اپاہج :فریدہ غلام محمد

“اماں شیشے کی الماری میں رکھی کتابوں پر بھی کپڑا مارنا نجانے دھول اندر کہاں سے گھس جاتی ھے ”
فریدہ نے جاتے جاتے اسے تاکید کی ۔وہ جانتی تھی یہ دھول تو شاید عرصہ دراز سے کتابیں بند رہنے سے پڑی ھے مگر کام کرتی تھیں ۔زبان سے کیا کہتیں ۔
آج پھر نام نہاد دانشور آئیں گے ۔بےمقصد گفتگو ھو گی ۔جام سے جام ٹکرائے گا ۔رات گئے محفل اختتام کو پہنچے گی ۔وہ خاموشی سے کتابیں صاف کرنے لگیں ۔
“توبہ ھے اس کی صورت دیکھیں یا سفید چمکتے لشکتے پاؤں ”
اس روز وہ سینڈل پہن کر آگئی تھی ۔سارا اسکول تو جیسے نظریں پیروں پر گاڑے بیٹھا تھا ۔
گھر آ کر اس نے مزے سے یہ بات بہن کو بتائی تو وہ ہنسنے لگی۔
“ان کو یہ تو نہیں پتہ نا کہ دنیا کا ہر لوشن ،کریم چہرے کی بجائے پیروں پر لگاتی ھو نجانے کیا خبط ھے تجھے ”
“ایک ہی تو شوق ھے اسے اور سچ تو یہی ھے میری بیٹی ھے ہی خوبصورت ”
“اماں نے بیچ میں لقمہ دیا ۔ماں کومل کی دفعہ کیا کھایا تھا جو میری باری بھول گیئں ”
بڑی بیٹی خفا ھوئ تو وہ اسے منانے لگیں۔

اماں ذرا کچن میں دیکھ لیجیے گا یہ سب ہیں تو نکمے ۔ہر کھانا ذائقہ دار ھونا چاہیے
“جی بہتر”
کریم پریشان کھڑا تھا اماں کے پوچھنے پر بتایا چکن تھوڑا سا لگ گیا ھے البتہ بریانی ،کوفتے اور کریلے گوشت ایک دم زبردست بنے ہیں ۔اماں نے اس کی بات سنی اور جلدی سے آدھا کپ دودھ لے کر سالن میں ڈالا۔کریم تو صدمے کے مارے بول ہی نہ سکا ۔کچھ دیر بھون کر اماں نے ذائقہ چکھنے کو کہا تو اب بھی صرف بےہوش نہیں ھوا ۔سالن باکل ٹھیک ھو چکا تھا ۔اب وہ بھنڈی فرائی کرنے لگا ۔اماں نے باہر آ کر ڈرائنگ روم پر ایک نظر ڈالی اور پھر سرونٹ کوارٹر کی طرف چلی گئیں ۔دور سے زرد سا بلب چھوٹے سے برآمدے میں ہلکی سی روشنی کر رہا تھا ۔سارا دن کے بعد یہ گوشہِ سکون تھا اس کے لئے ۔

تیز بارش اور ٹھندی ھوا درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ اور پانی کا جلترنگ ۔۔وہ مست تھی لب گنگنا رہے تھے ۔
“یہ الھٹر مٹیار کن خیالوں میں گم ھے” ؟زینی اس کے سامنے چائے کا مگ رکھ کر بولی

زینی وہ کہتا ھے میری آنکھیں سمندر ہیں اور کبھی کہتا ھے ان میں ڈوب کر وہ کہیں کا نہیں رہے گا ۔پتہ ھے اسے میرا کاجل لگانا بہت پسند ھے ”
چائے پیو

“پہلے ساری بات سنو پھر چائے ”

