حرمت : فریدہ غلام محمد

مجھے اکثر پتہ نہیں چلتا کہ کون آیاہے اور کون گیا ۔میں محفلوں میں کم ہی جاتا ھوں ۔بزنس میں وقت نکالنا بہت ہی مشکل ھوتا ھے ۔اب بھی ولیمے میں گیا ھوا تھا اور دوست کے اصرار پر مگر بےدلی سے بیٹھا تھا ۔اچانک ایک حسین چہرہ نظر آیا ۔مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ میں کیوں چونک گیا ۔میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرے دیکھے تھے ۔شناسائی تھی مگر وہ آئی تو میرے حواسوں پر چھا گئی ۔سیاہ بڑی بڑی آنکھیں اور گھنیرے سیاہ بال ۔دودھ جیسی رنگت اوپر سے شمپئن کلر کے لباس میں غضب لگ رہی تھی ۔ہلکی سی مسکان ۔وہ آتے ہی دلہن کے ساتھ بیٹھ گئی ۔وہ دیر سے آنے پر معذرت کر رہی تھی ۔ آواز مترنم تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت خوبصورت تھی ۔
میں نے اپنے دوست سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا یہ فیشن ڈیزاینر ھے ۔بوتیک ھے اس کا ۔کسی ڈاکڑ کی بیٹی ھے ۔اس کا نام حرمت ہے ۔
“یہ شادی شدہ ھے کیا؟”میں نے پوچھا
نہیں مگر اس کی چھوٹی بہن اور بھائی کی شادی ھو چکی ھے ۔میرے دوست نے بتایا
کسی کے ساتھ کوئی چکر؟میرے اندر کے مرد نے اگلا سوال کیا ۔
“کبھی سنا تو نہیں مگر تو کیوں اتنا کرید کرید کر پوچھ رہا ھے ۔تو نے شادی کرنی ھے اس سے ”
وہ الجھ سا گیا
میں نے ایک نظر اس حسین چہرے پر ڈالی اور پھر بےساختہ کہا
’’ ہاں ۔‘‘
ارے سچ کہہ رہا ھے
ہاں ۔میں مسکرایا
“نجمی کبھی کبھی سالوں فیصلہ نہیں ھو پاتا اور کبھی لمحہ بھر میں وہ ھو جاتا ھے جو ہم خود بھی سمجھ نہیں سکتے ”
“حرمت” نجمی نے اسے پکارا
جی نجمی بھائ ۔وہ ہماری جانب آ گئی
یہ ولید رضا ہیں ۔
اچھا اچھا ۔اس نے کچھ نہ سمجھتے ھوئے سر ہلایا۔
میں حرمت ھوں ۔
جی میں جانتا ھوں ۔اس کے نازک لب ہلے تو میں نے مسکرا کر کہا
جانتے ہیں ؟وہ قدرے حیران ھوئی
اتنا جانتے ہیں کہ فرماتے ہیں تم سے شادی کریں گے ۔نجمی نے جھٹ کہہ ڈالا ۔میں توقع نہیں کر رہا تھا اور اس کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا۔
سوری یہ بھی پتہ نہیں کیا کیا بول جاتا ھے
میں ابھی کہہ ہی رہا تھا ۔وہ واپس چلی گئی ۔
اب میں نجمی سے لڑ رہا تھا ۔
جھگڑا کچھ یوں ختم ھوا کہ اس نے مجھے حرمت کا فون نمبر دے دیا ۔ولیمے میں وہ مجھے گاہے بگاہے نظر آتی رہی لیکن کچھ چپ سی ۔اس کو کیسے بتاؤں مجھے اس سے پیار ھو گیا تھا پہلی نظر کا پیار ۔میں بےچین سا گھر آ گیا ۔
میں اور اماں ناشتے کے لئے بیٹھے تو انھوں نے مجھے بہت غور سے دیکھا
“کچھ خاص ھوا ھے کیا؟”
اف یہ مائیں بھی نا کیسے سب جان لیتی ہیں
میں نے سر ہلایا تو انھیں ناشتہ بھول گیا جبکہ میں بھی خالی چائے کے ہی آپ لے رہا تھا۔
“جلدی بتا وہ کون ھے ؟کہاں ھے؟” یااللہ تو ضرور ماؤں کے کان میں سرگوشی کر جاتا ھے انھیں یہ بھی پتہ ھے کوئ لڑکی پسند آ گئ مجھے۔
“اماں ولیمے میں ایک لڑکی پسند آئی ھے مجھے لیکن ابھی خود بات کر لوں تو ۔۔۔میں رکا
“ارے تو نکما ھے بالکل مجھے ملا کوئ طریقہ ڈھونڈ ”
اماں کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ ہتھیلی پر سرسوں جمائے بیٹھی ہیں ۔ان کا بس چلتا تو مولوی صاحب کو پکڑتیں اور میرا نکاح پڑھوا دیتیں ۔
“اوکے آپ ناشتہ کریں میں کچھ سوچتا ھوں ”
میں نے انھیں پرسکون کیا۔
یہ تو نہیں تھا کہ یہ کوئ پہلی لڑکی تھی ۔ہاں مجھے کبھی محبت نہیں ھوئی تھی شاید مجھ میں اس صلاحیت کا فقدان تھا ۔لیکن ایک ہفتے میں مجھے محسوس ھوا ۔وہ جو سولہ برس کی عمر میں پیار ھونا تھا وہ اب ھو گیا ھے ۔ایک دن نجمی کا دیا نمبر دیکھا
مگر اس سے پہلے میں نے تمام نمبر اپنے فون سے ڈیلیٹ کر دیے ۔میں اس کو پوری دیانتداری سے بتانا چاہتا تھا۔
میں نے بہت بار نمبر ملایا مگر اٹھایا نہیں گیا۔
تب نجمی سے کوئ راہ نکالنے کو کہا ۔
شام سے پہلے ہم دونوں اس کے آفس میں تھے ۔السلام علیکم حرمت ۔وہ سر جھکائے کام کر رہی تھی ۔بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔جینز اور ڈھیلی ڈھالی نیوی بلو شرٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ہر لباس اس پر سجتا تھا ۔
وعلیکم السلام اس نے نظریں اٹھائیں
مجھے قدرے حیرت سے دیکھا ۔
تشریف رکھیے ۔اس نے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا۔
“اس کو کچھ بات کرنی ھے تب تک میں مارکیٹ کا چکر لگا آؤں ”
اس سے پہلے وہ نجمی کو روکتی وہ جا چکا تھا۔
جی فرمائیے ” اس نے سامنے والی چیئر پر بیٹھ کر کافی اعتماد سے کہا ۔
وہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔
یاخدا اس کی آنکھوں میں اتنی وحشت
میں گھبرا سا گیا ۔
آپ کو کچھ کہنا تھا ؟.
“مس حرمت میری اماں آپ کے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہیں ۔”
کس سلسلے میں ولید صاحب؟
اس نے سرسری سے انداز میں پوچھا
کیا وہ مجھے مل چکی ہیں ؟سوال پر سوال
اسے کیسے بتاتا وہ میری آنکھوں میں دیکھ چکی ہیں ۔

