ٹماٹر نامہ : حکیم احمد نعیم ارشد

احمد نعیم شہزاد
حکیم احمد نعیم ارشد
   کسی ہٹے کٹے فقیر نے ایک توتلے شخص سے بھیک مانگی تو توتلے شخص نے کہا ٹماٹر کھا فقیر نے دوبارہ صدا کی تو توتلا شخص غصے سے بولا میں نے تہا تو ہے ٹماٹر ٹھا”میں نے کہا تو ہے کما کر کھا” فقیر کی سمجھ میں آگیا کہ یہ شخص توتلا ہے فقیر نے قہقہہ بلند کیا اور کہا بھائی ٹماٹر تو میں کما کر بھی نہیں کھا سکتا اور چل دیا آج کل ٹماٹر کی قیمت آسمان کو بلکہ ساتویں آسمان کو چھو رہی ہیں ٹماٹر جس کو سبزی بھی کہا جاتا ہے اور پھل بھی اسی سے ملتے جلتے نام والی ایک اور، سبزی ہے جسے مٹر کہتے ہیں اُسکے دانوں سے بھی گیارہ ہزار وولٹیج کا کرنٹ گزر رہا ہے عام آدمی اسکو خریدنا تو دور ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتا ہے ہاں البتہ ہاتھوں پر کرپشن یا رشوت خوری کے دستانے چڑھائے ہوں تو آدمی بلا جھجھک ہاتھ بھی لگا سکتا ہے اور خرید بھی سکتا ہے یہی صورت حال ٹماٹر کی ہے ایک صاحب فرما رہے تھے پاکستان میں تین چیزیں بہت مہنگی ہیں نمبر ایک انصاف نمبر دو ٹماٹر اور نمبر تین پھل اور ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بھائی ٹماٹر سے سستا تو ووٹ مل جاتا ہے ایک دکاندار نے ٹماٹر کی کی ٹوکری کے اوپر ریٹ لکھنے کی بجائے لکھا تھا کمزور دل حضرات ٹماٹر کا بھاؤ نہ پوچھیں اب تو جو شخص ایک کلو ٹماٹر اکٹھے خرید لے وہ معاشرے کا امیر شخص دکھائی دیتا ہے اور اسکے ہاتھ میں ٹماٹروں والا شاپر دیکھ کر حسد سا ہونے لگتا ہے ابھی کل کی بات ہے ایک شاعر صاحب نے ٹماٹر ردیف میں غزل پیش کرکے مشاعرہ لوٹ لیا اب تو باتھ روم سنگر بھی مجمعے میں بلا جھجھک گا لیتے ہیں کہ لوگ اتنے مہنگے ٹماٹر کہاں سے لا کر ماریں گے
یار لوگوں سے سُنا ہے ہر خطے کی اپنی پہچان ہوتی ہے اور پنجاب کی پہچان زراعت ہے ہرا بھرا پنجاب زرخیز زمینوں کا وارث ہے جسکی فصلوں کی کہیں مثال نہیں ملتی مگر یہاں پر بھی سبزیوں کا قحط ہو تو یہ بات محکمہ زراعت کے لیئے بھی باعث ندامت ہے اس خطے میں سبزیاں تو سب سے زیادہ سستی ہونی چاہیں لوگ کہتے ہیں زیادہ منافع کمانے کیلئے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی اور قلت پیدا کرنے کی علت زیادہ تر ذخیرہ اندوزوں میں پائی جاتی ہے اور ہر قلت کی ایک عدت ہوتی ہے جب قلت کی عدت پوری ہو جاتی ہے تو زخیرہ اندوزوں کے پاس پیسے کی شدت ہو جاتی ہے اور اُسی شدید پیسے سے وہ کوئی اور جنس ذخیرہ کر کے پھر سے کسی نئے بحران کو جنم دینے کیلئے کمر کس لیتے ہیں کہ غریب عوام کی کمر کو مزید توڑا جائے
ابھی کچھ حلقوں میں ٹماٹر کا بائیکاٹ کرنے کی بات چل رہی ہے کچھ عرصہ پہلے فروٹ کا بھی بائیکاٹ ہوا تھا لیکن کچھ خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آ سکے لیکن اگر ایسی کوشش جاری رکھی جائے تو ذخیرہ اندوز ذخیرہ کی ہوئی جنس کو بازار میں لانے پر مجبور ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیئے بائیکاٹ کی مدت محض تین دن نہیں بلکہ دس پندرہ دن کیلئے ہونی چاہیئے سیدھی سی بات ہے اگر ہم دس پندرہ دن ٹماٹر نہ کھائیں گے تو ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ کمزور نہیں ہوگا ہم سلامت رہیں گے لیکن ہماری خون پسینے کی کمائی کو ہتھیانے والے عناصر ضرور کمزور ہوں گے ان عناصر کو کمزور کرنے کے لیئے اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے ہر وہ شے جس کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اُسکا اجتماعی بائیکاٹ کرکے ہم مصنوعی بحرانوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ مہنگائی کے جن کو بھی بوتل میں بند کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اس کے لیئے صرف اور صرف اجتماعی منتر پڑھنے کی ضرورت ہے آخر میں ٹماٹر ردیف پر مشاعرہ لوٹنے والے شاعر کے کُچھ اشعار
بیگم نے کہا جاؤ ، لے آؤ ٹماٹر
آدھا کلو نہیں تو، اک پاؤ ٹماٹر
اسکے بغیر ہانڈی، بد ذائقہ رہے گی
لاتا ہے ہانڈیوں میں بدلاؤ ٹماٹر
پتہ سنبھالتی ہے گردہ سنبھالتی
اندر سے کر رہا ہے پتھراؤ ٹماٹر
نقصان بھی ہے اسکا اورنرخ بھی زیادہ
بیگم سے کہہ دیا ہے کم کھاؤ ٹماٹر
لایا جو میں ٹماٹر رستے میں کوئی بولا
اللہ کے نام پر ہی دے جاؤ ٹماٹ

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post