فرزانے ڈھونگی : شازیہ مفتی

شازیہ مفتی
شازیہ مفتی
زمرد کی جھلک مارتی اس باولی میں مچھلیوں کو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالتے ہوئے رشنا نے کہا تھا
“کیسی عجیب بات ہے!”
“کیا عجیب بات؟ ”
میں نے پوچھا-
اس کا سپاٹ چہرہ دھوپ کی حدت سے کمہلائے گلاب ایسا تھا ۔ اس کی آ نکھیں —-جیسے ر یت اڑ رہی ہو ۔ وہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی یوں لگا جیسے میرے آر پار دیکھ رہی تھی ۔
پانی کے بیچوں بیچ سب سے غصیلے ہنس راج نے معمول سے زیادہ طویل ڈبکی لگائ اور پھر دوسرے کنارے کی طرف لمبی بے مقصد پیراکی میں مشغول ہوگیا تھا۔
” وہ دیکھو ، لگتا ہے وہاں کوئ دیوار ہے پرانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی صدیوں پرانی تہذیب کی نشانی ، وہاں چلیں گے کسی دن ”
رشنا کی سپاٹ حسین آنکھوں میں اودے اودے بادل سے لہرا گئے ۔ لیکن چند لمحوں کے لیے ، پھر سے وہی نیلگوں ٹھاٹھیں مارتا سمندراور پل بھر میں بدلتا وسیع ریگزار صحرا تھا ۔ دور پرلے کنارے پر کچھ سبز دھند سی تھی ۔ وہاں درخت تھے اور پھر اتنا سبزہ تھا کہ پتہ نہیں چلتا تھا دیوار ہے یا پتھروں کے ڈھیر ہیں ۔ بس پھر خلا اور اس کے بعد کہیں بہت گہرائ میں پتھروں سے سرپٹکتا سر کش دریا ۔
” میں وہاں گئ تھی شرجیل کے ساتھ ۔ بہت ہنستا تھا وہ اسے لگتا تھا سب ڈھونگ کررہے ہیں ۔”
“کون وہ جو بھاگ گیا تھا ” مجھے یاد ہے شرجیل اپنا سامان بھی چھوڑ گیا تھا سب کہتے تھے کسی سے ڈر کر بھاگ گیا۔
رشنا میری بات پر بہت زور سے ہنسی اور بہت دیر ہنستی رہی تھی ۔ پھر یوں جیسے لمحوں میں اس کا چہرہ پتھر سا ہوگیا اور دھیمے سے بولی
” وہ گندہ آدمی تھا سبز دیوار سے پرے پھینک دیا گیا ، پرمل راجہ ہمارا محافظ ہے ناں ”
باولی کے پچھمی کنارے پانی میں ڈوبی سیڑھیاں کائ سے سیاہ پڑی جاتی تھیں ۔ گہری سبز پھسلواں اگر پاوں پڑجاے تو؟ ——– لگتا ہے رات کو یہاں پانی آجاتا ہے اور کنارے سے تین نمبر تک کی سیڑھی پر ٹھہر جاتا ہے پھر صبح سورج نکلنے کے ساتھ پانی اترتا جاتا ہے آخر شام تک اکیس نمبر کی سبز سیڑھی نظر آنے لگتی ہے ۔ عجب پراسراریت ہے ۔شاید رشنا کی سنائ کہانی سچ ہو ۔ میں شروع شروع میں سیر کرنے آئ تب اسی طرح سنہری کرنوں میں گھری رشنا نے آواز دی ۔ پتہ نہیں میرا نام کس نے بتایا تھا اسے ۔ اس دن کناروں سے پانی چھلک رہا تھا ۔ روز ہی تو بارش ہوتی ہے شام ڈھلتے ہی بادل آسمان کو لپیٹ لیتے ہیں پھر تیز جھکڑ چلنے لگتے ہیں اور بارش برستی ہے لگاتار ۔ کھڑکیاں پانی کے تھپیڑوں سے لرزتی ہیں ہوائیں سیٹیاں بجاتی پھرتی ہیں اور آسمانی بجلیاں کوندے کی طرح لپکتی ہیں ۔ میں کھانے کی گھنٹی بجتے ہیً بڑے کمرے میں چلی جاتی ہوں اور پھر بادلوں کے کھڑکیوں کو سیاہ کردینے سے پہلے ہی آخری گھنٹی بجنے تک واپس اپنے بستر کی پناہ گاہ میں چھپ جاتی ہوں ۔ پھر بادل اور بجلیوں کا کھیل سا شروع ہوجاتا ہے ۔
