معاصر غزل کی فکریات : ڈاکٹرعابدسیال

آئندہ سطور میں کی جانے والی بات کا فوری تناظر اگرچہ معاصر غزل ہے لیکن عمومی طور پر یہ باتیں کسی بھی زمانے کی غزل بلکہ شاعری اور اس سے بھی بڑھ کر پورے ادب کے بارے میں کی جا سکتی ہیں۔ بات موضوعات سے متعلق ہے۔ سادہ لفظوں میں اور اجمالی طور پر میرا مؤقف یہ ہے کہ کسی شاعری کی اہمیت، جواز اور بقا اس میں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ شخصی بمعنی ’پرسنل‘ ہو۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ شاعر جس معاشرے اور جس عہد میں جیتا ہے اس کے کچھ غالب فکری اور ثقافتی رجحانات ہوتے ہیں۔ ان رجحانات سے متعلق مختلف الجہت تفصیلات ہوتی ہیں اور افرادِ معاشرہ ان تفصیلات کے ادراک اور بیان میں ایک حد تک یکساں طور پر شریک ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی انفرادیت اس میں ہے کہ وہ ان موضوعات اور ان کی تفصیلات سے متعلق اپنی ذاتی اور شخصی رائے کس قدر رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اجتماعی فکر کے زیرسایہ ہی انفرادی فکر پروان چڑھتی ہے اور شخصی فکر پر اجتماعی فکر کے اثرات سے مفر ممکن نہیں لیکن مسئلہ وہاں ہے جہاں لوگ محض آراء کے باربرداروں(opinion carrier) کا کام کرتے ہیں۔یعنی ایک جگہ سے پڑھی سُنی ہوئی آراء کو بغیر کسی ذاتی تجزیے کے دوسری جگہ جا سنایا۔ہم میں سے ہر کوئی آراء کی باربرداری کا یہ کام کرتا ہے کیوں کہ ہر شخص ہر شعبے کا ماہر نہیں ہو سکتا، اس لیے ایسے شعبے جن میں ذاتی علم اور فہم کم ہوتا ہے ان میں ہم دوسروں کی آراء پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور جب گفتگو ہوتی ہے تو انھی باتوں کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ مثلاً سیاسی، مذہبی، سماجی، طبی اور عمومی زندگی کے متعدد شعبوں سے متعلق ہماری بے شمار آراء ایسی ہیں جن کا ہمیں براہ راست علم نہیں ہوتا اور ہم کسی وسیلے سے دوسرے لوگوں سے حاصل شدہ آراء کو آگے پھیلاتے رہتے ہیں۔ جب ہر شخص ایسا کر رہا ہے تو معاشرے کے اجتماعی فکری سرمائے میں یہ آراء کسی حوض کی مچھلیوں کی طرح اِدھر سے اُدھر آتی جاتی دیکھی جا سکتی ہیں، ایسی مچھلیاں جو بظاہر آزاد ہیں لیکن دراصل ایک محدود پانی کی اسیر ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب ہر شخص ایسا کر رہا ہے تو ایسی آراء کو لینے، استعمال کرنے اور آگے بڑھانے میں کیا حرج ہے۔ جواب یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں اگر آپ اپنی کوئی انفرادی رائے رکھنے اور اس کی بنا پر اپنی پہچان کرانے کے خواہاں نہیں۔اور ظاہر ہے انفرادی رائے اسی شعبہ علم میں رکھی جا سکتی ہے جس میں آپ خاطرخواہ علم رکھتے ہوں اور نہ صرف صورتِ حال کا تجزیہ کرنے کی اہلیت بلکہ اس صورتِ حال سے متعلق مختلف آراء کو پرکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
