سلیم آغاقزلباش کے افسانوں کا اجمالی جائزہ


از: ڈاکٹرعابدخورشید
       ہمارے ہاں جدید افسانے کو جس توجہ اور یکسوئی سے پڑھاجانا چاہیے تھا ،وہ اُسے حاصل ہی نہیں ہوئی۔پریم چند،بیدی،غلام عباس اور دیگر اہم افسانہ نگاروں نے فکشن پڑھنے والوں کو کہیں اور جانے ہی نہیں دیا ،چنانچہ افسانے کوپڑھنے اور افسانے پر لکھنے کے مخصوص نظریے فروغ پاتے رہے۔ افسانے کی تنقید کسی فریم یا ڈھانچے کی محتاج تو نہیںکہ ہر طرح کے رُجحان کو اُس میں سجا دیا جائے۔جدید افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کردار بہ وقت علامت بھی اور کردار بھی اور سلیم آغا افسانے کی اِس خوبی سے آشنا ہیں۔اُن کے افسانوں میں سسپنس بھی ہے اور کلائمکس بھی ۔وہ اپنے افسانوی کرداروں کو نہ تو خلاﺅں میں معلق کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کا اظہاری پیرایہ اُلجھنوں کا شکار ہوتا ہے ۔ یہ کردار زمین پر چلنے پھرنے والے جیتے جاگتے ہمارے سامنے کے کردار ہیں، جنھیں سمجھنے کے لیے دیومالائی داستانوں کا سہارا نہیں لینے پڑتا اور نہ ہی کسی ایسے فلسفے کی ضرورت پڑتی ہے جس سے کوئی خاص قسم کا کلیہ ہمارے ہاتھ آ جائے اور ہم اُسے اُن کے تمام افسانوں پر منطبق کر سکیں۔ محض کسی واقعے کے بجائے سلیم آغا ،اُس واقعے کے پس منظر میں کارفرما عوامل اور اسے پیدا ہونے والے رویے اور احساسات کو موضوع بناتے ہیں۔اُن کے افسانے تکنیک یا اسلوب کے اعتبار ہی سے جدید نہیں بلکہ اُن کے ہاں خیالات اور فکر کی جدت بھی پائی جاتی ہے ۔بقول منشایاد’اُنھوں نے کہانی کو واقعات اور حقیقت کی سطح سے اوپر اُٹھا کر اپنی تخلیقی اور تخیلی صلاحیتوں سے افسانہ بنا دیا ہے۔‘
         سلیم آغا کے مجموعہ ’انگور کی بیل‘ اور ’صبح ہونے تک‘ میں چند افسانے ایسے بھی ہیں، جو موضوع کے اعتبارسے تو روایت سے منسلک ہیں تاہم جدید رُجحانات کے پس منظر میں اُن کی اہمیت کسی قدر بڑھ جاتی ہے ۔جہاں تک سلیم آغا کے افسانوں میں مرد عورت کی محبت کے موضوع کا تعلق ہے تو سب سے زیادہ شدت کے ساتھ جس افسانے میں اس کا حوالہ آیا ہے وہ ’بروگن‘ ہے۔بروگن کے لفظی معنی ’فراق زدہ عورت‘ کے ہیں۔ ’بروگن‘ میں دو کردار ہیں ۔ ایک سانپ اور ایک لڑکی۔ سانپ ہر مہینے کی مخصوص تاریخوں میں آ کر لڑکی کے پاﺅں پر ڈستا ہے ،جس سے نہ صرف اس کے اندر کا الاﺅ مدھم پڑ جاتا ہے بلکہ سانپ کے رینگنے میں بھی پہلے جیسی تڑپ نہیں رہتی۔ اُس کی پھنکار میں بھی کمی آ جاتی ہے اور صبح سویرے جب وہ لڑکی جاگتی ہے تو اُسے اپنی نس نس میں نئی نویلی کومل سی تھکن کا احساس ہوتا ہے اور اسے اپنا آپ چنچل بدلی کی طرح اونچے پربت پر پھیلے گگن میں ناچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