رشنا کہتی ہے ہم کوہ قاف میں رہتے ہیں ۔ لیکن یہاں آئینے نہیں ہیں ۔ شیشے بھی نہیں ہیں مجھے اپنی شکل بھول گئ ہے -میں رشنا سے پوچھتی ہوں کے میری صورت کیسی ہے –
کیا اب بھی میرا رنگ گورا ہے – لیکن وہ جواب نہیں دیتی ہے – ایک وقت تھا کوی میری صورت پر مرمٹا تھا – جانے وہ دن کہاں گئے – کبھی کبھار رشنا کہتی ہے میں بہت خوبصورت ہوں لیکن میرے جسم پر عجیب سے نشان کیوں ہیں ؟
اّور ایک دن رشنا نے کہا تھا کوہ قاف کے پری زاد شام ڈھلے یہاں آتے ہیں شروع شروع میں سب خوش ہوتے ہیں ہنستے ہیں اور پھر جونہی شام کی زردی سرمئ ہونے لگتی ہے وہ دکھی ہوجاتے ہیں دکھ ان کی آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ نکلتا ہے ۔ وہ چیختے ہیں ماتم کرتے ہیں اور اتنا شور برپا کرتے ہیں جیسے طوفان ہو ۔ ان کے آنسوں سے یہاں پانی بھر جاتا ہے ان کے راجہ کا نام پرمل ہے ۔ وہ دھوکہ بازوں کو کڑی سزا دیتا ہے ۔ مگر کچھ دھوکہ باز اپنی چالاکی سے اسکی گرفت سے نکل جاتے ہیں – وہ بھی تو ایسے ہی پھسل گیا تھا اور مجھے پتہ بھی نہ چلا تھا-
آج رشنا نہیں آئ تھی ہنس راج بھی پانی میں نہیں اترے ۔وہ دور سبز دھند میں لپٹی دیوار پر بیٹھے تھے ۔ آسمان بد رنگ تھا ۔ مچھلیاں پانی کی اوپری سطح تک آتیں گہرا سانس لیکر مایوس واپس چلی جاتیں میں ان کے لیے روٹی کے ٹکڑے لائ ہوں کتنی تیزی سے جھپٹ رہی ہیں کتنی بیچاری ہیں یہ ، بے بس ، قیدی ، لیکن اس قید میں ہی زندگی ہے ان کی ۔ یہاں سے باہر کچھ نہیں ان کے لیے ۔
دور پانی میں زرد رنگ کا چیتھڑا سا ہلکورے لے رہا تھا ۔
کل رشنا نے کہا تھا وہ یہاں آئے گی ۔ جب پورا چاند ہوگا وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا نام ہے اس کا یاد آگیا لطیف ہاں لطیف کے ساتھ ۔ وہی یہ کہانیاں سناتا ہے ۔ کہتا ہے پورے چاند کی رات وہ سب سچ ہوجاتی ہیں ۔ کل چودھویں تھی نا رشنا نے زرد شلوار قمیض پہنی تھی کتنا پیارا دوپٹہ تھا اس کا ۔ میرے پاس بھی ایسا زرد اور سنہرا جوڑا تھا اور میں نے پہنا تھا تب میرے ہاتھ ایسے نہیں تھے میرا جسم بھی اور پاوں بھی ۔ میں بہت خوش تھی کہیں جارہی تھی پھر دھماکہ ہوا تھا پھر پتہ نہیں کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں آتا ۔ کوئ بھی ایسا نہیں جسے کچھ پتہ ہو ۔ رشنا کو بھی نہیں معلوم ۔
میں جاوں بہت دیر ہوگئ گھنٹی بج رہی ہوگی ۔ . . . . . . . . . . . . . .
