بدلہ : فریدہ غلام محمد

آج تنہا ہوں ابھی ابھی کھڑکی سے باہر دیکھا تو اسٹریٹ لائٹ میں کچھ لڑکے کھڑے تھے شاید گھر تنگ ھونے کی وجہ سے باہر سکون سے گپ شپ کر رہے تھے ۔سورج ڈوب گیا مگر اس کی گرمی کی حدت کم نہیں ھوئ ۔کالونی کی آدھی آبادی سو چکی تھی ۔ابھی چند گھنٹے بعد سحری کی رونق شروع ھو جائے گی ۔انسان دنیا کے کام دھندے میں اتنا کھو جاتا ھے کہ سچ پوچھیں ۔خود سے بھی ملاقات کئے بغیر زمانے ھو چکے ھوتے ہیں
میں نے کھڑکیوں کے پردے ایک طرف کئے ۔کمرے کے چاروں بلب بند کئے ۔پھر ایک نظر کمرے کو دیکھا ۔میرا کنگ سائز بیڈ ،میری نظریں اس پر گڑ گئیں ۔بیس سال پہلے یہ یہاں لا کر رکھا تھا ۔تب اس کی چمک دمک دیکھنے والی تھی۔باہر کھمبے پر لگے بلب کی زرد روشنی میرے کمرے کو قدرے روشن کر رہی تھی۔میری نگاہ اپنے بیڈ پر تھی ۔جب میں بیاہ کر آئی تھی تو میری نندوں نے اسی بیڈ پر بٹھایا تھا ۔میرے شوہر نے میرا گھونگٹ یہیں اٹھایا تھا ۔میرے دونوں بچے ہمارے ساتھ اسی بیڈ پر سوتے رہے ہیں نجانے کیسے ہم سب اس پر سو جایا کرتے تھے ۔جگہ کی تنگی کا احساس تک نہ تھا ۔بس یہ سکون بچے ساتھ ہیں ۔میرے میاں نے مجھ سے محبت نہیں کی ھو گی مگر نفرت بھی نہیں کی ۔وہ مجھے بیوی سے زیادہ اپنے بچوں کی ماں سمجھتا ھے ۔پہلے میں اڑھائی مرلے کے چھوٹے سے گھر میں گھبرا گئی تھی لیکن میں نے اسے سجایا ۔تو یہ کافی بہتر لگتا تھا ۔نیچے گیراج ھے ۔دو سیڑھیاں چڑھیں تو میرا کچن ،اسے کراس کرو تو سٹنگ روم ھے اور اس کے ساتھ ہی میرا کمرا ھے جو کبھی کبھی سکون کا باعث بن جاتا ھے ۔۔
مجھے یاد ھے پہلے میں روتی تھی کہ یہ کیسا گھر ھے شروع بھی نہیں ھوتا اور ختم ھو جاتا ھے ۔اب ایسا نہیں لگتا ۔عادت بھی ھو جاتی ھے کچھ سمجھ بھی آ جاتی ھے ۔میں اگر محل میں رہتی تھی تو اس گھر میں آنے کا فیصلہ میرا تھا لہذا میں کبھی گھبرائ نہیں ۔میں جانتی ھوں اب یہ میری ذمہ داری ھے کہ عزت سے وقت گزار دوں ۔
