ڈپریشن۔۔۔ ایک قابل علاج بیماری۔


تحریر: سلمیٰ جیلانی
ڈپریشن ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور اس کے مریض کو دوسرے بیماروں کے مقابلے میں لوگوں کی سپورٹ اور ہمدردی کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے –
اگر خدا نا خواستہ کسی کو مسلسل پریشانیاں درپیش ہوں ، بے روزگاری ، بیماری ، مالی اور معاشی حالات درست نہ ہوں یا ملک میں بد امنی کا دور دورہ ہو ایسے میں ڈپریشن کا پیدا ہونا فطری بات ہے- اکثر نئی ماؤں کو بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ نیٹل ڈپریشن ہو جاتا ہے وہ اپنے بچے سے بے زاری کا اظہار کرنے لگتی ہیں یا لوگوں سے ملنے جلنے سے کترانے لگتی ہیں یہ علامات اگر چھ ہفتے سے زیادہ برقرار رہیں تو سمجھیں کہ ڈپریشن ایک مرض کی صورت اختیار کر گیا ہے جس کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے – کاؤنسلنگ علاج کا پہلا درجہ ہے ہمارے یہاں ڈاکٹر پہلے ہی مرحلے میں دوائیں دینے لگتے ہیں جبکہ یہاں پر کوشش کی جاتی ہے کہ کاونسلگ سے مدد لی جائے اکثر مریض اس سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں اور دوا کی نوبت ہی نہیں آتی –
اب کوئی کہے گا کہ آپ نہ تو ڈاکٹر ہیں اور نہ ماہر نفسیات پھر ڈپریشن کے بارے میں اتنی تفصیل سے کیسے بات کر سکتی ہیں –
تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں خود اس بیماری سے دوچار رہ چکی ہوں اور جن مسائل اور پریشانیوں سے گزری انہوں نے مجھ میں ڈپریشن سے لڑنے کا حوصلہ دیا اور جو تجربات حاصل ہوئے وہ دوسروں سے شیئر کرنا ضروری سمجھتی ہوں تاکہ آگاہی بڑھے – خاص طور پر آج کل جب دیکھ رہی ہوں کہ لوگوں میں خود کشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جو ڈپریشن ہی کی ایک قسم ہے – ڈپریشن سے متعلق آگاہی بہت اہم ہے –
اب پہلے تو یہ بتاؤں گی کہ کن حالات میں ڈپریشن سے دوچار ہوئی
اب سے کافی سال پہلے جب میری دوسری بیٹی پیدا ہوئی اس کے کچھ ماہ بعد ہر دل عزیز نانی کا انتقال ہو گیا کچھ ماہ بعد ہی والد صاحب کا انتقال ہوا انہی دنوں میری تیسری بیٹی کی پیدائش ہوئی گویا دو بچے اوپر تلے ہوئے اور انہی دنوں میں دو قریبی رشتے دار وں کی موت نے مجھے ایک گہری مایوسی کی چادر میں لپیٹ دیا – جسمانی طور پر بھی بے حد کم زور ہو گئی اور بچوں سے ارد گرد کے ماحول سے دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہو گئی –
کپڑے تبدیل کرنا بال بنانا اور غسل کرنے سے گھبرانے لگی – ایک سی حالت میں گھنٹوں بیٹھے رہنا میرا مشغلہ تھا – بظاہر کسی کو اندازہ نہیں تھا کیونکہ میں بچوں کی دیکھ بھال پر توجہ دینے کی پوری کوشش کر رہی تھی اور باقی سب رشتہ دار اپنی مصروفیت میں مگن تھے – امی والد کی بیماری اور پھر ان کے انتقال کے بعد عدت میں چلی گئی تھیں – مگر دیورانی جو کہ ڈاکٹر ہیں نے یہ سبب بھانپ لیا اور انہوں نے ماہر نفسیات اور ڈاکٹر ایس ایم رب سے رجوع کیا – اور میرا علاج کروایا – مجھے اپنے کندھوں پر بھاری پتھر رکھے ہوئے محسوس ہوتے اور وہ تمام بیماریاں جو کسی وجہ سے ہوتی ہیں ان کے حملے وقتاً فوقتا ً ہوتے رہتے – بلڈ پریشر انتہائی خطرناک حد تک نیچے رہنے لگا تھا – بلڈ کلچر ہوا تو پتا چلا کہ نمکیات کی سخت کمی ہے اور پھلوں پر نمک چھڑک کر کھانے کو کہا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے شوہر صاحب کی بھی خبر لی کہ بیگم پر خصوصی توجہ دی جائے – میری ساس جو میری دوست بھی تھیں ان حالات میں بہت کام آئیں – جب بھی اداس دیکھتیں پاس آ کر بیٹھ جاتیں اور ان کی مثبت اور خوش گوار باتوں کے نتیجے میں کچھ ہی دیر میں میرا موڈ اتنا بہتر ہو جاتا کہ میں جو بستر پر پڑی ہوتی ایک دم خود کو ہشاش بشاش محسوس کرنے لگتی –
