Al-Quran (القرآن)

بشکریہ: صفدر بھٹی
بسم اللّہ الرحمن الرحیم
القرآن الحکیم
سورۃ المآئِدۃ
آیات 27 تا 31
اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کا احوال سچ سچ سنائیے’ جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ان دونوں میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی ‘
وہ بولا میں تجھے ضرور قتل کروں گا
اس نے کہا بیشک اللّہ پرہیزگاروں سے قبول کرتا ہے. البتہ اگر تو نے مجھے قتل کرنے کیلیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں تو تجھے قتل کرنے کیلیے تمہاری طرف اپنا ہاتھ نہیں بڑھانے والا، میں تو اللّہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اس سے ڈرتا ہوں. میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے پس تو اہلِ آتش میں سے ہو جائے اور ظالموں کی یہی سزا ہے.
پھر اسے اس کے نفس نے اپنے بھائ کے قتل پر ابھارا تو اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو گیا.
پھر اللّہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین (پنجوں سے) کریدتا تھا تا کہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائ کی لاش کیسے چھپائے، وہ کہنے لگا افسوس ہے مجھ پر میں کتنا عاجز ہوں کاش اس کوے جیسا ہی ہوتا کہ اپنے بھائ کی لاش تو چھپا لیتا
تو وہ پشیمان ہونے لگا

Al Qur’aan
Surah Al Maedah (chapter 5)
verses 27 to 31

In the name of Allah the Beneficent, the Merciful

Read unto them the true incidents of Adam’s two sons, when they both offered an offering so it was accepted from one but it wasn’t accepted from the other, he said I’ll kill you, the other said certainly God accepts from the righteous ones. Now if you stretched your hand out unto me to kill me I will not stretch mine to kill you, surely I fear God the Lord of the worlds. I would that you earn my sin as well as your own sin so that you be amongst the inhabitants of Fire, and it’s the punishment of unrighteous ones.
Then his soul prompted him to kill his brother so he killed him and been amongst the loosers. Then God sent a Raven who dug the earth to show him how to hide the corpse of his brother , woe is me, he said, I am so helpless to be even like this raven so that I could conceal the corpse of my brother, and he became amongst the remorseful one.

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post