میری نظر بیڈ سے ھوتے ھوئے الماری پر جا ٹکی لوگ الماریوں میں کپڑے رکھتے ہیں میری ایک سائیڈ پر صرف کتابیں ہیں ۔جن کو کبھی بہت پڑھا میں نے ۔اب بس تسلی کے لئے الماری کھولتی ھوں اور اس اطمینان سے بند کر دیتی ھوں یہ میری ہیں اور کسی نے لے کرنا بھی کیا ھے ۔میں نے ایک نگاہ کھڑکی سے جھانکتے چاند کو دیکھا ۔ارے تیری تانک جھانک کی عادت نہیں گئ نا ابھی تک ۔میں نے ہلکا پھلکا سا ھو کر اسکی چاندنی کو محسوس کیا تو شاید میرے سارے احساسات جاگ اٹھے ۔
میں نے آج فیصلہ کر لیا تھا آج میں خود سے ملوں گی اور ہر وہ بات یاد کروں گی جو مجھے خوشی دے ۔میں نے موڑھا گھسیٹا اور سکون سے بیٹھ گئ۔
چاند کی روشنی مجھے کہیں لے جاتی تھی شاید اس دنیا میں جہاں میرے دل نے ہر احساس کو جینا سیکھا تھا۔مجھے یاد ھے سر شام صحن میں ترکاو ھوتا ۔بستر لگا دیے جاتے پنکھے ہر طرف چلا دیئے جاتے ۔میرے بہن بھائی مجھ سے چھوٹے تھے اور مجھ سے بنتی بھی نہیں تھی مگر چارپائیاں ساتھ ساتھ ھوتی تھی تو چند گھنٹے مزے کے ھوتے تھے ۔بابا بی بی سی سن رہے ہیں ۔اماں کام کر رہی ہیں ۔نوکر بوکھلائے پھر رہے ہیں ۔یہاں تک وہ لمحہ آ جاتا ۔جب سب سو جاتے مگر میری بیداری اسی لمحے ھوتی ۔چاندنی رات اوپر سے رات کی رانی کی مہک اور دور سے بانسری کی آواز ۔۔ایسے ہی نجانے کب آنکھ لگ جاتی
کالج سے آ کر پڑھتی ضرور تھی مگر کتاب میں ناول رکھ کر ۔وہ پڑھنے کا مزہ پھر عمر بھر نہیں آیا۔۔کبھی بھی نہیں آیا ۔اچھا ہر روز بیٹھ کر ناک سلواتی تھی ۔نتھلی کا شوق تھا ۔پراندہ پہن کر پھرتی ۔میرے یہ بال گھٹاؤں جیسے ۔بس مجھ میں بڑا مسلہ تھا کہ میں خوبصورت تو تھی ہی مگر اس کا احساس بہت زیادہ تھا ۔

