ڈر : یوسف خالد


ڈر ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں کوئی ذی روح جب اپنے وجود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے تو یہ کیفیت اس پہ طاری ہوتی ہے جس کے تحت وہ تکلیف میں مبتلا ہونے لگتا ہے اور ساتھ ہی اس خطرے سے بچنے کی تدبیر کرنے لگتا ہے –
انسان بچپن میں گرنے کے ڈر میں مبتلا ہوتا ہے اس کا مشاہدہ بچے کی اس عمر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ کھڑا ہونے یا چلنے کی کوشش کرتا ہے -تو وہ جس چیز کو سہارے کے لیے پکڑتا ہے اسے بہت مضبوطی سے پکڑتا ہے —
گویا اس کی جبلت میں ڈر کے تحت پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھ دی گئی ہوتی ہے — جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے اس کا واسطہ مختلف حالات سے پڑتا ہے – وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنے لیے جب کچھ دیکھے اور ان دیکھے خطرات سے آگاہی حاصل کر لیتا ہے تو ایک ڈر پال لیتا ہے –ناکام ہونے کا ڈر ،بیمار ہونے کا ڈر ،کسی حادثے کا شکار ہونے کا ڈر اور دیگر کئی قسم کے ڈر اس کے اندر پلنے لگتے ہیں —
انسان اپنی تعلیم اور تربیت کے مطابق ڈر کا مقابلہ کرنے کی تدبیریں کرتا ہے تا کہ اس کی زندگی رواں دواں رہے— ڈر نفسیاتی طور پر انسان کو بہت سے کمزوریوں میں مبتلا کر دیتا ہے اسے پست ہمت بنا دیتا ہے اسے راہِ فرار اختیار کرنے کی طرف لے جاتا ہے — اور انسان کی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے — لیکن اس سب کے با وجود اگر اس کے پاس مناسب تعلیم ہو تو وہ اسی ڈر کو اپنی طاقت بناتا ہے اور بہتر پیش بندی کرنے کا عادی ہو جاتا ہے ہر لمحہ با خبر رہتا ہے نئی معلومات حاصل کرتا ہے – اور ارد گرد پر گہری نظر رکھتا ہے –ڈر کا یا مثبت پہلو انسانی ترقی کا راز ہے — جنگلوں میں انسان ڈر میں مبتلا نہ ہوتا تو تہذیبی و تمدنی ترقی محض خواب ہی رہتی –
یوسف خالد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post