“نہیں دیکھا تو نہیں مگر وہ میری خواہش پر آپ کے گھر والوں سے میرے لئے آپ کو مانگنا چاہتی ہیں ”
میں نے جلدی سے اسے بتایا تو تب میری حیرت سوا ھو گئی ۔اس کے چہرے پر حیرت نہیں تھی۔
وہ اٹھی اور دراز میں سے کارڈ نکالا
میں اور میری دادی جان رہتے ہیں باقی فیملی میں کوئ نہیں ھے ۔جب چاہیں آپ کی والدہ مل سکتی ہیں ۔بس پہلے فون کر دیجیے گا۔
مجھے کارڈ تھماتی سکون سے وہ پھر جا کر ڈیزائن بنانے لگی ۔میرے وجود سے بے خبر
میں اٹھا اور وہاں سے چلا آیا ۔
ھو گئ بات ؟ نجمی نے اشتیاق سے پوچھا
ہاں مگر کچھ عجیب سی ھے کوئ تاثر ہی نہیں ۔میں بڑبڑایا ۔یوں کرو مجھے آفس ڈراپ کر دو ۔

میں آفس میں بھی غیر حاضر دماغی سے بیٹھا تھا ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی آخر وہ جذبات سے عاری کیوں تھی ۔جب میں نے اسے بتایا تو اسکے چہرے پر اتنا خالی پن کیوں تھا۔آنکھوں میں اتنی وحشت کیوں تھی ؟یہ ایسے سوال تھے جن کے جواب وہ خود دے سکتی تھی ۔اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں کارڈ کو الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔
ایک دن اماں اور دادی کی ملاقات ھوئی تو اماں کی خوشی دیدنی تھی ۔انھوں نے بتایا کہ حرمت بہت ہی سعادت مند بچی ھے ۔اس نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلایا ۔آج کے دور میں بھلا لڑکیاں کہاں خود بناتی ہیں ۔بہت تہذیب والی ھے ۔بس انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ بہو بنے گی تو صرف حرمت ۔میں خوش تھا ۔دادی مجھے بھی ملی تھیں جب اماں کو لینے گیا تھا ۔وہ بھی ساتھ تھی ۔ہلکا سا تبسم اس کے لبوں سے کھیل رہا تھا ۔موتیا رنگ کے سادہ سے شلوار سوٹ میں بھی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔میں اور اماں ان کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر آئے تھے ۔
ولی آج میں نے بی جی اور حرمت کو گھر بلایا ھے تم بھی جلد آ جانا ۔ڈنر ایک ساتھ کریں گے انشااللہ ۔انھوں نے ناشتے کے وقت مجھے اطلاع دی ۔
جی اچھا اماں ۔میں خوش تھا ۔چلو کسی بہانے گھر تو آئے گی ۔میں اس سے باتیں کر لوں گا ۔اس بند کتاب کے صفحے بھی پڑھوں گا ۔کچھ نہ کچھ تو لکھا ھو گا۔کچھ اپنا بتاؤں گا یہ سوچ کر میں مطمئن سا ھو گیا۔
شام بڑی سہانی تھی میرے لئے تو یہ تصور بھی بہت مسرور کر دینے والا تھا ۔آج حرمت میرے گھر ھو گی۔میں نے گاڑی ہورچ میں کھڑی کی اور جلدی سے گھر میں داخل ھوا ۔
دادی تخت پوش پر سو گئ تھیں ۔اماں اور وہ باتیں کر رہی تھیں ۔حرمت نے آج سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا ۔اماں مجھے دیکھ کر مسکرائیں ۔حرمت نے بھی آہستہ سے ہیلو کہا
