افسانہ

بے بسی کی کہانی : اقصیٰ رانا

سرما کا موسم تھا خنک بڑھ رہی تھی رات بارہ بجے کا وقت تھا علی بستر پر اس طرح لیٹا تھا کہ اس کا منہ چھت کی جانب تھا اور سوچیں اس کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔علی کی عمر پچاس برس ،دراز قد،گندمی رنگت،اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں اور ستایا ہوا چہرہ جس سے تفکر ٹپکتا تھا۔ وہ خالی خالی نظروں سے چھت کو دیکھ رہا تھاجیسے یہ چھت اس کی کہانی بیان کررہی ہو۔ اس کے ارد گرد ہر شے سکوت میںتھی۔ میں کیا کروں ؟کیسے کروں؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ا ٓج کے دور میں مہنگائی آسمان کوچھو رہی ہے میرے لیے گھر کا خرچ برداشت کرنا کیا پہلے کم مشکل تھا جو اب یہ ذمہ داری بھی پوری کرنی ہے۔’’ انسان ذمہ داریوں سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتاذمہ داریاں کالے سائے کی طرح انسان کا تعاقب کرتی ہیں ان سے تو کسی صورت فرار ممکن نہیں‘‘ ۔میرے بچوںکی تعلیم ،ان کے باقی اخراجات فقط ایک تنخواہ اوراب زینب کی شادی میرا تو کوئی سہارا بھی نہیں ہے ۔
مریم اس کے پہلومیں بیٹھی تھی اُس کا رخ علی کی جانب تھا۔مریم جب بیاہ کر آئی تو اس کی عمر بیس برس تھی مثالی قد،سرخ سفید رنگت،چھوٹی چھوٹی آنکھیںاورکتابی چہرہ جس سے علم اور بردباری چھلکتی تھی ۔اُس کی نظریں علی کی خاموشی کو ٹٹول رہی تھیں۔علی کو اپنی جانب متوجہ نہ پاکر اس کو مخاطب کرتی ہے۔دو تین بار آوازدینے کے بعد علی سوچوں کے سمندر سے حال میں قدم رکھتا ہے اوراس کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔
مریم تم کب آئی؟
جب تم سوچوں میں کھو کر حال سے بیگانے ہو گئے اور تمہیں میری موجودگی کا احساس تک نہ ہواخیر چھوڑو۔۔۔
کیا بات ہے علی تم کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہو میں کچھ دنوں سے دیکھ رہی ہوںتم کچھ الجھے الجھے سے ہواور آج تم نے کھا نابھی نہیں کھایا ۔
علی:نہیں کوئی بات نہیںبس ایسے ہی ۔
مریم:کوئی تو بات ہے جو تمہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے ۔تمہارے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ سکتی ہوں۔بتاؤ کیا بات ہے؟
علی: نہیں کچھ نہیں
مریم: میں تمہاری بیوی ہوں چھبیس سال ہوگئے ہماری شادی کو ۔تم منہ سے جھوٹ بول سکتے ہوں لیکن تمہاری آنکھوں میں چھپا درد اور چہرے پر تفکر کی لکیریں جھوٹ نہیں بول سکتی کوئی تو بات ہے جو تم بتا نہیں رہے ۔بتاؤ کیا بات ہے ہو سکتا ہے میں کچھ مدد کر سکوں۔
علی:میں اس سے کبھی نہیں چھپا سکا یہ سوچ کر زیر لب ہوا
کیا کروں میں حالات سے تنگ آ گیا ہوں۔ پہلے ہمارے پاس خستہ حال مکان تھاجو ہمارے لیے کافی تھاہم صبرو شکر سے گزارا کر رہے تھے اور ہم شاید مزید گزارا بھی کر لیتے لیکن لوگ اچھا گھر بار دیکھتے ہیں ۔خستہ حال گھر کی بدولت کتنی بارہماری بیٹی کو ٹھکرایا گیا۔ٹھکرائے جانے کا دکھ جانتی ہو؟ میں نے کئی بارزینب کو چھپ چھپ کر روتے دیکھا ہے۔ اس کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی ۔ان حالات سے تنگ آکرپریشانی کے عالم میں میں نے دفتر سے قرضہ لیا اور اس گھرکو لوگوں کی نظروں کے قابل بنایامگراُس کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں ۔اب جب کہ بیٹی کی شادی ہے تو اس کا خرچ کہاں سے لاؤں؟ کہاں ہاتھ پھیلاؤںعلی اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے ۔ تم میرے بھا ئیوں کو توجانتی ہو انہوں نے صاف ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔لوگ کیا کہیں گے بیٹی کے سسرال والے کیا کہیں گے میں کیسے سب کاسامنا کروں؟ سب کاکیا میںتو اپنی بیٹی کا سامنا نہیں کر سکتا میںزینب سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔ تم ہی بتاؤاگرمیں فکر مند نہ ہوں پریشان نہ ہوں تواور کون ہوگا ؟تم جانتی ہو کتنی بار ہمارے حالات تنگ سے تنگ تر ہوئے میں کبھی نہیں ہار ا لیکن آج بیٹی کے آگے ہار گیا مریم میں ہار گیا ۔سر ہاتھوں میں تھام کر وہ رو دینے کو تھا۔
علی تم کیوں اتنے مایوس ہورہے ہو مایوسی گناہ ہے ۔بیٹی تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے اوروہ ہماری رحمت پر رحم ضرور کرے گا۔ اللہ تعالیٰ جس سے خوش ہوتا ہے اسے بیٹی دیتا ہے اور ہماری تو اللہ کے کرم سے چار بیٹیاں ہیں اور تم جانتے ہو
بیٹیاں تو پھول ہوتی ہیں
تپتی زمیںپر آنسوؤں کے پیارکی مانند
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو آنگن میں اتری بوندیں ہوتی ہیں
بیٹیاں توپھول ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی نرم ہتھلیاں ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں جیسی ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی رداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی بُلا سکیں ،کبھی چھپا سکیں
بیٹیاں ان کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی ہنسا سکیں ،کبھی رلا سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگی دعاؤں جیسی ہو تی ہیں ۔۔۔
اوروہ جو رب ہے اسے سب دکھائی دیتا ہے۔ وہ تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ کیسے اپنے بندے کو تنہا چھوڑ سکتا ہے ۔وہ تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔تم بھول گئے جب ہماری بیٹی کا رشتہ نہیں ہوتا تھا گھریلو خستہ حالی کی بدولت تب بھی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی تھی ۔جب سارے در بند ہو جائیں تو ایک در ہے جو ہر وقت کھلارہتا ہے ۔کیا ہوا جو تمہارے بھائیوں نے مدد سے انکار کر دیا۔مجھے اپنے رب پہ بھروسہ ہے اور میںجانتی ہوں وہ رب کبھی میرا بھروسہ ٹوٹنے نہیں دے گا ۔ وہ ہمیں تھام لے گا، گرنے نہیں دے گااور رسوائی سے بچالے گا ۔آج تک تو وہ ہمارا بھرم رکھتا آیا ہے پھرتم آج اتنے مایوس کیوں ہو اور جو تم لوگوں کی بات کرتے ہو تو تم بتاؤ آج تک کون ان لوگوں میں سے آیا ہے جس نے ہمارا درد بانٹا ہو ہماری مدد کی ہو ۔ یہ لوگ صرف باتیں بنانا جانتے ہیں ۔کتنے سال بیت گئے مجھے یہاں آئے ہوئے میں نے تو آج تک کسی کو اپنی مدد کے لیے آتے نہیں دیکھا ۔علی کتنے ہی ہم جیسے مجبور ماں باپ ہونگے ۔یہ لوگ ہماری تو کیا کبھی کسی کی مدد کے لیے نہیں آئے۔یہ لوگ صرف باتیں بنانا اورقہقے بلند کرنا جانتے ہیں۔ تم نے کبھی سوچا ہے کتنے ہی والدین ان کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو دکھ کی دلدل میں چھوڑ دیتے ہیں سسرال جہنم بن گیاہے وہ یہ جانتے ہوئے بھی بیٹی کو گھر نہیں لاتے کہ ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘ تمہیں کیا لگتا ہے انہیں اپنی بیٹی پیاری نہیں ہوتی، بیٹی دکھی ہے یہ سوچ کر ماں باپ کا دل کٹتا ہے وہ اس درد میں کتنی راتیں کروٹیں بدلتے رہے ہوں گے ان کے لیے یہ زندگی کی سب سے بڑی اذیت ہو تی ہے۔ اتنی تکلیف تو ماں نے بیٹی کی پیدائش کے وقت محسوس نہیں کی ہوگی جتنی وہ اب کرتی ہو گی ۔یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بھی بیٹیاں ہیں ان کے ساتھ بھی خدا نہ کرے کل کوکچھ ایسا پیش آ سکتا ہے لیکن یہ سب بھول جاتے ہیں یاد رہتا ہے تو صرف دوسروں پہ ’’ قہقہ‘‘ ۔خیر تم فکر مند نہ ہو ہم یہ وقت بھی کسی نہ کسی طرح کاٹ لیں گے ۔ رات کافی ہوگئی ہے سو جاؤ صبح دیکھیں گے ویسے بھی طلوع آفتاب روشن صبح کی دلیل ہے ۔اس کی باتوں نے تو جیسے سارے مسئلے ہی حل کر دیئے علی سوچتا ہے کہ میں رب سے اتنی جلدی مایوس کیسے ہو گیا رب نے مجھے بیوی کی صورت میں کتنا خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ جو مسئلے میری سوچ کو کھائے جارہے تھے اس نے کتنی آسانی سے سلجھا دیئے ۔مریم میری زندگی میری زندگی کا انمول تحفہ۔۔۔
کچھ دن بعد شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور جس حد تک وہ بیٹی کو دے سکتے تھے دے رہے تھے وقت ہے کہ سر پیر لگا کردوڑ رہا تھا ۔آج آخر وہ دن آ گیاجس کا برسوں سے انتظارتھا۔ شادی ہال میں ہر طرف گہماگہمی تھی۔ برات کے شادیانے بج رہے تھے ا نہوںنے بارات کا پر جوش استقبال کیا اور استقبال کے بعد لوگ اپنی نشتوں پر براجمان ہوگئے ۔نکاح کی رسم کے بعد کھانا میزوںپر پیش کیا جانے لگا ۔لوگوں نے کھانا شروع کیاعلی سارے انتظامات دیکھ رہا تھا کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اسی دوران علی ایک ٹیبل کے پاس سے گزرا تو لوگ محو گفتگو تھے ان کی علی کی طرف پیٹھ تھی یار یہ علی نے سب کر کیسے کر لیا ایک شخص ہنستے ہوئے کہیں ڈاکا ڈالا ہو گا دوسرا نہیں یارایسا نہ کہو کسی سے قرض ورض لیا ہو گا چھوڑو یار ہمیں کیاتم لوگ کھانا کھاؤجس لیے یہاں آئے ہو۔علی خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔زینب کے والدین نے اس کو نئے سفر کے لیے وداع کر دیاوہ سفر جس کے لیے شاید ماں باپ بظاہر تیار ہوتے ہیں لیکن دل ہچکولے کھا رہا ہوتا ہے یہ دن ان کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے۔ جس دن سے والدین ڈرتے ہیں بیٹی کی پیدائش سے کوئی نہیں ڈرتا ۔ڈرتا ہے تو اس سفر کے روگ سے۔ اس سفر کا روگ بیٹی کی پیدائش کے دن سے ہی والدین کی زندگی پر حاوی ہوجاتا ہے۔ یہ خیالات ان کی سوچوں پر حاوی ہوتے ہیں ورنہ بیٹی تو زندگی میں آنے والا ہر رنگ ہے۔
مریم ہم نے بیٹی تو رخصت کردی لیکن کب تک آخر کب تک ؟ہم آدھا ایکڑ زمین بیچ کر بیٹیاں رخصت کریں گے ہمارے پاس تو دو ایکڑ ہی زمین ہے ہمارے دو بیٹے بھی ہیں ان کے لیے۔علی کی بات کاٹتے ہوئے تم پھر وہی باتیں لے کر بیٹھ گئے اب بھی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی اور سب کام اچھے سے ہو گئے جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔علی یہ سن کر مسکرا دیا’’ یہ بھی نا‘‘۔۔۔

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

افسانہ

بڑے میاں

  • جولائی 14, 2019
  افسانہ : سلمیٰ جیلانی انسانوں کی کہانیاں ہر وقت ہواؤں میں تیرتی پھرتی ہیں یہ ان کی روحوں کی
افسانہ

بھٹی

  • جولائی 20, 2019
  افسانہ نگار: محمدجاویدانور       محمدعلی ماشکی نے رس نکلے گنے کے خشک پھوگ کو لمبی چھڑی کی