مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے : زیب النساء

“مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے”یہ وہ الفاظ ہیں جو کانوں میں رس گهول دیتے ہیں. جن کو سنتے ہی انسان کی جوشی کی انتہا نہیں رہتی… مگر اس رحمت کو ہاتھوں میں لیتے اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہی اس کے نصیب فکر اور نصیب سے جوڑے فکر ووسوسے لاحق ہو جاتے ہیں جا تا عمر والدین کو اپنے حصار میں رکهتے ہیں.
یہ خوف وفکر کوئی بے جا نہیں ہوتے… ہمارا معاشرہ جس میں نیک دل، مخلص اور معززین رہتے ہیں وہیں ان سے بڑھ کر انسان کے بهس میں چھپے بھیڑیے بهی موجود ہیں… جن بهوک ان کی آنکھوں میں ہے.جو ہر وقت انسان کے شکارکی تلاش میں سر گرم عمل رہتی ہیں. جس کے ثبوت گزرے دن کے ساتھ اخبار اور ٹیلی ویژن کی سرخی میں ملتے ہیں کہ “نامعلوم فرد یا افراد نے کم عمر بچی کو جسمانی زیادتی کے بعد قتل کر دیا”…
ایسی قوم پر خدا کا قہر کیوں نہ ٹوٹے. یہ خبر محض چند دن سوشل میڈیا کی شہرت کا سبب بنتی ہے محض چند اس واقعہ کی چرچا ہر خاص و عام کی زبان پر ہوتی ہے اس کے بعد سب اس واقعہ کو اپنے گناہوں کی طرح بهول کر کسی نئے موضوع کی تکرار میں مصروف ہو جاتے ہیں…
کوئی والدین کی تکلیف اور اذیت کا اندازہ نہیں کر سکتا جن سے جینے کی وجہ اک لمحے میں چهن جاتی ہے. اسے خاندان کیوں آنے والی نسلوں میں بیٹی کی پیدائش پر افسردہ نہ ہوں؟
اس پر ستم یہ کہ ایسے والدین اور بچیوں کو انصاف ملنا تو دور کی بات انصاف کے نام پر ان کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے.

خداوندہ تن تنہا گیا ہے
سوئے دریا میرا پیاسا گیا ہے
ازل سے لےکے اب تک عورتوں کو
سوائے جسم کیا سمجھا گیا ہے
خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت
جسے پیروں تلے روندہ گیا ہے

کیا ایک عمران کو مقتل تک پہنچا دینے سے تمام مظلوم بچیوں اور ان کے والدین کو انصاف مل گیا؟ کیا ان کی تکلیف، اذیت، رسوائی کا عزالہ ہو گیا؟ کیا قانون سرخرو ہو گیا؟ ہرگز نہیں…
کیوں اسے درندون کو لگام ڈالنے والا نہیں؟ کیوں سرعام پهانسی کے فیصلے کو رد کیاجاتا ہے؟ ناجانے ہمیں اور کس چیز کا انتظار ہے؟
مذہب کے نام پر حاصل کردہ اس ملک کے باشندوں کو کیوں مذہب اور تہذیب کا پاس نہیں؟
پر افسوس جس ملک کا قانون اتنا سرد ہو وہاں لاہور کا گم نام شہری اپنی ہوس کی دهن میںانسانیت بهول کر “ایک سو ایک”بچے بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں پهینک کر ختم کرنے میں باسہولت کامیاب رہتا ہے. اسی سست قانون کی آغوش میں سوتیلا باپ تین بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر کے فرار ہو جاتا ہے.
ایسی بچیوں اور خواتین کامستقبل کوٹهوں کی طوائف ہونے کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟

روز سہتی ہیں کوٹهوں پے جو ہوس کے نشتر
ہم درندے جو نہ ہوتے تو وہ مائیں ہوتیں

نہ جانے کب تک اور کتنی بیٹیاں اور ان کی عزتیں جونہی قربان ہوتی رہیں گی؟ ہمارے معاشرے کے% 70مردوں کو یہ باور کروانے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا میں ماں کے علاوہ بهی عورتیں ہیں اور ہر عورت ہر رشتے سے قابل احترام ہے.

