حیلے رزق بہانے موت : شازیہ مفتی

شازیہ مفتی
شازیہ مفتی
آج پھردوپہر کے بارہ بجے پچھلے برآمدے میں اشتہا انگیز خوشبو پھیل گئ روز کی طرح ۔ اور میں جالی دار دروازہ سے لگی کچھ دیر اس خوشبو کو سونگھتی رہی اندازے لگاتی رہی اور پھر روز کی طرح ہی مالی صاحب کے پاس ٹھنڈے پانی کی بوتل اور گلاس لے کر جابیٹھی ۔ مروتاً انہوں نے ” صلع ماری ” (اب اس کے ہجے کیا ہیں اور کس زبان کا لفظ ہے لیکن انگلش میں آفر offer کہیں گے ۔) خیر مالی صاحب نے صلع ماری اور میں بسم اللہ کرکے ظہرانے میں شامل ہوگئ ۔ امی جان کہیں دیکھ رہی ہوتیں تو ایسا پھٹکارتیں
“اے ننھی کیا نلوا پھٹ گیا ؟ ”
( اب یہ کس زبان کا لفظ ہے یہ بھی نہیں پتہ کیونکہ صرف امی جان کے منہ سے سنا ہے ۔ ایک دو دفعہ میں نے کسی اور کو کہا کہ تمہارا نلوا پھٹ گیا ہے تو اگر ہاتھ کی زد میں آرہی ہوتی تو ایسی چٹکی مروڑ ڈالتیں کہ مارے درد کے لڑائ وڑائ بھول جاتی اور اگر دیکھ رہی ہوتیں تو نظروں ہی نظروں میں کچا چباجانے کی نیت صاف پتہ چلتی ۔ دوران نماز “ہوں ، ہوں ” کی تنبیہہ للکار کی طرح سنائی دیتی ۔ یعنی اتنا یقین ہے یہ کوئی برا لفظ ہے اور جسے صرف امی جان اپنی زبان سے ادا کرسکتی ہیں اور ناچیز کے لیے ہی بولا جائے گا )
مجھے نظام ِ انہضام کا متبادل لگا یہ نلواٰ ۔اور نلواٰ پھٹنا اسے نفسیات دان ایک الجھی ہوئی نفسیاتی بیماری کہ سکتے ہیں اور بڑے بزرگ بد نیتی ، پیٹو پن ۔میرا خیال ہے کہ بچپن میں اس مرض کا شکار ہونے والے بڑے ہوکے زیادہ تر شعبہ سیاست میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں ۔اور اب جتنا بڑا نلوا اتنا ہی زیادہ نیب گزیدہ ۔
خیر بات ہورہی تھی مالی صاحب کے ظہرانے کی ۔ انتہائ لذیذ بکرے کی سری پکی تھی اور اس پر وہیں موجود کیاری سے ہرے دھنیے کے پتے اور نیبو چھڑک کر مالی صاحب تناول فرما رہے تھے اور ہر لقمے کے ساتھ شکر الحمدللہ کہہ رہے تھے ۔میرے لیے بھی ایک منی سی تام چینی کی پلیٹ سجا رکھی تھی ۔ تکلفاً چکھتے چکھتے بھی آدھی خمیری روٹی تو میں نے بھی کھا لی ۔ خیر وہ پہلے ہی چڑیوں بلیوں اور کسی مجھ سے کے لیے ایک روٹی زائد ہی لاتے ہیں ۔
یہ مالی صاحب سرکاری نوکری پر ہیں اور تبادلہ ہوکر ہمارے علاقے میں کچھ ہی عرصے سے آئے ہیں پوری مالی پلاٹون کے ہیڈ اور بہت محنتی انسان ہیں ۔ بارہ بجے کام کرتے ہماری گلی میں آنکلتے ہیں اور پھر یہیں کھانے اور قیلولہ کے بعد دوبارہ کام پر ۔ یہ نہیں کہ صرف مالی صاحب کی نمک خوار ہوں کبھی جب وہ ساتھ ٹیفن نہ لائیں تو پھر جو دال ساگ پکا ہوا اس میں ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں ۔
مالی صاحب کا مینیو روزانہ فرق سے ہوتا ہے کسی دن دیسی مرغ کا شوربہ کسی دن ماش کی دال کسی دن بھنا ہوا گوشت اور کسی دن انڈے پیاز کا خاگینہ ۔
رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور سنتے آئے ہیں کہ منہ بند سیپی میں کیڑے کو بھی وہی رزق پہنچاتا ہے ۔ بیشک میرا رب ہی بہترین رازق ہے ۔
ایک دن سودا سلف لانے کے بعد روز بروز بڑھتی مہنگائ اور سکڑتی اشیاء خرید کو دیکھتے یونہی خیال آیا کہ ہم متوسط طبقے کے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں دسترخوان سادہ کرتے جارہے ہیں تو یہ مالی صاحب کس طرح روز روز اتنے مرغن کھانے لاتے ہیں ۔
ٹن سے دماغ میں گھنٹی بجی اور ایک کہانی یاد آگئی ایک آدمی تھا سستی کا مارا اس نے کہیں سن لیا کہ رازق اللہ ہے وہ اپنے بندے کو کبھی بھی بھوکا نہیں رہنے دیتا ۔ بس جی ایک بڑی نہر کے کنارے جا کر پڑ رہا اللہ کی قدرت صبح ہوئ تو کیلے کے پتّے پر گرما گرم حلوہ پوری رکھا پانی میں بہتا بہتا اس کے قریب آکر جھاڑیوں میں پھنس گیا ۔ موصوف نے اللہ کا شکر ادا کیا پیٹ بھرا اور مزے سے پسر گیا ۔اب جی صبح شام حلوہ پوری مل جاتا آخر ایک دن تجسس سے مجبور ہوا اور نہر کنارے چل پڑا سوچتا ہوا دیکھوں تو یہ کہاں سے آرہا ہے کچھ دور گیا تو کیا دیکھتا ہے ایک آدمی اپنی ٹانگ پر لپٹا کیلے کا پتہ اتار رہا ہے اس میں حلوہ پوری ہے اور پانی میں بہارہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ٹانگ پر پھوڑا ہےجو ناسور بن گیا ہے اب حکیم جی نے علاج بتایا ہے گرما گرم حلوہ پھوڑے پر رکھو اور پوری سے لپیٹ کر اور کیلے کا پتہ باندھ دو کچھ دیر سکائ کے بعد پانی میں بہا دو۔
لیجے رزق تو ملا بغیر محنت کیے لیکن پھوڑے پر بندھا حلوہ پوری ۔
اب یہ مجھے سمجھ نہ آئی کئی دن کس طرح مالی صاحب سے پوچھوں ذریعہ آمدنی ۔
پھر ایک دن بھنے مرغ کی ران چباتے مالی صاحب نے خود ہی انکشاف کیا کہ ان کی بیوی ایک امیر بیگم صاحبہ کے گھر صبح سے شام بس بٹوہ چادر اٹھائے ساتھ ساتھ پھرنے کا کام کرتی ہیں صاحب نے دوسری شادی کرلی ہے اب بیگم صاحبہ ایک پیر سے ” علاج ” کرارہی ہیں تاکہ وہ “کلمونہی سوکن ” کو چھوڑ کر بیوی بچوں کے پاس پلٹ آئیں ۔ پیر جی کے علاج میں ہفتے میں ایک بکرے کی سری ، کالی ماش ، روزانہ کا ایک عدد انڈا، بدھ کے بدھ ایک کالا مرغ اور پیر کے پیر سرخ گوشت صدقہ شامل ہے ۔ مالی صاحب کی بیوی یہ سب گھر لاکر پکاتی ہیں مزے سے سب کھاتے ہیں اور بیگم صاحبہ کی سوکن کی درازی عمر کی دعائیں کرتے ہیں ۔
. . . . . . . . لیجیے یوں لگا جیسے برآمدے میں چلتے کولر سے اٹھتی خس کی خوشبو اور خنک ہوا اڑا کر میری آرام کرسی نہر کنارے لے گئی ہو اور وہاں لوگ اپنے صدقات اتار اتار کر بہا رہے ہوں اور ناچیز لپک رہی ہو ۔
نہایت شرمندگی ہوئی اپنے چٹورپن پر اور افسوس ہوا معصوم سی بیگم صاحبہ پر ۔
شاذیہ مفتی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post