اُردو میں دوہے : مظفرؔ حنفی


اردو شاعری کی قدیم کلاسیکی اصناف میں سے بیشتر وہ ہیں جو فارسی سے آئی ہیں، مثلاً قصیدہ، مثنوی، رُباعی۔ غزل، مرثیہ وغیرہ۔ ان کلاسیکی اصنافِ سخن میں اُردو نے مرثیے کو چھوڑ کر بقیہ سبھی میں انھی اصولوں، معیاروں اور ضابطوں کی پیروی کی ہے جو فارسی میں مروّج تھے۔ مرثیے کو میں نے اس کلّیے سے یوں مستثنیٰ قرار دیا ہے کہ فارسی کے بر عکس اُردو میں اس صنفِ سخن نے ہیئت اور مواد دونوں اعتبار سے تبدیلی، ترمیم اور اضافے کی منزلیں طے کی ہیں۔ یہ تمہید اس لیے اٹھائی گئی تاکہ واضح ہو جائے کہ اُردو میں مروّج اصناف میں اصل زبان کے قاعدے قانون کی پیروی کے ساتھ ساتھ ترمیم و اضافے کی اجتہادی شکلیں بھی ابتدا سے ہی نظر آتی ہیں۔
نسبتاً نئی اصنافِ سخن اردو والوں نے فارسی کے بر عکس دوسری زبانوں سے اخذ کی ہیں۔ مثلاً سانیٹ اُردو میں انگریزی سے آیا، جب کہ ترائیلے، ثلاثی اور ہائیکو اردو کو چینی اور جاپانی زبانوں کی دین ہیں۔ غیر ملکی زبانوں کے ساتھ ساتھ اُردو نے ہندوستان کی دوسری زبانوں سے بھی کچھ اصنافِ سخن مستعار لی ہیں اور ان کے بدلے میں ان زبانوں کو غزل اور اپنی دیگر اصناف سے استفادہ کی راہ دی ہے۔ مثلاً اردو میں کافی اور ماہیے پنجابی اور سندھی کے اثر سے آئے اور دوہا قدیم ہندی کے وسیلے سے منتقل ہوا، لیکن ان سبھی اصنافِ سخن میں اُردو والوں نے لکیر کا فقیر بننا پسند نہیں کیا بلکہ اپنے لسانی مزاج کی مطابقت سے تبدیلی و تغیر کو روا رکھا ہے اور اکثر مقامات پر اصل زبان میں رائج اصول و ضوابط سے اختلاف کیا ہے۔ جہاں ہم زبانوں کے منفرد اجتہادی حقوق کو تسلیم نہیں کرتے وہاں بڑی مضحکہ خیز صورتیں رونما ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے دنوں ایک محقق نے تحقیق کا پہاڑ کھود کر یہ چوہا برآمد کیا کہ اردو میں تصدق حسین خالد سے تا حال سانیٹ کے نام پر جو کچھ لکھا گیا ہے تکنیکی اعتبار سے اغلاط کا پشتارہ تھا اور لے دے کر محقق موصوف اور ان کے ایک ہم وطن نے ہی صحیح اور معیاری سانیٹ لکھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے غلط نتائج پر منتج ہونے والی تحقیق در اصل اپنوں ہی میں لڈّو بانٹتی ہے ورنہ حقیقتاً سانیٹ کے سلسلے میں اُردو نے اپنے اس جائز اجتہادی اور تخلیقی حق کو استعمال کیا ہے جو مرثیے کے سلسلے میں روا سمجھا گیا تھا۔
یہاں اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ میں نے دوہے کو نئی اصنافِ سخن میں کیوں شمار کیا ہے اور ثبوت میں امیر خسروؔ کا یہ دوہا پیش کیا جا سکتا ہے :
گوری سوئے سیج پر، مُکھ پر ڈارے کیس
چل خسروؔ گھر آپنے، سانجھ بھئی چہو دیس
یا شیخ بو علی قلندر پانی پتی کا یہ مشہور دوہا:
سجن سکارے جائیں گے نین مریں گے روے
بدھنا ایسی کیبحیو، بھور کبھو نہ ہوے
