اقبال کی شاعری کا صوتیاتی نظام ۔۔۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ

گوپی چندنارنگ
گوپی چند نارنگ
           اقبال کی شاعری اسلوبیاتی مطالعے کے لیے خاصا دلچسپ مواد فراہم کرتی ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلوبیات لسانیات کی وہ شاخ ہے جس کا ایک سرا لسانیات سے اور دوسرا سرا ادب سے جڑا ہوا ہے۔ ادب کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ موضوعی اور جمالیاتی چیز ہے جبکہ لسانیات سماجی سائنس ہے، اور ہر سائنس معروضی اور تجرباتی ہوتی ہے ادبی تنقید کا معاملہ دوسرا ہے۔ ادبی تنقید موضوعی بھی ہوتی ہے اور معروضی بھی، اس لیے کہ تنقید کا منصب ادب شناسی ہے، اور ادب شناسی کا عمل خواہ وہ ذوقی اور جمالیاتی ہو یا معنیاتی، حقیقتاً تمام مباحث اس لسانی اور ملفوظی پیکر کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں جس سے کسی بھی فن پارے کا بحیثیت فن پارے کے وجود قائم ہوتا ہے۔ اسلوبیات اس موضوع کا معروض ہے، گویا یہ ادبی تنقید کا عملی حربہ ہے۔ اسلوبیات طریقۂ کار ہے، کل تنقید نہیں۔ کوئی بھی طریقہ کار کل تنقید نہیں ہو سکتا۔ اسلوبیات اس کا دعویٰ بھی نہیں کرتی۔ یہ دوسرے طریقوں کی نفی بھی نہیں کرتی، چنانچہ اس کو اپنے طور پر بھی برتا جا سکتا ہے اور دوسرے طریقوں سے ملا کر بھی۔ لیکن اسلوبیات کوئی بات بغیر ثبوت کے نہیں کہتی۔ یہ تنقیدی آرا کی صحت یا عدم صحت کے لیے ٹھوس تجرباتی بنیادیں فراہم کرتی ہے، اور اس طرح ادب کے سربستہ اظہاری رازوں کی گرہیں کھول سکتی ہے، یا تخلیقی عمل کے بعض پر اسرار گوشوں پر روشنی ڈال سکتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس بارے میں ایسے ثبوت بھی پیش کر سکتی ہے جنھیں رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسلوبیات کے بارے میں یہ بات خاطر نشان رہنی چاہیے کہ اسلوبیاتی مطالعے میں رہنما نظر (Guiding Insight) ادبی اور جمالیاتی ذوق یعنی تنقید ہی سے ملتی ہے لیکن اکثر و بیشتر ایسا بھی ہوتا ہے کہ تجرباتی ذہنی رویے کے دوران ایسے ایسے امور پر نظر پڑتی ہے یا ایسے ایسے نکتے سوجھ جاتے ہیں جن کی مدد سے تنقید کی نئی راہیں سامنے آتی ہیں۔ تنقید اور اسلوبیات میں ادبی ذوق اور سائنسی رویے کے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے سے باہمی لین دین جاری رہتا ہے، اور اس طرح اسلوبیات تنقید سے جو کچھ لیتی ہے اس سے کئی گنا کر کے تنقید کو لوٹا دیتی ہے۔
ادب کا رشتہ یوں تو تمام انسانی علوم سے ہے۔ ادب انسانیت کی روح اسی لیے ہے کہ اس میں انسان کی تمام ذہنی کاوشوں کی پرچھائیاں دیکھی جا سکتی ہیں اور ہر طرح کے اثرات کا عمل دخل جاری رہتا ہے۔ چنانچہ ادبی تنقید میں جمالیاتی اور ادبی معیاروں کی بنیادی اہمیت کے با وصف مختلف علوم سے مدد لی جا تی رہی ہے، مثلاً فلسفہ ، مذہبیات ، نفسیات ، سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے ادبی تنقید کے مختلف دبستانوں میں مدد لی جاتی ہے، اس بارے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ لیکن ان علوم اور اسلوبیات میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ان میں سے کسی کا موضوع براہ راست ادب یا ادب کا وسیلۂ اظہار یعنی زبان نہیں ہے، جبکہ اسلوبیات کا موضوع ہی زبان اور اس کا تخلیقی استعمال ہے، یعنی وہ لسانی اظہاری پیکر جس کے ذریعے ادب بطور ادب کے مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے ادبی تنقید میں جو مدد اسلوبیات سے مل سکتی ہے، کسی دوسرے ضابطۂ علم سے نہیں مل سکتی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اسلوبیات ادبی تنقید کا سب سے کارگر حربہ ہے یا یہ کہ اسلوبیات ادبی تنقید کی عملی بنیاد ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
