صفراوی : صفدربھٹی

 

اوئلِ دسمبر کی خنک سہہ پہر … ابر کےچھوٹے بڑے قطعات آسمان کے وسیع آنگن میں چہل قدمی میں مشغول تھے جو وقتاً فوقتاً ابدی منبعِ ضیاء کو پردے سے ڈھانک کر اہلِ زمین کو آفتاب کی لطیف حدت سے محروم کر دیتے. اور پھر دفعتاً سردی سے ٹھٹھرتے پرندوں پر ترس کھاتے ہوئے ربِّ ذوالجلال اس حجاب کوایک طرف کھینچ کر ناسپاس مخلوق کی شادمانی کاسامان فراہم کر دیتے.

دفتری امور، جن میں قریب ایک دہائ گزرنے کے بعد بھی اُس کی دلچسپی نہ ہونے کےبرابر تھی، نمٹانے کے بعد جب وہ مسکن پر پہنچا تو اشتہا کے باوجود کھانا موخر کر کے سیدھا کمرے میں آ گیا. دفتری لباس تبدیل کر نے کے بعد اُس نے اپنا انتہائ ارزاں موبائل فون قمیص کی سامنے والی جیب میں رکھا اور بھورے رنگ کی اُون سے بنی چادر میں لپٹ کر کمرے کے سامنے والے لان میں رکھے لوہے کے بنچ کی نکڑ میں بیٹھ گیا.

بتیس برس کا نحیف جوان….. جو دور سے دیکھنے والوں کو اپنی لاغر جسامت کے باعث چودہ پندرہ سالہ لڑکا جبکہ قریب والوں کو سر کے آدھے بالوں کی معدومی ، چہرے کی جھریوں اور وقت کے بے رحم تھپیڑوں سے رونما ہونے والی بوسیدگی کے سبب کوئ پنتالیس پچاس برس کا بوڑھا دکھائی دیتا.

وہ لڑکا جوان یا بوڑھا… آپ اب اُسے جس لقب سے بھی پکاریے… لوہے کے اُس پنچ پر بیٹھا لان کے دوسرے کونے میں کھڑے زرد پتوں کے زیور سے آراستہ درختوں کو فسردگی سے دیکھ رہا تھا. کبھی کبھی جب بادلوں کا پردہ سمٹ کر سورج کو دنیائے عالم کی دگرگوں رعنائیوں پر جھانکنے کی اجازت دیتا تو وہ جوان رو بہ قفا ہو کر آفتاب پر بھی نظر کر لیتا.

اچانک اُس نے اپنی جیب میں رکھا رابطے کا جدید آلہ نکالا اور مخصوص حروف میں محفوظ ایک نمبر ملانے لگا. فون بجتے بجتے منقطع ہو گیا اور ” مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ” کا اعلان نشر کیا جانے لگا. وہ یہی عمل مسلسل دہرائے جا رہا تھا اور دوسری طرف سے وہی اعلان نشر کیا جا رہا تھا. لگ بھگ پچیس بار کی دلدوز کوشش کے بعد آخرِ کار ایک جانی پہچانی نسوانی آواز نے رکشوں کے شور میں عجلت کے ساتھ ” ہاں جی ” کہا
کہاں ہو ؟
کاملی چوک
کہاں گئی تھی ؟
ابھی گاؤں سے آ رہی ہوں تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی تب فون کرنا”. اور رابطہ منقطع ہو گیا

” جانے کس کے پاس سے آ رہی ہے ؟” اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات و خیالات نے اُس کے ذہن کو جہنم کر دیا. مگر اب وہ اس دوزخ کا عادی ہو چکا تھا اور اُن شدت آمیز جذباتی صدمات کو جو نوواردان کو خون رُلا دیا کرتے ہیں خاموشی سے سہنے کا ڈھنگ سیکھ چکا تھا. لیکن وہ اضطراب جو غالباً محبت کی روح ہوتا ہے سے بھلا کون چشم پوشی کر سکتا ہے. ایسی ہی بے چینی نے اُسے دو منٹ بعد دوبارہ فون ملانے پر مجبور کر دیا
” میں ابھی راستے میں ہوں ” دوسری طرف سے قدرے ہانپتی ہوئ آواز اُبھری، ” صبح بہن کو ملنے جانا ہے وہ زچگی کی زد پر ہے اور میرے پاس پیسے ہیں نہیں گھر جا کر صبا سے کہتی ہوں کہ دو ہزار پندرہ سو ادھار دے دے”
” کس جگہ پہنچی ہو”؟

