چند ہائیکو : حامد یزدانی

 

ہائیکو
۔۔۱۔۔
موسمِ ہجر کیوں نہ پیارا لگے
سوچ کے دل فریب صحرا میں
تیری یادوں کے پھول کھلتے ہیں
۔۔۲۔۔
رت جگے کہہ رہے ہیں کانوں میں
بیٹھ کر شام کے کنارے پھر
آو ! خوابوں کا انتظار کریں
۔۔۳۔۔
برف رُت کے گلاب کیا جانیں
جلتے سورج کے سائبان تلے
دھوپ کے پھول چُن رہے ہیں لوگ
۔۔۴۔۔
دھوپ، دو رویہ پیڑ، تنہائی
خامشی سے ہوا کی سرگوشی
ایک منظر کہ داستان ہُوا
۔۔۵۔۔
شام تخلیق کر رہی ہے ابھی
لہرئیے سے ہوا کے آنچل پر
تم ابھی اپنے پَر نہ پھیلاؤ
۔۔۔۔۔
حامد یزدانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post