بابافریدگنج شکرؒکے چند شلوک

    • انتخاب واردو ترجمہ : یونس خیال 
  • میں جاتا دُکھ مجھ کوں ، دُکھ سبھاہا جَگ

       اُچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر اِیہا اَگ 
(میں سمجھتاتھاکہ دکھ صرف مجھے  ہی ہے ، دکھ   تو سارے جہان میں پھیلا ہے ۔
جب میں نے اونچی جگہ پرکھڑے ہوکردیکھا توہر گھرمیں یہی آگ لگی ہے)

  • برہا    برہا    آکھیے ، برہا    توں  سُلطان 

      جس تن برہوں نہ اپجے سوتن جان مسان
( ہجر ہجر  کا ورد کیا  جائے ،  اے  ہجر(فراق)  تو بادشاہ ہے
جس من میں ہجر(کادُکھ) نہیں ہے ، اسے ایک قبرستان سمجھناچاہیے)

  • فریدا خاک نہ نِندیے ، خاکو جیڈ نہ کو

       جیوندیاں پیراں تلے  ، مویاں اُپر  ہو
( اے فرید! مٹی کو کم تر نہ سمجھاجائے،مٹی (خاک) جیساکوئی بھی نہیں ہے۔
جیتے جی یہ پاوں کو سہارا دیتی ہے اور مرنے کے بعد اوپر سے ڈھانپ لیتی ہے)

  • جو تیں مارن مُکیاں تنہاں نہ ماریں گُھم

        آپنرے گھر جائیے پیرتنہاں دے چُم 
( جو تجھے مکوں سے ماریں انہیں گھونسے نہ مارو
بلکہ ان کے پاوں چوم کراپنے  گھر چلے جانا چاہیے )

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post