بہاروں کے دن ہیں : فریدہ غلام محمد

“بابا” وہ ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔وہ سفیدے کا درخت لگا رہے تھے جاڑا اب بس جانے کو تیار تھا اور بہار پھولوں کی مہکار لئے آنے کو بےچین۔اس بیچ بابا پچھلے صحن میں سفیدے کے دو درخت لگانا چاہتے تھے ۔
“مجھے پتہ لگ گیا ھے بس “ان کی خاموشی پر وہ روہانسی سی ھو گئی ۔
“میری بیٹی کو کیا پتہ چل گیا ھے جو منہ پھلا کے بیٹھ گئی ”
انھوں نے شفقت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا
میں وہ دس سال کی بچی نہیں رہی بابا پورے۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ذرا ٹھہریں میں گن لوں ۔اس نے انگلیوں پر گنا ۔گن لیا ؟ وہ ہنس پڑے ۔
“ہنس کیوں رہے ہیں بابا؟وہ الجھی ھوئی تھی
مجھ سے پوچھ لیتی تم چودہ سال اور تین دن کی ھو چکی ھو ”
اب ثانیہ کی آنکھیں پھٹ سی گئیں ۔
ہیں اتنا کریکٹ حساب آپ کو کیسے پتہ اس نے مٹی سے لتھڑے ہاتھ پکڑ لئے ۔
ارے رے سارے ہاتھ گندے کر لئے مٹھی بچی۔
انھوں نے جلدی سے اس کے ہاتھ صاف کئے ۔
بتائیں نا بابا ؟
کیا؟
یہی کہ آپ کو کیسے پتہ چلا ؟
میں باپ ھوں تمہارا مجھے تو یہ بھی یاد ھے تم کب چلنا شروع ھوئی ،کب بولنا سیکھا اور بابا سے کتنے سوال پوچھے ۔اب وہ مسکرائے ۔
وہ بھی ہلکا سا مسکرائی ۔یہ دیکھو یہ پودے کل کو درخت بنجائیں گے آج کا دن یاد رکھ لو اور چلو ہاتھ اچھی طرح دھو لیں ورنہ اماں تمہاری سے ڈانٹ سننی پڑے گی ۔انھوں نے اٹھتے ھوئے کہا
“آپ بھی اماں سے ڈرتے ہیں “وہ ہنسنے لگی ۔
تو اور کیا ۔۔۔یہ ضروری ھے وہ مسکرا رہے تھے اماں کی محبت سے ان کا چہرہ دمک اٹھا ۔
بابا یہ بارش اس لئے ھوتی ھے نا کہ آسمان کو رونا آ رہا ھوتا ھے جب وہ غم سے بھر جاتا ھے تو بادل آ جاتے ہیں ۔چپ کرو ثانی بابا آئے نہیں سوال شروع ۔
اماں نے بیچ میں ہی ٹوک دیا ۔اس نے ایک نظر بابا کو دیکھا ۔نیلے سوٹ میں اس کے گورے چٹے بابا اب ذرا پوزیشن سنبھال رہے تھے ۔
“ارے اس کو پوچھنے دیا کرو ۔باقی دو آپس میں گم ھوتی ہیں سارا دن انتظار کرتی ھے میرا۔ان کے لہجے میں کچھ التجا بھی تھی ۔اسے نہ روکو پوچھنے دو ۔شاید اماں سمجھ گئی تھیں ۔
جیسی آپ کی مرضی ڈاکٹر صاحب ” وہ کچن میں خانسامے کو شاید کچھ کہنے چلی گئیں ۔
ادھر آ کے بیٹھو ۔بابا نے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
موٹے موٹے آنسو دوپٹے میں جذب ھونے لگے۔
ثانی بیٹے جواب توخود دے دیا۔
ذرا سی بات پر رونے لگی ۔انھوں نے جلدی سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔اس کے آنسو اپنے ہاتھ سے صاف کئے اور بولے
“بادل بھی جب بوجھل ھو جاتے ہیں ۔سمندر سے جدائ ان کو تڑپانے لگتی ھے تو وہ بھی رونے لگتے ہیں اور سمندر میں گم ھو کر ہی دم لیتے ہیں ۔”