میرے پیچھے والی جھاڑی میں زرد رنگ کا کپڑا کہاں سے آگیا تھا۔
اور وہ کیا تھا ؟ عجیب سی چیز ۔ ۔ ۔ وہ کسی کا ہاتھ تھا ۔ لیکن صرف ہاتھ کیوں ؟ نہیں ہاتھ میں گھڑی بھی تھی ۔ یہ تو اسی کی تھی لطیف کی ۔ وہ انجکشن لگاتا تھا اسی گھڑی والے ہاتھ سے ۔ لیکن اس کے ہاتھ اور گھڑی اور یہ زرد کپڑا وہاں تھے تو وہ کیوں نہیں نظر آرہا تھا؟
. . . . . . . . سوچا جاکے بتاوں کسی کو بارش ہونے سے پہلے پہلے ورنہ پانی اوپر تک آجائے گا پھر تین نمبر سیڑھی پر پڑا لطیف کا دوسرا ہاتھ بھی پانی میں چلا جائے گا ۔ یہ دوسرا ہاتھ مجھے اب کیوں نظر آیا تھا؟ میں کسی کو ڈھونڈتی رہی ۔ ورنہ اندھیرا ہوجاتا ۔
کھانے کی گھنٹی بج رہی تھی ۔رشنا باہر ہی مل گئ اس نے وہی بد رنگ سے کپڑے پہن لیے تھے سب جیسے اور میں نے اسے بتادیا ۔ لطیف کے ہاتھ گھڑی اور زرد کپڑا اٹھالائے ورنہ وہ ڈوب جائیں گے وہ میرے ساتھ بیٹھی تھی ۔ اس نے کہا چپ رہوں کوئی اور اٹھالے گا یہ کوہ قاف ہے یہاں پرمل راجہ سب کچھ کرتا ہے ۔ آخری گھنٹی کے ساتھ ہم واپس اپنی پناہ گاہوں میں چھپنے جارہے تھے رشنا کی آنکھیں کہہ رہی تھیں چپ رہو اور سوجاو ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
. . . . . . . . . میں بہت اداس ہوں مجھے رشنا کو بتانا تھا رات کا خواب ۔ بارش کی آواز کے ساتھ دھماکے سنائ دیتے رہے اور آگ کے شعلے تھے ہرطرف ۔ میرے ہاتھ اور بال خواب میں بھی جل رہے تھے ۔ میں بہت چیخ رہی تھی پھر ڈاکٹر ریما آگئیں ۔ بہت سارے انجکشن لگائے ۔آنکھیں بند تھیں لیکن جاگ رہی تھی مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا لیکن خواب نہیں ٹوٹتا تھا بار بار وہی بھیانک خواب ۔ پھر میں نیم غنودگی میں تھی ۔ ڈاکٹر ریما نرس سے کہہ رہی تھیں اب میں ٹھیک ہوجاونگی اور کہہ رہی تھیں مجھے سب یاد آجائے گا جلد ہی ۔ پھر مجھے واپس بھیج دینگے
یہ نرس کہاں سے آگئ میں تو رشنا کو تلاش کر رہی تھی –
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ . . . . . . . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کئ دن گزرگئے ہیں سب کہ رہے ہیں لطیف ڈر کر بھاگ گیا ۔ مجھے چپ رہنا ہے مجھے اس رات ہی سب یاد آگیا تھا ۔ میں گاڑی میں تھی سڑک بہت سیاہ اور شفاف تھی وہاں بلند پہاڑ تھے اور جھرنے تھے اور پھر ایک موڑ پر شمیل گاڑی روک کر اترگیا ۔ وہاں سڑک پر ایک اور کار تھی سارہ میری سہیلی وہیں کھڑی تھی ۔ میری گاڑی کا دروازہ کھل نہیں رہا تھا جام ہوگیا تھا اور لاک پھنس گیا تھا پھر مجھے ایک دم ہی جیسے سب سمجھ آگیا ۔آنکھوں سے بہت سے پردے ایکدم ہٹ گئے ۔ بہت سے واقعات جنہیں میں اپنی غلط فہمی گردانتی رہی اس وقت پوری سفاکی سے منکشف ہوگئے ۔لیکن بہت دیر ہوگئ تھی میں دوستی اور محبت میں بدقسمت ثابت ہوئ شمیل اس کار میں بیٹھ گیا اور وہ دونوں چلے گئے میں اکیلی سنسان راستے پر کھڑی رہ گئ ۔