عورت کے حقوق کو دبانےوالے عورت مارچ کو بے حیائی مارچ قرار دیتے ہوئے اپنی جاہل روایت کو برقرار رہتے ہیں…
تاریخ گواہ ہے ہر ترقی یافتہ ملک کی ترقی کا راز عورت کی لازوال محنت ہے. اور آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت کو جهٹلایا نہیں جا سکتا.

ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے

“میرا جسم میری مرضی ”

اس جملے کو اپنی سراسر غلط سوچ کی بینڈ چڑھا کراس تحریک کے اصل مقصد کو دبایا جا رہا ہے. چلیں مان لیتے ہیں کے جملہ “میرا جسم میری مرضی “غیر اخلاقی الفاظ پر مشتمل ہے. جو کہ حقیقتن ہے نہیں. اس جملے کو “میری زندگی میری مرضی ” قرار دیا جا سکتا ہے مگر اصل بات تو پهر بهی وہی ہے.
ہر انسان قدرتن آزاد پیدا ہوا ہے خواہ مرد ہو یا عورت.
پهر کیوں کسی نادار، مظلوم، بے ضرر، غریب اور کم عمر لڑکی کو کسی جاہل، ان پڑھ، کسی معذور، بدکردار، ظالم جابر، بد اخلاق اور ناکمے شخص کے لیے “قبول ہے” پر مجبور کیا جاتا ہے؟
کیوں محض اک ڈرامہ “میرے پاس تم ہو”کے اک مہوش کے کردارکو اٹها کرعورت کی مکمل زات کی نفی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ایسے افراد تصویر کے دوسرے رخ “دانش “کےقردار میں جود کو کیوں نہیں ڈهالتے؟
کیونکہ شاید برابری میں مرد کی شان میں گستاخی ہو جاتی ہے. آج کے دور اس گلیمر کے دور میں بهی بیٹی کی پیدائش پر ماں کو جارحانہ طور پر قتل کر دیا جاتا ہے.
اس تمام تر قصے بنیادی پہلو پر غور کیا جائے تو مذہبی، علمی اور عملی دور ہے. اور ایک وجہ نفسیاتی پہلو ہے جو ہمیشہ پس پشت رہ جاتا ہے.
غربت، خوف، ذہنی و جسمانی تشدد کے سائے میں پلنے والے افراد اپنےتمام مسائل کا حل تشدد میں تلاش کرتے ہیں.
اگر بچوں کی اخلاقی تربیت پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جائے تو شاید آئندہ نسلوں کے مسائل میں کچھ فیصد کمی آ سکے.
ہمارے ہاں اہک اور بڑا اور پچیدہ مسئلہ شادی کا نہ ہونا یا وقت پر نہ ہونے کا ہے
کہتے ہیں کہ جب رزق حلال ذریعہ سے با آسانی نہ ملے تو نفس حرام کی طرف مائل ہونے لگتا ہے. نکاح جیسے مقدس رشتے کو اگر آسان بنایا جائے، جہیز سمیت دیگر تمام فضول رسومات کوکو ختم کر کے انسانی اور فطری ضرورت کو مدنظر رکهتے ہوئے دو جوڑوں میں کی دسترس ہو تو شاید بچے بچوں کی جنسی زیادتی کے کیسیز میں کسی حد تک کمی واقع ہو سکے.
اور کاش ہماری ریاست اک ایسی ریاست بن سکے جہاں کسی بیٹی کی جان اور عزت کو کوئی خطرہ نہ ہو، کوئی ماں باپ بیٹی کی پیدائش پر اس کے نصیب سے جوف زدہ نہ ہوں، کاش ہمارا قانون اتنا باعمل ہو جہاںمجرم جرم سے پہلے اپنے انجام سے درے، کاش کہ نفسیاتی، معاشرتی اور سماجی مسائل مزید زندگیاں نہ نگلے، کاش کہ اس ریاست میں عورت کو اپنے حقوق، جان مال اور عزت کے تحافظ کے لیے کسی رفاعی ادارے کا رخ نہ کرنا پڑے،کوئی عورت غیرت کے نام پر قتل نہ ہو کاش کہ یہ ریاست پاکستان حقیقت میں ریاست مدینہ ہو جائے…

رخصت حرم سے عورتیں آ کے ہوتی ہیں
کوٹهوں پہ پردے والیاں منہ ڈهانپے روتی ہیں

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post