احساس : فریدہ غلام محمد

پیاری ایمن
بہت پیار
مجھے پتہ ھے تم مجھے خط نہیں لکھو گی ۔تم ایک صاحب عزت انسان کی بیوی ھو اور میں کیا ھوں ،ہر طرف سے ٹھکرائی ھوئی لڑکی۔ بلکہ تیس کی تو ھو گئی ھوں اب لڑکی بھی کہاں نجانے کیوں مجھے وہ سہ پہر یاد آ رہی ھے جب ہم دونوں تمہارے گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھے دور مدھم ھوتے سورج کو دیکھ رہے تھے ۔تمہارا گھر تو چھوٹی سی پہاڑی پر ہی تھا ۔سامنے کافی اترائی پر سڑک پر گاڑیاں آ جا رہی تھیں ۔ان کی لائیٹیں مجھے بہت پرکشش لگ رہی تھیں ۔میں مسلسل وہ منظر دیکھ رہی تھی ۔اونچے اونچے چیڑ اور صنوبر کے درخت ،ڈوبتا سورج ،خنک ھوائیں نجانے مجھ میں مناظر کو یادوں میں تبدیل کرنے کا شوق تھا یا میں اذیت پسند تھی۔کبھی کوئ تصویر کھینچی نہیں بس دل میں اس کا عکس رکھ لیا ۔میرا دل بھی ایک آرٹ گیلری کی مانند ہی تھا جس میں ہر رنگ کی تصویر تھی ۔کہیں آنسووں سے بھری آنکھیں ،کہیں ہنستے چہرے،کہیں فطرت کے حسین مناظر اور کہیں اداس کر دینے والے واقعات کے رنگ ۔کچھ مانوس آوازیں ،کچھ محرومیاں ،کچھ نارسائی کا دکھ ہاں سب کچھ میرے دل میں مدفن تھا تب بھی اور آج بھی ۔
ایمن تجھے سب یاد ھے نا ؟ تم تو اس شام بھی جانتی تھی میں اداس کیوں ھوں مگر تم جان بوجھ کر اس بارے مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔مگر تمہیں معلوم نہیں میں سب جانتی تھی ۔میں نے تمہارا ہاتھ اس لیے نہیں تھام رکھا تھا کہ میں ڈر رہی تھی۔وہ ہاتھ جس نے تھامنا تھا اس سے پہلے میں تمہارے ہاتھ پکڑے سوچ رہی تھی کہ میں اپنے ہاتھوں میں اس کے ساتھ کی لکیر ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ تو تمہارے ہاتھ میں تھی ۔خیر
گر ذرا سی بھی محبت باقی ھے تو مجھے خط لکھو ۔میں انتظار کروں گی کیونکہ میں بہت اکیلی ھوں ۔بہت تنہا ۔بظاہر چہکتی مگر اندر ایک سناٹا ھے تم نے ہرے بھرے جنگل دیکھے ھوں گے جونہی ان کے اندر جاؤ تو صرف وحشت ۔اب لکھ نہیں پا رہی ۔
تمہاری زوبی۔

میری پیاری
میں جانتی تھی تم اس کا جواب نہیں دو گی مگر میں پھر بھی تم سے رابطہ رکھوں گی یکطرفہ ہی سہی ۔آخری خط میں تمہارے شوہر نے بھی مجھے یہی لکھا تھا “مجھے بھول جاو” کتنا عجیب ھے یہ ولی بھی بھلا اس نے کہا اور میں نے مان لیا ۔اگر بھولنا بس میں ھوتا تو میں کب کی بھول چکی ھوتی ۔یاد رہے وہ میرا محبوب پہلے اور تمہارا شوہر بعد میں ھے ۔میں اتنی اچھی نہیں ھوں کہ اسے تمہارے لئے چھوڑ دیتی ۔وہ میرا من موہنا سجن تھا ۔