“میرے پیارے بابا ” وہ ان کے سینے سے لگ گئی تھی ۔باپ کے سینے کی گرمی بچوں کو محسوس ھوتی ھے شاید ۔اس نے سوچا

وہ عجیب دوپہر تھی ۔کچھ اداسی لئے ،کچھ خاموش سی ۔
بھئ تم دونوں تیار ھو جاؤ میں نہیں جانے والی ولیمے پر ”
اوے ھوے بابا کی چمچی نہیں جائے گی دونوں نے اسے سنایا اسی لمحے بابا آ گئے
چلو جی تم پیاری بیٹیوں نے یہ تو کہہ دیا یہ میری کیا ھے ؟اور پھر ہنسے ارے پیاریو تم تینوں مجھے جان سے عزیز ھو ۔تم سب میرا فخر اور غرور ھو اس لئے ایسا نہیں کہتے
وہ دانیہ اور وانیہ کو سمجھا رہے تھے ۔

“بابا یہ چپکو ھے آپ کے سوا یہ کسی سے بات ہی نہیں کرتی ۔”
“ایسا نہیں ھے بیٹے ” دیکھو تم تینوں کے لئے میں ایک جیسی اشیا لاتا ھوں یا نہیں ؟
بالکل لاتے ہیں ۔وہ دونوں بولیں ۔
پھر یہ گلہ کیوں ؟بابا نے باری باری تینوں کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
سوری بابا ۔دونوں نے ایک ساتھ کہا اور چلی گئیں ۔مگر وہ تو وہیں کھڑی تھی ہمیشہ کی طرح ۔بابا تھکے ھوئے تھے بیٹھ گئے ۔اماں نے انھیں پانی دیا ۔انھوں نے اماں سے کہا ۔کھانا لگوا دیں ۔جمعہ کا دن بابا دوپہر کا کھانا گھر کھاتے تھے ۔اس لئے بھی وہ سارے پرجوش ھوتی تھیں۔
ثانی تم مجھے سب سے عزیز ھو ”
پھر جھوٹ کیوں بولا ؟
“ارے انصاف تو ساری اولاد کے لئے ھوتا ھے نا مگر کوئی کوئی اولاد بہت عزیز ھوتی ھے اس پر میرے رب نے بھی کوئی قدغن نہیں لگائی ”
اوکے بابا اب میں اداس نہیں ھوں ”
وہ ایک دم ہلکی پھلکی ھو گئی تھی۔
اس نے کبھی سوچا نہیں تھا مگر سعد اسے بہت اچھا لگتا تھا ۔وہ میڈیکل کالج میں اس کا کلاس فیلو تھا ۔اونچا لمبا سجیلا نوجوان ،
ہلکی بھوری آنکھیں دیکھتی کم بولتی زیادہ تھیں ۔اس لئے شاید اظہار کی نوبت نہیں آئ تھی ہاں یہ ضرور تھا جس ٹیبل پر وہ ڈائسکشن کے لئے کھڑی ھوتی وہ ساتھ ھوتا کسی اور کو کبھی قریب کھڑے نہیں ھونے دیتا تھا ۔وہ دونوں بہت کم بات کرتے تھے ۔
ایک دن وہ سب باہر کھڑے تھے اگلا لیسن اناٹمی کا تھا ۔اسے اچانک بابا نظر آئے ۔
وہ تیزی سے آگے بڑھی ۔
بابا آپ کب آئے ؟خوشی سے اس کی آواز کانپ رہی تھی ۔اس سے پہلے بابا کوئی جواب دیتے سب لڑکیاں آ گئیں ۔ان کو سلام کیا ۔السلام علیکم سر
آواز پر وہ چونکی وہ بابا سے ہاتھ ملا رہا تھا
خوش رہو بچو ۔اگر تم فری ھو تو چلیں ”
بابا نے اس سے پوچھا
“سر ابھی ایک لیکچر رہتا ھے ” یہ سعد کی آواز تھی ۔بابا نے ایک نظر سعد پر ڈالی اور پھر اسے دیکھا ۔اس نے سر جھکا لیا ۔
اوکے فری ھو کر آ جانا “ہمیشہ کی طرح مسکرائے اور چلے گئے۔
وہ کلاس میں جانے کے لئے مڑی تو ٹھٹھک گئی ۔وہ ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔
آپ کے بابا بہت گریس فل ہیں ”
ہاں جی اور بہت شفیق بھی”
یہ کہہ کر وہ چپ ھو گئی ۔
