سعید اشعر کی نگاہ بلند،سخن دلنواز شاعری : ڈاکٹراسحاق وردگ

ڈاکٹراسحاق وردگ
صوبہ پختونخوا کی اردو شاعری میں وادئ ہزارہ سے ہر عہد میں نئی آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔۔معاصر شعر میں بھی اسے ہزارہ کا اختصاص سمجھا جائے کہ یہاں آصف ثاقب،سلطان سکون۔۔۔کے نو کلاسیکی لہجے کے پہلو بہ پہلو رستم نامی،نسیم عباسی،پرویز ساحر،محمد حنیف،احمد حسین مجاہد ۔۔کا رنگ نو بھی تازگی کی روایت مرتب کر رہا ہے۔۔
اس روایت میں اب سعید اشعر کا لحن بھی شامل ہو رہا ہے۔نظم و غزل کے دونوں لہجے سعید اشعر کو ودیعت کیے گئے ہیں۔۔
ان کا نظمیہ مجموعہ”ایلیا حسن تم کیسے ہو؟” اور غزلیہ مجموعہءکلام “میری غزل” گذشتہ کئی دنوں سے میرے مطالعے میں رہے ہیں۔
سعید اشعر نظم کی طرف محض فیشن کے طور پر نہیں آئے۔۔ٹھیک ٹھاک اندر کی تحریک کے زیر اثر نظم نگری میں اترے ہیں۔۔ان کی نظمیہ شاعری کو سراہنے والوں میں ڈاکٹر ارشد معراج جیسے مستند نظم گو شاعر بھی شامل ہیں۔
پختونخوا میں اردو نظم،غزل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔۔لے دے کے جدید نظم کی مزاج آشنا نظمیں حماد حسن کے ہاں ملتی ہیں۔۔جو جدت سے ہم آہنگ شاعر ہیں۔اور جن کا اعتراف محترم ظفر اقبال بارہا کر چکے ہیں۔۔اس لیے سعید اشعر کی نظمیں نئے امکان سے کم نییں۔یہ نظمیں آپ پر گیان کدے کا در کھولتی ہیں۔
غزل پر نظر ڈالی جائے تو سعید اشعر کا لہجہ گذشتہ پانچ عشروں میں متشکل ہونے والے شعری اسلوب کا تربیت یافتہ ہے۔۔یہ پورے وجود کے ساتھ داخلی شعری فضا ہے۔۔تازہ کار شاعر جناب نعیم گیلانی کے بقول
“سعید اشعر نے اپنی غزل کے بیشتر خدوخال تراشنے میں ذاتی احساسات،منفرد تلازمات و استعارات اور مضمون آفرینی سے کام لیا ہے۔۔”
سینئر شاعر جناب نسیم سحر اور ممتاز شاعر اور جدید شاعری کے زیرک نقاد جناب رحمان حفیظ جیسے جید اہل قلم نے بھی “میری غزل” پر تجزیاتی رائے دی ہے۔۔جناب رحمان حفیظ کا تجزیہ ملاحظہ ہو:
“سعید اشعر کی شاعری بہت متنوع،ہمہ جہت اور تخیل انگیز ہے..انہوںن نے روایت کے تقدس کو بھی مدنظر رکھنے کی کاوش کی ہے اور جدت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی سعی بھی”
۔۔۔۔۔
مجھے خوشی ہے کہ اشعر صاحب نے اپنے دونوں مجموعوں سے نوازا۔۔اور اپنی دلنواز شاعری سے حظ اٹھانے کا موقع سوغات کیا۔
یہ کتابیں معروف ادبی فورم ,انحراف پبلی کیشنز لاہور,اسلام آباد نے طباعت کے نئے انداز سے شائع کی ہیں.
آئیے سعید اشعر کی شعری کائنات سے چند ستاروں کی روشنی میں جذب ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔
بستی میں آتے جاتے ہیولوں کے واسطے
کاغذ کا پہریدار کھڑا کر دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کے سامان سے گرا ہوا ہے
ایک رستہ یہاں پڑا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک آواز کی معیت میں!
اپنے اندر سے جا رہا ہے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے آپ کو کب تک سنبھال رکھوں گا
کھسک رہی ہے اب آگے کو یہ چٹان بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیے خموش رہیں چند ساعتوں کے لیے!
ہوا کی چلنے لگی ہے ابھی زبان بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے اندر وجود میرا نہیں
میرے اندر،انا نہیں ہے مری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس سے ٹپکے گا مری آنکھ کا آنسو اک دن
آسماں کا وہی کونہ نظر آتا ہے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا کہ میرے ہی قدموں سے جو اٹھا
دیوار پر وہ سایا بڑا کر دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے سوال جیب کے اندر پڑے رہے
بازار کے جو نرخ تھے مجھ کو سوا لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہتا ہے یہاں سانپ ہمیشہ سے ہی اشعر
لیکن کسی بندے کو خزانہ نہیں ملتا
۔۔۔۔۔۔۔۔
کئی طرح کے تماشے یہاں بھی ہوتے ہیں
یہاں بھی اب ہیں کئی روپ دھارنے والے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے یقینی کا سلسلہ رکھا
پھر ہوا میں وہی دیا رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری ہر بات ہی بھلا دی تھی
تو نے ماضی سے کیوں صدا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
لوٹ جاتا ہوں خموشی سے میں اپنے اندر
شام ہوتی ہے تو ہر شخص ہی گھر جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا ذکر نہ کرتا تو اور کیا کرتا
تمہی بتاؤ کہ کیا ہے تلازمہ دل کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انا کے باب میں لکھا نہیں مگر پھر بھی
جھکانی پڑتی ہے اپنی جبیں،کہیں نہ کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی چاہا زمین پر میں نے
آسمانوں میں رکھ دیا اس نے
۔۔۔۔۔۔۔
سعید اشعر کے شعری مجموعے میں مزید ایسے اشعار ہیں۔۔جن میں ذوق لطیف کی سرشاریوں کا کافی سامان موجود ہے۔
ایک آدھ شعر میں لغزشیں محسوس ہوئیں۔جن کی اگلی اشاعت میں درستی واجب یے۔
مثال کے طور پر درج ذیل شعر میں لفظ “زیادہ” اصلاح طلب ہے۔
میں نے بھی دیپ رات کو روشن نہیں کیا
شب بھر ہوا کا زور بھی زیادہ نہیں ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بالعموم پختونخوا کی معاصر شاعری سے یہ گلہ رہتا ہے۔۔کہ یہ برائے نام معاصر شاعری ہے۔۔اگر سعید اشعر جیسے چند اور نئے رنگ کے سخن ور شاعر سامنے آتے ریے۔۔تو نہ صرف میرا گلہ جاتا رہے گا۔۔بلکہ اپنی رائے سے رجوع کرنے میں بھی ایک لمحے کی دیر نہیں کروں گا۔۔

You might also like
  1. اقبال طارق says

    ماشاء الله ڈاکٹر صاحب
    بہت عمدہ
    داد ، دعائیں
    اور
    💐💐💐💐💐

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post