علامہؒ سے تعارف : غلام رسول مہر

غلام رسول مہر
غلام رسول مہر
(۱)
میں حضرت علامہ اقبال کے اسمِ گرامی سے پہلے پہل ۱۹۰۷ء میں متعارف ہوا۔ اس زمانے میں حضرت مرحُوم کو لوگ عموماً شیخ مُحمدّ اقبال کہتے تھے اور کسی کو اندازہ نہ تھا کہ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد اقبال ان مراتب عالیہ پر پہنچنے والے ہیں جو صرف ممتاز علمی شخصیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس وقت میں اپنی عُمر کے تیرھویں مرحلے میں تھا۔
میں مشن ہائی سکول جالندھر میں تعلیم پا رہا تھا۔ جالندھر اگرچہ بہت پرانا شہر تھا لیکن وہاں دوسرے شہروں کی سرگرمیوں کے متعلق اطلاعات کمتر ہی پہنچتی تھیں۔ البتہ غلام پہلوان اور کیکر سنگھ پہلوان کی کشتیوں کے متعلق بہت سی کہانیاں سنی جاتی تھیں۔ یہ عرض کرنا مشکل ہے کہ وہ سب کی سب سچی تھیں یا ان میں رنگ آمیزی بھی راہ پا گئی تھی۔
حضرت علامہ مرحوم سے رسمی تعارف یوں ہوا کہ مسلمانانِ جالندھر نے اپنی تعلیمی مساعی کا آغاز ایک اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس کے قیام سے کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ مختلف مقامی سکولوں میں تعلیم پانے والے مسلمان نونہالوں کی تربیت اسلامی اُصول پر کی جائے۔ کسی سکول کے بورڈنگ ہاوس میں ایسا کوئی انتظام مُہیا نہ تھا، اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
میں مشن ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں رہتا تھا۔ پھر اسلامیہ بورڈنگ ہاوس میں منتقل ہو گیا۔ اس لیے کہ اس کا فاصلہ ہمارے سکول سے صرف ایک فرلانگ تھا۔ اور اتنا ہی فاصلہ اس زمانے کے گورنمنٹ ہائی سکول کی عمارت سے تھا۔ غالباً انھی دو بڑے سکولوں کے مسلم طلبہ کے لیے اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس قائم کیا گیا تھا اس کی عمارت دونوں سے قریب رکھنے کا راز بھی غالباً یہی تھا۔ وہاں منتقل ہونے کا ایک زائد محرک یہ ہوا کہ اس کے پہلے سپرنٹنڈنٹ میرے ایک رشتہ دار تھے۔
(۲)
میں بورڈنگ ہاؤس میں پہنچا تو طلبہ کے علاوہ وہاں ایک ویکسی نیٹر بھی مقیم تھا، جس نے بورڈنگ ہاؤس میں قیام کی خاص اجازت لے لی تھی۔ اس کا وطن لاہور تھا۔ موسم سرما کا بڑا حصّہ وہ اپنے رفیقوں کے ساتھ دیہات میں پھر پھر کر چیچک کے ٹیکے لگاتا۔ گرمیوں میں عموماً دفتری کام کرتا، نام یاد تو نہیں لیکن ہم انھیں شاہ صاحب یا شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے۔
ان کے پاس کچھ کتابیں اور کچھ رسالے تھے۔ ان میں انجمنِ حمایت اسلام لاہور کے سالانہ اجلاسوں کی کارروائیاں بھی تھیں ، جن میں وہ تمام خطبے لکچر اور نظمیں چھاپی جاتی تھیں جو سالانہ اجلاس کی مختلف مجلسوں میں دیے جاتے تھے۔میں نیز دوسرے طلبہ یہ کارروائیاں اور رسالے شاہ جی سے لے کر پڑھا کرتے تھے۔ وہ کبھی کبھی بعض اجلاس کی کیفیت بھی سنایا کرتے تھے ’’اور شیخ مُحمدّ اقبال ‘‘ کی بہت ستائش فرمایا کرتے تھے۔ کہتے تھے وہ بہت بڑے شاعر ہیں اور آج کل ولایت گئے ہوئے ہیں۔
میں نے ان کارروائیوں میں اقبال کی نظمیں خصوصیت سے پڑھیں لیکن تیرہ سال کے بچے کو جس کا علم فارسی اور اُردو کی محض ابتدائی کتابوں تک محدود تھا ان نظموں کی بلند حیثیت کا کیا اندازہ ہو سکتا تھا ؟ تاہم اقبال سے سمعی تعارف کی ابتدا اب تک لوح ذہن پر بالکل تازہ ہے۔
اسی زمانے میں ایک موقع پر شیخ عبدالقادر مرحُوم، جو ولایت سے بیرسڑی کی سند لیکر تازہ تازہ آئے تھے، جالندھر تشریف لائے اور انھوں نے اسلامیہ بورڈنگ ہاوس کو بھی اپنے قدوم سے مشرف فرمایا۔ طلبہ نے شاہ جی کی انھی کارروائیوں سے چودھری خوشی مُحمدّ مرحُوم کی نظم کے چند اشعار لیے اور ایک آدھ شعر میں ترمیم کر کے اسے شیخ عبدالقادر مرحُوم کے استقبال کے لیے موزوں بنا لیا۔ حالانکہ وہ موزوں نہ تھی بایں ہمہ اسے اس شان سے پڑھا، گویا وہ چودھری خوشی مُحمدّ مرحُوم نے اسی تقریب کے لیے کہی تھی جس کا انتظام ہم نے شیخ عبدالقادر مرحُوم کے لیے کیا تھا۔عہدِ طفلی کی نیرنگیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔
(۳)
میٹرک پاس کر کے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آیا تو اقبال کی ذاتِ گرامی کے متعلق نسبتاً زیادہ معلومات حاصل ہوئیں۔یہاں بعض مجلسوں میں ان کی زیارت سے بھی قلب و نظر نے بقدرِ استطاعت کسب فیض کیا۔
