ تانی ہم نہیں جانتے تو تہمت کیوں لگاتے ہیں پتہ بھی ھے رب ناراض ھو جائے گا کیا تمہارے محلے میں مہر بی بی کی باتوں کے سوا اور کچھ نہیں ۔ارے خفا کیوں ھوتی ھے چل تجھے اچھی چائے پلاؤں ۔تانی اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر کے اندر آ گئی ۔

اس نے دوائیوں کا نسخہ پکڑا اور دکان پر پہنچ گئی “بھائی دیکھو کتنے کی دوائیاں ھوں گی یہ؟یہ تمہاری خرید سے باہر ہیں مائی ۔اس نے سفید چادر میں سادہ سی خاتون کو دیکھا ۔ایسا کرو تم جلدی سے یہ نسخہ پکڑو اور دوا دو اچھا۔ شایدسارا دن کام انسان کو ایسا بیزار ہی کر دیتا ھے جیسے یہ لڑکا ھے ۔اس نے سوچا ۔
“یہ لو بل اور دوائیاں اس نے ان کے سامنے شاپر رکھا ۔انھوں نے سکون سے چھوٹی سی تھیلی کھولی ۔تین ہزار نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھے اور دکان سے نکل گئی ۔

’’اوہ پاگل آئندہ اس کے ساتھ ایسے نہ بولنا ۔تین چار بار وہ دوائیاں لینے آتی ھے ،گاہک خراب نہیں کرتے “ابا نے تو ٹھیک ٹھاک کلاس لے لی تھی ۔
شام کو تھکی ہاری جب لوٹی تو آس پاس کے لوگ اس کو معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔اس نے پرواہ نہ کرتے ھوئے دروازہ کھولا اور گھر داخل ھو گئی۔شکر ھے اللہ تو نے مجھے سر چھپانے کی جگہ دے دی ۔میرا مان رکھا شکر الحمد اللہ”انھوں نے چادر باہر رسی پر ڈالی ۔منہ ہاتھ دھو کر کھانا گرم کرنے چل دیں۔
دروازہ زور سے بجا تو یااللہ خیر کہتیں بستر سے نکلیں “کون ھے ؟ مہر بی بی قہوے کی پتی ھے تانی کی آواز پر جھٹ دروازہ کھولا بسم اللہ آؤ آؤ ۔دیتی ھوں ۔

وہ تیزی سے کچن میں گیئں ۔ایک ڈبیا میں سبز قہوے کی پتی اور تین الائچیاں ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیں ۔شکریہ مہر بی بی وہ میں ۔

’’ارے کچھ نہ کہو آخر ضرورت پڑی ھوگی تو اس وقت آئ ھو اللہ سب خیر کرئے ”

پتہ نہیں کس چیز سے بنی ھے کبھی جو منہ بنایا ھو دل ہی دل میں سوچتی وہ گھر کی طرف چلی آج سردی بہت تھی اور چھوٹے کو کھانسی شدید تھی اس نے سوچا سبز قہوے میں جوشاندہ ملا کر پلا دیکھے وہ جانتی تھی اس وقت پتی مہر بی بی کے گھر سے ہی ملے گی۔
اس شام جب جنت گھر آئی تو اس کے ذہن میں صرف مہر بی بی ہی گھوم رہی تھی ۔وہ کم از کم پینتالیس کی تو ضرور ھو گی ۔خوش شکل خاتون تھی ۔پہلی نظر میں وہ اسے پٹھانی لگی تھی ۔اس نے اپنے حسن کو سادگی کی چادر سے ڈھانپ رکھا تھا ۔اس کا لباس انتہائی سادہ تھا جو بال سفید تھے ان کو ویسے ہی رہنے دیا تھا ۔کس عاجزی سے وہ اس روز روپے لے رہی تھی ۔اس کے دل میں آیا وہ مہر بی بی سے ملے مگر تانی کے طعنے کون سنے توبہ ۔یہ سوچ کر اس نے خیال ہی ترک کر دیا۔
سہ پہر کا وقت تھا اسے پڑوسن کے ساتھ لڑکی دیکھنے جانا تھا ۔ان کے گھر کے باہر گاڑی روکی وہ دونوں اتریں۔گھر تو بڑا خوبصورت ھے جنت نے بےساختہ تعریف کی ۔بس دعا کرو گھر والوں کے دل بھی خوبصورت ھوں ۔میں اپنے بیٹے کے لئے ایک نیک سیرت لڑکی چاہتی ھوں ۔حلیمہ باجی نے نرم لہجے سے کہا ۔کچھ دیر بعد وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ چکی تھیں ۔
میزبان خاتون بڑے رکھ رکھاؤ والی تھیں ۔ان کے ساتھ تو جیسے دل ہی لگ گیا ۔”بی جان ،فاطمہ کے ساتھ چائے لے آئیے ”
ایک نازک اندام پیاری سی لڑکی اندر آئی مگر جنت کی آنکھیں اسے نہیں بی جان پر مرکوز تھیں ۔وہ کوئی اور نہیں مہر بی بی تھیں ۔مہر بی بی نے ادب سے سب کو سلام کیا اور فاطمہ کے ساتھ مل کر چائے دینے لگیں ۔انھوں نے شاید جان بوجھ کر اسے نظر انداز کیا تھا لیکن یہ غلط فہمی اسی وقت رفع ھو گئی جب انھوں نے جنت کو مسکرا کر دیکھا ۔