“اماں میں فریش ھو لوں پھر آتا ھوں ”
میں نے خاص طور پر سیاہ شلوار سوٹ نکالا ۔پہن کر خود کو سو بار دیکھا ۔کوئ بھی لڑکی مجھ چھ فٹ کے انسان جس کی ہلکی براؤن آنکھیں ھوں اور مردانی وجاہت سے مالا مال ھو ،مر سکتی ھے ۔پتہ نہیں حرمت بھی کچھ متاثر ھے میرے سے یا نہیں ۔دل ہی دل میں سوچ رہا تھا جب اماں نے پیغام بھیجا ۔میں ٹیریس پر چلا جاؤں وہاں چائے بجھوا دی ھے اور حرمت بھی وہیں ھے اور یہ بھی کہ مجھے حرمت سے کھل کر بات چیت کر لینی چاہیے تاکہ باقاعدہ رشتہ طے ھو جائے ۔
میں سیدھا ٹیریس پر جا پہنچا ۔میں ٹھٹھک گیا ۔وہ بت بنی بیٹھی تھی ۔شام دھیرے دھیرے فضا میں اپنے پنجے گاڑ رہی تھی سورج ڈوب رہا تھا۔پکھیرو گھروں کی طرف اڑ گئے تھے ۔
“حرمت “میں نے اسے پکارا تو وہ چونک کر کھڑی ھونے لگی
“ارے بیٹھی رہو ”
تب تک میں عین اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا۔
“مجھے کچھ کہنا ھے “؟ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
ولید اگر اجازت ھو تو پہلے میں کچھ کہوں؟
ہاں کیوں نہیں ۔میں نے خوش دلی سے کہا
آپ کو کس قسم کی لڑکی سے شادی کرنا ھے ؟
اب وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی
بالکل تمہاری جیسی بلکہ تم سے ہی ۔میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر ہی جھٹ سے کہہ دیا۔
مجھ میں کیا بات ھے آخر؟
تم خوبصورت ھو اور شریف لڑکی ھو سب سے بڑھ کر مجھے اچھی لگی ھو اور ہم دونوں ہی میچور ہیں ۔مل کر زندگی کو اچھا گزار سکتے ہیں ۔میں خاموش ھو گیا ۔
وہ بار بار پہلو بدل رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ھو ۔
کچھ کہنا ھے ؟میں نے پوچھا
اس نے اثبات میں سر ہلایا
کہو
“میری خوبصورتی کی وجہ سے بہت لوگوں نےاپروچ کیا ۔سب نے وہی بات کی جو آپ کر رہے ہیں مگر سب چلے گئے اور پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں شادی نہیں کروں گی ۔”
اس نے بات کر کے سر جھکا لیا۔
حرمت سب کیوں چلے گئے ؟
میں نے بےچین ھو کر پوچھا ۔
میں جب بیس سال کی تھی تو مجھ سے زبردستی کی گئی تھی ۔میری عزت چلی گئی۔
بابا صدمے سے چل بسے ۔اماں بھائ کے پاس امریکہ ھوتی ہیں اور میرے پاس دادی ہیں ۔بھائ مجھے رکھنے کو تیار نہیں ۔مجھ پر تو ہر بات پر جیسے سینے پر تیر چل رہے تھے ۔میں گمراہ نہیں تھی مگر میں نے اپنے دوست پر اعتبار کر لیا تھا جس کی سزا عمر بھر مجھے ہی بھگتنا ھے ۔اس نے ایک پل بھی مجھ سے نظر نہیں ہٹائی تھی ۔
مجھے معلوم ھے آپ کو صدمہ ھوا ھو گا مگر میرا کیا جسے سچ بتانے کا خبط ھے ۔میں دھوکے میں نہیں رکھ سکتی کسی کو بھی ۔
میں نے اپنے حواس بحال کئےاور بولا
“سوری مجھے معلوم نہیں تھا تم اتنا کرب سمیٹ کر بیٹھی ھو ”