اقبال کا کلام خود اقبال کی زبان سے پہلی مرتبہ انجمنِ حمایت اسلام کے اس سالانہ اجلاس میں سُنا جو ریواز ہوسٹل کے صحن میں منعقد ہوا تھا۔۱۹۱۱ء میں ریواز ہوسٹل کے صحن میں ایک پختہ راستہ شرقاً غرباً اور دوسرا شمالاً جنوباً بنا ہوا تھا جس سے صحن چار مربعوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ داخلے کے پھاٹک کے دائیں جانب جو آخری مربع ہے اس میں سٹیج کا انتظام کیا گیا تھا۔ باقی صحن اور چاروں طرف کے برآمدوں نیز داخلے کی جانب کی دوسری منزل کے برآمدے اور چھتوں پر بھی حاضرین موجود تھے۔ اقبال نے اس اجلاس میں شکوہ پڑھا تھا۔اس نظم کے کچھ حالات ہم اپنے استاد مکرم خواجہ دل مُحمدّ مرحُوم سے سُن چکے تھے۔جو وقتاً فوقتاً حضرت علامہ اقبال ؒ سے ملتے رہتے تھے۔بلکہ انھوں نے اس نظم کے کچھ شعر بھی سنائے تھے۔جن میں سے ایک یہ تھا۔ ؎
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلالِؓ حبشی رکھتے ہیں
اقبال ؒ نے پہلے ایک قطعہ سُنایا ، پھر شکوہ پڑھا۔ جن کاغذوں پر وہ اپنے قلم سے نظم لکھ کر لائے تھے وہ نواب ذوالفقار علی خاں مرحُوم رئیس مالیر کوٹلہ نے ایک سو روپے میں خرید کر انجمن کی نذر کر دیے تھے اور ۱۹۱۱ء میں ایک سو روپے آج کل کے ۱۰دس ہزار کے برابر سمجھنے چاہییں۔
اقبال ۱۹۰۵ء میں ولایت گئے تھے اور اس کے بعد پہلی مرتبہ انجمن کے اجلاس میں نظم سُنانے کے لیے آئے تھے۔ اس لیے مختلف سمتوں سے صدائیں بلند ہوئیں کہ معمول کے مطابق نظم گا کر پڑھی جائے۔ اقبال نے کہا کہ یہ نظم گا کر نہیں پڑھی جا سکتی۔ میں جس طرح پڑھتا ہوں آپ مہربانی فرما کر اسی طرح سُن لیں۔علمی و ادبی صلاحیت کا پیمانہ اس زمانے میں بھی چنداں قابلِ ذکر نہ تھا۔لیکن پورا شکوہ اقبال کی زبان سے سُنا تو دل کی عجیب کیفیت تھی۔ اور یہ احساس بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ اقبال نے جس طرح نظم پڑھی اس کے پڑھنے کا احسن طریقہ وہی تھا بلکہ اگر اسے تحت اللفظ نہ پڑھا جاتا اور آواز کے نشیب و فراز سے اس کے مختلف نکتے واضح نہ کیے جاتے تو نظم کی حقیقی حیثیت نمایاں نہ ہو سکتی۔
(۴)
لاہور پہنچ کر سخن شناسی اور سخن فہمی کا ذوق خاصا فروغ پذیر معلوم ہوتا تھا لیکن اقبال کے ساتھ براہِ راست شناسائی پیدا کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اگرچہ سنتا رہتا تھا کہ وہ بے حد شفیق ہیں۔ جو بھی ان کی خدمت میں پہنچ جائے، اس سے بے تکلف باتیں کرتے ہیں ، لیکن ان کی عظمت کا تصور دل و دماغ پر اس طرح چھایا ہوا تھا کہ ان کے قریب پہنچتے ہی ہمت جواب دے دیتی تھی۔ بعض اوقات اتفاقیہ ان سے ملاقات بھی ہو جاتی تھی مگر اس طرح کہ چار چھ بزرگ اور چند طالب علم بلا قصد و ارادہ ایک مجلس میں جمع ہو گئے اور دوسرے سے رسمی تعارف کے بغیر باتیں کرتے رہے۔
مثلاً ایک مرتبہ ہم چار پانچ طالب علم مولانا ظفر علی خاں مرحُوم سے ملنے کے لیے نکلے وہ اس زمانے میں شاہ مُحمدّ غوثؒ کے پاس ایک نو تعمیر عمارت میں رہتے تھے جس کی دوسری اور تیسری منزل انھوں نے کرایے پر لے رکھی تھی۔ ہم دوسری منزل میں پہنچے تو مکان کے صحن میں مولانا ظفر علی خاں بیٹھے تھے مغرب کی نماز ہو چکی تھی۔ عشا کی اذان ابھی نہیں ہوئی تھی۔ مولانا سے تھوڑے فاصلے پر اقبال ؒ بھی تشریف فرما تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اقبال نے شلوار پہن رکھی تھی۔ سفید قمیص اُوپر چھوٹا کوٹ ، سَر پر لنگی بندھی۔ ہاتھ میں چھڑی تھی اس زمانے میں وہ انار کلی لاہور میں رہتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ شام کے وقت ٹہلتے ٹہلتے مولانا ظفر علی خاں سے ملنے کے لیے آ گئے تھے۔
ہمارے سامنے انھوں نے جو کچھ فرمایا اس کا مفاد یہ تھا کہ ظفر علی خاں آپ کے اخبار میں کان پور کے فلاں صاحب (ایک شاعر کا نام لیا جسے میں حذف کر رہا ہوں ) کی جو لمبی لمبی نظمیں چھپتی ہیں بعض اوقات خیال آتا ہے کہ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لوں اور کان پور پہنچ کر ان کے پیٹ میں چھُرا گھونپ دُوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اس شخص کو ختم کرنے کے لیے کان پور تک تھرڈ کلاس کا کرایہ خرچ کرنا بھی روپے کا ضیاع ہو گا۔
قطعاً شبہہ نہیں کہ اس شاعر کی نظمیں بہت معمولی ہوتی تھیں اور عموماً زمنیدار کا پورا پہلا صفحہ گھیر لیتی تھیں۔ حضرت علامہ کے ارشاد کا مقصد یہ تھا کہ اس قسم کی نظمیں اخبار میں نہ چھپنی چاہییں۔ لیکن اس زمانے میں خبریں اور مضمون زیادہ نہیں ہوتے تھے اور اخبار نویس کا اوّلین مقصد یہ ہوتا تھا کہ اخبار کے صفحات جلد سے جلد پُر ہو جائیں۔
(۵)