” جس گلی کو انہوں نے نیا بنانے کے لیے اکھاڑ رکھا ہے وہاں، لیکن تمیں پتا نہیں ہو گا کیونکہ جب سے یہ شروع ہے تم نہیں آئے ہو”

” ٹھیک ہے گھر پہنچ کر صبا سے بات کر لو پھر بتانا” یہ کہہ کر نوجوان نے فون منقطع کر دیا

شیری….. فون پر بات کرنے والی عورت اسی نام سے پہچانی جاتی تھی، کہتی ہے میرے ابا مجھے شیرو کہ کر پکارتے تھے، اُس کی ساس بھی اسے شیرو ہی بلاتی تھی لیکن دھندے کی دنیا میں سننے والوں کے دلوں میں جازبیت کا رس گھولنے کیلیے اُس نے ‘ شیری ‘ ایسا خوش کن نام اپنا رکھا تھا. مگر صفراوی .. صفراوی نوجوان کا نام تھا، نے جب پہلی ملاقات میں نام دریافت کیا تو اُس نے ان دونوں سے مختلف ایک تیسرا نام بتایا تھا.

شیری سے ہونے والی گفتگو سے صفراوی کا دل بیٹھ سا گیا. ہمدردی اور محرومی کے خیالات کی زد پر وہ خاموش، سوچوں میں غرق دل ہی دل میں خود سے ہمکلام تھا. اُس کے اکاؤنٹ میں ساڑھے تین ہزار روپے موجود تھے جن میں سے اٹھائیس سو اُس نے ایک موٹر سائیکل کی قسط بھرنے کیلیے رکھے ہوئے تھے جو چھ ماہ پہلے ایک عزیز کو دلوائی گئی تھی اور اسی طرح کی ضروریات پوری کرتے کرتے چھ میں سے تین اقساط ادا کر پایا تھا. شیری کی تقریباً ہمیشہ کی بے اعتنائی اور ناروا سلوک کے باوجود اُس نے یہی فیصلہ کیا کہ چلو دو ہزار دے دیتے بے چاری کس سے مانگتی پھرے گی. اور ساتھ ہی دوبارہ فون لگا دیا
‘ ہاں صبا سے بات ہو گئی’؟
‘ نہیں، ابھی تو پہنچی ہوں ‘
‘ میں دے جاؤں ‘؟
‘ دے جاؤ، جیسے تمہاری مرضی’ وہ ذرا بے رُخی سے بولی
‘ پندرہ سو کافی ہیں ‘؟
‘ نہیں، بہن کو چادر اور گرم کپڑے خرید کر دینے، ذاکر ( شیری کا شوہر ) اور امی بھی ساتھ جائیں گے پانچ سو تو کرایہ لگ جائے گا’
‘ چلو ٹھیک ہے میں دے جاتا ہوں’
‘ کب تک پہنچو گے’ شیری نے استفسار کیا
‘ پانچ چھ گھنٹے لگ جائیں گے ‘
‘ چلو ٹھیک ہے، میں فتیں سے بات کرتی ہوں اُسی کے ہاں رات گزاریں گے’
فتیں اُس کی نند تھی جس نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا جہاں عورتوں سے دھندہ کرواتی تھی.
صفراوی یکا یک بنچ سے اُٹھا کمرے میں آ کر جلدی میں آئینہ دیکھا، چہرے کو سرسری دونوں ہاتھ کر صاف کیا، قمیص کو سائیڈوں سے ذرا کھینچا کھانچا، دو لڑکوں جو اُس کے روم میٹ تھے کو پیغام دیتا کہ رجب سے کہنا صبح ڈیوٹی پر چلا جائے، چہرے پر ہلکی مسکراہٹیں بکھیرتا روانہ بہ سفر ہوا.

