ڈینگی سے بچاو : ڈاکٹر اِقرا وارث

1975ء میں ایشاء ، افریقہ اور شمالی امریکہ میں ایک بیماری وبا کی شکل میں پھیلی جس میں مریض کو یکدم تیز بخار، سردرد اور جوڑوں میں درد ہوتا اور یہی مریض بعد میں پیٹ درد، خونی الٹیوں اور پیچس کے بعد آخر کارمرگئے ، اس بیماری نے لوگوں میں خوف پیدا کردیا اور لوگ ہجرت پر مجبور ہوگئے اس بیماری پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر مبتلا شخص کی موت واقع ہوجائے اس میں شرح اموات صرف 4فیصد ہے اس لئے پریشان ہونے کی بجائے احتیاط بے حد ضروری ہے کیونکہ اس بیماری کا باقائدہ کوئی علاج نہیں نہ ہی ویکسین ہے لہذا احتیاط واحد بہترین حل ہے ۔
ڈینگی پھیلانے والا مچھر Aedes Ageptiایڈیزایجیٹی ہے اس کے جسم پر دھبے ہوتے ہیں اور یہ پاکستان میں موسم برسات سے لیکر دشمبر تک موجود ہوتا ہے ، دراصل اس کی پرورش کیلئے سازگار درجہ حرارت 10سے 40*cہے ، اس سے کم یا زیادہ اس مچھر کیلئے جان لیوا ہوتا ہے یہ مچھر (مادہ) ڈینگی کا سبب بنتا ہے کیونکہ نر ملاپ کے مادہ کو انڈے دینے کیلئے ایک پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ پروٹین انسان کا مچھر چوس کر اس سے حاصل کی جاتی ہے اور سی مرحلے میں انفیکشن پھیل جاتا ہے ، ایڈیز ایجیٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش سے ساکت اور صاف پانی میں ہوتی ہے اس لئے ملیریا کی طرح احتیاط کے علاوہ مزید براں صاف پانی بھی کھڑا نہیں ہونے دیں ڈینگی کا مچھر سورج طلوع ہونے کے چند گھنٹے قبل اور غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد اپنی خوراک کیلئے نکلتا ہے اور اسی دورانیے میں بیماری پھیلانے کا موجب بنتا ہے ۔ لہذا اس دورانیے میں خاص طور پر بچائو کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ایک محتاظ اندازے کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے اور آج کل یہ پاکستان کے مختلف شہروں میں وبا کی صورت پھیل رہی ہے جس میں اسلام آباد ، لاہور اور کراچی سرفہرست ہیں ، صوبہ سندھ میں گذشتہ چند ماہ میں 23 افراد کی ہلاکتیں اور 1100سے زائد متاثر ہوئے لیکن یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ یہ اصل تعداد نہیں کیونکہ حکومت کے پاس صحیح اعداد و شمار نہیں اور حقیقت میں مریضوں کی تعداد بے حد ذیادہ ہے ۔ اکثر مریض قریبی کلینک یا ہسپتال سے علاج جاری رکھتے ہیں اور ان جگہوں پر اکثر ادویات ایسی دی جاتی ہیں جو کہ اس بیماری میں مضر ہوتی ہیں ۔ سندھ میں اکثر مریض اس وقت کسی بڑے ہسپتال میں آتے ہیں جب ان کے منہ سے خون بہنا شروع ہوجتا ہے لین لاہور اور گردونواح میں آگاہی کے باعث لوگ جلد ہی تشخیص کرالیتے ہیں اس بیماری سے بچنے کے علاوہ اسکی تشخیص کیلئے علامات کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے ۔
ڈینگی میں مبتلا افراد مندرجہ ذیل علامات کے ساتھ ہسپتال میں آتے ہیں ۔
٭ بخار کم از کم دو سے سات دن تک ، ٭ نزلہ ، زکام ، ٭ شدید سردرد ، ٭ کمر، جسم اور جوڑوں میں درد ، ٭ آنکھوں کے گرد یا عقب میں درد، ٭ جسم پر سرخ دھبوں کا ہونا ٭ بھوک نہ لگنا ٭ متلی محسوس ہونا قے آنا ٭ ڈینگی میں جسم کے مختلف حصوں مثلاً منہ اور ناک سے خون کا جاری ہونا بھی شامل ہے ۔٭ خون میں پلیٹ لیٹس اور مفید خلیات کی کمی ہوجاتی ہے ۔