زیر نظر مضمون میں اقبال کی اردو شاعر کے اسلوبیاتی مطالعے کے صرف ایک پہلو یعنی صوتیاتی نظام کو لیا جائے گا۔ اسلوبیاتی مطالعے کی کئی سطحیں اور کئی پہلو ہو سکتے ہیں ، مثلاً کوئی بھی فن پارہ اظہاری اکائی کے طور پر وجود میں آتا ہے۔ یہ اکائی کلموں سے مل کر بنتی ہے جسے اظہار کی نحوی سطح کہہ سکتے ہیں۔ کلمے، لفظوں یا لفظوں کے قلیل ترین حصوں یعنی صرفیوں (Morphemes) سے مل کر بنتے ہیں ، جنھیں اظہار کی لفظیاتی یا صرفیاتی سطح کہہ سکتے ہیں اور یہ صرفیے بجائے خود اصوات کا مجموعہ ہوتے ہیں جنھیں اظہار کی صوتیاتی سطح کہہ سکتے ہیں۔ اس مضمون میں اظہار کی سب سے بنیادی سطح یعنی صوتیاتی سطح ہی کے بارے میں غور و خوض کیا جائے گا۔
صوت کے ضمن میں یہ بدیہی بات ہے کہ صوت کے معنی نہیں ہوتے۔ معنی کا عمل اس سے اوپری سطح یعنی صرفیاتی سطح سے شروع ہو جاتا ہے اور کلمے کی نحوی سطح سے گزر کر فن پارے کی معنیاتی اکائی کے درجے تک پہنچ کر مکمل ہوتا ہے۔ صوت کی سطح خالص آہنگ کی سطح ہے۔ لیکن اگر اس سے فرض کر لیا جائے کہ آہنگ سے مراد معنی کی کلی نفی ہے، تو یہ بھی غلط ہو گا، کیونکہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آہنگ سے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے فضا سازی یا سماں بندی میں مدد ملتی ہے اور یہ فضا سازی کسی بھی معنیاتی تاثر کو ہلکا، گہرا یا تیکھا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کے ابتدائی دور کی نظم ’’ایک شام،، (دریائے نیکر ہائیڈل برگ کے کنارے پر) ملاحظہ ہو:
خاموش ہے چاندنی قمر کی
شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی
وادی کے نوا فروش خاموش
کہسار کے سبز پوش خاموش
فطرت بے ہوش ہو گئی ہے
آغوش میں شب کے سو گئی ہے
کچھ ایسا سکوت کا فسوں ہے
نیکر کا خرام بھی سکوں ہے
تاروں کا خموش کارواں ہے
یہ قافلہ بے درا رواں ہے
خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا
قدرت ہے مراقبے میں گویا
اے دل! تو بھی خموش ہو جا
آغوش میں غم کو لے کے سو جا
اس نظم کو پڑھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ اس میں سناٹے اور تنہائی کی کیفیت بعض خاص خاص آوازوں کی تکرار سے بھی ابھاری گئی ہے۔ بادی النظر ہی میں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آوازیں س، ش، خ اور ف کی ہیں جو سات شعروں کی اس مختصر سی نظم میں ۳۵بار آئی ہیں کسی فن پارے میں خاص خاص آوازوں کا بغیر کسی شعور اہتمام کے در آنا اتفاقی بھی ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر میر تقی میر کی غزل:
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
یا غالب کی غزل:
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
میں صوتیاتی سطح پر آخر ایسی کون سی بات ہے کہ یہ غزلیں گلوکاروں میں ہمیشہ بے حد مقبول رہی ہیں ، اور بعض نے تو ان کے ذریعے اپنی آواز کا ایسا جادو جگایا ہے کہ باید و شاید وجہ ظاہر ہے کہ ان غزلوں میں طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں کے در و بست سے موسیقی کا ایسا امکان ہاتھ آ گیا ہے جو عام طور پر میسر نہیں آتا۔ ایسی مثالیں تقریباً ہر بڑے شاعر کے یہاں مل جائیں گی، لیکن ان کی بنا پر کسی شاعر کے پورے صوتیاتی نظام کے بارے میں حکم نہیں لگایا جا سکتا، صوتیاتی آہنگ کا تعلق بہت کچھ شاعر کی افتادِ طبع اور اس کے شعری مزاج سے ہے جس کی تشکیل بڑی حد تک غیر شعوری طور پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میر کی درد و سوز میں ڈوبی ہوئی نرم لے، درد مندی اور گھلتے رہنے کی کیفیت ان آوازوں سے متعلق نہیں ہو سکتی جن کے ذریعے غالب اپنی معنی آفرینی۔ فکری، تہ داری یا نفسیاتی ژرف بینی یا اسرار ازل کی گرہ کشائی کا جادو جگاتے ہیں۔ اسی طرح اقبال کا فردیت پر اصرار، عمل کی گرم جوشی، جرأت مندی، آفاق کی وسعتوں میں پرواز کا حوصلہ اور بے پایاں تحرک بھی ایک ایسے صوتیاتی نظام کا تقاضا کرتا ہے جو اس کی معنیاتی فضا سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اس نظام کی اہمیت اس میں ہے کہ اگر اس میں باطنی ارتباط نہ ہو تو شاعری کی ساری معنیاتی فضا درہم برہم ہو جائے، اور وہ رنگ نہ بن سکے جسے شاعر کی آواز یا اس کے شعری مزاج سے تعبیر کرتے ہیں۔ اقبال کے بارے میں یہ بات عام طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ ان کی آواز میں ایک ایسا جادو، ایسی کشش اور نغمگی ہے جو پوری اردو شاعری میں کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کے لہجے میں ایسا شکوہ، توانائی، بے پایانی اور گونج کی ایسی کیفیت ہے جیسے کوئی چیز گنبد افلاک میں ابھرتی اور پھیلتی ہوئی چلی جائے۔ اس میں دل نشینی اور دلآدیزی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی برش، روانی ، تندی اور چستی ہے جیسے سرود کے کسے ہوئے تاروں سے کوئی نغمہ پھوٹ بہا ہو یا کوئی پہاڑی چشمہ ابل رہا ہو۔ آخر اس فطری نغمگی کا صوتیاتی راز کیا ہے یا اس کا تعلق کن خاص آوازوں سے ہے۔ یہ راز اگر ہاتھ آ جائے تو اس سے اقبال کے پورے صوتیاتی نظام کی گرہ کھل سکتی ہے، لیکن اس کوشش میں :
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
یا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
یا ’’پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن‘‘ کے آخری اشعار میں من کی دنیا، تن کی دنیا اور دھن دولت کی دھوپ چھاؤں والے اسلوب کو نظر انداز کرنا ہو گا کیونکہ یہ اقبال کے شعری اسلوب کا ایک رخ یا ایک پہلو تو ہے، کل اسلوب نہیں۔ چنانچہ پوری شاعری کے صوتیاتی مزاج کے تجزیے کے لیے اقبال کے اس کلام کو سامنے رکھنا چاہیے جس سے اقبال کے شعری مزاج کی پہچان ہوتی ہے یا پھر پورے کلام کا تجزیہ مختلف جگہوں سے یوں کرنا چاہیے کہ اس کی صوتیاتی روح تک ہماری رسائی ہو سکے۔
نامناسب نہ ہو گا اگر سب سے پہلے اقبال کی بعض شاہکار نظموں مثلاً مسجد قرطبہ، ذوق و شوق اور خضر راہ کو لیا جائے، اور دیکھا جائے کہ کیا صوتیاتی سطح پر ان میں کوئی چیز قدر مشترک کا درجہ رکھتی ہے:
سلسلۂ روز و شب، نقش گر حادثات
سلسلۂ روز و شب، اصل حیات و ممات
سلسلۂ روز و شب، تار حریر دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفا ت
سلسلۂ روز و شب، ساز ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلۂ روز و شب، صیرنی کائنات
تو ہو اگر کم عیار، میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات
تیرے شب و روز کی اور حقیقت کیا ہے
ایک زمانے کی رو، جس میں نہ دن ہے نہ رات!
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کار جہاں بے ثبات، کار جہاں بے ثبات!
اول و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقش کہن ہو کہ نو، منزل آخر فنا
اس بند کی وہ یک نوعی آوازیں جو ذہن میں ایک چمک سی پیدا کرتی ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتی ہیں درج ذیل ہیں :
س ل س ل ر ز ش ش ح ث س ل س ل ر ز ش ص ل ح س ل س ل ر ز ش ر ح ر ر س س ہ ذ ز ص ف س ل س ل ر ز ش س ر ز ف غ س س ہ ذ ز ر ر ہ ر ہ س ل س ل ر ز ش ص ر ف ہ ر ر ہ ر ر ہ ر ر ہ ر ر ر ش ر ز ر ح ہ ز ر س ہ ر ف ز ہ ہ ر ہ ث ر ہ ث خ ر ف ظ ر ف ش ہ ہ ز ل خ ر ف = کل ۱۱۸بار
اوپر کے گوشوارے سے ظاہر ہے کہ ان میں زیادہ تر صفیری آوازیں ہیں یعنی ف س ش ز خ غ ہ۔ (ث ص ذ ض ظ یا ح کی آوازیں وہی ہیں جو س، ز،یا ہ کی ہیں جو سب صفیری ہیں ) ان کے علاوہ دونوں مصوتی مصمتوں یعنی ل اور ر کو بھی اس میں لے لیا گیا ہے کیونکہ یہ سب کے سب (Vocalic) یعنی مصوتی مصمتے یا مسلسل مصمتے کہلاتے ہیں ، اس لیے کہ ان میں مصوتوں کی طرح تسلسل کی اور جاری رہنے اور پھیلنے کی کیفیت ہے۔ اس بند میں اگرچہ بندشی آوازوں میں سے ت کی تکرار قافیے کی وجہ سے ہوئی ہے اور ب اور ک کا نیزم اور ن کا بھی استعمال ملتا ہے، لیکن ان آوازوں کی تکرار اس پیمانے پر نہیں جس پیمانے پر صفیری یا مسلسل آوازوں کی تکرار ملتی ہے۔ بندشی آوازیں ہوا کی بندش سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مقابلے پر صفیری اور مسلسل آوازوں میں فراوانی اور بے کرانی کا تاثر پیدا کرنے کی کہیں زیادہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہاں اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ اردو مصمتوں میں بندشی آوازوں کی تعداد نصف سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سے آدھے مصمتے سادہ ہیں ا ور آدھے ہکار۔ سادہ آوازیں اکثر زبانوں میں ملتی ہیں اور بڑی حد تک مشترک ہیں۔ لیکن اردو کا امتیاز ہکار اور معکوسی آوازوں سے پیدا ہوتا ہے جو تعداد میں چودہ ہیں اور ان کے مقابلے میں صفیری اور مسلسل آوازیں تعداد میں صرف نو ہیں۔ اب اس روشنی میں اقبال کے یہاں یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اوپر کے سولہ مصرعوں میں ہکار آوازیں صرف پانچ بار آئی ہیں جبکہ صفیری اور مسلسل آوازیں ایک سو اٹھارہ بار استعمال ہوئی ہیں ! گویا ہکار آوازوں کا چلن نہ ہونے کے برابر ہے، اور وہ بھی صرف دو شعروں میں :
ع جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
ع تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
یعنی ہکار آوازیں وہیں آئی ہیں جہاں ان کا استعمال نا گزیر تھا یعنی ضمیر یا فعل میں اور یہ بات معلوم ہے کہ اردو کے افعال و ضمائر کا ڈھانچا سر تا سر زمینی ہے۔ اس بند کے نتائج پر یہ سوال بہر حال قائم کیا جا سکتا ہے کہ کہیں اس بند میں ان آوازوں کا وقوع کسی خاص وجہ سے تو نہیں ، یا یہ محض اتفاقی تو نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں دھوکا ہو رہا ہو اور اقبال کے کلی صوتیاتی آہنگ سے ان نتائج کا کوئی بڑا تعلق نہ ہو۔ اس کا جواب دینے سے پہلے نظم کے دوسرے بندوں کے نتائج معلوم کر لینے چاہئیں۔
بند صفیری و مسلسل آوازیں ہکار و معکوسی آوازیں
پہلا بند ۱۱۸ ۵
دوسرا بند ۱۰۹ ۲
تیسرا بند ۱۱۸ ۳
چوتھا بند ۱۲۳ ۴
پانچواں بند ۱۱۲ ۳
چھٹا بند ۱۲۳ ۷
ساتواں بند ۱۱۶ ۹
صفیری آوازوں کے استعمال کی یہ صوتیاتی لے آخری بند تک میں ملتی ہے۔ یہاں ان اشعار کے پیش کرنے سے مراد یہی ہے کہ مصرعوں کو پڑھتے ہوئے ان آوازوں پر نظر رکھی جائے جو اس نظم کے صوتیاتی آہنگ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں اور جن کے درو بست نے اس نظم کو معنیاتی اور صوتیاتی ہم آہنگی کا عجیب و غریب مرقع بنا دیا ہے۔ ذیل کے بند میں صفیری آوازیں ۱۱۳بار اور ہکار صرف ۶بار آئی ہیں :
وادیِ کہسار میں غرقِ شفق ہے سحاب
لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب!
سادہ و پر سوز ہے دختر دہقاں کا گیت
کشتیِ دل کے لیے سیل ہے عہد شباب!
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب
جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ امم کی حیات کشمکش انقلاب!
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہیں سب ناتمام، خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام، خونِ جگر کے بغیر!
(۱۱۳:۶)
اس پوری نظم کا صوتیاتی تناسب حسب ذیل ہے:
تعداد اشعار صفیری و مسلسل آوازیں ہکار و معکوس آوازیں
۶۴ ۹۳۱ ۳۹
گویا صفیری اور مسلسل آوازیں جو اردو میں ہکار و معکوس آوازوں سے تعداد میں خاصی کم ہیں (۹:۱۴) اقبال کے یہاں بیس گنا سے بھی زیادہ استعمال ہوئی ہیں۔ اس تجزیے سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ صفیری اور مسلسل آوازوں کی کثرت اور ہکار و معکوسی آوازوں کا انتہائی قلیل استعمال ہی شاید وہ کلید ہے جس سے اقبال کے نہاں خانۂ آہنگ تک رسائی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اب اقبال کی بعض دوسری شاہکار نظموں پر بھی نظر ڈالنی ضروری ہے۔ ذوق و شوق کے ابتدائی اشعار ملاحظہ ہوں :
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماں
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندِّیاں رواں !
حسنِ ازل کی ہے نمود، چاک ہے پردۂ وجود
دل کے لیے ہزار سود، ایک نگاہ کا زیاں !
سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحابِ شب!
کوہِ ضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں !
گرد سے پاک ہے ہوا، برگِ نخیل دھل گئے
ریگِ نواحِ کاظمہ نرم ہے مثلِ پرنیاں !
آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں !
آئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہی
اہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہی
ان اشعار سے بھی اسی بات کی توثیق ہوتی ہے جو پہلے کہی جا چکی ہے۔ ہکار آوازیں صرف وہیں آئی ہیں جہاں فعل کی مجبوری ہے یا ایسے حروف میں جو اردو کی بنیادی لفظیات کا حصہ ہیں اور جن سے مفر نہیں۔ اس نظم کے باقی حصوں سے بھی اس مفروضے کی تصدیق ہو جاتی ہے جس کا ذکر ہم پہلے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔
ذوق و شوق
تعداد اشعار صفیری و مسلسل ہکار و معکوسی
۳۰ ۴۵۱ ۲۳
یہ دونوں نظمیں بال جبریل سے تھیں۔ نامناسب نہ ہو گا اگر پہلے مجموعے بانگ درا سے خضر راہ کو بھی دیکھ لیا جائے جو ان نظموں سے بارہ تیرہ سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اس کا آغاز شاعر اور خضر کے مکالمے سے ہوتا ہے جس کے بعد مختلف عنوانات قائم کر دیئے گئے ہیں۔ پہلے ایک بند پر نظر ڈال لی جائے۔ اس کے بعد پورا تجزیہ پیش کیا جائے گا۔
ساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظر
گوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطراب
شب سکوت افزا، ہوا آسودہ، دریا نرم سیر
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصویر آب!
جیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفلِ شیر خوار
موج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خواب!
رات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیر
انجم کم ضو گرفتارِ طلسمِ ماہتاب!
دیکھتا کیا ہوں کہ وہ پیکِ جہاں پیما خضر
جس کی پیری میں ہے مانندِ سحر رنگِ شباب
کہہ رہا ہے مجھ سے اے جویائے اسرارِ ازل
چشم دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالم بے حجاب!
دل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوا
میں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوا
خضر راہ
تعداد اشعار صفیری و مسلسل ہکار و معکوسی
۸۵ ۱۲۱۵ ۸۷
اقبال کی دوسری مشہور نظموں میں ’’طلوع اسلام‘‘ ، ’’لینن خدا کے حضور میں ‘‘ ، ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ اور ’’شعاع امید‘‘ میں بھی یہی کیفیت ملتی ہے۔ خضر راہ، مسجد قرطبہ اور ذوق و شوق کی طرح طلوع اسلام بھی ترکیب بند ہے۔ لینن خدا کے حضور میں مسلسل اور شعاع امید اور ابلیس کی مجلس شوریٰ بندوں میں منقسم نظمیں ہیں۔ ’’ساقی نامہ‘‘ البتہ مثنوی ہے جس میں مصرعوں کے ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے افعال کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس سے ہکار و معکوسی آوازوں کی تعداد پر بھی اثر پڑا ہے۔ اگرچہ یہ پوری مثنوی کی کیفیت نہیں ہے، تاہم ہکار و معکوسی آوازیں کہیں قافیہ ردیف کی مجبوری کی وجہ سے تو کہیں بیان کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے در آئی ہیں۔ یوں بھی ’’پھر‘‘ ، ’’بھی‘‘ ، ’’مجھ‘‘، ’’کچھ‘‘ ، ’’تھا‘‘ ، ’’تھی‘‘ بنیادی شعروں میں بھی کہیں کہیں ناگزیر طور پر وارد ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل کے مصرعے ملاحظہ ہوں :
ع
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمّات میں
ع
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر خیزی
ع
برا نہ مان ذرا آزما کے دیکھ اسے
ع
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
ع
خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
ع
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ع
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے نمناک
ع
تری نگاہ فرو مایہ ہاتھ ہے کوتاہ
ع
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
ع
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ع
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
ع
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد
ع
آدم کو سکھاتا ہے آدابِ خداوندی
ع
مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب
اقبال کے یہاں ہکار اور معکوسی آوازوں کے قلیل استعمال کی خصوصیت کو ذہن نشین کرنے کے لیے اقبال کا تقابل کسی ایسے شاعر سے کرنا ضروری ہے جس کا پیرایۂ بیان بول چال کی زبان سے قریب ہو اور جس کے یہاں ہکار اور معکوسی آوازوں کا استعمال فطری طور پر ہوا ہو۔ اس سے یہ اندازہ بھی کیا جا سکے گا کہ اردو میں ان آوازوں کے فطری استعمال کا اوسط کیا ہے اور کیا اقبال کے یہاں اس سے واقعی کوئی انحراف ملتا ہے۔ اس سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ ہمارے بڑے شاعروں میں بول چال کی زبان سے قریب ہونے کا شرف میر تقی میر کو حاصل ہے۔ ان کے یہاں سینکڑوں غزلیں ایسی ہیں جن کے ردیف و قوافی میں بھی ہکار و معکوسی آوازیں آزادانہ استعمال ہوئی ہیں :
ہم تو اک آدھ گھڑی اٹھ کے جدا بیٹھیں گے… کھا بیٹھیں گے، چھپا بیٹھیں گے
میر جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ…سمجھا کچھ، ٹھہرا کچھ
بود نقش و نگار سا ہے کچھ…اعتبار سا ہے کچھ، پیار سا ہے کچھ
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا… دفتر نکلا
خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر…کھٹک کھٹک کر، مٹک مٹک کر
دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا…کوٹا گیا، چھوٹا گیا
بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا…توڑا، تھوڑا
میر کے یہاں ایسی غزلیں بھی ہیں جو ’ ڑ‘ پر یا ’ٹ‘ پر ختم ہوتی ہیں :
آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ…موڑ موڑ ، پھوڑ پھوڑ
ہوا ہے خواب سونا آہ اس کروٹ سے اس کروٹ…لٹ لٹ، کھٹ کھٹ
دل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ…نٹ کھٹ، جمگھٹ
لیکن اگر صرف ایسی غزلوں کو سامنے رکھا جائے تو نتائج مبالغہ آمیز نکلیں گے۔ کیونکہ اول تو قافیے اور ردیف میں آوازوں کے استعمال کے شعوری ہونے کا امکان ہوتا ہے، دوسرے یہ کہ ایک بار جب ایسی آوازیں مطلع کے قافیے ردیف میں آ پڑیں تو باقی اشعار میں ان کا التزام واجب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اگر صرف ایسی غزلوں کا تجزیہ کیا جائے تو میر کے کلام میں ان آوازوں کے تناسب کی نہایت مبالغہ آمیز تصویر سامنے آئے گی۔ بہتر یہ ہے کہ بعض دوسری غزلوں کو لیا جائے اور ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کو ردیف و قوافی سے ہٹ کر دیکھا جائے:
تعداد اشعار
ہکار معکوسی آوازیں
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوانے کا کام کیا
۱۵
۲۴
کچھ کرو فکر مجھ دِوانے کی
۹
۱۴
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کر پھر کیدھر چلے
۹
۲۷
۳۳
۶۵
اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ میر کے یہاں ہکار و معکوسی آوازوں کا تناسب تقریباً دو آواز فی شعر ہے۔ پورے کلیات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تناسب کچھ زیادہ ہی نکلے گا، اس سے کم ہرگز نہیں۔ اس سلسلے میں کلام غالب کو دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، اختصار کی خاطر ہم نے غالب کی غزلوں کے اتفاقی تجزیے پر اکتفا کیا جس کی تفصیل حاشیے میں درج ہے (۱) اس تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ غالب کے اکیانوے اشعار میں معکوسی اور ہکار آوازیں نواسی بار آئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غالب کے یہاں بھی جنھیں اپنے گفتہ فارسی اور مستعار ’’نقش ہائے رنگ رنگ‘‘ پر ناز تھا، ان آوازوں کے استعمال کا تناسب تقریباً ایک آواز فی شعر ہے۔ میر اور غالب کے اس تناظر میں دیکھیے تو ان آوازوں کے استعمال کے سلسلے میں اقبال کی صوتی انفرادیت کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے:
میر:
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
۳
غالب :
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
۱
اقبال:
ہکار و معکوسی آوازیں فی شعر
ایک سے کم
ان نتائج سے ظاہر ہے کہ میر جن کے ہاں ہکار و معکوسی آوازوں کا استعمال تقریباً فطری ہے، ان کی بہ نسبت غالب کے یہاں ان آوازوں کا استعمال آدھا اور اقبال کے یہاں سب سے کم ہے۔ ان نتائج کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شاید اقبال کے یہاں ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کا تناسب اردو شاعری میں سب سے قلیل ہے۔ اب اس کو صفیری و مسلسل آوازوں کے استعمال سے ملا کر دیکھیے تو حیرت ہوتی ہے کہ عربی فارسی لفظیات کا ذخیرہ جو اقبال کا سرمایۂ امتیاز ہے، وہی غالب کے لیے بھی وجہ افتخار تھا، لیکن مشترک سرچشمہ لفظیات کے با وصف دونوں کے یہاں اس کے پہلو بہ پہلو ہکار و معکوسی آوازوں کے استعمال کی کیفیت میں خاصا فرق ہے۔