’’اس دن تانی کے ساتھ آپ کو دیکھا تھا کیسی ہیں آپ ؟‘‘

’’ٹھیک ھوں الحمد اللہ”جنت کچھ جھینپ سی گئی ۔

کچھ دیر بعد مہر بی بی اندر گئیں تو میزبان خاتون کہنے لگیں”یہ تو کوئی اللہ کا تحفہ ھے۔ پانچ دن آتی ہیں دو دن چھٹی کرتی ہیں مگر میرے گھر کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھتی ہیں ۔کھانا بناتی ہیں ۔میری ایک ہی بیٹی ھے اس نے کہیں جانا ھو تو ساتھ یہ ہی جاتی ہیں مجھے ان پر بے حد اعتماد ھے ۔کتنا دیتی ہیں اس کو مہینے کے ؟جنت سے رہا نہ گیا پندرہ ہزار ۔ہائے اللہ اتنے زیادہ ۔زیادہ ہیں نہیں اتنی شریف عورت جو فجر سے لیکر عشا تک میرے گھر کا ہر کام کرتی ھے جس کے سامنے خزانے کھلے پڑے رہیں کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی یہ مہنگا سودا تو نہیں ۔

“ہاں شاید آپ ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں “اسے مانتے ہی بنی

جنت ،تانی کے گھر عین جمعے کو ہی گئی وہ اسے سب بتانا چاہتی تھی مگر تانی نے اسے ششدر کر دیا ۔۔۔۔۔۔تجھے پتہ ھے مہر بی بی نے مکان بیچ دیا کیوں؟ایویں دماغ چل گیا اس کا ۔ وہ ٹھنڈا شربت بنا لائی اس کے لئے ۔آج میلاد بھی ھے اس کے گھر چابیاں ابھی حوالے نہیں کیں اس نے مالک کو ۔۔۔۔میں چل سکتی ھوں کیا؟

’’ہاں کیوں نہیں بس آدھے گھنٹے تک چلتے ہیں ”

اس کا گھر چراغوں سے سجا ھوا تھا ۔قمقمے روشن تھے ،سفید چادریں بچھی تھیں ۔وہ بھاگ بھاگ کر سب کام کروا رہی تھیں۔
کمال پراسرار عورت ھے ویسے یہ “اس نے تانی کے کان کے قریب سرگوشی کی جسے تانی نے ان سنا کر دیا ۔میلاد شریف کے بعد کھانا تھا اور پھر سب جا رہے تھے ۔
جنت جب بھی گئی تو اسے ایک اداسی سی گھیر لیتی ۔۔تانی ویسے مہر بی بی کے ھوتے کیسی رونق تھی ،ہاں یہ تو ھے میں تو حیران ھوں وہ کیسی عورت تھی کوئی گلہ نہیں ،کوئی شکوہ نہیں ،کسی کی غیبت نہیں پتہ نہیں کہاں گئی۔ تانی کافی اداس تھی ۔اس کے جانے بعد تو کی راز کھلے ۔کیا؟پانچ دن تو کسی کے گھر کام کرتی تھی ۔ایک دن مسافر خانہ کھانا لے جاتی تھی اور ایک دن ہسپتال میں بےبس اور لاچار لوگوں کےلئے دوائیاں لاتی تھی سچ پوچھو جو صدقہ لیتی تھی ہم سے وہ ہمیں کتنی مصیبتوں سے بچاتا ھو گا ۔ہم سب نے کچھ زیادہ اچھا تو نہیں کیا مگر جب گئی تو لگا کوئی اپنا چلا گیا ۔تانی نے ٹھنڈی آہ بھری ۔جنت کو لگا جیسے اس کے دل سے بھی ہوک اٹھی ھو ۔
“اب تو ہمارے مرد بھی کہتے ہیں بڑی نیک عورت تھی ”

