سوچنے پہ پابندی نہیں : یوسف خالد

یہ بے تابی ،یہ بے زاری، یہ پیہم الجھنیں کیا ہیں
مری تہزیب کا یہ سلسلہ بگڑا ہوا کیوں ہے

سیای شعبدہ بازو ہمیں اتنا تو سمجھاؤ
وطن کا نوجواں ہر ایک سے روٹھا ہوا کیوں ہے

(یوسف خالد)
معاشرہ انسانوں کے مجموعی کردار سے تشکیل پاتا ہے
معاشرے کا اچھا یا برا ہونا افرادِ معاشرہ کی سوچ پر منحصر ہوتا ہے –فرد کا کردار جب تک
درست نہیں ہوتا معاشرے کی صورت کبھی بھی زندگی کے لیے اطمینان بخش نہیں ہو سکتی
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرد کو کیسے معاشرے کے لیے اطمینان بخش کردار کا حامل
بنایا جائے-کیا ریاستی قوانین اور قوانین نافذ کرنے والے ادارے یہ فریضہ انجام دے سکتےہیں؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہر فرد کے لیے پولیس مہیا کی جائے -جیلیں اور تھانے بنائے جائیں-عدالتیں قائم کی جائیں ؟
یقینآ ایسا کسی طور ممکن نہیں لیکن یہ ممکن ہے
کہ افراد کی تربیت اس نہج پر کی جائے کہ فرد کو قانون کا احترام کرنا اچھا لگے -اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا خوشگوار لگے-وہ دوسروں کے لیے مددگار بن جائے؟
ملک و قوم کے مفادات کا نگرانی کرنے والا بن جائے-اس کی ترجیحات میں ذاتی مفاد
کی بجائے اجتماعی مفاد کا عنصر شامل ہو جائے
ہمارے پاس اچھے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں– کیا اچھے
معاشروں کی تشکیل کے لیے کی گئی کوششیں ہمارے لیے قابلِ عمل نہیں؟
میں سمجھتا ہوں بات ہے احساسِ زیاں کی اور آگے بڑھنے کی —کہیں سے تو اصلاحِ
احوال کا عمل شروع کرنا ہو گا–کیا ہم نسل در نسل یوں ہی بے وقار زندگی گزارتے رہیں
گے؟کیا ہمارے بچے اسی طرح ہماری غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے-کیا یہ سلسلہ کہیں نہیں رکے گا-آئیے سوچتے ہیں !

یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post