سلیم آغا کا افسانہ ’آخری موڑ‘اِس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔اس افسانے میں ’جنس‘ بطور تخلیقی استعارہ اپنی جمالیاتی حساسیت کے ساتھ نظر آتا ہے۔دراصل یہ اسی قوتِ متحرکہ کی کہانی ہے جو اپنے آپ کو آگے منتقل کرنے کے لیے بے چین رہتی ہے اور جس کے ہر جرثومے میں حیات ،کلی سیمابیت کے ساتھ موجود ہوتی ہے لیکن منزل کسی ایک کوہی نصیب ہوتی ہے اور تخلیق کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہے۔اگرچہ یہ افسانہ آگے چل کر ایک ’آئرن مین‘ کی کہانی میں بدل جاتا ہے لیکن آئرن مین سے ’پھول بابو‘ کے عمل میں بھی وہی قوتِ متحرکہ ممدومعاون ہے جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ علاوہ ازیں یہ موضوع اُن کے افسانے ’لال سینڈل‘ میں زیریں سطح پر دیکھاجا سکتا ہے۔ ’لال رنگ‘ بذاتِ خود کسی خواہش کا علامیہ ہے……. ایک ایسی خواہش جس میں شوخی ہو ،خاص طور پر ایک عورت کے لیے سرخ رنگ اس کے جذبوں کی تکمیل کا استعارہ ہے۔اِس افسانے میں ایک لڑکی جسے ’لال سینڈل‘ پہننے کا بے حد شوق ہے ،دراصل یہ رویہ اُس کی دبی ہوئی آرزوﺅں کا اظہار ہے۔
شہری زندگی کے مسائل اور اس کی نفسیاتی اُلجھنیں سلیم آغا کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔اس پس منظر میں لکھے گئے افسانوں میں ’الگنی‘ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اگر اُردو کے چند بہترین علامتی افسانے گنائے جائیں تو یقینا’الگنی‘ ان میں شامل ہو گا۔ میاں بیوی کی ازدواجی زندگی’ اولاد اور معاشرہ‘ اس افسانے کا موضوع ہے اور جسے ’الگنی‘ کے علامتی کردار سے نمایاں کیا گیا ہے۔ ’الگنی‘کے علاوہ ’دستکیں‘،’ اسیر ‘ اور ’لاوارث‘ اسی موضوع کے پس منظر میں لکھے گئے چند اور خوبصورت علامتی افسانے ہیں،مگر سلیم آغاجرید کی طرف نہیں گئے۔ علامتی افسانوں میں ’سیہ پوش‘،’ الگنی‘اور’انگورکی بیل‘ شاہکار افسانوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ ’سیہ پوش‘ کا مرکزی کردار موت ہے ،جسے ایک عورت کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ بڑے ڈرامائی انداز میں ان جملوں سے شروع ہوتا ہے۔’سیہ کپڑوں میں ملبوس دن ڈھلے وہ پرائیویٹ ہسپتال کے شیشے کے بھاری بھرکم دروازے کو بے پرواہی سے کھول کر اندرداخل ہوئی،بالکل اس سرجن کی طرح جو دِن میں متعدد جسموں کا ادھیڑتا،کاٹنا،سیتا اور جوڑتا ہے کہنے کو موت کسی بھی لمحے ،کسی بھی جگہ پر آ سکتی ہے ،لیکن ہسپتال سے اُس کا تعلق مشروط ہے۔ کوئی بھی اچھی تخلیق اس وقت تک اپنا آپ نہیں کھولتی،جب تک قاری اُس کے سٹرکچرمیں داخل نہ ہو۔اس افسانے میں یہ خوبی موجود ہے ،جب سیہ پوش (عورت)سے یہ کہتی ہے کہ ’تمھیں یاد ہے ہم تین بار پہلے بھی مل چکےہیں لیکن شاید بیماری نے تمھاری یادداشت کو بھی متاثر کیا ہے ‘۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو اَب مریض بن چکا ہے اورآخری کنارے پر کھڑا ہے ،پہلے بھی تین بار اس نے موت کو قریب سے دیکھا ہے۔سب سے پہلے یہ سیہ پوش اُسے کالج کی سٹرک پر ملی تی۔اُس نے رُکنے کا اشارہ بھی کیا تھامگر وہ نہیں رُکا ،دوسری بار اُس نے ہوٹل میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا تھا اور ہوٹل سے باہر وہی سیہ پوش اُسے ملی اور لفٹ مانگی جس کو اس نے رد کر دیا۔تیسری بار کا کارو بار میں گھاٹے کی وجہ سے اُسے دل کا دورہ پڑا۔ وہ اس بار بھی موت کے منہ سے بچ نکلا لیکن اِس بار موت اُس سے ملنے نہیں آئی وہ اُسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئی ہے۔افسانے پر مزید گفتگو سے پہلے اِس کے چند جملے ملاحظہ فرمائیں:

   سیاہ چمڑے کے پرس میں سے کاغذکی بدرنگ پرچی نکالی اور اس پر درج سیاہ حروف کو سرسری نظر سے دیکھ کر دوبارہ اُسے پرس میں رکھ لیا جیسے آخری بار تسلی کر لینا چاہتی ہو۔ اُس نے اپنا ایک ہاتھ اُس کے سارے بدن پر ایسے محبت بھرے انداز میں بھرے انداز میں پھیرا کہ اُس کا وجود تھرتھرا اُٹھا اور وہ یک لخت شانت ہو گیا۔ سیہ پوش نے اس کی پتلیوں میں جھانک کر دیکھا، اب وہاں کوئی مکیں نہیں تھا۔

سیہ پوش نے اپنی کلائی پر بندھی کالے سٹریپ والی گھڑی میں ایک دوسرے کے تعاقب میں بھاگتے لمحوں کو گنا ،زبان دانتوں تلے دابی اور سرنفی میں بلادیا ، معاًوہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی او آہستہ آہستہ کچھ کچھ پڑھنے لگی۔ مگر عجیب بات تھی کہ کسی کو سیہ پوش کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا تھا۔ جوں جوں افسانے کو پڑھتے جائیں،قاری اس کی پراسراریت میں جکڑے چلا جاتا ہے اور اُس وقت اس کی حالت اور دیدنی ہو جاتی ،جب وہ دیکھتا ہے کہ موت زندگی سے مکالماتی انداز میں محوگفتگو ہے: دیکھو میں آخری بار کہے دیتی ہوں چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔ اب ضد چھوڑو اور دیکھو دیر ہو رہی ہے ،مجھے کہیں اور بھی جانا ہے۔ سیاہ ساڑی ،اس کی بیچارگی دیکھ کر سرگوشی کے انداز میں ذرا آگے جھک کر بولی :

        دیکھو میں آگئی ہوں ،اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ افسانے کا اختتام اِن سطور پر ہوتا ہے: سیہ پوش نے اپنے پرس میں سے دستی آئینہ نکالا او ر سرخ ہونٹوں کو لپ سٹک سے شوخ تر کرنے لگی،دوسری طرف ٹیکسی ڈرائیور بیک ویز میں وقفے وقفے سے اُس کی جھلک دیکھتا اور مسکراتا ہوا کولتار کی مردار سٹرک پر اپنی ٹیکسی برق رفتاری سے دوڑانے لگا۔ زندگی اور موت کی یہ کشمکش قاری کو مبہوت رکھتی ہے۔

          سلیم آغا کا افسانہ ’انگورکی بیل‘ ایک ایسا افسانہ ہے ،جس میں قاری کو بیک وقت قاری اور تخلیق کار دونوں کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے ۔افسانے میں تین کردار نمایاں ہیں۔ایک کردار شادی شدہ عورت ہے ۔دوسرا اُس کا دوسرا شوہر اور تیسرا اُن کے پڑوس میں اُگنے والی ’انگورکی بیل‘ جس کی شاخیں خود اُن کے گھر تک پہنچ چکی ہیں۔اس افسانے نگار نے ایک لڑکی کا ذکر کیا ہے ،جس کی آنکھیں سبزی مائل ہیں۔افسانے کے ایک حصے میں انگورکی بیل‘ اور اُس لڑکی کا کردار آپس میں اس طرح امیخیت ہو جاتے ہیں کہ قاری کے لیے ان دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنامشکل ہو جاتا ہے۔ کہانی خوبصورت طریقے سے آگے بڑھتی ہے۔ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے اس بات کا بھی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ یہ کردار ہمارے روزمرہ کا حصہ ہیں۔ علاوہ ازیں معاشرتی بے حسی، ایک نسل کی دوسری نسل سے بے اعتنائی ،بے اعتمادی کی پُرآشوب فضا اور متضاد رویے….. ان ساری کیفیات کو بھی سلیم آغا نے اپنے بہت سے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ ’آسیب‘ اور ’ڈیڈلیٹربکس‘ اس کی عمدہ مثال ہیں۔ ’آسیب‘ ایک چوکیدار کی کہانی ہے جو سارے گاﺅں کی رکھوالی کرنا ،اپنا ازلی و ابدی فرض سمجھتا ہے۔اس کے پاس گاﺅں کے ہر مسئلے کا حل موجود ہے،لیکن ایک آسیبی کیفیت پہلے اُس کے وجود پر اس پھر اُس کے ماحول پر حاوی ہو جاتی ہے اور آخر آخر اُس کا پورا وجود ہی اُس کی آنکھوں کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے اور ایک دِن وہ آنکھیں بھی دیکھنے کے عمل سے گزر جاتی ہیں۔اس افسانے میں جو بات اہم ہے وہ یہ کہ ’آسیب‘ کی یہ صورت ہمارے معاشرے کا وہ سسٹم ہے جو خود لاچاراوربے حس ہو چکا ہے اور ہمیں فقط کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے ! ’ڈیڈلیٹربکس‘ قدرے مختلف کہانی ہے۔ ایسے شخص کی کہانی جس کی پاس اپنی زندگی کا اثاثہ تو موجود ہے لیکن اُسے آگے منتقل کرنے کی اُسے کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ وہ اسی پس و پیش میں ہے کہ کیا نئی نسل اس اثاثے کو قبول بھی کرتی ہے یا نہیں۔آخروہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس اثاثے کو ڈیڈلیٹربکس‘ کے حوالے کر دیا جائے۔ اِسی طرز پر لکھے گئے افسانوں میں ’دُھول،کھنڈر اور تھوتھو‘ میں معاشرے پر گہری طنز کی گئی ہے۔ سلیم آغا کو کہانی بُننے کا فن آتا ہے اور یہ خوبی اُنھیں بڑے افسانہ نگاروں کے قریب لے آتی ہے ۔اُن کا افسانہ ’ٹوٹے شیشے والی کھڑکی‘ دو بوڑھوں شرفو اور فضلو کی کہانی ہے ، جو بدھ کے بدھ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ بابا فضلو ایک پُرانی عمارت کی اوپر والی منزل میں رہتا ہے ،شرفو ایک ٹانگ سے لنگڑا ہے ،دونوں معذوری کی وجہ سے دُور سے ہی ایک دوسرے کو بے ساختہ گالیوں سے استقبال کرتے ہیں۔ یہ کہانی بلآخر بابافضلو کی موت پر ختم ہو جاتی ہے ۔بظاہر اِن دو کرداروں کا رویہ ایک دوسرے کے لیے تضحیک کی حد تک چلا جاتا ہے لیکن زیریں سطح پر محبت اور جُڑت کی ایک ایسی داستان بن کر اُبھرتا ہے جس کی مثال اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ سلیم آغا کے افسانے پڑھتے ہوئے کہیں کہیں انشائی اسلوب نگارش بھی نظر آتا ہے لیکن اِس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ سید وقار عظیم اس ضمن میں لکھتے ہیں:’افسانہ مختلف ادبی اصناف کی ایک مجموعی اور فنی شکل ہے۔

    اب وہ مقام آ چکا ہے کہ سلیم آغا کا سادہ طرزِ نگارش ان کی پُرکاری میں بدل چکا ہے اور ان کی تمام اَدبی حیثیتوں کے باوجود آنے والے دور میں اُن کی شناخت کا سب سے معتبر حوالہ اُن کا افسانہ ہی ہو گا۔ ٭٭٭ 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post