جس طرح ہر شعبہ علم کے شخص کے لیے ضروری ہے کہ عمومی آراء کے معاملے میں وہ بے شک مستعار افکار سے اپنا کام چلائے لیکن اپنے تخصیصی شعبے میں اس کی رائے اپنی ہونی چاہیے، تبھی وہ اپنے شعبے کا ماہر کہلانے کا حق دار ہو گا۔ اسی طرح شاعر کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے کہ شاعری کے مضامین اس کے اپنے ہوں۔ اگر کلی طور پر ایسا کرنا ممکن نہ بھی ہو تو کم از کم اس قدر ’اپنا‘ ضرور لیے گئے ہوں کہ یہ اس کی اپنی بات بن جائیں۔اور ظاہر ہے کہ اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہ مسئلہ شاعری کرنے کا نہیں، شاعری کے باقی رہنے کا ہے کیوںکہ محض شاعری کرنے کے لیے مضمون کا تازہ ہونا کوئی شرط نہیں اور ہر دور کی شاعری میں انبار کے انبار اس امر پر گواہ ہیں۔
موضوعات کے ضمن میں معاصر غزل کا ایک مسئلہ یہی تکرار ہے۔ ہمارا غزل گو دوہری تکرار کا شکار ہے۔ ایک تکرار تو اپنے عہد کے غالب اور مقبول موضوعات اور ان کی تفصیلات کے ضمن میں ہے۔اور دوسری تکرار ان موضوعات کے بارے میں مستعار مؤقف کی ہے۔ شعرا کی اکثریت، ایسا لگتا ہے، حوض کی مچھلیاں پکڑنے میں مصروف ہے۔ کوئی شاعر ایک خوش رنگ اور چمک دار مچھلی پکڑتا ہے، دوسروں کو دکھاتا ہے اور پھر حوض میں چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مچھلی تیرتی تیرتی کسی اور کے ہاتھ جا لگتی ہے جہاں کوئی اور اپنا شکار سمجھ کر اس کی نمائش کرتا ہے اور پھر اسی پانی میں چھوڑ دیتا ہے۔ بعض اوقات اسی وجہ سے سرقہ و توارد جیسے مسائل بھی اٹھتے ہیں۔ معاصر شعرا کی اکثریت کے ہاں مضامین مجموعی شعری فضا اور ماحول سے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہی باتیں، اسی انداز میں، وہی تشبیہیں ، تمثالیں، استعارے کسی حد تک قافیہ، ردیف، زمین یا مرکبات بدل کر جب پیش کیے جاتے ہیں تو ایک مناسب حد تک گوارا شاعری تو سامنے آتی ہے لیکن وہ نہیں جسے contribution کہا جاسکے۔
اس مظہر کی تہہ میں کم از کم دوعدد مغالطے کارفرما ہیں۔ ایک مغالطہ ’عظیم‘ شاعری کا اور دوسرا مغالطہ ’روحِ عصر‘ کا۔ ہمارے شاعر کو ’عظیم‘ ہونا بہت مرغوب ہے جس کی ایک وجہ تو اس لفظ کا بے دریغ استعمال ہے کہ ہم میر، غالب، فیض کو ایک ہی سانس میں عظیم شاعر کہہ دیتے ہیں خواہ بقول راوی فیض خود کو صف دوم کا ایک اچھا شاعر ہی کیوں نہ سمجھتے رہے ہوں۔چلیں یہاں تک تو پھر بات کچھ نہ کچھ جچ جاتی ہے اس سے کہیں کم درجہ شاعروں کی عظمت پر ایسی ایسی قصیدہ خوانی موجود ہے کہ کسی شاعر کا ’عظمت‘ سے کم کسی چیز پر سمجھوتا کرنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ یہاں ایک لطیفہ نما واقعہ بھی بے محل نہ ہو گا۔ سنا ہے کہ ہمارے محبوب دوست ڈاکٹر خالد سنجرانی حصول ملازمت کے لیے جب انٹرویو پینل کے سامنے پیش ہوئے تو پینل میں سے ایک صاحب نے پوچھا کہ ناصر کاظمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سنجرانی نے جھٹ سے کہا کہ تیسرے درجے کے شاعر تھے۔ اس سے قبل کہ اربابِ مسند حیرت اور غصے سے کسی جارحانہ اقدام کا آغاز کرتے، حالات بگڑتے دیکھ کر ہمارے دوست نے ہاتھ کے اشارے سے وضاحت کی اجازت چاہی اور کہا کہ دیکھیے جیسے میر، غالب، اقبال پہلے درجے کے شاعر ہیں؛ درد، آتش، مومن وغیرہ دوسرے درجے کے شاعر ہیں اور اس کے بعد کا جو درجہ ہے اس میں سے ایک ناصرکاظمی ہیں۔ اس سے پینل کی زائدازضرورت تشفی ہو گئی کہ اس ’الہامِ بروقت‘ نما توجیہہ سے ناصر کو وہ درجہ مل گیا تھا جس کی توقع خود صاحبِ سوال کو بھی نہ تھی۔ عظمت کا یہی لپکا ہمارے شاعر کو انفس و آفاق، عرش و افلاک، زمان و مکان ولامکاں، ہستی و نیستی،انسان و خدا، الست و اناالحق کی ’قبیل‘ اور ’درجے‘ کے موضوعات کی طرف ایسا راغب کرتا ہے کہ وہ اپنی عمومی ذاتی زندگی کی شخصی کیفیات کو حقیر جان کر ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔اور اگر دیکھتا بھی ہے تو یا تو ان کے بیان پر شرمندہ شرمندہ سا پھرتا ہے یا اس کوشش میں ہوتا ہے کہ کسی طرح اس ذاتی مسئلے کو کائناتی مسئلے میں ڈھالا جا سکے۔

’روحِ عصر‘ کامغالطہ اس سے بھی زیادہ شاعری کُش ہے۔ جس طرح عظمت کا مغالطہ زمین پر خدا کا نائب ہونے اور کائنات کی اہم ترین مخلوق ہونے جیسے افکار کی محدود تفہیم کا زائیدہ ہے اسی طرح ’روحِ عصر‘والا مغالطہ شاعر کے ’دیدۂ بینائے قوم‘ ہونے یا اپنے عہد کی آواز ہونے جیسے افکار کی نادرست تفہیم پر مبنی ہے۔ ہمارا شاعر یہ چاہتا ہے کہ اس کے اشعار نہ صرف معاصر سیاسی و سماجی مسائل کے ادراک پر مبنی ہوںبلکہ جدید سائنسی انکشافات، فلسفیانہ تفکر اور سماجی تفاعل کی ایسی صورتیں بھی بیان کریں جن سے اسے معاشرے میں اوّل تو کسی چھوٹے موٹے ’قائد‘ یا ’رہنما‘ کا منصب حاصل ہو جائے اور اگر یہ نہیں تو کم از کم ’دانشور‘ تو ضرور ہی سمجھ لیا جائے۔
دانشوری کے اس ’خبط‘ کے پیچھے ایک معلوم وجہ ہے جو بہت حد تک درست بھی ہے کہ ہمارے ہاں اردو میں علمی روایت تخلیقی روایت کی نسبت کمزور رہی ہے اور شاعر کا عمومی امیج پڑھے لکھے شخص کا امیج نہیں۔ اس لیے زیریں سطح پر ایک طرح کے احساس کمتری کا شکار ہو کر تخلیق کاراور خاص کر شاعر محض شاعر ہونے کی بجائے ساتھ دانشور ہونا بھی پسند کرتے ہیں اور ’انٹلکچوئل‘ شاعری کو مرغوب جانتے ہیں۔ نظم کی شاعری کو یہ مسئلہ خراب اور غزل کی شاعری کو خراب تر کرتاہے۔
نتیجہ ان تمام باتوںکا یہ ہے کہ اوّل تو ہمارا غزل گو ’دل‘ کی بجائے ’دماغ‘ سے شاعری کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی قلبی واردات کی بجائے اہل فکر وتفکر کے اقوال زریں اور فرمودات نظم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر ’دل‘ کی بات کی طرف آتا ہے تو بھی اپنی بجائے دوسروں کے دل کی بات کرنے لگتا ہے جسے وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اپنے دل کی بات کی بجائے زیادہ جاندار ہے۔ دونوں صورتوںمیں وہ حوض پر کھڑا ہے اور دوسروں کی چھوڑی ہوئی مچھلیوں کا شکاری ہے۔اس میں دو طرح کی آسانیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ حوض کی مچھلیاں تھوڑی بہت کوشش سے پکڑی جا سکتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ پلی پلائی ہوتی ہیں۔ لہٰذا پکڑنے کے بعد انھیں الٹ پلٹ کر دکھانے سے دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی خوش ہوتا ہے کہ کیا بڑا شکار ہاتھ لگاہے۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایسی شاعری جو مجموعی شعری سرمائے میں اضافے کا درجہ رکھتی ہے پہلی سطح پر ’عظیم‘ شاعری نہیں بلکہ ’مختلف‘ شاعری ہوتی ہے۔ اس لیے پہلی کوشش ’مختلف‘ ہونے کی کرنی چاہیے۔ اگر اس مختلف شاعری میں موضوعات اور اسلوب کے حوالے سے عظمت کا پہلو پیداہو جاتا ہے تو سونے پر سہاگا ہے۔ ورنہ محض مختلف ہونے کی بنا پر بھی شاعر کا شمار contribute کرنے والے شاعروں میں ہو سکتا ہے۔ عظمت ہر شاعر کا مقدر نہیں، اس میں کوشش کا حصہ کم اور عطا کا زیادہ ہے۔ نابغے ہر عہد میں چند ہی ہوتے ہیں۔ تاہم مختلف ہونا کافی حد تک شاعر کے اختیار میں ہے۔ اسلوب کی بات تو اس سے پہلے کی ایک تحریر میں کی تھی، یہ سطریں چوں کہ موضوع کے حوالے سے ہیں، اس لیے اس ضمن میں میری رائے میں شاعر کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اپنی قلبی واردات کے قریب رہے۔ اگر اس کے ذاتی احساسات رومانوی ہیں تو ان کا بیان کرے، نفسیاتی گرہ کشائیوں کے ہیں تو وہ کہے، سیاسی یا سماجی ہیں تو انھیں نظم کرے، صوفیانہ ہیں تو ان سے مخلص رہے۔ اس سے امکان پیدا ہو گا کہ اس کے ہاں کسی نئی یا مختلف بات کا ظہور ہو۔ تازہ مچھلی پکڑنے کے لیے حوض مناسب جگہ نہیں۔ حوض مچھلی پکڑنے کی مشق کے لیے تو اچھا ہے لیکن مشق کے زمانے سے آگے نکلنے کے بعد جلد ہی کسی تازہ پانی پر جا بیٹھنا چاہیے۔ اگر کسی کی ذات سمندر ہے تو شکار بھی اتنا ہی بڑا اور متنوع ہو گا، اگر کسی کا دل دریا ہے تو حاصل بھی ویسا ہی ہو گا، اور اگر کسی کا من چشمہ یا ندی ہے تو شکار بڑا نہ بھی ہو تو تازگی اور ذائقے میں منفرد ضرور ہو گا۔ اک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنے سے بھی انفرادیت پیدا ہو سکتی ہے لیکن وہ اسلوب کا معاملہ ہے اور اس کی ایک حد ہے۔ اندر کی دنیا سے کچھ نیا برآمد کر لانا زیادہ اہم چیز ہے جو اسی وقت ممکن ہے جب توجہ شخصی واردات پر ہو۔ میر نے اپنے عہد میں فرد کا اور کائنات میں انسان کا غم بیان کیا لیکن بنیاد ذاتی اور نجی محرومی پر رکھی۔ پنشن کے حصول کی ناکامی سے لے کر قرض کی مے پینے تک اپنے ذاتی مسائل کے باعث غالب کا پندار ساری عمر زلزلوں کی زد پر رہا جسے اس نے پوری تہذیب کے پندار کی ٹوٹ پھوٹ کا آئینہ بنا دیا۔ اقبال نے مسلم امت کا علَم پہلے دن سے نہیں اٹھا لیا۔ ’بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا‘ جیسی شاعری کرنے کے بعد جب یورپ گئے تو کہا کہ ’یورپ کی فضا نے مجھے مسلمان کر دیا ہے‘ یعنی اسلامی فکر جب ان کی شخصی اور قلبی واردات میں ڈھل گیا تو اس کے بعد ’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘۔ سو اپنا آپ بیان کرتے کرتے اپنا عہد بھی بیان ہونے لگتا ہے اور اگر توفیق ارزانی ہوتو عظمت کے آثار بھی پیدا ہونے لگتے ہیں۔ شخصی واردات سے فاصلے پر رہ کر کی گئی شاعری جب خود شاعر کی ترجمان نہیں بن سکی تو عصر کی ترجمانی کیسے کرے گی۔ شاعر کا عصر اس کے اندر نمو پاتا ہے اور جو وہاں دیکھا جا سکتا ہے وہی اس کے عصر کا اصلی روپ ہوتا ہے:

میں ہوں وحشت میں گم، میں تیری دنیا میں نہیں رہتا
بگولا رقص میں رہتا ہے، صحرا میں نہیں رہتا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post