چلیں کلاس شروع ھونے والی ھے ” وہ بنا کچھ کہے اس کے ساتھ چلنے لگی۔
وہ گھر آئ تو بابا لاونج میں ہی بیٹھے تھے ۔
کوئی کام کر رہے تھے ۔
آ گئی میری بیٹی ” جی بابا
تم چینج کر کے کھانا کھاؤ پھر مل کر باتیں کریں گے۔”
ایسا تو کبھی نہیں ھوا تھا کہ وہ خود کہیں ہمیشہ دبے پاؤں ان کے کمرے میں وہ ہی جاتی سوال کرتی ،بہنیں آ جاتیں گپ شپ ھوتی اصل باتیں تو تب ھوتیں جب وہ اور بابا اکیلے ھوتے۔
خوشی سے جلدی جلدی فارغ ھو کر آئ تو بابا نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔وہ ان کے سامنے دوزانو۔بیٹھی تھی ۔
ثانی وہ لڑکا کون تھا ؟
اس کا دل زور سے دھڑکا ۔بابا یہ پوچھیں گے اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔
بابا وہ میرا کلاس فیلو ھے ” دھیمی آواز میں بولی
صرف کلاس فیلو ؟بابا کی نظریں اس پر تھیں
جی بابا صرف ”
گڈ بیٹے یاد رکھو کبھی لڑکا اور لڑکی دوست نہیں ھو سکتے ۔ہاں اگر کوئی پسند آئے تو مجھے بتانا ۔انھوں نے شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ۔وہ چپ چاپ اٹھ گئی تھی ۔
شاید بابا کو اچھا نہیں لگا ۔ وہ سوچتی رہی
رات کے کھانے پر بھی وہ چپ تھی ۔
ارے آج بابا سے ناراض ھو کیا ؟
بابا خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے ۔
“وہ ہم سب کے بابا ھے ناراضگی کا کیا سوال جی ”
کھانا کھاؤ چپ کر کے
اماں نے چپ کروا دیا
آج ان کا کالج میں آخری دن تھا ۔سب اداس بھی تھے ۔ڈنر کے بعد وہ خاموشی سے اس کے پاس آ کر کھڑا ھو گیا۔
مجھے معلوم ھے تم مجھ سے محبت کرتی ھو
مگر اس کا اقرار تم زندگی بھر نہیں کرو گی “,

اس نے ایک نظر اسے دیکھا ۔بلیک ڈریس میں جھلمل کرتے تارے اس کے چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا رہے تھے ۔وہ اسے کھو دے گا اسکا دل بیٹھنے لگا ۔
میں تم سے محبت نہیں کرتی ”
اچھا ۔وہ ہنسا
تم ہمیشہ مجھے مس کرو گی آئی نو ۔
میں امریکہ جارہا ھوں نجانے کب لوٹوں تب تک تمہارے بابا تمہاری شادی کر دیں گے ۔
اس نے بابا لفظ پر زور دیا ۔
دیکھو سعد ۔وہ قدرے غصے سے مڑی
دیکھ ہی تو رہا ھوں کب سے ۔وہ اس پر ہلکا سا جھکا ۔
بابا پر طنز نہیں کرنا والدین سے زیادہ حق کسی کا نہیں ھوتا یہاں تک محبت کا بھی نہیں ۔یہ کہہ کر وہ رکی نہیں ۔سعد نے اس کے آنسو دیکھ لئے تھے ۔وہ کیا کہہ گئ تھی ۔
گھر آئی تو سیدھا کمرے میں بند ھو گئی ۔آنسووں کی برسات تھی ۔وہ زانو پر سر رکھے رو رہی تھی ۔کتنی یادیں تھیں اس خاموش محبت کی ۔
اسے یاد آیا جاڑوں کے دن تھے ۔فنکشن تھا سعد تو ہر فنکشن کی جان تھا مگر اسے فکر تھی اتنی ٹھنڈ میں بیمار نہ پڑ جائے ۔
کیا کروں وہ بےبس تھی اس نے ادھر ادھر دیکھا فہد بھائی نظر آ گئے ۔
