الدّین اور دین سے جُڑے نام


ڈاکٹرمعین نظامی
لفظِ الدّین کے ساتھ جڑے ہوئے نام رکھنا عربوں کی روایت نہیں رہی اور قدیم دور میں اس کا سراغ نہیں ملتا۔ عرب بالعموم مفرد الفاظ کے نام رکھتے تھے، یہ طرزِ عمل صدیوں رائج رہا اور اب بھی ان ممالک میں سب سے زیادہ پسندیدہ روش یہی ہے۔ البتہ الدّین کے ساتھ ملے ہوئے الفاظ پر مشتمل القاب ان علاقوں میں غالباً چوتھی پانچویں چھٹی صدی ہجری میں شروع ہو گئے تھے مثلاً عماد الدّین، زین الدّین وغیرہ۔
ایران میں بھی کم و بیش یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ اس خطّے میں الدّین والے مرکّب نام رکھنے کا سلسلہ شاید عربی القاب کی تقلید میں اور عربوں کے مقابلے میں قدرے بعد میں شروع ہوا۔ ساتویں صدی ہجری میں شیخ سعدی شیرازی کا نام مشرف الدّین یا مصلح الدّین ملتا ہے۔ ظاہر ہے نام رکھنے کا یہ انداز اس سے قدرے پہلے رواج پذیر ہو چکا ہو گا۔ قیاس ہے کہ ایران میں بھی اوائل میں ایسی تراکیب بہ طورِ لقب ہی استعمال ہوئیں اور بعد میں مستقل نام کی شکل اختیار کر گئیں۔
عرب اور ایران میں رائج ایسی تمام تراکیب میں الدّین ہی آتا ہے، الف لام کے ساتھ۔ الف لام کے بغیر محض لفظِ دین کا استعمال خالص برِصغیر کا رواج ہے اور عرب و ایران میں اس کے نظائر نہیں ملتے ہیں۔ اشعار میں گاہے بہ گاہے ضرورتِ شعری کے تحت ایسی تراکیب الف لام کے بغیر بھی نظر آ جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ استثنائی معاملہ ہے۔ ممکن ہے کہ برِصغیر میں رائج صرف لفظِ دین والے نام بھی عرفِ عام میں یوں کہے اور لکھے جاتے ہوں اور اصل میں وہ بھی عربی و خراسانی انداز میں الف لام کے ساتھ ہی ہوں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post