اپنی ذات کے سفرکونکلیے : ریاض احمد احسان

بندگان محبت پر سلامتی ھو!
عالی دماغ لوگ کائنات تخیلات کے شرق و غرب سے ھوتے ھوئے ہفت افلاکی بلندیوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں— سمندروں کی گہرائیوں میں اترتے ھیں—- اہرام مصر ھو— دیوار چین ھو—- تاج محل کی دلکشی و دلنشینی ھو — بابل کے معلق باغات ھوں– ار کی لائبریریاں ھوں یا ہسپانیہ کی درسگاہیں یہ سب آج بھی علم و ہنر کے پیاسوں اور جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو دعوت تدبر و فکر دے رھی ہیں کہ جب تک حضرت انسان جستجو کی خواہش پالتا ھے عظمتوں، کامرانیوں، سرفرازیوں اور کامیابیوں سے دامن مراد بھرتا ھے-
بندگان محبت! آج ہمیں خودکلامی کے لیے وقت نکالنا ھو گا— خود سے باتیں کرنا ھوں گی—- خود سے خطاب فرمانا ھو گا—- آج ہمیں اپنا سامع اپنا ناظر اور اپنا قاری خود ہی بننا ھو گا—– اپنے اندر سے ایک پرعزم وجود اٹھانا ھوگا جس میں فرشتوں کی سی معصومیت— شبنم کی سی شادابی— پھولوں کا سا تبسم— چاند کا سا حسن— عقاب کی سی رعنائی— شاہین کی سی پرواز اور چیتے کا سا جگر ھو—- اگر ھمارے وجود پر اس خود کلامی کے نتائج کا نزول ھوگیا تو ثمرات میں ھماری پرعزم نگاہیں جدھر اٹھیں گی کائنات کے پوشیدہ راز مسخر ہوتے چلے جائیں گے-
آپ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی خیر-

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post