وہ ان سے دو سال سینئر تھے ۔”آو چلیں سوپ پی کر آتے ہیں “اس نے دوستوں سے کہا
پہلے تو وہ حیران ھوئیں مگر نیکی اور پوچھ پوچھ
اس نے فہد بھائی سے کہا کہ سب کو لے آئیں میری طرف سے سوپ کی دعوت قبول کریں
فہد بھائی بھی قدرے حیرت میں تھے ۔
آخر سب اکٹھے ھو گئے ۔اس نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ سوپ پی رہا تھا ۔آہستہ آہستہ سب اس کا شکریہ ادا کر کے جا چکے تھے ۔
وہ ابھی تک بیٹھا تھا ۔بھائ ایک اور سوپ دے دو ان کے کھاتے میں ”
وہ زیر لب مسکرایا ۔
ثانیہ نے ایک لمحے کو اسے دیکھا تو وہ بے ساختہ بولا
“میری خاطر سب کی خاطر داری کر ڈالی مگر یہ ادا بھی خوب ھے ”
وہ اس کے دل کا محرم تھا بن کہے ہر بات جان جاتا تھا
آخری فنکشن اور تھیم سرخ رنگ تھا ۔
بابا گھر پر نہیں تھے اماں بھی ہاسپٹل تھیں
تنہا بازار جا نہیں سکتی تھی ۔
اس نے سرخ پشواز تو پہن لی دوپٹہ قدرے پھیکا تھا ۔مجبوری میں پہن لیا مگر بہنوں کے بقول وہ غضب ڈھا رہی تھی ۔
وہ جب کالج پہنچی تو سب ہی اچھی لگ رہی تھیں ۔مگر کسی کی نگاہیں بس اسکا طواف کر رہی تھیں ۔کچھ شرم ،کچھ جھجھک وہ نگاہ بھی نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔
فنکشن سے پہلے ایک گیم رکھی گئی تھی ۔کچھ گفٹ تھے جو گیم میں دینے تھے ۔
سعد نے ایک دم ڈبے سب کے ہاتھ میں دے رہا تھا ۔
سب خوشی سے کھول رہی تھیں شکریہ شکریہ کی آوازیں تھیں ۔اس نے دھیرے سے ڈبہ کھولا تو سامنے لال دوپٹہ تھا ۔جس میں ستاروں کا کام تھا ۔
پہناؤں ؟
اس کی گھمبیر آواز پر وہ چونکی آس پاس کوئ نہ تھا ۔اس نے جواب سنے بغیر ہی دوپٹہ کھولا اور اس کے سر پر ڈال دیا ۔
میری دلہن ”
اس کا دل دھڑکا ۔وہ جا چکا تھا اور تمام فنکشن میں اس نے وہ دوپٹہ لئے رکھا اور اس کے بعد الوداعی ڈنر اور اب سسکیاں بھر رہی تھی ۔اب ہجر کی ناتمام کہانی تھی اور وہ تھی۔اس کی آنکھیں اسے کبھی دیکھ نہ پائیں گی ۔دید کی پیاس تھی اور وہ تھی ۔ہر آواز سنے گی مگر سماعت اس کی آواز نہیں سنے گی بےبسی تھی اور وہ تھی ۔
بابا کا سر نہیں جھکا سکتی تھی ۔اسے کھو کر اس نے بابا کا اعتماد جیت لیا تھا ۔یہ خسارے کا سودا نہیں تھا جو بھی آ جائے اسکی زندگی میں خیر ھے بابا تو ایک ہی ہیں وہ ان کو دکھ نہیں دے سکتی تھی ۔
ہاؤس جاب کے بعد بابا نے اس کا رشتہ طے کر دیا تھا ۔وہ لڑکا بھی ڈاکڑ تھا ۔اس کا نام ابراہیم سعد تھا ۔کیا نصیب تھا یہ نام اب کتنی اذیت دے گا۔
“شادی کو دو دن ہیں ڈاکٹر صاحب اور آپ چاہتے ہیں ساحل سمندر پر چلا جائے وہ بھی شام کو ”
ماما چلیں نا ؟
نہیں تم بھی سب گھر میں رہو
وہ تو منہ پھلا کر بیٹھ گئیں
چلو ثانی ہم ابھی ھو کر آتے ہیں ”
جی بابا” وہ اٹھ کھڑی ھوئی ۔اماں نے”جو کہا سب سن کر دونوں ساحل پر آ گئے تھے ۔