نروٹھی سی آواز میں بولی تو زینی اس کو چپ چاپ سننے لگی ۔
“وہ کہتا ھے میرا بدن پوری ایک کتاب ھے ۔میرا انگ انگ اس کتاب میں لکھا اقتباس ۔میں جب چلتی ھوں تو میری چال پر وہ غزل لکھ سکتا ھے ۔ میں خوشبو بھی ھوں اور پھول بھی ۔ایسا پھول جس ہاتھ لگانے کو جی بھی چاہے اور لگا بھی نہ سکے ۔اتنا نازک ھے کہ پتیاں بکھر نہ جائیں
وہ کہتا ھے میں شکنجبین کی طرح ھوں تھوڑی میٹھی تھوڑی نمکین “وہ آنکھیں بند کیے اسے بتا رہی تھی اور زینی صرف اس کے گلابی ہونٹوں سے ادا ھوتے لفظ سن رہی تھی ۔
نجانے یہ پیار کیسے ھو گیا اس کو ۔
’’اچھا اب چائے پیو ”
زینی اتنا سرد لہجہ کیوں ؟
تمہارا وہم ھے ۔وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی مگر وہ کیا کرتی پہلی پہلی محبت کا خمار شاید ھوتا ہی کچھ ایسا ھے ۔
اسے تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا اماں اور زینی سر جوڑے کیا باتیں کرتی ہیں ۔۔

’’اماں کھانا کھا لیں “۔ کریم کھانا لایا تھا شاید
برآمدے میں رکھ دو لیتی ھوں ۔انھوں نے جاءنماز لپیٹتے ھوئے کہا ۔

بیٹے کے کہنے پر وہ کومل کے گھر آ تو گئے تھے
گھر صاف ستھرا تھا ۔مگر وہ اسما بیگم کو دیکھ کر ششدر رہ گئے تھے ۔
“اسما بیگم تو کومل آپ کی بیٹی ھے ”
جی نواب صاحب
“یہ اماں مجرموں کی طرح سر جھکا کر کیوں جواب دے رہی ہیں ”
“گھر آپکا بس تو گیا پھر کیا ھوا شوہر کے جاتے ہی سسرال نے بےدخل کر دیا ۔” ان کی بات پر وہ چپ رہیں تو وہ مزید بولے

“اسفند میرا ایک ہی بیٹا ھے اور مجھے بہت پیارا بھی ۔میں اس کی شادی آپ کی بیٹی سے نہیں کر سکتا” ۔انھوں نے اسفند کے اڑتے ھوئے رنگ کو ایک نظر دیکھا ۔
کیوں بابا جان ؟
“جو عورتیں ہماری تقریبات میں گانے بجانے آئیں ان کی بیٹیاں ہمارے گھر کی عزت نہیں بن سکتیں ”
کیا کہہ رہے آپ؟ اسفند کے چہرے پر سوال ہی سوال تھے ۔
میں بتاتی ھوں وہ سامنے آ گئی ۔

