نعت

بات سب سے جدا مدینے کی : بشیراحمدقادری

بات چھیڑ ، اے صبا ! مدینے کی
آئے ٹھنڈی ہوا مدینے کی

باغ روحوں کے لہلہا اٹھیں
کھل کے برسے گھٹا مدینے کی

فرش تا عرش ہو گئے روشن
ایسے پھیلی ضیا مدینے کی

حاجیا ! چھوڑ دے سبھی باتیں
بات مجھ کو سنا مدینے کی

باتیں کتنی ہی خوبصورت ہوں
بات سب سے جدا مدینے کی

دل وہی دل ہے جس میں رہتی ہے
یاد مکے کی یا مدینے کی

میرے مولا ! تو کر کرم اتنا
گلیاں مجھ کو دکھا مدینے کی

جب بھی مانگی کوئی دعا میں نے
لب سے نکلی دعا مدینے کی

کوئی اس کے سوا نہیں خواہش
پاوں خاک_ شفا مدینے کی

قادری دل میں بس یہ خواہش ہے
جا کے دیکھوں فضا مدینے کی

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نعت

نعت ۔۔۔ شاعر:افضل گوہرراو

  • ستمبر 25, 2019
افضل گوہرراو لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا میں پیدل چل کے مکےّ سے مدینے میں نہیں
خیال نامہ نعت

نعت:حفیظ تائب

  • ستمبر 27, 2019
حفیظ تائب خوش خصال وخوش خیال و خوش خبر،خیرالبشرﷺ​ خوش نژاد و خوش نہاد  و خوش نظر، خیرالبشرﷺ​ ​ دل