صفراوی بنیادی طور پر بڑا حساس جوان تھا، محبت کو خدا کی طرح مانتا تھا، اور گزشتہ دو دہائیوں سے سودا، میر، غالب، فراز کے ساتھ ساتھ کیٹس، شیلی، ہارڈی، سپینسر، شیکسپیئر، کی دلپذیر سخنوری کا اسیر چلا آ رہا تھا. اُس نے ہومر، اووڈ، ورجل ایسے نامور یونانی اور لاطینی شعرا سمیت بعض دوسرے بھی انگریزی ترجموں میں پڑھ رکھے تھے. اِس مطالعہ نے اُس کے اندر کو شفاف چشمے سے دھو دیا تھا، وہ محبت میں بہت زیادہ مخلص رہنا پسند بھی کرتا تھا، اور شائید اُس کے خمیر میں بھی یہی کچھ گوندھا ہوا تھا. اِسی سبب وہ باوجود ناروا بدسلوکی اور بے اعتنائی کے وہ شیری کیطرف کھنچا چلا آتا. وہ سچ مُچ تھامس ہارڈی کے کرداروں جیوڈ، کلِم، اور گائلز کے جیسا تھا. اور شیری کو بھی اُس نے اپنی طرف سے ایرابلا ڈن کا نام دے رکھا تھا.

رات سوا نو بجے صفراوی شیری کے شہر اُتر گیا، ساتھ ہی فروٹ والوں کی دکانیں تھیں سیب کے نرخ معلوم کیے مگر بھاؤ کی گرانی کیوجہ سے کچھ نہ خرید پایا، رکشہ پکڑ کر لاری اڈہ پہنچا، وہاں پھر پھلوں سے لدی ریہڑیوں نے للچایا وہاں بھی وہی گرانی. وہ پھل خریدنے پر مصر تھا کیونکہ اُس نے شیری کو بھائی سے شراب لے رکھنے کا بھی کہا ہوا تھا. سیب، گولڈ لیف اور سپرائیٹ خریدنے کے بعد دوبارہ رکشہ پکڑا اور کوئی دس منٹ میں اُس گلی پہنچ گیا جہاں ‘دوسرا گھر’ واقع تھا.

گلیاں سنسان تھیں، دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں کون پاگل گلیوں میں گھومتا ہے، لوگ تو شام ڈھلتے ہی دہکتے انگاروں سے بھری مٹی کی بنی انگھیٹیاں، دیسی ہیٹرز جن پر سادہ لوح دیہاتی اپنے کانپتے ہاتھ تاپتے تھے. انگیٹھیوں میں دہکتے کوئلے بہت لطف دیتے ہیں، اِن سے نکلتی حدت آنکھوں کے راستہ دل میں اُتر جاتی ہے. انگاروں کی دمک میں عجیب سی کشش ہوتی ہے جو کسی بھی حساس انسان کو کرویدہ کر لیتی ہے.
صفراوی سیبوں اور سپرائیٹ بھرا تھیلہ چادر کے نیچے چھپائے ہوئے شیری کی سنسان گلی میں سبک خرام تھا. ” اُبلے انڈے ” جانے کہاں لیکن کہیں قریب ہی اُبلے انڈے فروش کسی لڑکے کے آوازے سنسان ماحول میں ببر شیر کے چنگھاڑ ایسے گونجنے لگے. صفراوی کے پُر خلوص اشتیاق نے اُسے دروازے سے پہلے ہی فون لگانے پر مجبور کر دیا.

‘ کہاں پہنچے ہو ‘
‘ تمہاری گلی میں آ گیا ہوں، دروازہ کھولو ‘
‘ اتنی جلدی آ بھی گیے ہو ‘
‘ ہاں اِدھر ہی تمہاری گلی میں ‘
‘ تو یہ گرم انڈے کہاں بک رہے ہیں، شیری
‘ دروازہ کھولو ‘
‘ اچھا ‘ اور فون بند کر دیے گیے