میں تو اس کے ہاتھ کو تھام کر لکیریں دیکھا کرتی شاید کوئ ایسی لکیر ھو جو ہمیں ملا دے ۔ظالم کے ہاتھ میں ایسی کوئ لکیر تھی ہی نہیں۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی میں اسے کہیں جانے ہی نہ دیتی مگر وہ بدل گیا تھا ۔میرا سوہنا ماہی کا دل بدل گیا تھا ۔اب تم ہی کہو جو خود جانا چاہے اسے کون روک سکتا ھے ۔محبت تھی اور محبت میں یہ شرط نہیں تھی کہ وہ بھی دیوانہ ھو جائے ۔

میرا اپنے تئیں کوئی ارادہ نہیں ھے کہ تمہارا دل دکھاؤں لیکن کیا کروں دل کی باتیں تم سے ہی کر سکتی ھوں ۔
اس کا خیال تو رکھتی ھو گی۔ اس کو ساگ اور چاول کی روٹی بہت پسند ھے پتہ نہیں تم ساگ کو تڑکا زیرے اور ادرک سے لگاتی ھو گی یا نہیں ؟وہ چپ کر کے کھا لے گا کہے گا نہیں
اسے نیلا رنگ بہت پسند ھے پہنا کرو اس کو لگتا ھے اس کو پہنا دیکھ کر آنکھوں کو سکون ملتا ھے ۔انسان کسی اور ہی جہان میں مست ھو جاتا ھے ۔چائے میں شکر ڈالتا ھے اور دودھ میں چینی ۔یہ ہر بار لکھتی ھوں اب تو تمہیں ازبر ھو چکی ھوں گی میری باتیں۔
اس کا بہت خیال رکھنا
زوبی
پیاری سہیلی
جواب نہ دینے کی قسم کھا رکھی ھے کیا ؟اچھا میں برا نہیں مناتی ۔دل تھوڑا نہیں کرتی دل تو بس ایک دن ہی ڈوبا تھا جس دن تمہاری شادی تھی ۔ارے میرا محبوب ،میرا سوہنا کسی اور کا ہاتھ تھامنے والا تھا ۔اس روز قیامت تھی جو مجھ پر گزر رہی تھی ۔میں بیٹھ سکتی تھی نہ چل پا رہی تھی ۔دل کی دھڑکن بہت مدھم تھی۔ یہاں تک رات ھو گئی۔
میں نے گھبرا کر آنکھیں بند کیں ۔اف میں جی کر کیا کروں ۔اس نے کمرے میں قدم رکھا ۔تم میری جگہ بیٹھی تھی ۔اس کے نام کی مہندی سے دہکتے ہاتھ ۔۔اس نے ان ہاتھوں کو تھام لیا
میں تڑپ اٹھی ۔وہ ہاتھ جو میرے ہاتھوں میں رہتے تھے وہ کسی اور کے ہاتھ تھامے ہیں
میں یخ بستہ ہوا میں باہر نکل آئی ۔اس نے تمہارا گھونگھٹ اٹھایا ۔وہ آنکھیں جو مجھے دیکھتی تھیں جب اصل وقت آیا تو وہ تم کو دیکھ رہی تھیں ۔
اس سے آگے سوچتی بھی کیا ۔ جاڑے کی رات میں بھی پسینہ آ رہا تھا ۔دل کی دھڑکن چل تو رہی تھی مگر میں مر گئ تھی۔ ولی میرا نہیں رہا تھا ۔
میں دنیا میں ہی تھی مگر حاضر نہیں تھی ۔اب میں رب سے کچھ بھی نہیں مانگتی ۔ ولی کو مانگا تھا وہ نہیں ملا ۔کرب نارسائی کیا ھوتا ھے تم کیسے جان سکتی ھو تم تو میرے محبوب کی ہمسفر ھو۔
مگر ایک بات تم نہیں جانتی اور میں بتاؤں گی بھی نہیں ۔ہاں خط کا جواب آیا تو پھر بتا دوں گی
زوبی۔

ایمن