ڈپریشن کے حملے مجھے اس کے بعد بھی کئی بار ہوئے لیکن میں پھر سمجھ گئی تھی کہ مجھے کیا ہو رہا ہے فورا ہی اپنے علاج پر توجہ دیتی تھی –
یہ بتاتی چلوں کہ اس مرض میں جب تک انسان خود کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور یہ باور نہیں کراتا کہ میں ٹھیک ہو جاؤں گی کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا – ان ہی بہت سے مشکل دنوں سے گزرتے ہوئے بڑی بیٹی اسکول جانے لگی اور دوسری کنڈر گارٹن میں داخل ہو گئی – ایک دن میں اسکول کی چھٹی کے انتظار میں دوسری عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھی جو اپنے بچوں اور نواسے نواسوں کو لینے آئی ہوئی ہوتی تھی – اپنا موازنہ کرنے لگی- میں نے اپنے آپ کو دیکھا اور ایک خاتون جو دادی تھیں مجھ سے کہیں زیادہ ہشاش بشاش اور چوکس پایا مجھے اپنے اوپر افسوس سے زیادہ غصہ آیا – میں نے سوچا یہ خاتون جو بیمار بھی رہتی ہیں پھر بھی کتنی باہمت اور پر جوش ہیں اور ایک میں ہوں نوجوانی میں ہی بوڑھوں سے بدتر ہو گئی ہوں – اسی دوران اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی میری بیٹی سامنے سے آتی دکھائی دی – میرا دل افسوس سے بھر گیا اس کے کپڑے دوسرے بچوں کے مقابلے میں میلے تھے اور اتنی خوش دکھائی نہ دے رہی تھی – اس دن میں نے دل میں عہد کیا آج کے بعد اپنے لئے نہیں اپنے بچوں کے لئے زندہ رہوں گی اور خود کو بدل ڈالوں گی – وہ دن آج بھی میری نگاہوں میں اسی طرح محفوظ ہے –
لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا کیونکہ ڈپریشن نے ذہنی اور جسمانی دونوں سطح پر کافی نقصان پہنچا دیا تھا – میرا نظام ہضم بری طرح کم زور ہو چکا تھا – لیکن میں نے خود کو ٹھیک کرنے کا عزم کر لیا تھا اگرچہ عبادت میں بھی دل نہی لگتا تھا اور نہ تین بلکل چھوٹی بچیوں کی موجودگی میں وقت ہی ملتا تھا – پھر بھی نماز اور لاحول ولا قوت زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی کوشش کرتی رہی – آہستہ آہستہ ایک نہایت صبر آزما دور سے گزرتے ہوئے میری طبیعت بہتری کی طرف گامزن ہو گئی – انہی دنوں میں پرائم منسٹر پرگرام میں سندھ گورنمنٹ کے لیکچرار شپ کے امتحان اور ٹیسٹ کا اعلان ہوا – میں جو لکھنا پڑھنا تک بھول چکی تھی – بچوں کو سلانے کے بعد تین تین بجے تک فرسٹ ایئر سے لے کر بی کام تک کے تمام سبجیکٹس کی تیاری کرتی رہی اور ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کر کے کامرس کالج میں لیکچرار متعین ہو گئی – وہی میرا ٹرننگ پوانٹ ثابت ہوا اور پروفیشنل میدان میں واپسی نے جو حوصلہ دیا اس نے بچوں کو ان کی ماں بھی واپس دلا دی – میں نے بچوں کو کبھی ٹیوشن نہیں پڑھوائی ہمیشہ خود پڑھا یا – ڈرا یونگ سیکھی اور انہوں خود پک اینڈ ڈراپ کیا لیکن پھر جامع کلاتھ مارکیٹ وغیرہ کے گنجان علاقوں سے گزرتے ہوئے بسوں اور منی بس ڈرائیوروں کی بلینگ کی وجہ سے ڈرایونگ چھوڑ دی وہ ایک الگ کہانی ہے جو کبھی پھر سناؤں گی –
تو یہ ہے میری ڈپریشن سے جنگ کی کہانی اس کے بعد بھی ڈپریشن محسوس ہوتا ہے مگر مجھے اس پر قابو کرنا خوب آتا ہے –
ایک اور چیز ڈپریشن کے مریض کو دوستوں اور رشتہ داروں کی ہمدردی اس طرح نہیں چاہئے ہوتی کہ ان پر ترس کھایا جائے بلکہ اس طرح کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو بھی ایسا ہی بیمار سمجھا جائے جیسے کوئی بخار یا ظاہری بیماری سے نبرد آزما ہو – یہ کوئی پاگل پن ہے نہ قابل شرم چیز جس کو چھپایا جائے یا شرمندہ ہوا جائے ہاں قابل علاج ضرور سمجھا جائے –
سلمیٰ جیلانی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post