دوسرے سال (۱۹۱۲ء میں ) انجمنِ حمایت اسلام کا سالانہ جلسہ اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ میں ہوا۔ اس زمانے میں برانڈرتھ روڈ کے ساتھ کوئی عمارت نہ تھی۔ احمد یہ بلڈنگس سامنے نظر آتی تھی اور وہاں کے نوجوان بھی کھیلنے کے لیے اسلامیہ کالج کی گراؤنڈ میں آ جاتے تھے۔عام جلسے بھی عموماً اسی گراؤنڈ میں ہوتے تھے۔دو چار سو آدمی گھاس پر آ کر بیٹھ جاتے تھے۔ اور تقریریں کرنے والوں کو جو کچھ سُنانا ہوتا تھا سنا دیتے تھے۔ جس طرف مبارک مسجد ہے اس طرف دو عمارتیں تھیں۔ ایک کالج لائبریری اور دوسری کالج کے جمنیزیم کی عمارت، گراؤنڈ خاصی کھلی تھی حبیبیہ ہال کے ساتھ سٹیج کا انتظام کیا گیا تھا۔ آگے خاصی دُور تک قناتیں اور شامیانے لگے تھے۔ مختلف اطراف میں دُکانیں بھی تھیں اور لوگ حسبِ ضرورت ٹہل بھی لیتے تھے۔برانڈرتھ روڈ کی طرف سے جلسہ گاہ کے اندر آنے کا دروازہ اس گوشے میں تھا جہاں برانڈرتھ روڈ سے اُترتے تھے اور اس طرف اب انجمن کے دفاتر ہیں اس گوشے سے سٹیج تک راستہ بنا دیا تھا۔ حضرت علامہ اقبال نظم پڑھنے کے لیے اسی راستے سے آئے تھے۔ سفید شلوار قمیص، سیاہی مائل گرم کوٹ اور سرپرہارڈ تُرکی ٹوپی تھی۔اس کے بعد بھی انجمن نے دو تین سالانہ اجلاس اسی مقام پر منعقد کیے مگر جیسا عالی شان اجلاس ۱۹۱۲ء کا تھا ویسے بہت کم اجلاس ہوئے ہوں گے۔
اس سال حضرت علامہ نے شمع اور شاعر پڑھی تھی اس میں بعض واضح پیش گوئیاں ہیں جو خدا کے فضل سے پوری ہو چکی ہیں۔ لیکن ۱۹۱۲ء میں میرے علم کی حد تک کسی کو احساس بھی نہ تھا یہ نظم پیش گوئیوں پر مشتمل ہے۔خود میری حالت بھی عام اصحاب سے مختلف نہ تھی حضرت علامہ کی نظم کے سلسلے میں ایک جھگڑا رُو نما ہوا۔ انجمن کے اجلاسوں کی صدارت کے لیے وہ اصحاب تجویز کیے جاتے تھے جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقم فراہم ہو سکے۔ اتفاقیہ اس سال دو ایسے اصحاب تھے جن کے ذریعے بڑی رقم وصول ہونے کا امکان تھا اور وہ دونوں اصرار کر رہے تھے کہ اقبال کی نظم ان کی صدارت میں ہو۔ آخر اس مشکل کا حل یہ نکالا گیا کہ ان دونوں کی صدارتیں یکے بعد دیگرے ہوں شمع اور شاعر کے پہلے چھ بند ایک صدر کے اجلاس میں پڑھے جائیں۔ پھر علامہ کو کچھ وقت سستانے کے لیے مل جائے اور باقی چھ بند دوسرے کی صدارت میں پڑھے جائیں۔ اسی لیے اقبالؒ نے ابتدا میں یہ قطعہ پڑھا تھا۔
ہم نشین بے ریایم ازرہِ اخلاص گفت
کاے کلام تو فروغ دیدۂ بر ناوپیر
درمیان انجمن معشوق ہر جائی مباش
گاہ باسُلطان باشی گاہ باشی بافقیر
گفتمش اے ہم نشیں ، معذورمے دارمِ ترا
درطلسم امتیاز ظاہری ہستی اسیر
من کہ شمع عشق در بزم جاں افروختم
سو ختم خود را وسامان دوئی ہم سوختم
اس میں سُلطان سے مُراد مرزا سُلطان احمد تھے جو پہلے اجلاس کے صدر تھے۔ اور فقیر سے مُراد فقیر افتخار الدین تھے جو لاہور کے ایک ممتاز خاندان کے رُکن اور اس دور کے ممتاز عہدیدار تھے۔
(۶)
شمع اور شاعر مولانا ظفر علی خاں مرحُوم نے اپنے پریس میں چھپوا دی تھی۔دس ہزار کاپیاں چھاپی گئی تھیں اور ہر کاپی کی قیمت خلاف معمول آٹھ آنے رکھی گئی تھی۔مولانا ظفر علی خاں نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اس طرح نظم کی کاپیاں بک جانے سے پانچ ہزار روپے وصول ہوں گے اور یہ رقم ڈاکٹر اقبال کے حوالے کر کے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تبلیغ اسلام کے لیے جاپان چلے جائیں۔
یہ نظم بھی پوری کی پوری میں نے اقبال کی زبان مُبارک سے سُنی۔ اس کے بعد میری طالب علمی کے زمانے میں دو اجلاس اور ہوئے۔ ایک میں متفرق قطعات کے علاوہ وہ مزاحی قطعے پڑھے گئے جن کا نام خود حضرت علامہ نے رگڑا تجویز کیا تھا۔لیکن بعد میں وہ اکبری اقبال کے نام سے معروف ہوئے کیونکہ ان میں مزاح کا رنگ غالب تھا۔ دوسرے اجلاس میں پہلے تقریر فرمائی، پھر وہ نظم سُنائی جس کا مطلع ہے۔
کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
مجھے اب تک یاد ہے کہ حضرت علامہ مرحُوم نے منتظر کے ظ کے مفتوح ہونے پر خاص زور دیا ہے اور فرمایا تھا اسے منتظرِ نہیں منتظَر پڑھا جائے یعنی وہ حقیقت جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ آخر میں مثنوی اسرارِ خودی کے تمہیدی مطالب میں سے پندرہ بیس اشعار پڑھے۔ اس وقت تک یہ مثنوی غالباً مکمل نہیں ہوئی تھی۔
(۷)
میں مئی ۱۹۱۵ء میں بی۔اے کا امتحان دے کر لاہور سے چلا گیا اور ساڑھے چھ سال بعد نومبر ۱۹۲۱ء میں اخبارنویسی کے لیے آیا۔ اس وقت ملک کے حالات میں بنیادی تبدیلی آ چکی تھی۔ ترکِ موالات کی تحریک زوروں پر تھی میں زمیندار سے وابستہ ہو گیا تھا،لیکن والدہ نے اجازت نہ دی اور میں نے دفتر زمیندار میں معذرت لکھ بھیجی۔ اتفاق سے اخبار ضبطی ضمانت کے باعث کچھ عرصے کے لیے بند ہو گیا۔ جب اس کے از سرِ نو اجرا کا انتظام ہوا تو شفاعت اللہ خاں مرحُوم جو اس زمانے میں زمیندار کے مہتمم عمومی تھے،مولانا مُرتضیٰ احمد خاں میکش مرحُوم کے ساتھ میرے گاؤں پہنچے جو جالندھر شہر سے پانچ میل جانب جنوب تھا۔ میری والدہ کو یقین دلایا کہ مہر کو رسمی طور پر اخبار سے کوئی تعلق نہ ہو گا۔ اسے بالکل الگ رکھا جائے گا۔ یوں میرے لیے اوائل فروری ۱۹۲۲ء میں مستقل طور پر لاہور آنے اور اخبار سے وابستہ ہو جانے کا موقع ملا۔ اس زمانے میں حضرت علامہ مرحُوم انار کلی بازار کی ایک وسیع عمارت کے بالائی حصّے میں رہتے تھے۔