تم طے کر چکی ھو کہ جواب نہیں دو گی ،نہ دو تم ولی کی بیوی ھو مگر میری دوست بھی ھو۔کبھی کبھی جب برسات ھوتی ھے تو میں دریچے سے لگ کر برستی بوندوں کو تکتی رہتی ھوں ۔بجلی کے قمقموں پر جب بارش کی بوندیں گرتی ہیں تو اس وقت عجب منظر ھوتا ھے ۔یاد ھے نا ولی مجھے ایسے ہی برستے ساون میں ملا تھا پھر یہ موسم میں کیسے بھول سکتی ھوں ۔میں تو اس کی بےوفائ بھی نہیں بھولی ۔جون کی گرمی میں صحن میں چکر کاٹتی رہتی تھی ۔پتہ نہیں گرمی نہیں لگتی تھی ۔شاید میری ہر حس دم توڑ گئی تھی ۔ایسے میں پاگلوں کی طرح کا نمبر ڈائل کرنا مگر جواب ندارد ۔اور آخری مہربانی تم نے شادی کا کارڈ بھیج کر کی۔میں جھلی ھو گئی تھی ۔کارڈ میں ولی کے ساتھ اپنا نام دیکھنے کی چاہ نے مجھے دیوانہ کر دیا تھا۔ میں رو رہی تھی ۔میری ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔میں سدھ بدھ کھو بیٹھی تھی ۔میں آئینہ دیکھتی یار مجھ میں کیا کمی تھی ۔میں دودھ کی طرح سفید تھی ۔سیاہ مدھ بھری بڑی بڑی آنکھیں ،سیاہ لانبے بال مخروطی انگلیاں ،نرم گلابی ہونٹ اور پورا وجود ہی خوبصورت تھا مگر کیا کروں نصیب حسن نہیں دیکھتا ،عام شکل و صورت والی بلند بخت ھوتی ہیں جیسے کے تم ۔وہ بات جو میں تمہیں بتانا چاہتی تھی وہ کوئی خاص نہیں ھے تمہاری طرح میری بھی شادی ھو رہی ھے ۔آج کے بعد میں کبھی خط نہیں لکھوں گی مگر ایک خواہش ھے کہ شادی کا کارڈ بھیجوں اور میں ایسا کروں گی ۔ولی کو ضرور دکھانا

زوبی۔
دس سال بعد
“سنیں آپ اور بچے ابھی سفر نہ کریں ۔کافی تیز برسات ھے ۔پہاڑی راستے کا سفر آسان نہیں ایسے میں ۔ارے میری فکر نہ کریں میں رات کاٹ لوں گی کم از کم سولی پر نہیں لٹک سکتی” ۔ادھر سے تسلی بخش جواب کے بعد اس نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔
سب سے پہلے اس نے اٹھ کر سب کمروں کی کھڑکیاں بند کیں ۔پردے آگے کئے ۔اس کے بعد اپنے کمرے کی طرف جا ہی رہی تھی کہ گیٹ بجا ۔ اس وقت کون ھو سکتا ھے ۔خود سے ہی سوچتی وہ چھتری لے کر باہر آئ ۔”زوبی گیٹ کھولو ” آواز اسی کی تھی
کون ھے؟اس نے پوچھا
ولید
اس نے ایک لمحہ لگائے بغیر دروازہ کھول دیا۔
سامنے ولی تھا ۔ اسے یاد نہیں کتنی دیر وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔وہ ولید تھا جس کے بغیر سانس لینا بھی محال تھا ۔مگر وقت بدل گیا تھا ۔حالات وہ نہیں تھے اور جذبات پتہ نہیں بس ایک کمزور لمحہ آیا اور گزر گیا۔
“خیر ھے آج راستہ بھول گئے کیا “؟اس نے سکوت توڑا
دراصل یہاں سے گزر رہا تھا بارش نے آ گھیرا ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تو بس یہاں آ گیا ۔
وہ شرمندہ سا ھو کر بولا۔