اوکے میں چلتی ھوں ۔اب وہ پر اعتماد تھی
میں وہیں بیٹھا رہا نجانے کتنی دیر ۔کیا میں اتنا عظیم ھوں کہ اسے اپنا لوں اس کی تمام تر سچائ سمیت ۔

اماں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا ۔میں رات بھر کروٹیں بدلتا رہا ۔آخر صبح ھو گئ۔
اماں اور میں ناشتے پر اکٹھے ھوئے وہاں نجمی بھی بیٹھا ھوا تھا گویا اماں نے بلایا ھو گا۔
کیا حال ھے میرے یار کا؟وہ اٹھ کر گلے ملا
ٹھیک ھوں ۔میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
کل دادی اور حرمت آئے پھر کیا فیصلہ ھوا ؟
ہم ناشتہ کر لیں پہلے مجھے آفس بھی جانا ھے
میں نے نہایت ترش لہجے میں کہا اور نجمی چپ ھو گیا ۔
پورے چاند کی رات تھی ۔اماں کو بات بتا کر ان کا تاثر دیکھے بنا اوپر آ گیا ۔
میں نے نکاح کے فورا” مطالبہ کر دیا مجھے پانچ منٹ دلہن سے بات کرنی ھے ۔اس کے بعد رسمیں ھوں گی ۔اماں نے گھورا ۔نجمی نے آنکھیں دکھائیں مگر میری بات ماننی پڑی سب کو۔
میں نے دروازہ کھولا وہ سامنے تھی میری حرمت ،میری دلہن ۔میں نے جان لٹانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
اس کے چہرے پر شرمیلی سی ،من موہنی سی مسکراہٹ تھی۔
اب بتاؤ میں کیسا ھوں
بہت اچھے ۔جانتی ھو میں کتنے دن خود سے لڑا ھوں اور پھر جا کر یہ بات سمجھ میں آئی کہ کیا میں نے کبھی کوئ خطا نہیں کی۔ ۔ مجھے اس لئے معافی ھے کہ میں مرد ھوں اور انسان سے ہی غلطی ھوتی ھے ورنہ وہ فرشتہ ھوتا
تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں تمہیں اپناوں گا تم حرمت ھو میری ۔میں نے قدرے قریب جا کر اس کی پیشانی پر لب رکھ دیے ۔
ارے اب آ بھی جائیں ۔باہر سے آوازیں آ رہی تھیں ۔میں جو سچی خوشی اور ڈر سے پاک چہرہ دیکھنا چاہتا تھا ،دیکھ لیا تھا ویسے بھی اب ساتھ رہنا تھا ۔میں مسکراتا ھوا باہر نکل گیا ۔
خوشیاں دو قدم پر ہی ھوتی ہیں یہ تو انسان پر ھے وہ انھیں حاصل کر لے یا محروم ھو جائے ۔

 

You might also like
  1. فیصل عظیم says

    بہت خوب

  2. Hammad says

    بہت خوب ۔ اک نیا انداز

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post