بابا فرید، بو علی قلندر اور امیر خسروؔ کے دوہوں کی قدامت مسلّم اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ اُردو کی ابتدا کے ساتھ ہی صوفیائے کرام نے دوہوں سے استفادہ شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ اُردو نثر کی پہلی کتاب یعنی ملّا وجہی کی ’’ سب رس‘‘ میں متعدّد دوہے درج کیے گئے ہیں لیکن بہ حیثیت صنفِ سخن دوہا ہمارے یہاں کئی صدیوں تک کوئی مستحکم روایت نہیں بنا سکا حالانکہ امیر خسروؔ کے بعد بھی اُردو میں وقتاً فوقتاً رحمت اللہ بلگرامی، شاہ عالم ثانی، عبد الغفّار غفّار جیسے معروف اور غیر معروف شعرا دوہے بھی کہتے رہے۔ ہندوستان کی ۱۸۵۷ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد اور ۱۹۴۷ء تک جن شعرا نے اُردو میں دوہے لکھے ان میں احمد علی خاں رونقؔ، الف شاہ وارثی، شائق وارثی، اوگھٹ شاہ وارثی، نجم آفندی، مضطر خیر آبادی وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ بایں ہمہ اُردو ادب میں دوہے نے صنفِ سخن کی حیثیت سے اپنے لیے مستقل جگہ آزادیِ ہند کے بعد بنائی ہے اور اس پُر لطف حقیقت کا اعتراف بھی کرنا ہو گا کہ ہندوستان کی بہ نسبت پاکستان میں دوہے نے زیادہ برگ و بار نکالے ہیں جس کے اسباب پر غور کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ برِّ صغیر کی تقسیم کے بعد چونکہ ہندوستان کے اردو جاننے والے ہندی سے بھی جُڑے رہے اس لیے موجودہ جدّت پسند دَور میں اُردو کے ہندوستانی شعراء کے لیے دوہا زیادہ پُر کشش ثابت نہیں ہوا حالانکہ اِکّا دُکّا لکھنے والے یہاں بھی دوہا کہتے رہے۔ اس کے بر عکس پاکستانی شعرا کی اکثریت ہندی سے نا بلد تھی اس لیے وہاں دوہا اپنی تمام تر قدامت کے باوجود نسبتاً نئی صنفِ سخن سمجھا گیا اور متعدّد تخلیق کاروں نے اسے لائق اعتنا سمجھا چونکہ اس دور میں اچھے اور اہم شاعروں کی قابلِ لحاظ تعداد دوہے لکھنے پر مائل ہوئی اور معیاری جریدوں میں دوہے مسلسل شائع کیے جا رہے ہیں اسی لیے میں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں دوہے کو نسبتاً نئی صنفِ سخن قرار دیا ہے۔
اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ میں زبان و ادب کے معاملے میں جغرافیائی سرحدوں کا قائل نہیں ہوں اس کے باوجود دوہے کے سلسلے میں گفتگو کے دوران میں نے ہندوستانی اور پاکستانی شعرا کا الگ الگ ذکر کیا ہے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستانی شعرا اُردو میں دوہے کے لیے اسی ہیئت کو مناسب و درست سمجھتے رہے جو قدیم ہندی میں رائج تھی لیکن اس دَور کے پاکستانی شعرا نے دوہے کی ہیئت میں کچھ ترمیم و اضافے سے بھی کام لیا ہے۔ اگر سخت گیر عروض داں کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سرحد پار لکھے جانے والے بیشتر دوہے تکنیکی اور اصطلاحی معنوں میں دوہے نہیں کہے جا سکتے لیکن جیسا کہ میں نے گفتگو کے آغاز میں اشارہ کیا تھا اُردو نے اپنے ابتدائی دَور سے ہی تخلیق کاروں کو لسانی مزاج کی مطابقت سے اجتہادی رویّہ اختیار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اس لیے ہم مرثیے، سانیٹ اور ہائیکو کی طرح دوہے میں بھی مناسب ترمیم و اضافے کر کے لچکیلی ہیئت اختیار کر سکتے ہیں۔ چونکہ قیام پاکستان کے فوراً بعد سے جمیل الدین عالیؔ نے وہاں ایک بدلی ہوئی ہیئت میں دوہا کہنے کا آغاز کیا اور ان کے بعد آنے والی تخلیق کاروں کی ایک بڑی نسل نے انھیں کا اتباع کیا ہے اس لیے ان تخلیق کاروں کی روش پر انگشت نمائی کرنا میں مستحسن نہیں سمجھتا۔ مناسب ہو گا کہ اس موقع پر قدیم ہندی دوہے کی ہیئت بیان کر دی جائے۔
قدیم ہندی میں دوہے کا ہر مصرع چوبیس ماتراؤں پر مشتمل ہوتا ہے، غزل کے مطلع کی طرح دوہے میں دو مصرعے ہوتے ہیں اور ہر مصرع دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے، مصرعے کا پہلا حصہ جس میں تیرہ ماترائیں ہوتی ہیں، سم، اور دوسرا حصہ جس میں گیارہ ماترائیں ہوتی ہیں، وِسم کہلاتا ہے۔ نیز ان دو حصوں کے درمیان لازماً وقفہ دینا ہوتا ہے۔ اُردو کے ہندوستانی شعرا نے عام طور پر اپنے دوہوں میں ان التزامات کی پابندی کی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ دوہے ملاحظہ فرمائیے :
تصوّر گوالیاری کا دوہا ہے :
پورا دیش کٹمب ہے، بھائی سب کو جان
بھارت ماں کے پتّر ہیں، سب جن ایک سمان
بیکلؔ اتساہی نے بھی بہت سے دوہے قدیم ہندی دوہے کی طرز پر لکھے ہیں موصوف کے دو دوہے بطور نمونہ ملاحظہ ہوں :
بیکلؔ جی کس فکر میں، بیٹھے ہو من مار
کاغذ کی اک اوٹ ہے، زنداں کی دیوار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نشتر چاہے پھول سے، برف سے مانگے خون
دھوپ کھلائے چاند کو، اندھے کا قانون
وقار واثقی کے یہ دوہے بھی قابلِ سماعت ہیں کیونکہ ان میں ہم عصر زندگی کے نئے نئے پہلو جھلک مارتے ہیں :
گڈّی چڑھ کر گود میں، بات کرے تُتلائے
دفتر کی ساری تھکن، اک پل میں مٹ جائے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کل تک میری چال میں پڑ نہ سکاتھا جھول
منڈو ے تلے میں بیٹھ کر، آج بکی بے مول
اور دو دوہے راقم الحروف کے بھی پیش خدمت ہیں :
ایک ہاتھ میں پھول ہے، ایک ہاتھ میں تیر
میرے دل پر نقش ہے، ساجن کی تصویر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جانے پھر کب رات ہو، کب یاد آئیں آپ
جی کہتا ہے اور کچھ، پڑے رہو چپ چاپ
مندرجہ بالا شعرا کے علاوہ ہندوستان میں سرشارؔ بلند شہری، مہرؔ جائسی، بھگوان داس اعجازؔ، میکشؔ اکبر آبادی، منزلؔ لوہا ٹھہری، کرشن موہنؔ وغیرہ نے بھی اسی نوعیت کے دوہے کہے ہیں۔
پاکستان میں جو دوہا کہا جا رہا ہے ہندی پنگل کے اعتبار سے اسے سرسی چند کہا جا سکتا ہے۔ سر سی چھند میں بھی مطلعے کی طرح دو مصرعے ہوتے ہیں اور ہر مصرع دو حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ پہلے حصے میں سولہ ماترائیں ہوتی ہیں اور دوسرا حصہ گیارہ ماتراؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان دونوں حصوں کے درمیان وقفہ لازمی ہے جسے اصطلاح میں وِشرام کہتے ہیں۔ دوہے میں سرسی چھند کے استعمال کی جدّت یا بدعت کا آغاز جمیل الدین عالیؔ سے ہوا لیکن چونکہ پاکستانی دوہا نگاروں کی ایک بڑی نسل نے ان کی تقلید میں اسی ہیئت کو اپنے دوہوں میں کامیابی کے ساتھ برتا ہے اس لیے انصاف کا تقاضہ ہے کہ پاکستانی دوہے میں سرسی چھند کے استعمال کو ایک ادبی اجتہاد کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ دیکھیے اس ہیئت میں سرحد پار کے تخلیق کاروں نے کیسی شگفتہ کاری اور ندرت کے مظاہرے کیے ہیں۔ جمیل الدین عالیؔ کہتے ہیں :
آلہا اودل گانے والے پیادے سے کترائیں
ہل کا بوجھ اٹھانے والے ڈنڈے سے دب جائیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بابو گیری کرتے ہو گئے، عالیؔ کو دو سال
مرجھا یا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اِک دوجے کا ہاتھ پکڑ لو اور آواز لگاؤ
اے اندھیارو سورج آیا سورج آیا جاؤ
پرتوؔ روہیلہ کے دوہوں کا مجموعۂ ’رین اجیارا‘ کئی سال پہلے منظرِ عام پر آیا تھا۔ عالیؔ کے بعدسب سے زیادہ دوہے انھیں نے کہے ہیں :
جیون ایک کنواں ہے جس میں گونجیں بس سنّاٹے
دُکھ کی ناگن اس میں لوٹے اس کی مٹی چاٹے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جیون ریل کا اندھا بابو، اندھیارے میں مارے
ٹھور ٹھکانا دیکھے ناہیں، رستے بیچ اُتارے
توقیرؔ چغتائی کے دو دوہے ملاحظہ ہوں :
تجھ سے پہلے من مندر میں، لوگ ہزاروں آئے
تیکھے نینوں والی تو نے، سب کے سب بِسرائے
تن کا دیپک جلتا جائے، من بھیتر اندھیارا
تن دیپک من باتی بن کے، بیتے جیون سارا
محمود علی ٹھاکر کے دو دوہے سماعت فرمائیں :
دھنونتوں کے عیب چھپائے، نردھن کو بہلائے
دمڑی سے چھوٹا ہو کر بھی، پیسہ ہی کہلائے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کنکوّا اور پریتم سکھیو! ناہیں کسی کے یار
ایک جرا انکھیاں جھپکیں تو، یار ندی کے پار
اِدھر کچھ لوگوں نے غالباً لا علمی کے تحت کچھ ایسی ہیئتیں بھی دوہے کے نام پر اختیار کر لی ہیں جن کا تعلق سرسی چھند سے بھی نہیں ہے اور یہ لوگ خود اپنی اختیار کردہ ہیئت کی پابندی اپنے ہی تمام دوہوں میں نہیں کر پاتے مثلاً رشید قیصرانی کے یہ دو دوہے ملاحظہ ہوں :
بند کیے ہیں آخر ہم نے خواب کواڑ جو کھولے تھے
بے پرچاند چکور بنے تھے، ہم بھی کتنے بھولے تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
موج تھپیڑوں میں تن من کا ریزہ ریزہ صرف ہوا
تب جا کر وہ سوچ سمندر سمٹا اور اک حرف ہوا
اوراسی طرح حامد برگی نے بھی دوہوں کے لیے ایک خود ساختہ بحر منتخب کی ہے :
کن چہروں نے کن چہروں کی یاد دلائی
روپ کی برکھا سندر سپنے لے کر آئی
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سورج کا آکاش پہ پھیلا جال سنہرا
چاروں کھونٹ لگا ہے اجیارے کا پہرا
ان تخلیق کاروں کے علاوہ پاکستان میں تاجؔ سعید، نگار صہبائی، ناصر شہزاد، عرفانہ عزیز، ظہیر فتح پوری وغیرہ نے بھی دوہے کے سرمائے میں اضافہ کیا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post