اس نے ساتھ آنے کا اشارہ کیا مگر ذہن الجھ گیا تھا ۔ہائے اللہ جی راستے کھل جائیں حیدر اور بچے بھی تو پھنسے ھوئے ہیں ۔اسنے خود سے کہا وہ جانتی تھی وہ اس کی بات سن چکا ھے ۔وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ڈرائنگ روم میں داخل ھوئے۔ ۔ اسے بٹھایا ۔آتش دان روشن کیا اور پھر جلدی سے چائے لے آئی ۔
شکر نہیں ڈالی ؟اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا۔
“اوہ سوری مجھے یاد نہیں تھا “بےنیازی سے کہا
کوئی بات نہیں یہ بھی اچھی ھے ”
وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی ۔
“زوبی کیا بات ھے دس سال بعد میں سامنے ھوں اور تم نے حال تک نہیں پوچھا ”
لہجے میں شکوہ در آیا تھا ۔
“وہ دراصل حیدر اور بچے بھی کہیں راستے میں ٹھہرے ہیں ۔اسی لئے شاید پریشان ھوں”
اس نے ایک نظر اسے دیکھا ۔وہ ولی تھا جس کے ساتھ رہنے کے خواب دیکھے تھے اس نے مگر جب سامنے آیا تو اسے یہ بھی یاد نہ رہا وہ یہی پوچھ لے اس نے محبت کی تھی تو پھر بدل کیوں گیا ۔یہ سوال وہ تھا جس کے لئے وہ صرف ایک بار ولی سے مل کر پوچھنا چاہتی تھی لیکن اب وہ سامنے تھا تو وہ بےنیاز سی تھی ۔
میں نے تمہیں ہر پل یاد کیا ھے اس وقت تو پتہ نہیں چلا لیکن جوں جوں وقت گزرا تمہاری محبت ناسور بن گئ میرے لئے ۔میں نے ماں کی پسند کو اپنایا شاید وہ تم سے خوفزدہ تھیں میری وارفتگی دیکھ کر وہ سوچتی رہیں تم ان سے ان کا بیٹا چھین لو گی
وہ چپ ھو گیا ۔وہ اسے دیکھ رہی تھی مگر چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔
یہ نصیب کی باتیں ہیں میرا خیال ھے اب ان باتوں کا وقت گزر چکا ۔آپ چائے پیئں پلیز
اس نے بات ہی ختم کر دی۔
زوبی تم ایسی تو نہ تھی ”
“تم نے سہاگ رات منائی تھی” ؟وہ اچانک بولی
“یہ کیسا سوال ھے؟
لہجے میں برہمی تھی
سوال تو ھے بتاو؟”
“شادی ھو گئی تھی میری ”
“بچے بھی ہیں ؟”
ہاں اس کی نظریں جھک گئیں
جب ہم کسی کے ھو جاتے ہیں نا تو پوری ایمانداری سے ھونا چاہیے ۔
“مجھے اب حیدر کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اس نے مجھ سے شادی کی ،پیار دیا،عزت دی۔مجھے اور کیا چاہیے بولو ”
“تم کیا سوچ کر آئے ھو مجھے تو تمہیں دیکھ کر کچھ بھی محسوس نہیں ھوا اب سکون سے واپس جاؤ اور اپنی زندگی گزارو ”
ولی کی آنکھوں میں دھند سی چھا گئی اس نے وہ خط خود پڑے تھے جو وہ ایمن کو لکھتی تھی ۔
ارے کیا صبح تک پہنچ جائیں گے ۔چلو ٹھیک ھے ۔۔”
لہجے کی بشاشت بتا رہی تھی وہ حیدر سے بات کر رہی ھے اور جب آئی تو وہ اٹھ کھڑا ھوا
میں چلتا ھوں ”
