آئینہ : تابندہ سراج

  • اس کے ریشمی لمبے سنہری بال ہوا میں تیر رہے تھے۔ نیلی آنکھوں کی چمک پورے منظر کو جگمگائے ہوئے تھی۔سرخ و سفید رنگت ،چہرے کی لو مزید بڑھا رہی تھی۔اس کی معصوم مسکراہٹ نے درختوں میں اجالا کررکھا تھا۔ہری گھاس پر بھاگتے ہوئے اس کا دوپٹہ ہوا سے کھلکھلا رہا تھا۔اچانک اس کے نرم و نازک پیروں پر کوئی نوکیلی چیز چبھی اور وہ سیدھی زمین پر آ گری۔۔۔ایک سسکی اور آہ سے آنکھیں موند لیں۔ آنکھ کھلی تو وہ اپنے اندھیرے کمرے کے ویران بستر پر تھی۔۔۔ پہلے تو یہ خواب اسے کبھی کبھار آتا مگر آج کل تواتر سے تنگ کررہا تھا۔ حسب معمول وہ اٹھی اور آئینے کے سامنے جا بیٹھی۔ اس کے سنہرے بالوں میں چاندی اتر آئی تھی۔ آنکھیں ابھی بھی نیلی ہی تھیں ، بس شکنوں اور حلقوں میں گھر گئیں۔ کچھ جھریوں نے چہرے اور ہاتھوں کو بدل کر رکھ دیا اور ہنسی تو اب آتی ہی نہیں، محض طنزیہ تبسم۔۔

آئینے میں جھانکتے ہوئے وہ کالج کے دنوں میں جا پہنچی۔ جب اس کے حسن کا کلمہ ہر لڑکی کی زبان پر تھا۔
“یہ تو پری ہے۔۔اس کے لیے تو کوئی شہزادہ ہی ہونا چاہیے”
” سسرال میں اپنے حسن سے چار چاند لگا دے گی”
” کسی فلمی ہیروئن سے کم نہیں لگتی”
ایسے جملے جہاں اس کو مسرور کرتے ، وہیں ہلکا ہلکا تفاخر کا احساس بھی پیدا ہوجاتا۔ امی بھی تو یہی کہتی تھیں:
“میری بیٹی کے لیے کوئی گل فام ہی ہوگا۔ ایسے ہی ماموں، چچا یا پھپھو کے بیٹے کو رشتہ دے دوں! میری بیٹی کے جوڑ کا بھی تو کوئی ہو۔ امیر گھرانہ ہو، اکلوتا لڑکا ہو، نندوں بھاوجوں کا جھنجھٹ ہی نہ ہو”
یونی ورسٹی کے کلاس فیلو کا رشتہ بھی محض مڈل کلاس ہونے کی وجہ سے ٹھکرایا گیا۔ ماموں کا لڑکا دل و جان سے فریفتہ تھا لیکن معیار پر پورا نہ اترتا تھا۔کچھ جاننے والوں کی طرف سے بہتیرے رشتے آئے، مجال ہے کہ امی کی حیات میں کوئی بے عیب رہا ہو۔ امی کی وفات کے بعد ابا جی نے ہاتھ اٹھا لیے کہ یہ میرا شعبہ نہیں۔ اب تو دونوں چھوٹے بھائی بھی بڑے ہوگئے تھے۔ ابھی تک کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ تمہاری کیا منشا ہے؟
پڑھائی کے ساتھ ساتھ سلائی، کڑھائی، کھانا بنانا اور دیگر کئی ہنر سکھائے گئے۔ دل و زبان کی نرمی کا ہنر بھی کمال تھا۔ جبھی تو، اپنے لیے بس سوچتی ہی رہی، کچھ کہ نہ سکی۔ ابا جی کی وفات کے بعد بھائی بیاہے گئے۔ اس کا میکہ ،اب بھابھیوں کا سسسرال ہوا۔ بھائیوں کے بچوں کے لیے تو وہ ایک آیا تھی۔ بغیر تنخواہ کے خیر خواہ و محافظ۔ پھر جائیداد کا بٹوارہ کسے منظور ہوتا۔
“اب تو باجی کی شادی کی عمر ہی نہیں”
” کسی بوڑھے سے دوسری تیسری شادی کرنے سے بہتر تو یہیں پر رہنا ہے”
” کسی کے بچے پالے اس سے بھلا کہ اپنے بھتیجے بھتیجیوں کو سنبھالے”
آہستہ آہستہ گھر لوگوں سے بھرنے لگا اور اس کے لیے تنگ پڑگیا۔ بڑے کمرے سے چھوٹے کمرے اور پھر سٹور تک کی ہجرت میں زمانہ کب لگا۔ پہلے پہل تو کوئی نہ کوئی بچہ ساتھ سو جاتا۔ جب سے دمے کا مرض ہوا، کھانسنے کا شور کون سہے۔ جتنا شور باہر ہوتا، اس سے کہیں زیادہ اندر تھا۔ جاگنے کا کرب زیادہ تھا کہ سونے کا، کچھ دنوں سے سب گڈمڈ ہوگیا۔ اب اس خواب کا تواتر اور یہ آئینہ۔۔۔
ماضی کے کئی سوال خود سے دہرا کے، جیسے ہی حال میں لوٹی تو خود کو وہیں کا وہیں پایا مگر وہ تو بدل گئی ۔۔۔کتنا بدل گئی ۔۔۔اب نہیں دیکھا جاتا یہ آئینہ۔۔اس نےایک چادر آئینے پر ڈال دی اور آنکھیں موند لیں۔

You might also like
  1. گمنام says

    very nice ji

  2. Dilshad mubasher says

    ماشاءاللہ

  3. Dilshad mubasher says

    very nice ji

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post