پرندے امن و شانتی کے پیامبر


از: ناصر محمود اعوان
ہم ہزاروں سالوں سے پرندوں کے قربت کے عادی یونہی تو نہیں ۔کچھ تو راز ہے اس میں۔
ہم غور نہیں کرتے لیکن پرندوں کی موجودگی میں ایک عجیب قسم کے تحفظ کا احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ پرندوں کی موجودگی میں ہم خود کو خوف کے سایوں سے آزاد محسوس کرتے ہیں۔ جو لین ٹریژرکے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ :”پرندوں کی ہزاروں سال کی قربت سے انسان نے یہ سبق سیکھا ہے کہ جہاں پرندے چہچہاتے ہیں وہاں امن اور شانتی ہوتی ہے۔“
شاید یہی وجہ ہے کہ انسان نے امن اور شانتی کی علامت بھی ایک پرندے کو بنارکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ طوفان کے بعد حضرت نوح ؑ نے فاختہ کو حکم دیا تھا کہ جاﺅ اور دیکھو سیلاب کا پانی اتر گیا؟ خشکی کا کوئی قطع ابھرا ، جہاں زندگی کا بیج بویا جاسکے؟ فاختہ پھر سے اڑی اور تھوڑی دیر بعد اپنی چونچ میں تازہ زیتون کی ٹہنی تھامے زندگی کی نوید لائی۔ تب سے فاختہ زندگی اور امن کی پیامبر ہے۔
پرندوں کے گیت آپ کی زندگی میں شانتی لاتے ہیں اور آپ کو تفکرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ انگلینڈ میں بچوں کے سب سے بڑے ہسپتال Alder Hey Children’s Hospital میں جائیں تو اس کے برآمدوں میں آپ کو ریکارڈ کیے گئے پرندوں کے گیت سنائی دیں گے۔ محسوس ہوگا کہ آپ ہسپتال میں نہیں پارک میں آگئے ہیں۔ سرجری کراتے وقت اور ٹیکے لگواتے وقت بچے یہ سُر سنتے ہیں۔ ان گیتوں کا معجزہ ہے بچوں کے اندر سے خوف ختم ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر اطمینان سے ان کا علاج کرلیتے ہیں۔
پرندوں کے گیت علاج ہی میں مددگار نہیں ہوتے خود علاج بھی ہیں۔میل آن لائن میں چھپنے والی تحقیق کے مطالق پرندوں کے قرب میں رہنے والے روزمرہ کے دباﺅ سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈینیل کوکس (Dr Daniel Cox)کے بقول :”گھروں اور فطری ماحول کے ارد گرد پرندے آپ کی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور بیماریوں کے خلاف آپ کے اندر قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ان پرندوں کی بدولت ہمارے شہر صحت کی دولت اور خوشیوں کی نعمت سے بھرجاتے ہیں۔©“
(میرے آرٹیکل “آئیں پرندوں کے گیت سنیں” سے اقتباس)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post