مٹھی بھر چاول : خاورچودھری

 

خیالات لیچڑ مکھی کی طرح اُس کے دماغ پر بار بار بھنبھناتے اور وہ ہر باراُنھیں جھٹک کر اپنے زخمی گھٹنے کو سہلانے کی کوشش کرتا۔یہ زخم اُسے نہ لگتا لیکن اُس کی جلدبازی اور بیوقافی کے باعث ایسا ہوا۔ دریا میں پانی ٹھہرا ہواتھا اورآسمان پر گدھ منڈلارہے تھے۔ کچھ بگلے اڑتے اُڑتے اچانک دریا کی اُوپری سطح پر کودتے اور کسی زندگی کو اُچک کراپنے پیٹ میں اُتار لیتے۔ گاؤں قریب آرہاتھا ۔ دُور تک ریت بچھی دکھائی دے رہی تھی۔ کناروں پر جگہ جگہ سرکنڈوں سے ڈیرے بنے ہوئے تھے۔اُس نے دیکھا کچھ عورتیںدریا کے کنارے پر بیٹھی کپڑے دھو رہی تھیں۔ اُسے شدت سے بھوک لگی ہوئی تھی اوراتفاق سے اُس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ورنہ وہ سفر پر نکلتے وقت کچھ اُبلے ہوئے چاول اور اچار کی ایک ڈلی پاس رکھتا تھا۔ بھوک انسان کو بے بس کردیتی ہے؛ ظاہر ہے ،وہ یہی سوچ رہاتھا، کہ کسی طرح اُسے کچھ کھانے کو مل جائے ۔اسی خواہش میں تو اُس نے اپنی کشتی کا رُخ اُن عورتوں کی طرف موڑ دیا تھا۔کنارے تک پہنچتے پہنچتے وہ بے تاب ہوچکاتھا اور جب کشتی کنارے لگی تواُس نے بے صبری کا مظاہرہ کیا۔اسی بے صبری کا نتیجہ تھا،کہ کشتی کی دائیں طرف بالکل وسط میں اُٹھی ہوئی میخ اُس کے گھٹنے میں دھنس گئی۔ اُس کی منھ سے ایک خوف ناک چیخ کے ساتھ کچھ گالیاں برآمد ہوئیں، جواُس نے خود کودی تھیں۔
میخ اُسی وقت اپنی جگہ سے کھسک کراُوپرآگئی تھی، جب اُس نے کشتی دریا میں ڈالی تھی۔کشتی کھینے کے دوران میں ایک دوباراُسے خیال آیابھی تھا، کہ پہلے اسے ٹھونک دے، پھررہنے دیا۔ وہ یہ سوچ رہاتھا، کہ پلٹ کرہتھوڑی کے ساتھ اُسے ٹھیک طرح سے ٹھونک دے گا لیکن اس سے پہلے ہی میخ اپنا کام کرچکی تھی۔ اَب وہ کنارے پربیٹھا اپنازخم سہلارہاتھا۔ عورتوں میں سے ایک اُس کے بہن کے گاؤں کی تھی۔کنارے پر پہنچتے ہی اُس نے پہچان کر مخاطب کیا:
’’ مائی شافاں! کیسی ہو اور میری بہن کی سناؤ ناں۔‘‘
’’ ادا فرید! میں ٹھیک ہوں اور تیری بہن سہجو بھی اچھی ہے۔ کل آئی تھی یہاں۔‘‘

’ میرا سلام دینا اُسے اور ہاں یہ پیسے بھی دے دینا۔‘‘
اُس نے شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈال کراُس میں سے سو روپے کے دونوٹ نکال کر شافاں کے ہاتھ میں تھمادیے۔ نوٹ بھیگنے کے باعث نرم ہورہے تھے۔
’’ دے دوں گی ادا فرید۔‘‘
بھوک سے اُس کا بُراحال ہورہاتھا۔ اُن عورتوں کے پاس ممکن تھا، کہ کچھ کھانے کے لیے موجود ہوتا لیکن اُسی لمحے دَرآنے والی ندامت اور ہچکچاہٹ نے اُسے مانگنے نہ دیا۔ حالاںکہ وہ انھیں دیکھ کر اسی خیال سے کنارے پرآیاتھا۔
