یہ کاغذی پھول جیسے چہرے : ریاض احمد احسان

ریاض احمداحسان
ریاض احمد احسان
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے شغل بیکار کا شکار ھوچکے ھیں— انہیں خبر کی جائے کہ کاغز کی کشتی پر دریا پار نہیں ھوتے— محبت کاغزوں کی چھاتی پر لکھا ھوا لفظ نہیں ھے- محبت کی بابت جتنے استعارے اور اشارے ہیں انہیں گماں کی تختیوں پر تحریر سیاہ سطریں سمجھنے والے غلطی پر ھیں- محبت خوش فہمی، خوش خیالی اور خوش ذوقی کے افق پر چمکتا چاند اور اٹھکیلیاں کرتے بیدار تارے ھیں— اڑتے پرندوں کا کسی جھیل پر قطار در قطار اترنا بھی تو محبت ھے- کتاب میں پھول رکھنے کی دم توڑتی روایت پھر سے زندہ ھونی چاہیے- درختوں پر نام تحریر کرنے والوں کے سٙچے، سُچے اور کھرے جذبات کی تسلیم کا مبارک لمحہ آنا پہنچا ھے—- باغوں میں لہلاتے پرانے درختوں کو اس لیے بھی محبت سے دیکھنا چاہیے کہ ھم سے پہلے کتنے ھی پریمی ان کی چھاؤں میں بیٹھے ھوں گے؟ پیار و محبت کے عہد و پیماں کیے ھوں گے—– یہ بوڑھے شجر لاشمار محبتوں کے امین ھیں-
صفحات پر محبت لکھنے والے اگر محبت مزاج نہیں ھیں تو محبت کی حقیقی تاثیر سے بھی محروم رہیں گے- محبت ڈائریوں کے صفحات نہیں پلٹتی کہ محبت کے مزاج میں شاہی ھوا کرتی ھے کلرکی نہیں— محبت کچے آنگنوں میں مطمئن لمحے اور سرشار صدیاں اتارتی اور پختہ محلات میں بے بسی، لاچارگی اور بے حسی کا تعفن بھی پھیلاتی ھے-
ریاض احمد احسان

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post