صفراوی چاہتا تھا کہ وہ جونہی دروازے پر پہنچے تو شیری کو بڑے اشتیاق سے دراوزہ کھولے انتظار میں کھڑا پائے، مگر جب وہ دروازے پر پہنچا تو ایک طاقچہ کھلا اور دوسرا بند تھا. شیری کا کہیں نام و نشان نہ تھا. صفراوی کی حسرتوں پر پانی پھر گیا. وہ دروازہ بھینچ کر سامنے والے کمرے میں داخل ہوا تو شیری چارپائی پر بستر میں لپٹی دیوار سے لگی بیٹھی تھی. اُس نے رسماً اپنا ہاتھ صفراوی کی طرف بڑھایا، صفراوی نے مسلے ہوئے جذبات سے لبریز اپنا ہاتھ آدھا منٹ یا شائید اِس سے بھی کم وقت کیلیے شیری کے قدرے کھردرے ہاتھ میں رکھا.. اور پھر جب تک وہ تھیلا رکھ کر فتیں سے دعا سلام کرتا شیری نے لحاف کھول کر اُس کیلیے اپنے ساتھ جگہ بنا لی تھی. وہ جوتے اتار کر اُس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا.
” وہ کیا ہے ” شیری نے تھیلے کیطرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
” دیکھ لو ”
” سیب ” وہ تھیلا اُٹھا کر اُس کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے بولی
” ہاں ”
” میں بھی ابھی ‘ دوسرے گھر ‘ سے آئی ہوں
” اپنے بھائی کو فون کرو وہ لے آئے ”
” میں نے اُسے ابھی فون کیا ہے آ جاتا ہے، تمہاری بوتل اُس نے رکھ لی ہے دوسرے لوگوں کو مال دینے نکلا ہوا ہے، ”

یہ بھائی ایک عیسائی لڑکا تھا جو شراب فروش کرتا تھا، شیری کی منجھلی نند صبا سے تعلقات تھے اُسی کے ساتھ دوسرے گھر میں راتیں گزارتا تھا.

دونوں لحاف میں بیٹھے وقفے وقفے سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے. باتیں کیا کرنا تھیں، شیری ہر تیسرے منٹ آنے والے کسی نہ کسی گاہک سے کاروباری گفت و شنید میں مصروف رہی جبکہ صفراوی تو زیادہ وقت خاموش ہی بیٹھا رہا. محبت تجارت تھوڑی ہوتی ہے کہ جھوٹی سچی باتوں سے محبوب کو ورغلاتی رہے، محبت تو ایک جذبہ ہے اور جذبات زبان کی بجائے دل کے معصوم عمق میں پلتے ہیں. وہ تو بس خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھتا رہتا تھا، گو عام دیکھنے والوں کیلیے اُس میں ذرہ بھر جاذبیت نہ رہی ہو صفراوی کو اُس میں عجیب سی مقناطیسیت نظر آتی تھی، شائید ایفرودیتی کا چہرہ بھی ایسا ہی تھا، بیضوی……. اُس کی آنکھیں بھی بہت پیاری تھیں، جھکی جھکی Large جس طرح کی قدیم لاطینی مصوروں نے فرشتوں کی دکھائی تھیں، شفاف، ہلگے گلابی ڈوروں سے مزین، پُر لطف وہ جب بھی اُس کی آنکھوں میں جھانکتا تو اُسے یوں لگتا جیسے آبِ حیون کے چشمے سے غٹ غٹ سیر ہو رہا ہو.

شیری وقفے وقفے سے اپنے سر کو ہلکا ہلکا دباتی اور ساتھ ہلکی سی کراہ بھی نکالتی رہی
‘ مجھے بہت کمزوری ہو گئی ہے سر بھی نہیں اُٹھایا جاتا دو مہینے سے دوائی کھا رہی ہوں ٹھیک ہی نہیں ہو رہا ‘ وہ سر کو کراہتے ہوئے تھوڑا اُوپر اُٹھا کر بولی ‘ دو مہینوں سے حیض بھی نہیں ہو رہا ‘
” ‘وہ ‘ ٹھہر گیا ہو گا ”
” نہیں وہ بھی نہیں ہے میں نے ڈاکٹر کو دکھایا ہے ”