بالی عمر تھی پیار نہیں ھوا لڑکیوں کی تو خواب دیکھنے کی عمر ھوتی ھے مگر میں نری کوری تھی ۔یہ محبت پیار ویار کے روگ پالنا میرے بس میں نہیں تھا ۔سوچ رکھا تھا جہاں ابا چاہیں گے بیاہ دیں گے فی الحال زندگی کی بہاریں لوٹو۔
میں محبت کی سب سے بڑی منکر تھی ۔مگر مجھے محبت ھو گئ ۔کچی عمر کی تو محبت کا رنگ بڑا پکا ھوتا ھے۔
وہ اچھا لڑکا تھا ۔رنگت سانولی تھی اور نام بھی سانول تھا ۔وہ میری پھپھو کا بیٹا تھا ۔اچانک ایک روز مجھ پر خود یہ راز کھلا میں اس سے بہت محبت کرتی ھوں وگرنہ یہ کیسے ھو سکتا ھے ۔میری آنکھیں اسے دیکھنے کو بےچین ھوں ۔میری سماعتیں اس کی گھمبیر آواز ۔دھیمے لہجے کی منتظر رہتیں ۔میں اکثر پھپھو کے گھر پائی جاتی ۔وہ کبھی بیٹھا ھوتا تو دل میں کلیاں چٹکنے لگتیں۔
“ارے آ گئی تم ؟”
“پانچ فٹ چار انچ کی بندی تمہارے سامنے کھڑی ھے اور اب بھی یقین کرنا چاہ رہے کہ میں آ گئی ”
پٹاخے جیسی آواز میں جواب دیا تو وہ مسکرایا ۔
“امی ساتھ والوں کے گھر گئی ہیں تمہاری سہیلی بھی ساتھ ھے”
دوسرے لفظوں میں وہ یہ سمجھا رہا تھا اب تم بھی چلتی بنو مگر میں ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔
میں نے موڑھا گھسیٹا اور اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
ارے رے مجھے پڑھنے دو اس نے مجھے بیٹھتے دیکھ کر بےساختہ کہا
تم سکون سے پڑھو میں چپ کر کے بیٹھوں گی۔میں نے سعادت مندی سے کہا ۔اس نے کتاب پر توجہ دی تو نجانے مجھے کیوں لگا ۔یہ وہ سانول تو نہیں کچھ تو ھے جو اسے پریشان کئے ھوئے ھے ۔اب تو اس کی بانسری کی لے میں بھی ایک ہوک سی اٹھتی ھے ۔میں تو دیوانی تھی بس اسے دیکھ رہی تھی ۔اپنی آنکھوں کے صحرا میں اس کی دید نخلستان جیسی تھی ۔دل کچھ حوصلے میں تھا ۔مگر وہ میرے احساسات تھے ۔چند ہی دن بعد پھپھو نے بتایا ۔سانول کو ایک لڑکی پسند ھے ۔میرے دل پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ۔اس کی بہن نے اس لڑکی کی تصویر دکھائی تو مجھے اور حیرت کا جھٹکا لگا ۔وہ عام سی صورت کی لڑکی تھی مگر اسے سانول پسند کرتا تھا ۔وہ بڑے نصیبوں والی تھی ۔اج مدت بعد ان دنوں سے بھی مل رہی تھی ۔ہائے وہ شب و روز میرا دل تو جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا تھا ۔پھپھو نے میرے ہاتھوں سے سہرا بندھوایا تھا ۔سہرا باندھتے ھوئے میں نے سانول سے کہا
“ایسی بہادر لڑکی بھی تم نے نہیں دیکھی ھو گی جو اپنے محبوب کو سجائے ،بنائے اور کسی اور کے حوالے کر دے ۔”
سانول نے نظریں نہیں اٹھائیں ۔وہ میرے جذبات سے ناواقف تو نہیں تھا ۔مگر اس کا دل کسی کو چاہے تو وہ کیا کرتا ۔
اس کی شادی والے دن مجھ میں تو جان نہیں تھی” ۔اماں میں بارات کے ساتھ نہیں جا سکتی”
شاید میری ہمت یہیں تک تھی ۔اماں نے کچھ دیر میری جانب دیکھا ان کے چہرے پر کرب تھا۔وہ بولے بنا ہی باہر چلی گئیں۔
میں آنکھیں موندے لیٹی تھی جب سانول کی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔
تم نہیں جاؤ گی ساتھ ؟
نہیں
کیوں سسی ؟
سسی کو صحرا کے سپرد کر کے پوچھتے ھو کیوں ۔میں اٹھی اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے۔
یہ ہاتھ کسی اور کا لمس محسوس کرنے سے پہلے میرا لمس محسوس کریں گے سانول۔
یہ لو ۔میں نے اپنے لب اس کی آنکھوں پر رکھ دیے ۔یہ لو تمہارے سینے کی دھڑکنیں میں نے سنیں ۔میں روتے ھوئے دیوانہ وار اسے پیار کر رہی تھی ۔وہ بچھڑ رہا تھا مجھ سے ۔پرایا ھو رہا تھا ۔سانول کی کیفیت دیکھنے والی تھی ۔وہ میرے آنسو صاف کر رہا تھا ۔
مجھے معاف کر دو سسی ۔اس کی آواز میں نمی سی تھی یا مجھے لگا بہرحال وہ ٹھہرا نہیں ۔میں اسکو دیکھتی رہی اس وقت تک جب تک وہ مجھے نظر آتا رہا ۔