(۸)
یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم کالج کے زمانے میں میرے نہایت عزیز دوستوں میں سے تھے۔ وہ تعلیم مکمل کر چکے تو نواب سر ذوالفقار علی خاں مرحُوم نے چودھری صاحب کو اپنا سیکرٹری بنا لیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں چودھری صاحب نے اپنی غیر معمولی دُور اندیشی ، اصابتِ رائے اور خلوص و دیانت کی برکت سے ایسی حیثیت حاصل کر لی تھی کہ نواب صاحب مرحُوم کے ہاں ایک معزز رکنِ خاندان کے درجے پر فائز ہو گئے اور نواب صاحب، کوئی کام چودھری صاحب سے مشورہ کیے بغیر نہیں کرتے تھے۔ اس زمانے میں حضرت علامہ مرحُوم قریباً روزانہ نواب صاحب کے ہاں جاتے تھے۔ اس طرح حضرت علامہ اور چودھری صاحب کے درمیان بھی گہرے روابط پیدا ہو گئے۔ میں دوسرے اصحاب کے علاوہ چودھری صاحب مرحُوم سے بھی وقتاً فوقتاً ملتا رہتا تھا۔
ایک روز شام کے وقت میں شفاعت اللہ خاں مرحُوم اور مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش مرحُوم گول باغ میں سیر کر رہے تھے۔ لوہاری دروازے اور شاہ عالمی دروازے کے درمیان اتفاقیہ چودھری مُحمدّ حسین مل گئے۔ شفاعت اللہ خاں مرحُوم نے اچانک چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم سے فرمائش کر دی کہ حضرت علامہ کی کوئی ایسی نظم سنائیے جواب تک کہیں چھپی نہ ہو۔چودھری صاحب نے مندرجہ ذیل چار شعر سُنائے:
یوں موج پریشاں خاطر نے پیغام لب ساحل کو دیا
ہے دُور وصالِ بحر ابھی تو دریا میں گھبرا بھی گئی
عزت ہے محبت کی قائم اے قیس حجابِ محمل سے
محمل جو گیا عزت بھی گئی، غیرت بھی گئی لیلیٰ بھی گئی
کی ترک تگ و دو قطرے نے تو آبروئے گوہر بھی گئی
آوارگیِ فطرت بھی گئی اور کشمکشِ دریا بھی گئی
نکلی تو لبِ اقبالؔ سے تھی، کیا جانیے کس کی تھی یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی
اس کا شعر یعنی:
اے بادِ صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمت بیچاری کے، دیں بھی گیا دنیا بھی گئی
یا تو اس وقت چودھری صاحب کو یاد نہ آیا یا انھوں نے سُنانا ضروری نہ سمجھا۔موچی دروازے سے آگے بڑھے تو چودھری صاحب چلے گئے۔ ہم دفتر زمیندار میں پہنچ گئے جو دہلی دروازے کے باہر اس وسیع عمارت کے بالائی حصّے میں تھا جسے ’’جہازی بلڈنگ‘‘ کہتے تھے۔ ہم یعنی میں اور میکش مرحُوم دفتر ہی میں رہتے تھے۔ راستے میں بھی چودھری صاحب کے سنائے ہوئے شعر ہماری گفتگو کا موضوع بنے رہے اور میں گفتگو کے دوران میں بعض شعر پڑھتا بھی رہا۔
(۹)
دفتر میں پہنچ کر شفاعت اللہ خاں مرحُوم نے کہا کہ جو شعر سُن کر آئے، ہو ایک کاغذ پر لکھ دو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔کہ اچھے شعر ایک مرتبہ بھی دل جمعی سے سُن لیتا تو ذہن میں بدستور تازہ رہتے تھے۔ میں نے حافظے پر زور ڈال کر چاروں شعر اسی ترتیب سے لکھ دیے جس ترتیب سے سنے تھے اور اگلے روز وہ زمیندار میں چھپ گئے۔مجھے معلوم نہ تھا کہ بلا اجازت شعر چھاپنا نامناسب ہے۔ دوسرے روز دوپہر کے وقت چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم دفتر زمیندار میں آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے یہ شعر کہاں سے لیے ؟ میں نے کہا کہ آپ ہی نے تو کل شام کو سنائے تھے۔ شفاعت اللہ خاں کے اصرار پر میں نے لکھ دیئے۔چودھری صاحب نے فرمایا :چلو میرے ساتھ۔ میں ان کے ساتھ ہولیا۔اور ہم حضرت علامہ مرحُوم کے دولت کدے پر پہنچ گئے۔ وہ اس وقت انار کلی میں رہتے تھے۔جہاں وہ ۲۳جولائی ۱۹۰۸ء سے مقیم تھے۔
میں اس مکان میں پہلی مرتبہ گیا تھا۔ میں خاصا گھبرایا ہوا تھا۔اس لیے کہ آشکار ہو گیا تھا۔ اس حاضری کی حیثیت ایک لحاظ سے پیشی کی ہے، سیڑھیاں چڑھ کر ہم جس کمرے میں پہنچے تھے،حضرت علامہ وہاں ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔ سیڑھیوں کے قریب جو کرسی تھی، اس پر مجھے بٹھا دیا گیا۔ چودھری صاحب میرے بائیں جانب ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔ پھر حضرت علامہ مرحُوم سے مخاطب ہو کر کہا:مُجرم کو پکڑ لایا ہوں۔ یہ سُن کر حضرت علامہ نے مجھ سے پوچھا: آپ نے یہ شعر کہاں سے لیے؟میں نے پورا واقعہ من و عن بیان کر دیا۔یعنی کل شام کے وقت اتفاقیہ چودھری صاحب گول باغ میں مل گئے تھے۔ شفاعت اللہ خاں نے ایسے شعر سُننے کی فرمائش کی جو کہیں چھپے نہ ہوں۔ چودھری صاحب نے چار شعر سُنا دیے۔ ہم دفتر میں پہنچے تو شفاعت اللہ خاں نے کہا کہ جو شعرا بھی سنے ہیں ، انھیں کاغذ پر لکھ دو۔ میں نے لکھ دیے۔ اس کے سوا میرا کوئی قصور نہیں۔