گھنٹہ ڈیڑھ وہ اسی طرح کبھی دو تکیوں کی ٹیک پر لیٹ رہتی تو کبھی سر دبانے اور کبھی کراہنے لگتی جیسے واقعی بیمار ہو. صفراوی گُم سُم بیٹھا بیچارگی سے اُسے تگتا رہا. کبھی چند لمحوں کیلیے اُس کے ساتھ لیٹ کر اُس کے منہ پر ہاتھ پھیرنے یا بوسہ لینے کی غرض سے قریب ہوتا اور وہ ہر بار تکلیف کا عذر کر کے چونک اُٹھتی تو صفراوی بیچارہ دل کی دل میں دبائے اپنا سا منہ لے کر بیٹھ رہتا;
” مجھے بھوک لگ رہی رہے ” اور پھر لمحہ بھر میں اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے دوبارہ بولی “آج سارا دن میں نے کچھ بھی نہیں کھایا ”
” میں نے بھی ” صفراوی نے خفیف سی ہاں میں ہاں ملائی
” لے آتے ہو ” تھوڑی خاموشی کے بعد اُس نے پھر پوچھا
‘ کہاں سے ‘
” اِدھر ہی کاملی چوک ایک ہوٹل ہے ” اور پھر ہوٹل کا محلِ وقوع سمجھانے لگی
” کیا کھانا ہے ” صفراوی نے پسندیدگی دریافت کی
” کباب لے آؤ ”
” کتنے ”
” چھ لے آؤ، میں تو صرف دو کھاؤں گی دو فتیں کیلیے لیتے آنا اور خود جتنے کھانے ہین ”
وہ چارپائی سے اُترا تو سامنے شیری کے بند سلپر پڑے ہوئے تھے
” تمہارے جوتے ہی پہن لیتا ہوں ” وہ جوتے ہہنتے ہوئے بولا
” عورتوں والے ” شیری مسکرانے لگی
” ہاں، یہی ٹھیک ہیں ”

اور پھر وہ چادر اُوڑھ کر کھانا لینے نکل پڑا، کاملی چوک پہنچ کر دیکھتا ہے کہ ایک آدھ دکان کھلی ہے باقی دکانوں سمیت وہ ہوٹل بھی بند ہو چکا تھا.
” وہ ہوٹل تو بند ہو چکا ہے ” صفراوی نے فون پر مطلع کیا
” گیارہ بجے ہی بند ہو گیا ہے، ابھی تک تو تم پہنچے بھی نہیں ”
” میں ہوٹل کے سامنے کھڑا ہوں بند ہے ”
” ابھی پانچ منٹ تو ہوئے نہیں تمہیں نکلے ہوئے، پہنچ بھی گئے ہو ؟”
” یااار! بتا تو رہا ہوں ہوٹل کے سامنے کھڑا ہوں بند ہے، اب کیا کروں ؟” صفراوی نے مزید حکم چاہا
” آگے چوک چلے جاؤ ”
” کہاں، سیٹلائیٹ چوک ؟”
” ہاں وہی رکشہ پکڑ لو تیس روپے لے گا ”

سڑکیں سنسان ہو چکی تھیں رکشہ کہاں سےملتا، کوئی اکا دکا موٹر سائیکل کزرتی بھی تو ہوا کی طرح چھو گے نکل جاتی
سیٹلائیٹ چوک وہاں سے پانچ کلو میٹر کی مسافت پر تھا، وہ پیدل سڑک ناپنے لگا، لاری اڈہ سے سواری رکشہ میں بیٹھ کر سیٹلائیٹ چوک پہنچ گیا جہاں سے چھ تازے کباب بنوائے اور چھ روٹیوں کے ساتھ ایک فینسی سے ڈبے میں پیک کروا لیے.

