میں اورنعت : اپسراگل

میں نے کہا کہ بابا سائیں
دیکھیں میں نے نعت لکھی ہے
بابا مجھ کو دیکھ کے دھیما دھیما سا مسکاے بس
میں نے حیرت سے پوچھا
نعت نہیں دیکھیں گے میری ؟؟
بابا نے میری جانب دیکھا اور پھر پوچھا
نعت کہی ہے
دل کا بوجھ تو اترا ہوگا ؟؟
میں جھجکی تو پھر وہ بولے
اچھا آنسو تو چھلکے نا ؟؟
میں نہ بولی
تو پھر پوچھا
اچھا جسم کی روں روں میں
اک طوفان اٹھا ہوگا ؟؟
میں نادم سی، کچھ نہ بولی
تب بابا خوش ہو کر بولے
اچھا ہوش رہا نہیں ہو گا
سر مستی میں ناچی ہو گی ؟؟
میں یہ سن کر رو دی آخر
بابا سائیں پھر مسکاے
میرے سر پر ہاتھ رکھا
اور کہا
پتر نعت تو شرک ہے پکا
رب کے کام میں ساجھے داری
رب کو کوئی کام نہیں
رب بس نعت ہی کہتا ہے
بندہ کیسے نعت کہے ؟؟
رب دل کے اندر سے بولے
اپنا ساجھے دار بناے
حب محمد صلی اللہ میں
اپنے سوھنے یار کی حب میں
تو پھر نعت لبوں پر آے
پتر نعت کہی نہیں جاتی
پتر نعت عطا ہوتی ہے
اپسرا گل

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post