یہ سُن کر حضرت علامہ مرحُوم نے فرمایا! آپ سچ کہتے ہیں ؟ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ غالباً حضرت علامہ کو میری گزارش کا یقین نہیں آیا۔ میں نے عرض کیا کہ واقعہ تو یہی ہے۔ میں اچھا شعر سُن لیتا ہوں تو مجھے عموماً نہیں بھُولتا، میں اور تو کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتا، آپ چاہیں تو اور شعر سُنا کر میرا امتحان لے لیں۔
یہ جواب سُن کر حضرت علامہ کے چہرۂ مُبارک پر تبسم کی ہلکی ہلکی لہریں نمودار ہو گئیں اور صرف یہ فرمایا: یہ حافظہ تو بڑا خطرناک ہے۔
یہ حضرت علامہ مرحُوم سے پہلا براہِ راست تعارف تھا۔ اس مکان میں پھر ایک مرتبہ سالک مرحُوم کے ساتھ گیا تھا۔ اس وقت حضرت علامہ مرحُوم نے ایک بڑا رجسٹر لے کر پیام مشرق کی نظمیں سنائی تھیں لیکن ان میں سے مجھے اب کچھ یاد نہیں۔ صرف یہ یاد ہے کہ رجسٹر حضرت علامہ کے ہاتھ میں تھا اور نظمیں سُناتے وقت انھوں نے عینک لگا لی تھی۔
(۱۰)
جلد ہی وہ انار کلی والے مکان سے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔ ۱۹۲۳ء میں فلیمنگ روڈ اور بیڈن روڈ (جسے دل مُحمدّ روڈ بھی کہتے تھے۔) کے چوک سے قریب ایک مکان میں رہتا تھا۔ چوک کے پاس ہی ایک بلڈنگ تھی جس کے نیچے دکانیں اور اُوپر ایک ہی وضع کے پانچ فلیٹ تھے۔ یہ میرے قیام کے زمانے میں دل مُحمدّ بلڈنگ کہلاتی تھی۔شاید اس لیے کہ ایک مرتبہ خواجہ دل مُحمدّ مرحُوم نے خرید لی تھی۔ پھر فروخت کر ڈالی تھی۔ میں چوک کی طرف سے دوسرے اور میوہ منڈی کی طرف سے چوتھے فلیٹ میں رہتا تھا۔
یہ مکان حضرت علامہ مرحُوم کی میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے بہت قریب تھا۔ شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس جو بلند عمارتیں بن گئی ہیں ، ناپید تھیں اور ایک نیا بازار دل مُحمدّ روڈ سے میکلوڈ روڈ تک نکل آیا ہے، مفقود تھا۔ شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس میکلوڈ روڈ پر ایک میدان سا تھا جس میں دھوبی دن کے وقت کپڑے سکھایا کرتے تھے۔ شام کے وقت میدان خالی ہو جاتا تھا۔ میں اپنے مکان سے نکلتا تو شاہ ابوالمعالیؒ کے پاس کے میدان سے گزرتا ہوا پانچ سات منٹ میں حضرت علامہ مرحُوم کی کوٹھی پہنچ جاتا تھا۔ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم نے قلعہ گوجر سنگھ میں مکان کرایے پر لے لیا تھا جو بعد میں انھوں نے خرید کر از سرنو بنوا لیا تھا۔ وہ بھی آ جاتے تھے۔اس طرح روزانہ قریباً دو دو تین تین گھنٹے کی نشست ہو جاتی تھی۔ حضرت علامہ مرحُوم گفتگو فرماتے۔چودھری صاحب اس میں کبھی کبھی دخل دیتے۔ میں چپ چاپ یہ گفتگو سنتا رہتا۔ مجھ سے کچھ پوچھا جاتا تو جواب دیتا۔ پھر میں بیڈن روڈ (دل مُحمدّ روڈ)پر رمضان بلڈنگ کے ایک مکان میں منتقل ہو گیا، جس کے نیچے بعد میں شفاء الملک حکیم مُحمدّ حسن قرشی نے قومی دوا خانہ قائم کیا۔ گویا حضرت علامہ کی قیام گاہ سے اور بھی قریب ہو گیا۔ حضرت علامہ از راہِ شفقت کبھی کبھی چودھری علی بخش مرحُوم کو بھیج کر خود بلا لیتے تھے۔
(۱۱)
یہ قرب مسلسل کئی سال تک جاری رہا اور حضرت علامہ کی بابرکت صحبت سے استفادے کا موسم بہار یہی تھا۔ میں نے اس دور میں دو تین مرتبہ التزام کیا کہ روزانہ گفتگوؤں کا خلاصہ روزنامچے کے طور پر لکھتا رہوں۔ اسی زمانے میں زبورِ عجم کا آغاز ہوا تھا اور حضرت علامہ مرحُوم عموماً زبور کے تازہ اشعار تنہائی میں مجھے اور چودھری صاحب کو سُنایا کرتے تھے۔ میں گھر پہنچتا تو حافظے پر زور دے کر سُنے ہوئے اشعار لکھ لیتا۔ جو یاد نہ رہتے ان کی جگہ نقطے لگا لیتا۔ یہ کاپی بھی اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ اس میں ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر کلام پر تاریخ درج ہے وہ لازماً اسی روز یا دو ایک روز پیشتر لکھا گیا۔ نیز بعض اشعار کے متعلق حضرت جو کچھ فرماتے، وہ بھی نوٹ کر لیتا۔ اب دیکھتا ہوں تو ان ارشادات سے بعض نظموں کا مفہوم متعین کرنے میں آسانی محسوس ہوئی اور اس طرح اشعار کے مطالب زیادہ واضح ہو گئے۔ یہ سب کچھ اس روزنامچے میں درج کر دیا گیا ہے، جس کی تمہید کے طور پر یہ داستان مرتب کر رہا ہوں۔(۱)
مغرب کے بعد سے دس گیارہ بجے تک یہ صحبت برابر قائم رہتی لیکن کلام سُنانے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوتا جب دوسرے لوگ رخصت ہو جاتے۔ میں نماز مغرب سے کچھ عرصے بعد اجازت مانگتا تو فرماتے کہ ٹھہرو، کچھ کام ہے۔ اس سے اندازہ ہو جاتا کہ کلام سُنائیں گے۔
ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ حضرت پلنگ پر تکیے کے سہارے بیٹھے ہوئے تھے کہ اشعار سُناتے سُناتے بجلی بند ہو گئی۔حضرت بھی خاموش ہو گئے اور ہم بھی خاموش بیٹھے رہے۔ پانچ دس منٹ بعد بجلی از سرِ نو روشن ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں۔ میرے لیے یہ اس امر کا ثبوت تھا کہ جو شعر سنا رہے تھے ان میں خطاب رسُولِ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ بجلی کی روشنی ذرا کم تھی اور ہم میکلوڈ روڈ والی کوٹھی کے برآمدے میں بیٹھے تھے۔ حضرت اشعار کا رجسٹر لے کر بجلی کے عین نیچے جا کھڑے ہوئے اور اسی عالم میں کلام سے مشرف فرماتے رہے۔
ایک مرتبہ مجھے فراغت تھی اور صبح ہی خدمت والا میں پہنچ گیا۔ پھر میں اور حضرت علامہ مسلسل گیارہ گھنٹے تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ جن اصحاب نے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی دیکھی ہے۔ انھیں اندازہ ہو گا کہ اس کا برآمدہ خاصا وسیع تھا۔ اس برآمدے میں کرسیاں تو اِدھر اُدھر ضرور کھسکاتے رہے لیکن اُٹھے نہیں۔ کھانا بھی وہیں کھایا، اور اتفاق یہ کہ اور کوئی شخص آیا ہی نہیں جس سے صحبت اور گفتگو میں خلل پڑتا۔ حالانکہ ان کے ہاں لوگ بکثرت آتے رہتے تھے۔
میں اس زمانے میں حُقہ بہت پیتا تھا۔حُقہ نہ ملتا تو سگرٹ شروع کر دیتا۔ علامہ مرحُوم کے حُقے میں شریک ہو جانے کو خلاف ادب سمجھتا تھا۔ اس وجہ سے میرے حاضر ہوتے ہی علی بخش کو دوسرا حُقہ لے آنے کا حکم دے دیتے۔پھر علوم و حکم اور حقائق و معارف کا بحرِ ذخار جوش میں آ جاتا۔ عُرفی نے جہانگیر کے قصیدے میں کہا تھا۔
لبش جو نوبت خویش از نگا باز گرفت
فتاد سامعہ در موج کوثر و تسنیم
مجھے کم از کم سولہ سال تک اس شعر کا عملی تجربہ وسیع پیمانے پر ہوتا رہا۔ دس سال تک روزانہ اس طرح کئی کئی گھنٹے آب حیات کے جام پے درپے سامعہ کے ذریعے چڑھاتا رہا۔ جب میں مسلم ٹاؤن میں منتقل ہو گیا (۱۴دسمبر ۱۹۳۲ء)تو بُعدِ مکانی کے باعث استفادے کی پہلی حالت یقیناً قائم نہ رہی۔تاہم دوسرے تیسرے روز وقت نکال کر ضرور حاضر ہو جاتا۔ یہاں تک کہ حاضری کا یہ سلسلہ اس وقت بھی بدستور جاری رہا جب وہ جاوید منزل میں منتقل ہو گئے اور میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے میرے لیے جاوید منزل اور بھی دور ہو گئی تھی۔
(۱۲)
میں حضرت علّامہ مرحُوم کے متعلق جو کچھ مختلف اصحاب سے سُنتا رہتا تھا وہ بظاہر خصوصی عقیدت پیدا کرنے کے لیے چنداں ساز گار معلوم نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مجھ عاجز و ہیچ مدان کو بساط قُرب کے تازہ واردوں میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تو اس وقت مذہبی نقطۂ نگاہ سے میری عام حالت وہی تھی جو مرزا غالب کے قرب میں پہنچنے کے وقت خواجہ حالی مغفور کی تھی۔خواجہ حالی یادگار غالب میں لکھتے ہیں :
’’یہ وہ زمانہ تھا کہ مذہبی خود پسندی کے نشے میں سرشار تھے۔ خدا کی تمام مخلوق میں سے صرف مسلمانوں کو اور مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں سے اہل سُنت کو………اور ان میں سے بھی صرف ان لوگوں کو کہ صوم و صلوٰۃ اور دیگر احکام ظاہری کے نہایت تقید کے ساتھ پابند ہوں ،نجات و مغفرت کے لائق جانتے تھے‘‘۔
چند روز حضرت کی خدمت میں گزار کر اندازہ ہوا کہ دین حق کیا ہے اور اس کا مقصود کیا ہے۔ اب احوال ماضی پر نظرِ بازگشت ڈالتے ہوئے زندگی کے اس حصّے پر پہنچتا ہوں تو اپنی نادانی، نا فہمی اور نا کسی پر تعجب ہوتا ہے۔ علم محدود، نظر کوتاہ،دماغ نا پختہ، جس متاع کو سرمایۂ افتخار و امتیاز سمجھ رہا تھا، وہ اس درجہ کاسہ ثابت ہوئی کہ اس کا وجود عدم برابر معلوم ہونے لگا۔ اگر میں کہوں کہ از سرِ نو حلقہ اسلام میں داخل ہوا تو اس پر حیرت نہ ہونی چاہیے۔ پہلا اسلام حقیقتاً رسمی تھا۔ حقیقی اسلام یا رُوح اسلام کی چاشنی سے اب ابتدائی لذت اندوزی کی نوبت آئی۔ سچ ہے منازل ارتقا میں انسان پر ہر قسم کے دور آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایسا انتظام فرما دیا کہ وہی متاعِ کا سد اور مس خام اکسیر کے قریب پہنچی تو فطری صلاحیت کے مطابق کسبِ فیض کر کے ایسی ضرور بن گئی کہ کم از کم اپنے تصور کے مطابق باعث ننگ نہ رہی۔اسی وقت یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ اب تک ان کی ذاتِ گرامی کے ساتھ جو عقیدت تھی وہ ان کے شاعرانہ کمالات کے لیے محض دماغی اور ذہنی خراج تھی۔ اور اس کی حیثیت ایسی شراب کی تھی جو کیف سے یکسر تہی دامن ہو۔ اب قلب و رُوح کی شہادت نے اس عقیدت میں ایک کیفیت پیدا کر دی،جسے الفاظ کا لباس پہنانا میرے لیے ممکن نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے پہلے علمِ دین کے اثرات صرف ذہن و دماغ تک محدود تھے ،اب ان کا سر جوش قلب و روح پر طاری ہو گیا۔ اسی دور میں اندازہ ہوا کہ محض کتابیں دیکھ لینا کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ کسی صاحبِ کمال کی صحبت میں اس علم کو جاندار بنایا جائے۔