اُس نے ایک کپڑا جلا کر راکھ کیا اور پھر وہ راکھ زخم پر ڈال کر ایک اور کپڑے سے باندھ دی ۔ درد کی شدت کم ہوجاتی اگراُسے کھانے کو کچھ مل جاتا۔ عورتیں کب کی لوٹ چکی تھیں اور وہ کنارے پر بیٹھاسوچوں کے اُلجھے تانے سُلجھانے میں مصروف تھا۔بہت کوشش کے بعداُسے یہ بات سمجھ آئی، کہ اپنوں کے بغیر زندگی اُدھوری رہتی ہے۔بے شک وہ لڑتے ہوں، مشکلوں میں ڈالتے ہوں، طعنے دیتے ہوں، نافرمانی کرتے ہوں، اذیت پہنچاتے ہوں، پھربھی اپنے ہوتے ہیں۔سوچ کو اس نہج تک پہنچانے میں شایداُس کی بھوک کا بھی ہاتھ تھا۔
اصل میںاُس کی بیوی رُوٹھ کر میکے چلی گئی تھی۔ شادی کوچھے ماہ بھی نہ ہوئے تھے، کہ دونوں میں معمولی باتوں پر تکرار ہونے لگتی اور بات جھگڑے تک پہنچ جاتی۔ ایک دو بار اس نے جوتے سے اُسے مارا بھی تھا۔جواباً اُس نے ایسے طعنے دیے ،وہ سرجھکائے خاموشی سے باہر نکل گیا۔ شام کو پلٹا تواس کی آنکھیں ندامت سے جھکی ہوئی تھیں۔ ویسے بھی مرد گھرچھوڑ کر چلاجائے اور پھر جھکی نظروں کے ساتھ گھر میں داخل ہو تووہ اپنی شکست تسلیم کرچکا ہوتا ہے۔وہ بھی ہتھیار ڈال دیتا تھا لیکن اُس کی بیوی پھر کچھ ایساتیر پھینکتی جواس کی رُوح میں اُترجاتا اور وہ پھر زخمی شیر کی طرح بپھر جاتا۔آخری بار بھی ایسا ہی ہواتھا۔بے طرح بیوی کو مارنے کے بعداُسے میکے چھوڑآیا اوراَب سال سے زیادہ ہوچکاتھا۔ بیوی وہاں بیٹھی تھی اور وہ اپنے بوڑھے چارپائی سے لگے باپ کی دیکھ بھال کے ساتھ گھر کے کام کاج میں اُلجھ گیا۔ دوبڑی بہنیں تھیں، جن کی شادی اس نے خود کرادی تھی۔ اب وہ اپنے گھروں میں مصروف تھیں۔کبھی اُن میں سے کوئی آجاتی توگھرکے کاموں سے اُس کی جان چھوٹ جاتی۔باپ اور بہنوں نے اُسے بہتیراسمجھایا کہ بیوی کو لے آئے لیکن اُس کا ایک ہی جواب ہوتا:
’’ لڑے گی کتیا، دماغ خراب کرے گی، اُدھر ہی رہے، دماغ ٹھیک ہوجائے گااُس کا۔‘‘
اُس نے زخمی گھٹنے کو سہلاتے ہوئے کشتی دوبارہ دریا میں ڈالی اور سیدھاسسرال کا رُخ کیا۔لنگڑاتا ہوا سسر کے دروازے پر پہنچا توکھلے دروازے میںسے اُس کی پہلی نظر اپنی بیوی پرپڑی۔ وہ تنور پرجھکی روٹیاں لگا رہی تھی۔ایسا دلکش نظارہ زندگی میں اُس نے نہ دیکھاتھا۔اُس نے سوچا:
’’ تاجی اتنی خوب صورت ہے، اتنی پُرکشش ہے، یہ تو آج انداز ہوا۔‘‘
بوڑھاسسر جو اُونٹ باندھ کراُٹھا ہی تھا،کہ اسے دیکھ کرکہنے لگا:
’’ اوئے فرید! کیوں آیا یہاں؟جا لوٹ جا۔ جا۔جا۔‘‘
’’ چاچا! میں تاجی کو لینے آیا ہوں۔‘‘
تاجی نے سراُٹھا کردیکھا تو جیسے اُس کی زندگی کی کل متاع اُس کے سامنے کھڑی تھی۔باپ نے بیٹی کے چہرے پر پھیلی تمکنت دیکھی توخاموش ہوگیا؛ وہ کب روکنا چاہتاتھا؟ بیٹیاں میکے بیٹھ جائیں تووالدین کاخون سوکھتا ہے۔پاس نہیں بھی رکھنا چاہتے لیکن زبان سے یہی کہتے رہتے ہیں:
’’ ہم زندہ ہیں ابھی؛ کوئی ضرورت نہیںوہاں جانے کی۔عزت سے رکھے تو ٹھیک ہے، ورنہ یہیں رہو۔پہلے بھی تیری ضرورتیں پوری کرتے تھے ، اب بھی کرلیں گے۔‘‘
’’ چاچا! زال ہے میری، لے جانے دے۔‘‘
’’ لے جا لیکن یادرکھ یہ آخری بار ہے؛اَب ہاتھ اُٹھائے گا توکاٹ ڈالوں گا۔‘‘