غالب کے صوتی آہنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر مسعود حسین نے ان کے یہاں صفیری آوازوں کے استعمال پر بجا طور پر ز ور دیا ہے۔ ان کا بیان ہے ’’ان (غالب) کی فارسی گوئی اور فارسی دانی کا اثر ان کے ریختے پر بھی نمایاں ہے۔ اردو شعر کی زبان کو انھوں نے ذوق کی محاورہ بندی سے نکال کر عجمی لالہ زاروں میں لا کھڑا کیا (۲) ‘‘
غالب اور اقبال میں یہ خصوصیت مشترک ہے۔ اقبال کے رموز و علائم میں بڑی تعداد ایسے الفاظ کی ہے جن میں صفیری اور مسلسل آوازیں نمایاں طور پر استعمال ہوتی ہیں ، یا پھر ایسی آوازیں آئی ہیں جو منہ کے اگلے حصوں میں ادا ہوتی ہیں :
شاہین مشرق شمع و شاعر شعاع روشنی شفق شعلہ فقر
فرشتے فرمان فقیہہ خودی و خدا قل و عشق ارض و سما ذوق و شوق
زمان و مکاں سوز و سامان درد و داغ جستجو و آرزو شہید جستجو شکر و شکایت
تسلیم و رضا ابلیس و آدم نیسان و صدف زیست مسجد ملا
مدرسہ صوفی خانقاہ کلیسا مرد مومن شمشیر و سناں طاؤس و رباب
نرگس نالۂ بلبل لالۂ صحرا چراغ لالہ
اس خصوصیت کی توثیق ان لفظوں سے بھی ہوتی ہے جہاں اقبال کئی لفظوں کے معنوی سیٹ میں ایک کا انتخاب کرتے ہیں، مثلاًَ وہ شہباز اور عقاب پر شاہین کو ترجیح دیتے ہیں یا جنت، بہشت اور فردوس میں سے فردوس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ، یا شمس، خورشید اور آفتاب میں سے وہ زیادہ آفتاب کے حق میں ہیں۔ (اگرچہ اس انتخاب میں طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں کا بھی ہاتھ ہے جس کا ذکر آگے چل کر کیا جائے گا) یہاں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ صفیری و مسلسل آوازوں کا استعمال تو غالب کے یہاں بھی کثرت سے ہوا ہے، لیکن اقبال کی لے حرکی اور رجائی ہے جبکہ غالب کا تفکر حزنیہ ہے اور اس میں الم ناکی کی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کے اظہار میں منہ کے اگلے حصوں سے ادا ہونے والی آوازوں کے بجائے منہ کے پچھلے حصوں سے ادا ہونے والی آوازوں یا مسموع آوازوں سے مدد ملی ہے، مثلاً ذیل کے اجزائے کلام غالب کے پسندیدہ الفاظ ہیں اور ان میں گ، ج ، د، غ، ب، اور م کی جو نمایاں حیثیت ہے وہ ظاہر ہے:
دل و جگر زخم جگر جگر داری کا دعویٰ دعوت مژگان نگاہ بے محابا
بت بیداد گر ستم گر جاں غم گسار غارت گر جنس وفا دود چراغ محفل
داغِ دل درد بے دوا مرگِ تمنا رگِ جاں رگِ سنگ سنگِ گراں
بوئے گل گلِ نغمہ موجِ محیطِ بے خودی سیلاب گریہ سیلاب بلا حلقۂ گرداب
بند غم ساغرِ مے خانہ نیرنگ رنجِ نومیدیِ جاوید تغافل ہائے ساقی غم آوارگی ہائے صبا
غالب اور اقبال کے صوتیاتی آہنگ کا بنیادی فرق مصمتوں سے زیادہ مصوتوں کے استعمال میں کھلتا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین نے صحیح اشارہ کیا ہے ’’غالب کا کمال لفظ اور ترکیب میں ظاہر ہوتا ہے صوتی آہنگ میں نہیں۔ وہ لفظ کی تہ داری اور ترکیب کی پہلو داری سے اکثر اوقات صوتی آہنگ کی کمی کو چھپا لے جاتے ہیں ‘‘ (۳) اقبال کے یہاں یہ کیفیت نہیں۔ ان کے یہاں صوتی آہنگ کی کمی کا احساس قطعاً نہیں ہوتا۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی کہ ان کے اشعار کو کہیں سے پڑھیے، ان میں عجیب و غریب نغمگی کا احساس ہو گا، گویا لفظوں میں موسیقی سموئی ہوئی ہے۔ آخر غالب کے صوتی آہنگ کی وہ کون سی کمی ہے جو اقبال کی آواز تک پہنچ کر دور ہو گئی ہے۔ اتنی بات معلوم ہے کہ غالب کا فن معنی آفرینی کا رمزیہ فن ہے۔ ان کا فنی سانچا غزل کا شعر یعنی دو مصرعوں کی محض ذرا سی زمین ہے جس میں وہ جہاں معنی آباد کر دیتے ہیں۔ اگرچہ اقبال کی شاعری بھی رمزیہ امکانات رکھتی ہے لیکن ترغیب عمل کی پیغامی شاعری ہونے کی وجہ سے اس کے فنی سانچے وسیع ہیں۔ اقبال کی اکثر غزلوں میں بھی نظموں کے تسلسل کا لطف ہے۔ غالب کے یہاں رمزیہ فنی رویے کی وجہ سے نحوی ڈھانچے میں خاصی تخفیف ہو گئی ہے اور افعال تو خاصے نچڑ کر سامنے آتے ہیں۔ اس اختصار و تخفیف کا منفی اثر خاص طور پر طویل مصوتوں اور غنائی مصوتوں پر ہوا ہے۔ اقبال کے یہاں ا ظہاری وسعت اور ربط بیان کی وجہ سے اکثر فعل اور کلمے کے دیگر لوازم بغیر تخفیف کے نظم ہوئے ہیں ، اور ان کی وجہ سے طویل مصوتوں کی فراوانی پیدا ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر کلیات اقبال سے ایک اتفاقی تجزیے کے بیس اشعار میں طویل یا غنائی مصوتے ۳۳۶بار آئے ہیں۔ یعنی اقبال کے یہاں طویل غنائی مصوتوں کا اوسط فی شعر ۸ء ۱۶ہوا (۴) ۔ اس اوسط کی توثیق کے لیے اقبال کی کسی دو غزلوں پر بھی نظر ڈالی گئی:
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں : سات شعر :۱۱۷طویل مصوتے: اوسط ۷ء۱۶
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا : پانچ شعر:۱۰۲طویل مصوتے : اوسط ۴ء۲۰
اس سے ثابت ہے کہ اقبال کے یہاں فی شعر کم از کم سولہ طویل مصوتوں کے استعمال کا امکان ہے۔ اس اعتبار سے غالب کا کلام دیکھیے تو مایوسی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر دیوان غالب کے اتفاقی تجزیے ہے جو اوسط ہاتھ آتا ہے، وہ ۶ء طویل مصوتے فی شعر کا ہے (۵) ۔ ذیل کی غزلوں کے اوسط سے اسے مزید جانچا گیا:
نے گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز :اشعار ۹ : طویل مصوتے ۸۸
سادگی پر اس کے مر جانے کی حسرت دل میں ہے : اشعار ۷: طویل مصوتے ۹۸
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی : اشعار ۹ : طویل مصوتے ۹۹
۲۵ ۲۸۵
اوسط فی شعر ۱۱
گویا غالب کے یہاں طویل مصوتوں کے وقوع کا امکان گیارہ سے بارہ طویل مصوتے فی شعر سے زیادہ کا نہیں۔ غالب کی جس کم آہنگی کا ذکر پروفیسر مسعود حسین نے کیا ہے، عین ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ طویل مصوتوں کی کفایت ہو۔ لیکن ابھی اس بارے میں پوری تصویر سامنے نہیں آئی۔ غالب کے یہاں طویل مصوتوں کی کفایت اور اقبال کے یہاں ان کی فراوانی کا پورا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے۔ جب اس بارے میں میر کا اوسط بھی سامنے ہو:
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ۔ ۔ : اشعار ۱۵ : طویل مصوتے ۲۸۲
کچھ کرو فکر ………۔ ۔ :اشعار ۹ : طویل مصوتے ۱۰۱
سختیاں کھنچیں سو کھینچیں ………: اشعار ۹ : طویل مصوتے ۱۴۰
۳۳ ۵۲۳
اب ان تینوں شاعروں کے یہاں طویل مصوتوں کے استعمال کی جو تصویر مرتب ہوتی ہے وہ یوں ہے:
میر ۱۶طویل مصوتے فی شعر
غالب ۱۱طویل مصوتے فی شعر
اقبال ۱۶طویل مصوتے فی شعر
اس تقابلی تجزیے سے یہ دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ طویل مصوتوں کے معاملے میں اقبال غالب سے خاصے آگے ہیں اور میر کے ہم پلہ ہیں۔ اتنی بات واضح ہے کہ جہاں طویل مصوتوں کی فراوانی ہو گی، غنائی مصوتوں کی کثرت بھی وہیں ہو گی، کیونکہ اردو کا ایک عام رجحان ہے کہ غنائیت صرف طویل مصوتوں ہی کے ساتھ وارد ہوتی ہے۔ نغمگی کے لیے طویل مصوتوں کے ساتھ ساتھ غنائی مصوتوں کی جو اہمیت ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔ اقبال کا کمال جس نے ان کے صوتیاتی آہنگ کو اردو شعریات کا عجوبہ بنا دیا ہے، دراصل یہ ہے کہ طویل و غنائی مصوتوں کی زمینی کیفیات اقبال کے یہاں زناٹے دار، صفیری و سلسلہ دار ’’مسلسل‘‘ آوازوں کی آسمانی کیفیات کے ساتھ مربوط و ممزوج ہو کر سامنے آتی ہیں۔ اقبال کے یہاں صفیری و مسلسل آوازوں اور طویل و غنائی مصوتوں کا یہ ربط و امتزاج ایک ایسی صوتیاتی سطح پیش کرتا ہے جس کی دوسری نظیر اردو میں نہیں ملتی۔ اصوات کی اس خوش امتزاجی نے اقبال کے صوتیاتی آہنگ کو ایسی دلآویزی ، توانائی ، شکوہ اور آفاق میں سلسلہ در سلسلہ پھیلنے والی ایسی گونج عطا کی ہے جو اپنے تحرک و تموج اور امنگ و ولولے کے اعتبار سے بجا طور پر یزداں گیر کہی جا سکتی ہے۔
(ماخوذ: مطالعۂ اقبال کے سو سال
مرتبہ: رفیع الدین ہاشمی، سہیل عمر، وحید اختر عشرت)

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post