حضرت کا سر چشمۂ فیضان ہر لحظہ جو شاں رہتا تھا اور ان کے لبوں پر جو بات آتی تھی، جواہر پاروں سے زیادہ بیش بہا تھی۔ تاہم استفادے کا معاملہ اپنی صلاحیت پر موقوف تھا:
ہر رشحہ بہ اندازہ ہر حوصلہ دارند
مے خانہء توفیق خم و جام نہ دارد
اپنی ہمت کی کوتاہی، صلاحیت کی فرومائیگی اور قوتِ جذب و ہضم کی سطحیت پر کتنی ہی حسرت اور کتنا ہی افسوس ہو۔ تاہم اس ابرِ گوہر بار کی بے نہایت بخششوں سے تنک بخشی کے شکوے کی نوبت کبھی نہ آئی۔ حضرت علامہ کی ذاتِ گرامی ہر فرد کے لیے مرزا غالب کے اس شعر کا ایک بدیع عملی پیکر تھی:
وسعت سعی کرم دیکھ کر سرَتا بسر خاک
گزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہر بار ہنوز
اگر پیمانہ طلب بہ قدرِ شوق و آرزو سرشار نہ ہو سکا تو اس کے لیے صرف اپنی واماندگیوں اور نا رسائیوں کو ذمّہ دار ٹھہرانا چاہیے۔ ساقی کا لطف و کرم تو اولیں لمحے سے آخر تک یکساں دل نواز اور رُوح پر ور رہا۔
ہرچہ ہست از قامتِ نا ساز و بے اندام ماست
ورنہ تشریف تو بر بالائے کس کوتاہ نیست
معاملے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جب تک دولتِ مطلوب ہاتھ نہیں آتی، اس کی طلب چند لمحوں کے لیے بھی چین نہیں لینے دیتی اور جی چاہتا ہے کہ جو لمحہ بھی نصیب ہو اس دولت سے بے تامّل جیب و دامن بھر لینے چاہییں۔ جب دولت دسترس میں آ جائے تو اک گونہ غفلت کا پردہ دل پرچھا جاتا ہے۔ یا سمجھ لیجیے کہ آسودگی سی پیدا ہو جاتی ہے کہ جب چاہیں گے، اس سے خواہش کے مطابق استفادہ کر لیں گے۔ اس کے چھن جانے کا اندیشہ دل سے حرفِ غلط کی طرح محو ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز ہاتھ آ جاتی ہے، تو اسے ہمیشہ کے لیے اپنی سمجھ لیتا ہے اور حادثات روزگار کا بھی اسے کوئی اندیشہ نہیں رہتا۔ اسی غفلت کی بجلیوں نے مجھ سیاہ بخت کا خرمن آرزو بھی پھونک ڈالا۔ جب تک بساطِ قرب میں نہیں پہنچا تھا، آرزو تھی کہ یہ پوچھیں گے وہ پوچھیں گے۔
تو سب کچھ بھول گئے اور محض حضرت کے لطف و کرم کو مجلسِ قُرب کی غرض و غایت سمجھ لیا۔ یعنی بقولِ نظیری:
محروم فقر و توکل دراز دستی در افتد نیست
نشستہ ایم کہ خرما و رافتد زنخیل؟
یعنی ہم خود خرما حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں نہ ہلائیں گے۔ جو کچھ نخل سے گرتا جائے گا، اسی پر قناعت کیے بیٹھے رہیں گے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن آرزوؤں سے بساطِ قُرب میں پہنچا، وہ بقدر ایک فی صد بھی پوری نہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ جو کچھ ہونے والا تھا۔ اس طرح ہو گیا۔ گویا جو کچھ ہم دیکھ رہے تھے وہ حقیقت نہ تھی محض ایک خواب تھا۔
حضرت کے آخری دنوں میں بھی بارہا حاضر ہوا اور گھنٹوں بیٹھا رہا۔ اس زمانے میں کچھ پوچھنے کی ہمّت ہی نہیں پڑتی تھی۔ بار بار یہ خیال دامن گیر ہو جاتا کہ مبادا حضرت سمجھیں ، یہ خلاف عادت سوالات اس لیے کیے جا رہے ہیں کہ میرا آخری وقت آ پہنچا ہے نیز انھیں دوسروں سے باتیں کرتے ہوئے دیکھتے تو وسوسہ بھی نہ ہوتا کہ ہم جلد اس نورانی چہرے سے محروم ہو جائیں گے۔
انتقال سے صرف دو روز پیشتر میں اور سالک مرحُوم حاضر ہوئے۔ حضرت ایک جرمن عالم(۲)سے باتیں کر رہے تھے۔ ہم معمول کے مطابق چپ چاپ ایک طرف بیٹھ گئے۔ ان کی اور جرمن عالم کی باتیں سنتے رہے۔ جرمن عالم کبھی کبھار دو چار لفظ بولتا اور حضرت بے تکلفی سے قریباً مسلسل باتیں کر رہے تھے۔ اس وقت کی گفتگو اور تندرستی کے زمانے کی گفتگو میں قطعاً کوئی فرق نہ تھا۔ ممکن ہے شفاء الملک حکیم حبیب الرحمن مرحُوم جیسا حاذق کوئی فرق بہتر طریق پر محسوس کر لیتا جنھوں نے کراچی کے ریڈیو سے مولانا سید سلیمان کی تقریر ڈھاکے میں سن کر لکھا تھا کہ آپ کی آواز ضعفِ قلب کا اعلان کر رہی ہے، اس کا کوئی تدارک کر لیجیے۔
جرمن عالم رُخصت ہو گیا تو حضرت کے ارشادات کا جواب ہم زیادہ مختصر الفاظ میں دیتے رہے اس لیے کہ احساس یہ تھا حضرت کسی قدر تھک گئے ہیں۔چنانچہ ہمارے بیٹھے بیٹھے علی بخش پیغام لایا ’’ماسٹر صاحب ‘‘ (ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی کو ان کی ابتدائی مشغولیت کی بنا پر حضرت علامہ ماسٹر جی ہی کہتے تھے)اپنے چند دوستوں کے ساتھ سلام کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ علی بخش کے ہاتھ میں لپٹے ہوئے کاغذ بھی تھے، جو ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے اسے دیے تھے۔ دراصل ڈاکٹر عبد اللہ ولایت میں رہ کر تاج محل پر اپنی کتاب مرتب کر کے لائے تھے اور نقشے بھی اسی کتاب کے تھے۔ تھکاوٹ ہی کے باعث حضرت نے فرمایا کہ انھیں سلام پہنچائیے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ وہ آ گئے، پھر کسی وقت ان سے باتیں ہوں گی۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ وہ اس وقت کسی مزید ملاقات کی زحمت برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے بھی اجازت چاہی یہ سب کچھ دیکھ چکے تھے لیکن دل اس حالت میں یہ یقین کر لینے پر آمادہ نہ تھا کہ مفارقت کی ساعت اتنی قریب آ گئی ہے۔
مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ رات گزری، دن گزرا۔ دوسری رات کا بیشتر حصہ انتہائی تکلیف میں گزار کر ہماری امیدوں ،آرزوؤں اور مسرتوں کا آفتاب جہانتاب طلوع آفتاب کے قریب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
کل من علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربکّ ذوالجلال والاکرام
شفاء الملک حکیم مُحمدّ حسن قرشی آخری دور میں ان کے معالج اور طبیّ مشیر رہے۔ وہ فرماتے تھے کہ قلب ضعیف ہو گیا ہے، نبض دقیق و ضعیف ہے، دل کسی قدر پھیل گیا ہے اور جگر بھی بڑھ گیا ہے۔ پاؤں پر ورم آ گیا تھا۔ بائیں شانے پر درد ہوتا تھا۔ آخری روز ان کے تھوک میں خون آنے لگا تھا جو اس امر کی علامت تھا کہ دل کی طرف جانے والی رگ میں جو رسولی ہے،وہ پھٹ گئی ہے۔یہ علامت بھی خاصی خطرناک تھی۔
وفات سے خاصی دیر پہلے انھوں نے خود بھی دل کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ آپ اس کی خوب دیکھ بھال کریں۔ اور رضی دانش کا یہ شعر بہ تصرف قلیل پڑھا تھا:
تہنیت گوئید مستاں راکہ سنگ محتسب
بر ’’دِل ‘‘ما آ مد و ایں آفت از مینا گذشت
رضی دانش نے غالباً دوسرے مصرعے میں دل کی جگہ ’’سر‘‘ لکھا ہے لیکن حضرت نے شعر یونہی پڑھا اور میرے نزدیک اس تصرف سے شعر کا رُتبہ بدر جہا بلند تر ہو گیا۔
آخری بیماری کے ابتدائی آثار۱۹۳۳ء ہی میں شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ رفتہ رفتہ پریشان کن صورت اختیار کر لے گی۔ چودھری مُحمدّ حسین مرحُوم کے ساتھ اس موضوع پر کئی مرتبہ باتیں ہوئیں وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے کنبے کے افراد کی عمریں خاصی لمبی ہوتی ہیں حضرت کے والد ماجد نے۹۵سال کی عمر پائی ان کی والدہ ماجدہ کی وفات۷۸سال کی عمر میں ہوئی۔ برادر اکبر ان سے پندرہ سال بڑے ہیں اور بفضل اللہ ان کی صحت اچھی ہے لیکن وہ بھائی سے بھی دو سال پیشتر رخصت ہو گئے اور خاندان کی یہ رسم قائم رکھی کہ چھوٹا بھائی بڑے سے پیشتر وفات پاتا ہے۔ شیخ عطا مُحمدّ مرحُوم (حضرت کے بڑے بھائی ) وفات کی خبر پا کر سیالکوٹ سے آئے تھے تو آہ بھر کر کہا تھا کہ مجھے یقین سا تھا، اس مرتبہ خاندان کی یہ رسم بدل جائے گی، افسوس کہ نہ بدلی۔
میں ۲۱کی صبح کو معمول کے مطابق بہت سویرے سیر کو نکل گیا تھا۔ واپس آ کر نہا رہا تھا کہ چودھری مُحمدّ حسین پھاٹک میں داخل ہوئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ کوئی بہت ہی ضروری کام معلوم ہوتا ہے۔ ذرا قریب آئے تو فرمایا: دیکھو بھئی، جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ اب جلد تیار ہو جاؤ۔ یہ الفاظ کان میں پہنچے اور جسم سَر سے پاؤں تک سن ہو گیا۔ دو چار منٹ میں کپڑے پہنے۔ دل و دماغ کی عجیب کیفیت تھی۔ بات منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ اسی حالت میں سالک مرحُوم، چودھری اور میں جاوید منزل پہنچے۔ دن کا بیشتر حصہ حضرت کے عزیزوں اور دوستوں میں گزر گیا جو جمع تھے۔ ایک مرتبہ جسد مبارک کو ذرا سہارا دینے کی ضرورت پڑی۔ میں نے اٹھایا۔ بے جان جسم کا بوجھ تو بہت زیادہ تھا لیکن پورا جسم ریشم کی طرح ملائم تھا۔ شاہی مسجد کے بیرونی احاطے میں مرقد کے لیے جگہ تجویز ہوئی۔ عصر کے وقت میت وہاں پہنچی۔ ہم تو بہت پہلے مرقد پر پہنچ گئے تھے۔ میت کے ساتھ قدم قدم چل کر بازاروں سے گزرتے ہوئے پہنچنا ممکن نہ تھا۔مغرب کے قریب میت پہنچی، اسے قبر میں اتارا، دفن کیا اور واپس ہوئے۔ بعد میں سُنا کہ اہل شہر نے نیز ان بے شمار افراد نے جو آس پاس کے شہروں مثلاً امرتسر، سیالکوٹ، وزیر آباد، گوجرانوالہ وغیرہ سے آ گئے تھے، اصرار کیا کہ انھیں بھی میت کو کندھا دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس غرض سے جنازے کو بانس لگائے گئے تاکہ بہت سے لوگ کم از کم ایک بار ضرور کندھا دینے کی سعادت حاصل کر سکیں۔ یہ اس محبوب وجود کی ہمہ گیر محبوبیت کا ایک کرشمہ تھا، جس نے پوری زندگی خاموشی اور گوشہ نشینی میں گزاری۔ لیکن اس بیش بہا زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں اس نے اسلام مسلمانوں اور انسانیت کی بہبود و فلاح کے سوا کبھی کچھ سوچا ہویا اس کے سوا زبان مبارک پر آیا ہو۔

(ماخوذ : مطالعۂ اقبال کے سو سال ۔۔۔۔ مرتبہ: رفیع الدین ہاشمی، سہیل عمر، وحید اختر عشرت)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post