علاج پرہیز سے بہتر ہے ۔۔۔ انشائیہ : اکبرحمیدی

اکبرحمیدی
اکبرحمیدی
میرا خیال ہے ہم میں سے میرے سوائے بہت ہی کم حضرات نے اس بیحد ضروری سوال پر غور کیا ہو گا کہ جب اللہ میاں نے ہمارے باپ دادا کے شانوں پر سر رکھ دیئے تھے تو پھر ہمارے شانوں پر سررکھنے اور ہمیں زیرِ بار کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟مجھے یقین ہے ہمارے شانوں پر سر رکھ کر اللہ میاں نے فضول خرچی یقیناً نہیں کی بلکہ ایک نہایت ضروری کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے ۱ مجھ سے پہلے چند اور لوگوں نے بھی اس سوال پر غور کیا ہے اور سب کے سب ایک ہی نتیجے پر پہنچے ہیں مرزا غالبؔ نے تو نتیجے کا اعلان بھی کر دیا اور کہا
؎ بامن میا ویز اے پدر فرزنِد آدر رانگرد ہر کسی کہ شُد صاحب نظر مین بزرگان خِوش نکرد
یعنی اے میرے والد مجھ سے مت الجھ آذر کے بیٹے(حضرت ابراہیم)کو دیکھ جس نے باپ دادا کے د ین بت پرستی سے انکار کر دیا تھا۔ اور یہ اس لئے کہ جو کوئی بھی خود سوچنے سمجھنے لگتا ہے اسے باپ دادا کا دین اچھا نہیں لگتا۔ یوں غالبؔ نے باپ دادا کی اندھی پیروی کرنے سے ہی انکار نہیں کیا بلکہ حقیقت میں کلیشے کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے ہمیں یہ کہا ہے کہ آپ بھی اپنے دماغ سے کام لیں اور جو خود سوچیں اور جس نتیجے پر پہنچیں اس پر عمل بھی کریں۔
خود مَیں بھی جب نظر جھکا کر اپنے سرکی طرف دیکھتا ہو ں تو سمجھ لیتا ہوں کہ مجھے الگ سے سر عطا کر کے اللہ میاں نے گویا مجھے یہ کہا ہے کہ اکبر حمیدی پچھلی باتیں (کلیشے ) پچھلے زمانوں کے ساتھ گئیں اب زمانہ آگے نکل آیا ہے اب تم نے نئے زمانوں کے ساتھ چلنا ہے اس لئے خود اپنے دماغ سے سوچنا ہے اور خود نتائج اخذ کرنے ہیں۔ ۱
حاضرین یہ سب کچھ مَیں اس لئے کہہ رہا ہوں تاکہ ایک بڑے کلیشے کی طرف آپ کو متوجہ کروں جواب بہت سال خوردہ ہو چکا ہے۔ ا س میں کبھی شاید تھوڑی بہت صداقت ہو گی مگر اب وقت ایک طویل ترقی کا سفر طے کر کے بہت آگے نکل آیا ہے۔ اب ہمیں ان کلیشوں پر نئے سرے سے غور کرنا ہو گا یہاں مَیں یہ بھی عرض کروں کہ مَیں پہلے بھی آپ کو اس طرف متوجہ کر چکا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ اور متوجہ کرتا رہوں گا جب تک آپ متوجہ ہو نہیں جاتے۔
ڈاکٹر کے ہاں تو آنا جانا سب کا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ مَیں ڈاکٹر کی انتظار گاہ میں بیٹھا تھا کہ اچانک میری نظر سامنے لگے ہوئے اس کلینڈر پر پڑی جس پر کوئی پچیس تیس بیماریاں اور ان کی علامتیں لکھی تھیں۔ انہیں پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ان میں سے ہر بیماری مجھے لاحق ہے کہ ہر ایک کی علامت مجھ میں موجود ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بیماری بھی مجھے لاحق نہیں تھی مگر بیمار پڑ جانے کا ایک خوف سا کلیشے بن کر میری رگ رگ میں اترا ضرور تھا جو صدیوں کے نسلی کلیشے کا رنگ اختیار کر چکا تھا کہ ہم مشرقی اور ترقی پذیر ممالک کے لوگ خوف کے کلیشے میں بُری طرح مبتلا ہیں۔ وہ یہ ہے کہ ہم پر غمگین کیفیت کا شکار ہیں۔ موسیقی تک ہمیں وہ پسند ہے جو غمگین ہے۔ ہمیں کلیشے کی اس قسم پر بھی غور کرنا پڑے گا جس کی طرف کبھی ہمارا دھیان نہیں گیا۔
ان حالات میں مَیں نے ایک نعرہ تخلیق کیا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر کہنے کی بجائے یہ کہا جائے کہ علاج پرہیز سے بہتر ہے ’’ پرہیز علاج سے بہتر ہے ‘‘ میں خوف کا ایسا ہی کلیشے سانپ کی طرح کنڈلی مارے ہمارے خون میں چھپا بیٹھا ہے جو ہر آن اندر ہی اندر ہمیں ڈستا چلا آ رہا ہے۔ لہذا آج سے مَیں یہ کہوں گا کہ علاج پرہیز سے بہتر ہے اس میں ہمت کا اور حالات کا مقابلہ کرنے کا وہ جذبہ موجزن ہے جو انسان کی اصل قوت ہے ہمارے ایک دوست ہیں جو شوگر کے مریض ہیں مگر قلاقند کے مشتاق بھی ہیں ہمیں ایک مرتبہ انہیں قلاقند کے ڈبے میں سر ڈالے قلاقند سے لطف اندوز ہوتے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا کہ’’ انتظار بھائی شوگر کا مرض اور قلاقند کا شوق؟
انہوں نے کہا ’’اکبر بھائی بیمار ہونے کے خوف سے مَیں اپنا شوق کیوں کھو دوں۔ آخر دوائیاں سالی کس کام کے لئے ہیں ؟ اور ڈاکٹروں کا روز گار کیسے چلے گا؟ مَیں زندگی کے لطف اس خوف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لایعنی خوف کی نذر نہیں کر سکتا جو شاید ہی کبھی حملہ آور ہو’‘ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان پر شوگر شاید ہی کبھی حملہ آور ہوئی ہو۔ تو میرا نعرہ ہے علاج پرہیز سے بہتر ہے اور یقیناً بہتر ہے۔ کہ یہی نعرہ ہمیں خوف کے کلیشے سے نجات بخش سکتا ہے جس نے ہمیں مرنے سے پہلے ہی مار رکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر کیوں نہ زندوں کی طرح زندہ رہا جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post