یہ محبت بھی عجیب شے ھے ۔وچھوڑے دیتی ھے ۔اداسی دیتی ھے ۔آنسو دیتی ھے ۔ہجر عطا کرتی ھے پھر مرنے بھی نہیں دیتی ۔
میں نے کالج کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو بھی میں بہت ٹوٹی ھوئی تھی ۔وہاں وہاب مل گیا جس نے مجھے سمیٹ لیا ۔سچ تو یہ ھے صدمہ انسان کو آدھ مرا کر دیتا ھے ۔اس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور میں نے تھام لیا۔
بیس سال سے میں جس شخص کے ساتھ تھی وہ میرا شوہر ھے ۔اب تو یہ عالم ھے گزشتہ سات سالوں سے دو اجنبی ایک چھت تلے رہ رہے ہیں ۔وہ میرے بچوں کا باپ اور میں اس کے بچوں کی ماں ساتھ رہنے کے لئے کبھی کبھی اسطرح بھی رہنا پڑتا ھے۔یہ سمجھوتہ بھی کچھ ایسا برا نہیں ھے مگر میں کھو گئ تھی ۔آج خود سے ملاقات کی تو چند باتیں یاد آ سکیں ۔وقت کے بےرحم لمحات نے مجھے بس اتنا ہی خود سے ملنے دیا ۔ ورنہ میری ذات کی کئ پرتیں تو ایسی ہیں جو ابھی کھولی ہی نہیں میں نے ۔مگر ایک بات ضرور بتاؤں گی
اس رشتے پر سانول آیا تھا میرے پاس۔
میرے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی تھی ۔میں نے اس کے چہرے پر ملال کے سائے دیکھے ۔
“بدلہ لینے کا یہ کون سا طریقہ ھے یہی ملا تھا تمہیں “۔
یہ سوال تو میں بھی کر سکتی تھی تم سے تب۔
میں شہوار سے پیار کرتا تھا۔
میں بھی وہاب سے عشق کرتی ھوں ۔میں نے اس کی آنکھوں میں حیرت اور چہرے پر وہ غرور ٹوٹتے دیکھا جو اسے میری محبت پر تھا یہ بھی بڑا غرور ھوتا ھے کہ ہم کسی کے محبوب ہیں ۔وہ اب میرا محبوب نہیں رہا تھا اس کی جگہ وہاب نے لے لی تھی حالانکہ ایسا کچھ نہ تھا ۔سانول کے بعد تو محبت کا سارا باغ ہی جل گیا تھا ۔مگر اس کے چہرے پر شکست کے تاثرات دیکھ کر میں پرسکون ھو گئی تھی
وہ چاندنی راتیں بانسری کی لے ،سکھیاں اور میری نٹ کھٹ سی جوانی ان سب سے مل کر دل بہت خوش ھوا بس سانول کی یاد نے اداس سا کر دیا تھا ۔
میں نے پردوں کو برابر کیا اور بچوں کو آواز دی۔ وہاب بھی آنے والے ھوں گے ۔میں سحری بنانے چلی گئی ۔کبھی کبھی ماضی کرید لینا چاہیے ۔اپنے آپ سے ملاقات کرنا کچھ ایسا برا بھی نہیں بلکہ حال کی تلخیاں کچھ کم ھو جاتی ہیں۔

 

You might also like
  1. yousaf khalid says

    واہ واہ بہت عمدہ محبت کی متنوع کیفیات سے بنی کہانی جس میں تمام چاہت اور مجبوری کے تمام رنگ اور ذائقے گھل مل گئے ہیں – احساسات کی تہہ داری اور جذبے کی شدت سے لبریز ایک انتہائی رومان انگیز روداد– افسانہ نما حقیقت ہے یا حقیقت نما افسانہ کچھ کہنا مشکل ہے

  2. گمنام says

    بہت عمدہ

  3. گمنام says

    شکریہ

  4. گمنام says

    شکریہ سر

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post