٭ علامات کے ظاہر ہوتے ہی مریض کو پینے کی چیزیں زیادہ سے زیادہ دیں اور قریبی مرکز صحت پر ضرور لے کر جائیں ۔
٭ مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام کی تلقین کریں ۔
٭ پانی کے علاوہ پھلوں کے جوس ، ORS یعنی نمکول زیادہ دیں تاہم کاربونٹیڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں ۔
٭ خون پتلا کرنے والی ادویات ترک کردیں جیساکہ ڈسپرین ، بروفن اور NSAID
٭ مریض کو نیم گرم پانی میں شہد ملا کر دیں کیونکہ یہ اینٹی انفیکشن ، اینٹی بیکٹریل ، اینٹی وائرل ہے اور وقت مدافعت کے بڑھانے کا باعث بنتا ہے ۔
٭ پپیتہ کے پتے یا رس صبح ، شام پینے سے Plateletsحیران کن حد تک چند گھنٹوں میں بڑھ جاتے ہیں ۔
٭ کلونجی ، اجوائن ، پودینے کا قہوہ استعمال کرائیں ۔
٭ وٹامن B,Cاور kپر مشتمل زیادہ سے زیادہ خوراک دیں جیسا کہ چاول ، مونگ کی دال ، کھچڑی ، شلجم ، چقندر، گاجر ، بند گوبھی ، انار ، سنگترہ اور میٹھا کھلائیں ۔
٭ سرکے کا استعمال کریں ۔ ٭ مریض کو بہت زیادہ ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم طبیعت زیادہ خراب ہونے پر ادویات کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
٭ ڈینگی بخار کے مریض کو ڈینگی مچھر کا دوبارہ کاٹنا بے حد مضر ہے اس لئے مچھر سے بچائیں ۔
٭ اس مرض کے ختم ہونے کے بعد وائرس کو جسم سے ختم ہونے میں 2سے 3ہفتے درکار ہوتے ہیں ، ادرک ، لہسن ، ہری مرچ، ہلدی ، امرود کا استعمال کریں ۔
احتیاط:
اپنے گھروں ، دفاتر میں کیاریوں ، پودوں کے گملوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں اور بہت زیادہ پانی مت دیں تاکہ مچھروں کی افزائش کو روکا جاسکے جو کہ گندے پانی کی بجائے صاف پانی اور ساف جگہ پر زیادہ نمو پاتا ہے ۔
٭ پانی کا ذخیرہ زیادہ دیر تک مت رکھیں بلکہ برتنوں میں پانی ضائع کر کے تازہ پانی ذخیرہ کریں ۔
٭ گھروں میں استعمال ہونے والے کولرز میں موجود پانی فوری ضائع کردیں علاوہ ازیں پرانے ٹائروں اور دیگر ایسی اشیاء جن میں پانی جمع ہوسکتا ہے ان کی احتیاط کی جائے ۔
٭ گھروں اور کام کی جگہوں پر مچھر مار سپرے کرایا جائے چونکہ یہ صبح و شام کے اوقات میں کاٹتا ہے اس لئے ان اوقات میں مچھر مار یا مچھر بھگائو لوشن کا استعمال کریں ۔
٭ باہر سیر و تفریح پر جاتے ہوئے پوری آستینوں والے کپڑے زیب تن کریں ۔
٭ رات کو سونیے کیلئے مچھر دانی کا استعمال کریں ۔
٭ بچوں کو نیکر کی بجائے پاجامہ پہنائیں اور پورے جسم ڈھانپ کر رکھیں ۔
٭ استعمال کے برتنوں اور پانی کو کھلا نہ رکھیں اور زیادہ دنوں کیلئے زخیرہ نہ کریں ۔
رسول ؐ نے فرمایا:
’’ برتن ڈھانپ دو اور مشک کا منہ بند کردو اس لئے کہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا اترتی ہے اور پھر وہ وبا جو برتن کھلا پانی ہے یا مشک کھلی پاتی ہے اس میں سما جاتی ہے ‘‘
لہذا ہمیں بھی احتیاط کرنی چاہئے ۔
٭ ڈینگی بخار مہلک ہوسکتا ہے لیکن اسکی شرح اس قدر زیادہ نہیں جس قدر عوام میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اس میں بے حد احتیاط ضروری ہے اور بے شک احتیاط علاج سے بہتر ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post