بوڑھی عورتیں : فاروق سرور

پشتو ادب سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر اور ترجمہ فاروق سرور
اس بوڑھے کے ابرو بھی سفید ہوتے ہیں۔جبکہ اس کی سفید پگڑی اب بہت میلی ہو چکی ہوتی ہے۔اس کی سرخ آنکھوں سے یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ بہت وقت سے ایک ہی خواب دیکھ رہا ہو،لیکن پھر اس خواب کی ناکامی اور عدم تکمیل پر روتا ہو۔
چالیس سال سے اس کا بے گناہ بیٹا جیل میں بند ہے۔اسے ہر وقت بیٹے کی رہائی کا انتظار رہتا ہے۔ لیکن وہ رہا نہیں ہوتا۔اب اس کا یہ معمول ہے کہ گاؤں سے باہر ان کھنڈرات میں آ کر اپنے ساتھ پاگلوں کی طرح باتیں کرتا ہے۔اپنے سے سوال کر ڈالتا ہے اور اپنے سے جواب بھی دے دیتا ہے۔
لگتا ہے کہ جیسے ہوا کے ساتھ بوڑھے کی کوئی خاص دوستی ہو ۔بوڑھا جب بھی ہوا کو سونگھتا ہے۔تو کہتا ہے کہ آج پھر کسی کو جیل سے رہائی ملی ہوگی۔کمال ہے اسی طرح ہوتا ہے اور اس وقت اردگرد کے دیہات کا کوئی نا کوئی شخص ضرور جیل سے رہا ہوتا ہے۔
آج پھر بہت عرصے کے بعد تیز ہوا کی ایک خنک سی لہر بہت شدت کے ساتھ آتی ہے اور بوڑھا خوشی سے چلا اٹھتا ہے اور تو اور ،اب وہ ناچ بھی رہا ہوتا ہے۔اس کی لاٹھی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور لگتا ہے کہ جیسے وہ کسی ڈھول کی تاپ پر رقص کر رہا ہو۔
وہ مسلسل بول بھی رہا ہوتا ہے
ہوا کا کہنا ہے کہ آج پھر کسی کو رہائی ملی،ہو سکتا ہے میرا بیٹا ہی ہو۔ارے میرا لال ۔اب تو وہ بھی میری طرح بوڑھا ہوچکا ہوگا۔ارے جب قفس سے باہر نکل رہا ہوگا۔ تو اس کی کمر بھی تیڑھی ہوگی۔میرا خیال ہے کہ ہاتھ بھی اس کے کانپ رہے ہوں گے اور اب اس کا سرخ و سپید حسین چہرہ بھی جھریوں سے بھر چکا ہوگا۔لعنت ہو تم پر،تم ایک نئے بوڑھے شخص۔میرا بیٹا اور بوڑھا ۔عجیب سی بات ہوگی۔
سفید لباس میں ملبوس بوڑھا مسلسل ناچ رہا ہوتا ہے۔
لیکن اسی ٹوٹی مٹی کی دیوار کے پاس اس کے ہمسائے کا نوجوان لڑکا بھی اس کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے۔
لڑکا مسکراتا ہے کہ نہیں بابا یہ تو آج ہمارے ہمسائے میں ایک نیک دل بڑھیا نے اپنے پرندے کو قفس سے آزاد کیا۔بہت مچلتا تھا قفس میں کمبخت اور بہت شور مچاتا تھا وہ آزادی کا متوالا ۔ہمیں پتہ ہے کہ یہ سب کچھ آپ کو ہوا بتاتی ہے اور ہوا کے ساتھ آپ کی دوستی ہے۔میرا خیال ہے کہ آج ہوا اس کے پروں سے لگ کر آپ کے پاس آئی ہوگی۔
اچھا تو پھر لعنت ہو مجھ پر جو اس طرح کا غلط اندازہ لگاتا ہوں۔بوڑھا فوراً اپنا رقص روک دیتا ہے اور لڑکے کے پاس اپنے ماتھے کو پیٹتا ہوا بیٹھ جاتا ہے۔
اب بوڑھے کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت ہی سوالیہ انداز میں اور بہت ہی رازداری کے ساتھ اور سرگوشی میں لڑکے کے کان کے پاس اپنا چہرہ لے جا کر نہایت معصومیت سے اس سے پوچھتا ہے کہ یہ تو بتاؤ ۔اس طرح کی بوڑھی عورتیں، ہر عقوبت خانے کے دروازے پر، کیوں نہیں پائی جاتیں؟کون ظالم انہیں وہاں کھڑا ہونے سے روکتا ہے؟بولو نا ۔ نام بتاؤ اس ظالم کا؟

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post