آلونامہ


تحریر: الیاس بابر اعوان
آلو وہ واحد سبزی ہے جو (تیسری) دنیا میں سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے ۔ گوشت کے ساتھ آلو، دال کے ساتھ آلو ، سبزی کے ساتھ آلو، حتی ‘کہ آلو کے ساتھ آلو تک پکائے جاتے ہیں۔ آلو غریب کے لیے گوشت اور امیر کے لیے آلو ہی ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں آلو کی سبزیاتی دنیا میں کوئی خاص وقعت نہیں لیکن اس کا ساتھ بڑی بڑی سبزیوں اور گوشت وغیرہ کی شان بڑھا دیتا ہے ۔ ہے تو بے ذائقہ مگر اس بے ذائقگی نے کتنے ہے سالنوں کے نئے ذائقے اختراع کیے۔ یوں تو کئی ایک انسان بھی آلو ہی ہوتے ہیں ہمارے ہاں ایک معروف کرکٹر کو آلو کہا جاتا تھا کہ وہ آلو کی طرح اکثر میچز میں فتح کا ذائقہ ڈال دیتے تھے مگر وہ اس خطاب ۔ بے بدل پر نالاں ہی رہے ممکن ہے آلو کی بجائے انہیں چلغوزہ کہا جاتا تو وہ خوش ہوتے ۔ آلو غریب کا من پسند کھابہ ہے۔ اگر پکانا نہ آئے تو ابال لو تھوڑا سا مسالہ چھڑکو تو ایک وقت کی شکم پروری میں کامیاب۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر دنیا میں آلو نہ ہوتے تو ہم کتنے ہی ذائقوں سے محروم رہ جاتے ۔ آلو ایک درویش سبزی ہے جو دوسروں کی مدد میں صرف ہوجاتی ہے میں تو آلو کو سبزیوں کا 1122 کہوں گا ادھر بھوک لگی ادھر آلو میاں حاضر۔ اور نہیں تو دس روپے کا چپس کا پیکٹ ہی آپ کی بھوک مٹانے کو کافی ۔ اگر آپ ایک کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آلو بنیے یعنی مددگار بنیے ۔۔یوں بھی ہر شخص میں ایک آلو چھپا ہوتا ہے جو بعض اوقات سر کے بالوں سے باہر نکل آتا ہے ۔ اس کے باوجود آلو کی قدر میں کبھی کمی ہوئی نہ ہوگی۔
آئیے عہد کرتے ہیں کہ ہم سب آلو بنیں گے وہ والے نہیں جو تھانے میں مجرم کے منہ متھے پر ڈرائنگ روم کی سیر کے دوران بنتے ہیں بلکہ وہ والے جو دوسروں کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں ۔
اللہ ہم سب کا حامی  و ناصر ہو ۔ آمین

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post