یہ لڑکی مجھ سے چھن جائے گی ۔اسفند کے چہرے پر بےبسی تھی ۔
میں بتاتی ھوں میری ماں شریف خاندان سے ہیں ۔مگر میرے نانا وائلن بجایا کرتے تھے ۔اماں کو اکثر دھنیں سنواتے ۔۔۔۔۔۔ایک فلمساز کو آواز اچھی لگی تو انھوں نے ان سے گیت گوائے۔
اسی دوران میرے ابا کو یہ پسند آ گئیں ۔انھوں نے شادی کر لی ۔سارا خاندان ان کے خلاف تھا مگر وہ میری ماں کو گھر لے گئے ۔میری ماں پاک تھی ۔کیا گناہ تھا ان کا ؟”
بول بول کر آواز پھٹ گئی تھی ۔
بابا ۔۔۔۔۔اسفند نے بڑے مان سے انھیں پکارا
’’بیٹے میں اس رشتے کے حق میں ھو بھی جاؤں تو بھی کچھ نہیں ھو گا باقی تم سوچ لو ۔”وہ باہر جانے کے لئے مڑے ۔
اسفند ان کے ساتھ چلا ۔
وہ رو رہی تھی ۔اس کا ماضی ،اس کا حال تلخ بنا رہا تھا ۔اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کبھی ھو گا وہ بہت چھوٹی تھی جب ابا چلے گئے۔ اماں نانا کے گھر آ گئیں ۔یہاں سلائ اسکول بنا لیا بڑی خاموشی سے دونوں کو پڑھایا۔
وہ انسانوں کو بس انسان ہی مانتی تھی اب اگر اماں نے گایا تو یہ ان کا فن تھا ۔تب سب ان کو سراہتے تھے ۔
آج ان کا فن ایک بار پھر باعث تحقیر بن گیا تھا ۔
یار اس خاتون کا پتہ نہ چلا یا تو چالو عورت ھے ۔جسم کی لذت دے کر کسی سے لکھواتی ھے یہ کیسے ممکن ھے تشہیر کے بغیر کتاب بک رہی ھو اب تو کتابوں کا زمانہ بھی نہیں ھے ۔
یہ طویل تبصرہ مسڑ شمس الدین کا تھا ۔
کیا نام ھے اس کتاب کا؟ مالک بولے
اپاہج
کس کو اپاہج کہا گیا ھے اس میں؟
کہیں محبوب تو اپاہج نہیں ھو گیا اس کا؟
نہیں لکھتی ھے یہ معاشرتی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا ھے ۔اندر سے کھوکھلا اور اپاہج ۔اپاہج معاشرے سے آپ امید بھی کیا کر سکتے ہیں ۔یہ جو کوٹھے پر ناچنے والیاں ہیں ۔اسی اپاہج معاشرے کے منافق اور مکروہ لوگوں کی بیٹیاں ہیں ۔اگر یہ صاف ستھرے ھوتے ،ذہنی پستی کا شکار نہ ھوتے ۔اپاہج سوچ کے حامل نہ ھوتے تو یہ بھی شریف گھر کی مائیں بیٹیاں ھوتیں ۔
غوری صاحب نے من و عن پڑھ کر سنا دیا۔
اماں باہر جا رہی ہیں کومل “زینی نے اسے جھنجھوڑا ۔
دونوں باہر بھاگیں مگر اماں کو بچاتے زینی بھی ٹرک کے نیچے آ گئی ۔
ایک قیامت تھی جو اس پر گزر گئ ۔وہ تنہا جی نہیں سکتی تھی ۔اسفند اسے اپنا نہیں سکتا تھا ۔
اس نے خاموشی سے شہر چھوڑ دیا
رشتے میں اس کے ماموں تھے ۔بےاولاد تھے ۔
وہیں زندگی گزرنے لگی ۔اسکول میں نوکری مل گئی ۔کچھ لکھنے لکھانے کا شوق تھا وقت کسی کو بےآسرا نہیں چھوڑتا ۔آخر ایک اسکول ٹیچر سے اس کی شادی ھو گئی ۔سادہ سے لوگ تھے ۔بچے نہیں ھوئے ۔ماں زینی اسفند تینوں اس کی یادوں میں چراغ بن کر چلتے رہے ۔
شوہر موت سے پہلے آفندی صاحب کے گھر چھوڑ گئے ۔ساری عمر ان کے بچوں کو پڑھایا تھا ۔شوہر کی وفات کے بعد وہ ان کے سرونٹ کوارٹر منتقل ھو گئیں ۔تب سے اب تک یہیں تھی وہ ۔
ان کی باتیں سن کر ایک بار جی چاہا کہ جا کر کچھ کہے مگر وہ کیا جا کر ان کو بتاتی کہ راتوں کو جاگ کر وہ لکھتی ھے ۔اگر یہ بھی نہ کرے تو دم گھٹ جائے گا ۔
وہ جسم نہیں بیچتی وہ تو اپنے ٹوٹے خواب لکھتی ھے اور جب دکھوں کی مالا پروتی ھےاور کاغذ پراشکوں کے نشان یہ بتاتے ہیں وہ تو دکھ کاڑھتی ھے ان پر اور پھر ان کاغذوں کوخاموشی سے چھپوا دیتی ھے بس کسی بھلے مانس نے اس کی یہ تین کتابیں چھپوا دیں ۔وہ سامنے نہیں آنا چاہتی تھی ۔تو سارا ذمہ اس نے لیا
وہ کوئی اور نہیں اسفند تھا ۔مگر وہ ان سب کو کیا سمجھاتی ۔اپاہج معاشرے میں رہنے والے اپاہج لوگ ۔اسفند اور اسکی پاک محبت سمجھ نہ پاتے ۔وہ سمجھ نہ پاتے اس محبت کو جو ازل سے ہندو وصال کی زنجیروں سے آزاد ھے اور بڑی معتبر ھے۔
وہ خاموشی سے واپس آ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔مگر آنسووں نے نیند سے بغاوت کر دی تھی ۔جب تک زندگی تھی اسے ،اسی اپاہج معاشرے میں جینا تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post