خود کلامی۔۔۔ ایک شیریں دیوانگی : ریاض احمد احسان

ریاض احمداحسان
چیزوں کو بیرونی پرت سے دیکھنے والی ظاہر بین نگاہیں جب راہ چلتے کسی شخص کو خود کلامی کرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو وہ بہ یک جنبش-لب انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ انداز میں نفسیاتی مریض یا دیوانہ قرار دیتے ہوئے ہچکچاتی نہیں—- کیا نفسیاتی مریض اور پاگل ھی خود کلامی کرتے ہیں؟
نہیں ‘ ایسا نہیں …افلاطون ‘ ارسطو ‘ سقراط ‘ ہومر ‘ چاسر ‘ سسرو ‘ ڈیماستھینز ‘ شیکسپئیر ‘ برنارڈ شاہ ‘ برٹرینڈ رسل ‘ ٹوئن بی ‘ ورجینیا وولف ‘ او ہنری ‘ کافکا ‘ گورکی ‘ٹالسٹائی ‘ مائیکل چیخوف ‘ ابن-رشد ‘ رومی ‘ امراؤآلقیس ‘ ابونواس ‘ رازی ‘ غزالی ‘ فردوسی ‘ انوری ‘ سعدی ‘ عطار ‘ خیام ‘ میر ‘مومن ‘غالب ‘ اقبال ‘ فیض اور فراز خودکلامی کے سوز و ساز اور پیچ وتاب سے گزرتے رہے ہیں—— خود کلامی کی اس شیریں دیوانگی کے بطن ھی سے فکری و نظری اور شعری و ادبی شہ پارے جنم لیتے رھے—–
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود کلامی دیوانگی ھے یا ایک تخلیقی عمل؟ میرے نزدیک ہر وہ شخص تخلیق کا جمال جس کی جبلت میں گندھا ھے ، کسی نہ کسی انداز میں دشت _خود کلامی میں آبلہ پائی اور سوچوں کے چمن زار میں گلگشت ضرو کرتا ھے—– بڑی منصوبہ بندی کے لیے بھی ذی شعور انسانوں کو خود کلامی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ھے —– میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا شاعر کے ذہن کے خلوت کدے میں دبے پاؤں کسی خیال کی آمد بھی خود کلامی ھی کا ایک جلوہ ریز عکس نہیں ہوتی۔
جب سازندے کا مضراب ساز کے تاروں کو گدگداتا ھے تو گیت کی شکل میں فضاؤں کے سکوت کو توڑنے والی یہ معصوم اور بے ضرر سی انوکھی تخریب کاری بھی خود کلامی ھی کی ایک شکل ہوتی ھے-
یار لوگ جسے محض خالی خولی دیوانگی قرار دیتے ہیں، میں اُسے ایک شیریں دیوانگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔
جب مصور کا مو قلم کینوس پر کسی تصویر کے خطوط اجاگر کرنے اور خد و خال ابھارنے میں مگن ہوتا ھے تو کون جانے اس وقت مصور کے ذہن میں خود کلامی کی کتنی برقی لہریں دوڑ رہی ہوتی ہیں— کوئی مانے یا نہ مانے حسین و نازنیں خواب اور میٹھے سہانے سپنے بھی تو خود کلامی کا ایک منفرد روپ ہوتے ہیں۔
اکھوے کا پھوٹنا —-کلی کا چٹکنا—- کونپل کا لجانا—- شگوفے کا مسکرانا—- پودے کا پھبکنا——شہد کی مکھی کا پھولوں کی کیاریوں پر دائرہ در دائرہ منڈلانا —- بلبل کا شاخ پر تانیں اڑانا—— چڑیوں کا منڈیروں پر چہچہانا —–شمع کا قطرہ قطرہ پگھلنا——گلاب کا ورق ورق کھلکھلانا——- آمد_بہار پر پتوں کا دف بجانا—— صبا کا صحن چمن کی روشوں پر ناز و ادا سے چلنا——- غنچے کی مسکراہٹ پر شبنم کی آنکھ کا پرنم ہونا—–عالم بے خودی میں ادیب کے قلم کا کاغذ پر رواں ہونا اور تخلیے میں پیشانی یا ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر شاعر کا زیر لب گنگنانا——– یہ سب خو د کلامی کے ایسے دل کش مظاہر اور دلآویز مناظر ہیں جو زندگی ——-روشنی ——–مسکراہٹ اور توانائی کی تخلیق کی عکاسی کرتے ھیں-
ریاض احمد احسان

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post