میر کیا سادہ ہیں! …از: راز احتشام


راز احتشام
صاحبو ! اس بار ہسپتال میں ایک عجیب کردار ملا، بھلا سا نام تھا، جو اب نقاہت کے باعث ذہن میں نہیں رہا، چلیے اللہ دتہ فرض کر لیتے ہیں۔ اور یوں بھی اس کا نام اللہ دتہ ہی ہونا چاہیے تھا پونے چھ فٹ قد، اکڑی ہوئی گردن، چہرے سے صریح گنوار پن ٹپکتا ہوا، ڈھیلے ڈھالے کپڑے ، چال انتہائی مشینی اور گفتگو میں وہ اعتماد جیسے ہمارے وارڈ کا عمران خان ہو !
وہ اپنے بوڑھے باپ کا attendant تھا، اس کا سابقہ فوجی باپ، جب جنگ اکہتر کا قیدی ہونے کا بوجھ سینے پہ لے کے کھانستا تو پورا وارڈ ہل جاتا، اس کی جملہ بیماریوں کا کیا مذکور کہ اسے بڑھاپا لاحق تھا ، عمر بھر ون ٹو تھری پہ مارچ کرتا ہوا یہ بوڑھا اب زندگی کے پریڈ گراونڈ پہ کوتاہ قدمی کا شکار تھا اور اس کی عمر کا آخری حصہ نامانوس زبان میں گفتگو کرتی مشینوں کی ٹیں ٹیں سننے میں خرچ ہو رہا تھا !
خیر ، ذکر تھا اللہ دتہ کا ! اللہ دتہ جہلم کے کسی گاوں میں رہتا تھا اور کھیتی باڑی کرتا تھا، یہ بھی یوں معلوم ہوا کہ ایک دن اللہ دتہ وارڈ بوائے کو کہہ رہا تھا “ماشاء اللہ اساں سارے پڑھے لکھے ہاں اور میں جہلم چ custody ناں کم کرنا واں” وارڈ بوائے میٹرک پاس لڑکا تھا، اس کی بلا جانے کہ کسٹڈی کیا ہے؟ میں بھی حیران ہوا کہ یہ کیسا کام ہے، اللہ دتہ کو بلا کے پوچھا تو کہنے لگا “اوہو صاب جی ! کسٹڈی ناں مطلب اے کھیتی باڑی، تُساں کتنی پڑھے او؟”
اب میں کیا کہتا ؟ 😄
لیڈی ڈاکٹر آئیں، جو غالبا میجر تھیں، انہوں نے چھوٹتے ہی اسے ڈانٹا کہ اللہ دتہ تمہارے والد کا منہ کتنا گندہ ہو رہا ہے تم صاف کیوں نہیں کرتے ؟ اسی روبوٹک انداز سے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے کہنے لگا “ صاب جی ! آئندہ آپ کو appointment نہیں اچھن لگی “ سارا وارڈ کھلکھلا کے ہنس پڑا لیکن مجال ہے جو اللہ دتہ کے ماتھے پر عرقِ ندامت چمکا ہو، وہ اسی الہامی بے اعتنائی سے ادھر اُدھر دیکھتا رہا، جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو !
یہ بہت لمبی تحریر تھی، نقاہت کے باوجود بھی بہت توجہ سے لکھ رہا تھا لیکن فون اچانک بند ہوا اور سب لکھا ہوا ضائع ہو گیا، اب یہ دوبارہ لکھی ہے، مزید لکھنے کی ہمت نہیں وگرنہ لکھتا، البتہ جو بات کہنا چاہ رہا تھا وہ یہ تھی کہ جب اس قدر لامتناہی کائنات میں ہم سب برابر کے جاہل مطلق ہیں، تو فرق لے دے کے اعتماد ہی کا ہے اور صاحبو خدا گواہ ہے ، میں نے آج تک کوئی پڑھا لکھا شخص اللہ دتہ سے زیادہ پراعتماد نہیں دیکھا !
سو پراعتماد رہیے، اپنی لغزشوں پر تاسف نہ کیجیے ، لوگوں کے ہنسنے کی پرواہ مت کیجیے !
راز احتشام

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post