نعت

نعت : ڈاکٹر شاہد اشرف

شادمانی میں اک آنسو بھی نکل آیا ہے
روضۂ شاہ پہ بدّھو بھی نکل آیا ہے !
….
ایک بازو سے ٹکا رکّھا تھا جالی پہ سر
رشک سے دوسرا بازو بھی نکل آیا ہے
….
محوِ پرواز پرندے ہیں مدینے کی طرف
دیکھ کر دشت میں آہو بھی نکل آیا ہے

اتنی زرخیز زمیں ہے کہ ثنا کرتے ہوئے
اک نئی نعت کا پہلو بھی نکل آیا ہے

ہر فصاحت تھی فقط اہلِ عرب کو زیبا
نعت میں صاحبِ اُردو بھی نکل آیا ہے
….
دیکھ کراہلِ عجم,دل نے ” تعصّب ” سے کہا
اوئے! کم بخت یہاں تُو بھی نکل آیا ہے
……
صوفیا جانبِ طیبہ ہوئے شاہد تیّار
دیکھ کر قافلہ سادھو بھی نکل آیا ہے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نعت

نعت ۔۔۔ شاعر:افضل گوہرراو

  • ستمبر 25, 2019
افضل گوہرراو لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا میں پیدل چل کے مکےّ سے مدینے میں نہیں
خیال نامہ نعت

نعت:حفیظ تائب

  • ستمبر 27, 2019
حفیظ تائب خوش خصال وخوش خیال و خوش خبر،خیرالبشرﷺ​ خوش نژاد و خوش نہاد  و خوش نظر، خیرالبشرﷺ​ ​ دل