جب وہ کھانا لیکر پہنچا تو شراب فروش بھائی چارپائی پر بہن کے سامنے بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا، صفراوی کا دل بیٹھ گیا، یہی تو ہوتا ہے محبت میں، محبوب سے بات کرنے والا ہر آدمی اُس کا عاشق نظر آتا ہے، صفراوی شائید اِس معاملہ میں باقی لوگوں سے کچھ زیادہ حساس تھا. کھانا شیری کو پکڑا کر وہ پائنتی پر ٹانگیں لٹکا کر خاموش بیٹھ گیا، بہن بھائی خواہ مخواہ کی باتوں میں وقت ٹالنے لگ گیے، ایسی باتیں جن کا کسی مقصد سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ بس بات چلتی رہے، ہر کسی میں خاموشی کا کرب جھیلنے کی جرآت نہیں ہوتی، کم گو لوگ جو دوسروں کو خاموش نظر آتے ہیں کون جانے اپنے اندر کتنے تانے بانے الجھائے رکھتے ہیں خود ہی سوالات اُٹھاتے ہیں خود ہی جواب دیتے رہتے ہیں وجود کے اندر جیسے کوئی دوسرا سمایا ہوا ہو جس سے اُٹھتے بیٹھتے چلتے بھرتے باتیں کرتے رہتے ہیں جو انہیں فراغت ہی نہیں دیتا کہ کسی اور سے بات کریں اور وہ خود بھی اُس کے اس قدر مانوس اور اتنے فریفتہ ہو چکے ہوتے ہیں کہ کسی اور سے بات کرنے کا من ہی نہیں کرتا. یہی کچھ صفراوی کے ساتھ بھی چلتا رہتا تھا. تھوڑی دیر بعد جب بھائی فرش پر بچھائے گدے پر جا بیٹھا تو صفراوی کی جان میں جان آنے لگی.
” پیسے دے دو اِسے ” شیری نے صفراوی سے مخاطب ہوتے ہوے آہستہ سے کہا
صفراوی نے اُس پر خاموش سی نگاہ کی اور پھر چپ چاپ بیٹھ گیا. وہ چاہتا تھا کہ وقاص خود مانگتا ہے تو دے دیتا ہوں مگر شیری سے رہا نہ گیا
” دینے جو ہیں تو دے بھی دو ” وہ تھوڑی دیر بھائی سے باتیں کرنے کے بعد دوبارہ بول پڑی
صفراوی خاموش بیٹھا سنتا رہا
” یہ تو کہتا ہے اڑھائ سو کی آتی ہے تم پانچ کی کہتے ہو ” وہ بھائی سے پوچھنے لگی
” یہ والی پانچ کی ہی آتی ہے ” بھائی جھوٹی صفائیاں پیش کرنے لگا
صفراوی نے پانچ سو کا نوٹ پرس سے نکال کر بھائی کے ہاتھ میں دے دیا، بھائی نے کاغذ میں لپٹی بوتل Trouser کی جیب سے نکال کر سامنے رکھ دی اور کچھ دیر مزید وقت برباد کرنے کے بعد چلا گیا.

کھانا فرش پر بچھے گدے پر چُن دیا گیا، شیری فتیں کے کہنے پر کچن سے شیشے کے دو چھوٹے گلاس اُٹھا لائی، دو سیب کاٹ کر صفراوی کے سامنے رکھ دیے گیے، بوتل بھی کھول دی گئی، فتیں اور شیری کھانا کھانے لگیں اور صفراوی زہر چڑھاتا رہا، کھانے پینے کے بعد فتیں کا ایک ‘دوست’ آ گیا وہ دونوں ساتھ والے کمرے میں چلے گیے، صفراوی شیری کے ساتھ دوبارہ لحاف میں گُھس گیا.