’’ ٹھیک ہے چاچا، ایسا ہی کرنا۔‘‘

اتنے عرصے بعد جو میاں بیوی ملے تویوں محسوس کیا، جیسے آج ہی شادی ہوئی ہو۔ سب رنجشیں ختم ہوگئیں، محبت اور بے حساب محبت۔اب جو گھروالی آگئی تواُس نے کام پر جانا شروع کر دیا۔ وہ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سواریاں لاتا لے جاتاتھا۔ اب وہ چاہتا تھا ،کہ اتنا روپیہ کمالے کہ تاجی کی تمام خواہشیں پوری کرسکے۔ پہلے وہ دن میں ایک دو پھیرے لگاتاتھا، اب تین تین چارچارچکرلگا لیتا۔محنت سے کمائے ہوئے پیسے محبت سے نچھاور کردیتا تھا۔ تاجی بھی رویے کی اس تبدیلی سے سرشار تھی۔ پریوں کی طرح اِدھر سے اُدھر اُڑتی پھرتی۔ وہ اب فرید کی آنکھ سمجھنے لگی تھی۔ فریدکو زبان سے کچھ نہ کہنا پڑتاتھا۔ بس ایک نگاہ اُٹھا کر تاجی کو دیکھتا اور وہ اُس کے سامنے بچھ جاتی تھی۔اتنی مزاج شناس ہوگئی تھی، کہ خود فریدحیران رہ جاتاتھا۔
غریب کی خوشیاںطویل کہاں ہوتی ہیں؟ اُنھی دنوں وباپھوٹ پڑی۔ لوگوں نے حکومتی حکم کے باعث سفرترک کردیا۔یہ بھی دریا کے خالی کنارے پر بیٹھ بیٹھ کراُکتاجاتا تو گھر پلٹ آتا۔ آخر مجبوراً گھر ہی بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دن میں غربت لوٹ آئی۔دونوں میاں بیوی پریشان رہنے لگے اوریہ پریشانی ایک بار پھربیزاری کا سبب بننے لگی۔گھر میں جو کچھ تھا، خرچ ہوچکاتھا اورجب تک لوگ گھروں میں بیٹھے تھے، کسی نئی چیز کے آنے کاسوال ہی نہ تھا۔نوبت فاقوں تک آگئی ۔ تب ایک آدھ بار تاجی نے کہا:’’ بابا کے گھرچلے جاتے ہیں، وہاںبھوکوں تو نہیں مریں گے۔‘‘
’’ نہیں! میری غیرت نہیں گوارا کرتی کہ میں تمھارے باپ کے گھر بیٹھ جاؤں۔‘‘
ایک دن اُن کا پڑوسی لاکھو، گلیوں میں دوڑتاہوا بلندآواز میں کہتاجارہاتھا:
’’ پٹواری آیا ہے، پٹواری۔ راشن بانٹ رہاہے۔گھر کا بڑا اپناشناختی کارڈ لے کر پہنچے۔‘‘
یہ آواز اُس نے بھی سُنی تھی مگرخاموشی سے چارپائی پرپڑارہا۔ تاجی نے پکارا:
’’ سُنا نہیں تم نے لاکھوکیا کہ رہاتھا۔ اب یہاں بھوکا پڑا رہے گا یا لائے گاراشن؟‘‘
اُس کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی تو تاجی نے اُسے جھنجوڑتے ہوئے پھروہی جملہ دُہرایا۔
کھلے میدان میں لوگ قطار بنائے کھڑے تھے۔ پٹواری ہرشخص کا شناختی کارڈ لے کر اُس کی معلومات رجسٹر پر درج کررہاتھا۔ اُس کا نام بھی درج کرلیاگیا۔ جب یہ عمل مکمل ہوچکا تو پٹورای نے ترتیب کے ساتھ نام پکارنا شروع کیے۔ لمبی قطار تھی۔وہ آنکھیں میچ کرایک طرف لیٹ ساگیاتھا۔ جب اُس کا نام پکاراگیاتووہ آنکھیں ملتا ہواپہنچا۔
مٹھی بھر چاول کی تھیلی پٹواری نے اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
’’ یہاں انگوٹھا لگادو۔‘‘
فریدکے لیے راشن کے رجسٹر پر انگوٹھا لگانا، اپنی موت کے حکم نامہ کی توثیق سے کم نہ تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post