ثانی آج کل اتنی چپ کیوں ھو بیٹے !؟وہ سوال کہاں کھو گئے بیٹے ؟انھوں نے اسے غور سے دیکھا ۔وہ کملا گئ تھی وہ تو کلی تھی تازہ اور خوش رنگ۔
بابا ایسی کوئی بات نہیں ھے
وہ مسکرائی ۔
بابا ایک بات پوچھوں ؟
پوچھو نا بیٹے ۔بابا کے چہرے پر کچھ اضطراب تھا ۔
بابا وہ دیکھیں سورج غروب ھو رہا ھے اسے تو معلوم ھے پھر آئے گا یہ اداس کیوں ھے؟
ارے یہ اداس تھوڑی ھے یہ تو ہمیں کہہ کر جا رہا ھے کہ میں لوٹ آؤں گا ”

بابا کبھی دنیا میں بچھڑے ھوئے انسان بھی لوٹ آتے ہیں ،ملتے ہیں؟”
کیا بات ھے ثانی کوئی بچھڑ گیا کیا؟
نہیں نہیں بابا ویسے پوچھ رہی ۔وہ جلدی سے بولی
“بابا ہنس پڑے ۔جانے والے لوٹ بھی آتے ہیں ثانی اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ھے”
بابا آپ میرے بغیر اداس نہیں ھوں گے؟
بہت ھوں گا مگر یہ تو عین فطرت ھے نا
اور میں تو سوچ رہا ہم بھی باہر ہی سیٹل ھو جاتے ہیں اپنی بیٹی کے سامنے والے گھر میں خالص ہمسائے ”
آپ اتنا دور کیوں بھیج رہے مجھے ؟
ایک شکوہ سا اس کے لبوں پر مچل گیا ۔
“بیٹی کی شادی ایک ہی گھر میں ھو نا بچھڑ تو وہ تب بھی جاتی ھے ”
اک آہ سی نکلی ان کی ۔وہ پشیمان ھو گئی
میں چاہتا تھا تم کو ڈوبتا سورج کا نظارہ کروا دوں تم کو پسند ھے نا اس لئے “انھوں نے بہت شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

بارات آ گئی تھی ۔رخصتی سے پہلے اس نے کہا مجھے بابا سے ملنا ھے ۔
بابا اندر آئے تو وہ ان سے لپٹ گئ ۔
بابا مجھ سے ناراض تو نہیں
“بالکل نہیں ایسی باتیں نہیں کرتے اب جلدی سے ڈریس چینج کرو تاکہ تم بروقت فلائٹ لے سکو ۔ابراہیم ایئرپورٹ پر رسیو کرے گا “۔اماں بہنوں اور بابا سے مل کر وہ جہاز میں آ بیٹھی تھی ۔نجانے کیوں وہ لال دوپٹہ بھی اس نے سوٹ کیس میں رکھ لیا تھا یہ حرکت اس نے جان بوجھ کر نہیں کی تھی۔
ایئرپورٹ تو آ گیا مگر وہ تصویر جو بابا نے دی تھی وہ شاید اٹھائی ہی نہیں تھی ۔
وہ جب باہر آئی تو ایک مانوس سی خوشبو قریب محسوس ھوئی ۔کسی نے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی “میری دلہن” اور پھر ہاتھ تھام لیا ۔اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھا وہ تھا ابراہیم سعد ۔
آپ ؟
جی میں شوہر نامدار تم تو اتنی احمق ھو نام تک نہیں جانا میرا ۔”
مگر بابا نے تو نہیں بتایا مجھے”
وہ تم کو یہ خوشی اچانک دینا چاہتے تھے
انھوں نے مجھے کہا تھا کہ سعد میری بچی نے میرے لئے تم کو چھوڑ دیا اور میں اس کے لئے تم کو داماد کی حیثیت سے قبول کرتا ھوں
وہ خوش تھا اور وہ بھی ہنس پڑی ۔بابا آج پھر اس سے جیت گئے تھے ۔”جانے والے لوٹ بھی آتے ہیں یہ کوئ انوکھی بات نہیں ھے “بابا کا جملہ یاد کیا اور وہ مسکرا دی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post