ہاں بارش بھی تھم چکی ھے یہ کہہ کر اس نے اسے روکا نہیں ۔گیٹ بند کر کے وہ اندر آ گئی ۔چائے کا کہ اٹھایا تو حیدر کا جملہ کانوں میں گونجا ۔”اپنی ماں کو دیکھو شکر والی چائے پیتی ھے نری پینڈو”اس نے کپ اپنی الماری میں رکھ دیا اور دراز سے کچھ لفافے اور کاغذ رکھے تھے ۔اس نے کاغذ لے لیا اور لکھنے لگی
ایمن
آج ولی آیا تھا شاید راستے بند تھے تو دوگھڑی ٹھہرا ۔میں حیران ھوں اسے دیکھ کر میری محبت تو کیا شناسائی بھی نہیں جاگی۔تمہیں اپنا شوہر مبارک ھو ۔ ۔ حیدر نہیں تھے تو وہ بھی نہیں رکا ۔ وہ صرف تمہارا اور بچوں کا ذکر کرتا رہا ۔ مجھے دیکھو کتنی خوش ھوں ۔یہ موسمی محبتیں مر بھی جاتی ہیں ایمن اسی لئے تو وہ محبت کی سچی کہانیاں اب جنم نہیں لیتیں ۔سب وہم ھے ۔ اور اب وہ کبھی میرا نام نہیں لے گا ۔میں نے سارا ولی تمہیں لوٹا دیا ایمن
ہمیشہ خوش رہو
زوبیہ حیدر
اس نے خط لفافے میں ڈالا اور دراز میں رکھ دیا ۔
تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گے ولی میں ذرا سا بھی ظاہر نہیں کر سکتی تھی اگر ایک بار تم کو جی بھر کر دیکھتی تو میری ساری تپسیا خاک میں مل جاتی ۔حیدر آج تک اس کو نہیں بھولا جس کو وہ پیار کرتے تھے مجھ پر کیا گزرتی ھے نہ پوچھو میں احساس ندامت میں گھر جاتی ھوں نجانے ایمن پر کیا گزرتی ھو گی جب میں اسے خط لکھتی تھی ۔ہم سب کو اپنے اپنے مقدر سے کبھی ہار مان لینی چاہیے ۔میرے خط تو پڑھے تم نے مگر اپنی بیوی کے نہیں ۔اس نے ہر بار کہا میرا شوہر میرا نہیں ۔شادی کے ایک سال بعد وہ مجھے قبول کر سکا مگر وہ آج بھی اجنبی ھے ۔میں اسے کیا کہتی لیکن جب حیدر کو تڑپتے دیکھا کسی اور کے لئے تو میری جو حالت ھوئی ۔تب احساس ھوا کہ وہ کیا محسوس کرتی ھو گی .میں نے فیصلہ کیا تھا جب بھی تم ملو گے تو کچھ ایسا کروں گی کہ تم واپس چلے جاؤ گے ۔۔میں کیا بتاتی ۔محبت مرتی نہیں ۔محبت راکھ نہیں ھوتی ،محبت آگ ھوتی ھے لیکن اندر ہی اندر جھلسا دیتی ھے ۔یہ ایسا الاؤ ھے جو دہکتا رہتا ھے تمہارے اندر جو ناسور بن گئ ھے وہ میرے اندر بھی گھاؤ بن گئ ھے مگر درد ہمیشہ کا ھو تو وہ درد نہیں رہتا زندگی کا حصہ بن جاتا ھے ۔وہ اس کے جانے بعد اسی سے باتیں کرتی رہی اوراس کے آنسو بہتے رہے اور باہر بارش بھی برس رہی تھی۔بس ایک احساس دیا بن کر جلتا رہا جس سے وہ پہلے آشنا نہ تھی ۔ایمن اور اس کی محرومی ایک ہی تھی ۔اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی مگر ایمن کے گھر میں قدرے سکون اترتا دیکھ رہی تھی ۔یہ احساس بھی اس کے جینے کے لئے بہت تھا۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post