” تمہیں میرا ذرہ بھی احساس نہیں ہے ”
” احساس کیوں نہیں ہے، اُس دن جب شیناں (دوسری نند) کے ہاں میں تم سے لڑی تھی اور تم چپ چاپ بیٹھے سنتے رہے تھے تو تمہارے جانے کے بعد مجھے بہت احساس ہوا تھا، ”
اور وہ وفورِ جذبات سے اُس کے رخساروں پر بوسہ دے کر کہنے لگا
” پتا ہے! جس سے محبت ہوتی ہے وہ جو بھی کرے بندہ کچھ نہیں کہ پاتا، وہ تو جیسے خدا ہوتا ہے، خدا سے بھلا کیا شکائت” تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوا
” عاشق کی مثال بھی زر خرید غلام کی سی ہوتی ہے، بکے ہوؤں کی مرضیاں نہیں ہوتی، مرضیاں تو مالکوں کی ہوتی ہیں ” صفراوی اُس کے چہرے پر نظریں جمائے فلسفہِ محبت کی وضاحتیں کر رہا تھا
” کتنے پیسے لائے ہو ؟” وہ فضول فلسفوں کو ان سنا کرتے ہوئے بولی
” کتنے کہے تھے ” صفراوی نے قدرے دھیما جواب دیا
” دو ہزار ” شیری نے استفسار کیا
صفراوی کے خاموش رہنے پر وہ اُسکی جیب سے پرس نکال کر کھولنے لگی
” اس طرح کیوں کرتی ہو ” صفراوی نے خفیف شکائت کی
” یہ لو ” وہ چھان بین کر کے پرس ساتھ پھینکتے ہوئے قدرے ناراضگی سے بولی
صفراوی پھر خاموش بیٹھ گیا
” پیسے دے دو پھر فتیں آ جائے گی ” شیری نے کچھ توقف کے بعد دوبارہ اصرار کیا
” نکال لو ” اُس نے پرس نکال کر شیری کو پکڑا دیا
” انیس سو! ” وہ پرس سے پیسے نکال کر گنتے ہوئے بولی
” ہاں ”
” پانچ سو اُدھر جو دے دیے ہیں وہ نہ پیتے تو کیا تھا ” اور پھر پندرہ سو نکال کر پرس صفراوی کی جیب میں ڈال دیا. وہ پرس جیب میں ڈال ہی چکی تھی کہ اچانک اُس کا فون بجنے لگا، فون کی گھنٹی سنتے ہی صفراوی پر جیسے آسمان گر پڑا ہو اُس کا نحیف وجود آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگ گیا
” چٹھے کا فون ہے – وہ پہنچ گئے ہیں مجھے جانا ہے ” شیری فون سکرین دیکھ کر چونگ گئی
” کہاں ؟” صفراوی پریشان ہو گیا
” بتاتی ہوں ” کہ کر فون سننے لگی

درحقیقت اُسے صفراوی سے ذرہ بھر محبت بھی نہیں تھی. وہ تو یہ سمجھتی تھی کہ صفراوی تو یہ سب اُس کے کملاتے ہوئے بدن سے حظ اُٹھانے کیلیے کرتا ہے، خدا جانے اُس کے مفروضے میں کتنی صداقت تھی لیکن صفراوی اُس کی بجھتی رعنائ کا اتنا شائق ہو چکا تھا کہ باوجود علم ہونے کے کہ شیری قبیح غلاظت سے اٹی ہوئ ہے دو تین بار شادی کی پیشکش تک کر چکا تھا، جسے اُس نے یہ کہتے ہوئے کہ ” مجھ ایسی عورت سے شادی کر کے بدنام ہو جاؤ گے ” بڑے ہمدردانہ طور پر ٹال دیا تھا، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، بھلا وہ صفراوی ایسے مفلس حال شخص سے شادی خواہ وہ کیسا ہی پُر خلوص کیوں نہ ہو کیسے کر سکتی تھی.

” وہ شہر پہنچ گئے ہیں تھوڑی دیر میں یہاں قریب ہی ایک ریسٹ ہاؤس میں آ رہے ہیں، عیاش لوگ ہیں لڑکیاں ساتھ لاتے ہیں اور راتیں گزارتے ہیں ” وہ فون ختم کرتے ہوئے بولی
” تم کیوں جا رہی ہو ؟” صفراوی نے استفسار کیا
” اُنہوں نے میرے پیسے دینے ہیں کافی ٹائم ہو گیا ٹال مٹول کرتے چلے آ رہے ہیں، آج قابو میں آئے ہیں آج تو پیسے لیکر ہی آؤں گی ”
” نہ جاؤ ”
” فتیں سے کہا تھا میرے ساتھ چلو پیسے لیکر واپس آ جائیں گی وہ بھی سو گئی ہے ”
” نہ جاؤ ” وہ بے چارگی سے بولا
” نہیں مجھے جانا ہے ”
” واپس کب تک آ جاؤ گی ؟”
” آدھا گھنٹہ ”
” آدھے گھنٹہ میں آ جاؤ گی ؟”
” ہاں زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ ”
پھر وہ چارپائی سے اتری کپڑے چادر ٹھیک کیے اور صفراوی کے جوتے پہنتے ہوئے بولی
” آج تمہارے جوتے پہن جاتی ہوں”
” ہاں یہی پہنے جاؤ ”
” پاؤں کو تنگ تو نہیں کریں گے ؟”
” نہیں ”
تھوڑی دیر میں جب وہ اپنا لباس وغیرہ درست کر کے نکلنے لگی تو صفراوی نے ایک بار پھر استفسار کیا
” آدھے گھنٹے میں آ جاؤ گی ناں ”
” نہیں پرسوں آؤں گی ”
” میں آؤں تمہارے ساتھ ؟” صفراوی کچھ توقف کے بعد دوبارہ گویا ہوا
” تم وہاں کیا کرو گے ؟”
” میں باہر کھڑا رہوں گا ”
” ہاں باہر کھڑے رہو گے، وہاں پولیس گشت کرتی رہتی ہے، پکڑ لے جائے گی ”
” کچھ نہیں ہوتا مجھے ”
” ایسے ہی کسی اور معاملے میں پھنستے ہو ”
” نہیں پھنستا ”
” باہر سردی ہے تم آدھے گھنٹے میں ٹھٹھر جاؤ گے ”