پھر بہت زور دار دھماکہ ہوا ہر طرف بھڑکتے شعلے تھے میرے زرد کپڑے جل رہے تھے شاید گاڑی کا دروازہ کھل گیا تھا اور میں گرتی جارہی تھی ۔ پھر بس تاریکی چھاگئ ۔ پھر وہ لوگ مجھے یہاں چھوڑ گئے – پتہ نہیں وہ اپنے تھے یا پرائے – یہاں رشنا میری دوست بنی مجھے پراسرا ر باتیں بتاتی رہی ۔ باولی جو رات کو پانی سے بھر جاتی ہے ۔ راجہ پرمل سب پر کڑی نظر رکھتا ہے ۔ گندے لوگوں کو ان کے جرم کی سزا دیتا ہے ۔ یہاں بہت معصوم خود کو بھولی ہوئ اور زمانے کی ٹھکرائ لڑکیاں رہتی ہیں ان کی حفاظت پری زاد کرتے ہیں ۔ رشنا پاگل لگتی ہے بالکل ۔ لیکن مجھے چپ رہنا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کئ لڑکیاں ڈھونگ کر رہی ہیں جن لوگوں کی وجہ سے یہاں تک پہنچی ہیں دوبارہ ان میں نہیں جانا چاہتی ہیں ۔ آزمائے ہووں کو کیوں بار بار آزمایا جائے ۔ ۔ کئ دفعہ سچ مچ لگتا ہے یہاں پریاں اور پری زاد ہیں پرمل راجہ ہے ۔
موسم بدل جاتے ہیں سبز پھول پتے زرد ہوجاتے ہیں پھر ہر طرف برف کی سفیدی چھا جاتی ہے کتنے ہی موسم آئے گئے ہیں یہاں پرسکون پانیوں کی منتظر مچھلیاں ، راج ہنس اور بارشیں ہیں سبز موسم ہیں خزاں کے زرد چر مرائے پتے ہیں۔ مجھے بھی باقی عمر یہیں گزارنی ہے ۔۔۔۔انتظار فضول ہے, کسی کا بھی انتظار فضول ہے۔ اب کوئی نہیں آئے گا اور منزلیں بے نشاں ہو چکی ہیں۔ بس! انتظار۔۔۔اس معلوم سے کسی نامعلوم سفر کی طرف کوچ کے نقارے کا انتظار۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ . . .
وہ میرا سوشیالوجی میں ایم فل کا پہلا سمیسٹر تھا ۔ ” سجیلہ خان ” نے فاونٹین ہاوس کی بے رنگی دنیا میں ایک افسانوی اور خیالی بہت خوبصورت دنیا بسا رکھی تھی ۔ عید پر میں اس کے لیےء زرد سنہری چوڑیوں کا تحفہ لے کر گئ اور جبھی میری اس سے دوستی ہوگئ ۔جس چوبی بنچ پر بیٹھ کر وہ مجھ سے باتیں کرتی کہتی کہ یہ صدیوں پرانی باولی کی سیڑھیاں ہیں ۔سادہ سے درودیوار کو دلکش وادی کہتی ۔ چڑیاں اسے مچھلیاں لگتیں ۔ اس کا آگ سے جھلسا ہوا چہرہ جتنا بھیانک تھا اسی قدر اس کی آنکھیں حسین تھیں ۔ میں اس سے چھپا کر ٹیپ ریکارڈر پر اس کی بے ربط گفتگو ریکارڈ کرتی گئ ۔ لیکن میرا تھیسس مکمل نہ ہوسکا ۔ میں سجیلہ خان پر کچھ نہ لکھ سکی ۔ پتہ نہیں کیوں ۔ پھر بہت سال بعد روحی بانو سے ملنے فاونٹین ہاوس گئ تو سجیلہ خان کا پوچھا ۔ پتہ چلا چند ماہ قبل ہی اس کی وفات ہوئ ہے ۔ پرانی چیزوں میں سے ٹیپ ریکارڈر ڈھونڈ کر بار بار اس کی آواز سنتی رہی اور بس جیسے وہ کبھی سرگوشی کرتی کبھی بڑبڑاتی اور کبھی فلسفہ بولنے لگتی حرف حرف اسی طرح لکھ دیا ۔ وہ فرزانہ تھی دیوانہ یا ڈھونگی میں فیصلہ نہیں کرپائی۔
شازیہ مفتی

You might also like
  1. بہت ہی عمدہ و منفرد تخلیق ۔ داد حاضر ہے ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post