ہاں بہت نیک عورت پتہ نہیں کتنے دکھوں کی گٹھڑی اٹھائے پھرتی تھی مگر گئی کہاں ھوگی “جنت نے جیسے خود سے سوال کیا اسے وہ خاتون یاد آئیں جن کے گھر وہ کام کرتی تھی ۔۔”تانی کیوں نا ہم ان کے گھر چلیں جہاں وہ کام کرتی تھی” اچھا وقت نکال کے چلیں گے کسی دنوقت نکالتے نکالتے چھ ماہ نکل گئے۔عید قریب تھی تانی اور جنت بچوں کے کپڑے لینے مارکیٹ گئیں ارے چل نا ذرا کھاڈی چلیں ،جنت نے تانی سے کہا نہ بابا ہم میں خریدنے کی اوقات نہیں سیدھی طرح چل کٹ پیس والے کے پاس ۔تانی نے صاف انکار کیا ۔
“تیری یہی عادت بری ھے ہم کون سا خریدیں گے‘‘ اس نے تانی کا ہاتھ پکڑا اور دکان کے اندر مگر لمحہ بھر کے لئے دونوں ساکت ھو گئیں ان کے سامنے مہر بی بی تھی ۔دونوں بازوؤں میں چوڑیاں انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ کرتیں ۔ایک نرم آواز سنائی دی ’’تانی اور جنت کیسی ھو تم اور باقی لوگ کیسے ہیں ؟‘‘

کیسی میسنی ھے مجال ھے جو شرم آئی ھو ۔آو میرے گھر ۔۔اس نے محبت سے کہا ۔اچھا تو شادی کے لئے اپنا مکان بیچا تھا تم نے تانی تو دکان پر ہی لڑنے کو تیار تھی ۔اتنے میں جنت نے دیکھا وہی لڑکی آگے بڑی شاید فاطمہ ۔۔۔۔۔

’’یہ میری ماں ہیں جب تک وہ تنہا تھیں تب بھی طعنے اور اب جب وہ کسی کی بیوی ہیں تب بھی طعنے ۔۔۔۔آپ جانتی بھی ہیں کیا ھوا ہمارے ساتھ وہ چیخ رہی تھی‘‘۔ گاہک متوجہ ھونے لگے ۔فاطمہ انھوں نے اسے تنبیہہ کی تو فاطمہ نے دونوں کو بھی ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور گھر لے آئی ۔ادھر آئیں اس نے دروازہ کھولا ۔
دونوں کا دل دھک سے رہ گیا وہاں جو مرد لیٹا تھا اس کی ٹانگیں نہیں تھیں ۔”۔۔ان کی ٹانگیں ہی نہیں آنکھوں کی بینائی بھی نہیں ھے ایک حادثے میں ماں چلی گئی ،باپ معذور ھو گیا ۔دولت کے باوجود کوئی ان کا خیال رکھنے کو تیار نہیں تھا یہ خاتون تھیں جن کو میں نے کہا تو یہ بولیں۔
’’فاطمہ یہ نامحرم ہیں میں کس طرح ان کے کام کروں ۔تب میری التجا پر انھوں نے میرے معذور پاپا سے نکاح کیا ۔جائیداد میرے نام کروائی لیکن اتنا رکھا وہ بھی اپنے گھر کو بیچ کر جو لائی تھیں۔‘‘
آج بھی مسافر کھانے اپنے ہاتھ سے پکا کر بھیجتی ہیں ،آج بھی اس ساری کالونی سے صدقہ لے کر پھر پکاتی ہیں ۔کہتی ہیں اس سے سب پر سے بلائیں ٹل جاتی ہیں آج بھی ہسپتال غریب لوگوں کو دوائیاں لے کر دیتی ہیں،آج بھی میلاد شریف کرواتی ہیں، گھر کا سارا کام کرتی ہیں میں تو شادی شدہ ھوں ،کیا میں اپنے باپ کا خیال رکھ سکتی تھی ؟‘‘

’’بولیں چپ کیوں ہیں ”

ان دونوں نے مہر بی بی کو دیکھا انھوں نے ہمیشہ خدمت کی کبھی گلہ نہیں کیا سچ تو ھے آج بھی وہ اپنے شوہر کی خدمت کر رہی تھیں وہ دونوں خاموشی سے باہر نکل آئیں۔
مہر بی بی نے کبھی شوہر کا پیار نہیں دیکھا اس کا خاندان دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا ۔شوہر ملا تو سال بعد چلا گیا اور اب گھر ملا تو بھی ۔۔۔دونوں آگے کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتی تھیں دونوں نے ایک دوسرے سے چھپا کر آنسو صاف کئے اور رکشے میں بیٹھ گئیں۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post