صفراوی خاموش ہو گیا پھر جب وہ کمرے سے نکلنے لگی تو اُس نے دوبارہ التجا کی
” جلدی آ جانا ”
” ہاں آ جاتی ہوں ”

اُس کے نکلتے ہی صفراوی نے ایک اور پگ لیا اور سگریٹ سلگا کر چارپائی پر دراز ہو گیا، نہ جانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی.

دوبارہ ہوش میں آتے ہی قدموں کی ذرا بھاری آہٹ دروازے سے داخل ہوتی اُس کے کانوں پر پڑی، شائید اِنہی قدموں کی چاپ کے ساتھ ہی اُس کی سانسوں کا جانا آنا تھا. دروازہ کھلا اور دوسرے لمحے شیری پائنتی کی نکڑ پر اُس کے سامنے بیٹھی تھی، اُس کی نظریں جھکی ہوئ تھیں، صبح کے چھ بج چکے تھے، صفراوی نے ایک آدھ بار سرسری اُس کے چہرے پر اُچپٹتی نظروں سے دیکھا، نظروں کے اِس تصادم میں ہر بار شیری ہار گئی، وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی، اُدھر صفراوی کی نظریں جو ہمیشہ انتہائ انہماک اور عقیدت سے شیری کے چہرے کو بوسے دیتی رہتی تھیں آج دیوار کے بوسیدہ روغن پر جمی ہوئ تھیں اور وہ سگریٹ سلگا کر جانے کن سوچوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا رہا تھا. صبح پھوٹ چکی تھی، فتیں کا دوست بھی شب گزاری کر کے جا چکا تھا، وہ فرش پر بچھے گدے پر بیٹھتے ہوئے بولی
” چلے گیے ؟”
” ہاں ابھی نکلے ہیں چار بندے تھے دو لڑکیاں ساتھ لائے تھے، باتوں باتوں میں لڑائ ہونے لگی، لڑکیاں بیچاری بھی ابھی نکلی ہیں اور میں اِدھر آ گئی ہوں ”
اور پھر تھوڑی دیر جوتے دیکھنے کے بعد دوبارہ گویا ہوئ ” دیکھو صفراوی کے جوتے کتنے پیارے ہیں میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ بند جوتے پہنے ہیں اور وہ بھی مردوں کے، مجال ہے جو ذرا بھی تنگ کیا ہو ”
” پیسے ملے ؟” فتیں نے بات بدلتے ہوئے کہا
” ہاں یہ چیک دیا ہے ” اور پھر چولی میں رکھے بٹوے سے چیک نکال کر فتیں کو دکھانے لگی، فتیں نے معنی خیز نظروں سے صفراوی کی طرف دیکھا، اور چیک شیری کو واپس دیتے ہوئے کہا
” جعلی ہو گا، مجھے اِسی طرح ایک آدمی نے دیا تھا جو کیش ہی نہیں ہوا ”
” نہیں جعلی نہیں ہے، بھلا تم دیکھو اصلی ہے یا جعلی ” اور چیک صفراوی کی آنکھوں کے سامنے کر دیا، جس پر درج تاریخ نے فتیں کی جعلسازی والی بات مہر کر دی
” کیش ہو جائے گا ناں ” شیری امید و یاس کی ملی جلی کیفیت میں صفراوی سے پوچھنے لگی، مگر صفراوی نے بغیر کچھ کہے چیک شیری کے حوالے کر دیا.

 

Loading...